مسئلہ۴۰۹ تا۴۱۰: از قصبہ لاہر پور مکان شاہ ولایت احمد صاحب مرسلہ احمد حسین صاحب عثمانی ۳۰ذی الحجہ۱۳۳۶ھ
(۱) ایک درگاہ صدہا سال سے ایک بزرگ کی ہے جن کی اولاد کے چند شاخوں میں پیری مریدی بسلسلہ صحیح وباجازت وخلافت جاری ہے مگر سجادگی اس درگاہ کی ایک بیٹے کی اولاد میں چلی آتی ہے، گو سلسلہ خلافت عن اب و جد صاحب درگاہ سے اس شاخ میں باقی نہیں رہا تھا مگر دوسرے خلفائے سلسلہ سے بھی صاحب سجادہ درگاہ نے اجازت وخلافت حاصل کرلی تھی اور اب دو پشتوں سے ہر باپ سے بیٹے کو اجازت وغیرہ حاصل ہوا کی، اس خلفائے سلسلہ سے بھی صاحب درگاہ کا سلسلہ جاری رہا، صاحب درگاہ کا خاندان طریقت قادریہ وچشتیہ ہے، اس سلسلہ کے شائق اورصاحب درگاہ کے موروثی معتقدین کو اس کا پورا موقع رہا ہے کہ اس سلسلہ میں داخل ہوسکیں، آخر صاحب سجادہ لاولد تھے انہوں نے اپنے حقیقی بھانجے کو اپنے بعد کے واسطے سجادگی تجویز کی جن کو اس خاندان میں بیعت وغیرہ حاصل ہے، دوران علالت میں ان کو دوسرے اعزائے خاندانی سے مشورہ کے واسطے ایک دوسرے دور دراز مقام پر بھیجا اور تیمارداری ان کی متعلق ان کے بعض اعزا کے تھی جو اخیافی بھانجے ہوتے ہیں وہ دو بھائی حقیقی ایک بہن ہے جن کے قبضہ میں وہ بحالت مرض تھے جب علالت زیادہ ہوئی تو اہالیان قصبہ کو جمع کرکے درگاہ کے اندر پھر اپنے حقیقی بھانجے مذکورہ بالاکی نسبت اظہار وصیت کیا ایسے مجمع میں ان اخیافی بھانجوں میں سےایک نے بطور مغالطہ دہی کہا کہ والدین اس کے جس کے واسطے سجادگی تجویز کی جاتی ہے دودھ شریک بھائی بہن تھے اس لئے اس کا نکاح ناجائز ہوا وہ حرامی ہوئے ان کے پیچھے نماز مکروہ ہے صاحب سجادہ نے اس واقعہ رضاعت سے انکار کیا اور کہا کہ جھوٹ ہے بلکہ ضعف بیماری میں ان کو سخت صدمہ اس دروغ گوئی پر ہوا جس سے وہ کوئی مزید تقریر نہ کرسکے اور مجمع برخاست ہوگیا،جب علالت کا سلسلہ زیادہ طویل ہواان دونوں ا خیافی بھانجوں کی جانب سے حصول سجادگی کی ایک بھائی کے واسطے مزید کوشش شروع ہوئی اور بعض موافقین کے مشورہ سے ایک بڑی درگاہ کے صاحب سجادہ کو طلب کیا جو ان صاحب سجادہ کے پیر کی درگاہ کے صاحب سجادہ ہیں اور ان سے کہا کہ منجملہ ان ہر دو بھائیوں کے بڑے بھائی کے پگڑی باندھ دیجئے انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ صاحب سجادہ سے اجازت لے لیں جب ان سے دریافت کیا تب انہوں نے منہ پھیرلیا کوئی جواب نہ دیا کچھ دیر کے بعد جب پہلو بدلا پھر استفسار کیا اب بھی وہ جواب خود نہ سمجھے، مگر موافقین اشخاص نے ہر دو بھائیوں کے جو موجود تھے بالاتفاق کہا کہ اجازت دے دی انہوں نے پگڑی باندھ دی، ایسی نازک حالت تیمارداری میں قبل واپس آنے ان کے حقیقی بھانجے نامزد شدہ سجادہ نشینی کے ان سجادہ نشین نے وفات پائی، معاملہ رضاعت کے عینی شہادت موجود نہیں ہے، جن لوگوں کے وقت میں عقد ہوا وہ مقدس و مکرم وعابد و زاہد اشخاص تھے بالخصوص سجادہ نشیں مذکور کے پدر حافظ قرآن صاحب سجادہ متوکل درویش، صاحب رشد وہدایت ومقدس تھے جن کی دختر وبھتیجے کا نکاح باہم انہیں کے زیر اہتمام ہواتھا دیگر اکابر خاندان اہل اسلام معزز ومعتبرو نمازی شریک نکاح تھے، یہ الزام صرف نامزد شدگی کی نااہلی ثابت کرنے اور خود سجادگی حاصل کرنے کے ضرورت سے لگایا جاتا تھا اور چونکہ دونوں بھائیوں نے ایک اپنی ذاتی دکان درگاہ کے واسطے وقف کی ہے اس پر دوسرے سجادہ نشیں کا قبضہ نہ ہونے کے خیال سے اپنے واسطے سجادگی کی خواہش تھی حالانکہ واقف وقف کا خود متولی رہ سکتا ہے اور حیات میں دوسرا متولی مقرر کرنے کااختیار ہے مگر غالباً وہ مسئلہ کی ناواقفیت کی وجہ سے وہ پریشان ہوئے کہ شائد سجادگی کے ساتھ تولیت میری وقف کردہ جائداد کی بھی انہیں صاحب سجادہ کے متعلق ہو جائے ایسا اختیار کیا ، ان کو اب تک کسی سے اجازت وخلافت بھی نہیں ہے اور صاحب درگاہ کی شاخ کے سلسلہ کے مشائخ سے غالباً اب بھی اجازت و خلافت حاصل کرنے پر تیار نہیں ہیں: پس سوال یہ ہے کہ ایسی سجادگی جو اس طور سے حاصل کی گئی ہو جائز ہے یانہیں، اور وہ سلسلہ صاحب درگاہ کے علاوہ کسی دوسرے خاندان سے بیعت واجازت وغیرہ حاصل کرلیں تو جائز ہوگی یانہیں، مگر اس صورت میں صاحب درگاہ کا سلسلہ صاحب سجادہ سے جاری نہ ہونے کی وجہ سے ضرورت سجادگی فوت ہوجائے گی صرف متولیانہ حیثیت ایسے شخص کی باقی رہے گی،۔ مگر تولیت درگاہ ایسے متولی کی جس نے ترکیب مذکورہ بالا سے سجادگی وتولیت حاصل کی ہو کہاں تک جائز ہوگی، اور ایسی حالت میں خاندان صاحب درگاہ وصاحب طریقت سلسلہ صاحب درگاہ کوبقائے سلسلہ صاحب درگاہ کے واسطے کیا کرناچاہئے، آیا منجملہ اولاد صاحب درگاہ جس سے سلسلہ جاری ہو اسے خلافت دلواکر یا دیگر کوئی صاحب سجادہ ومتولی مقرر کرسکتے ہیں یانہیں؟اور اول نامزدشدہ کو ترجیح ہوسکتی ہے یانہیں؟
(۲) ایک احاطہ میں ایک بزرگ کا مزار اور ایک خانقاہ اور ایک مسجد واقع ہے خانقاہ میں مدرسہ اسلامیہ ایک وقف سے جاری ہے جس کے طلبہ بھی اس مسجد میں مثل دیگر اہل محلہ پنجوقتہ نماز پڑھتے ہیں نماز جمعہ یہاں عرصہ سے نہیں ہوتی ہے، دوسری جامع مسجد میں ہوتی ہے،ا س درگاہ کے صاحب سجادہ ہیں وہ مع دیگر اشخاص کے چند لوگ اس وقف کے متولی ہیں جس سے ضروریات مسجد و مدرسہ مذکورہ کا صرفہ ہوتا ہے، منجملہ ان کے زید بھی متولی ہے اور نیز ایک دوسرے وقف کا بھی زید مذکور تنہا متولی ہے اس سے بھی مسجد مذکور کے آب وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے اور زید ہی کے ذمہ بوجہ حاضر باشی زائد اس مسجد کے اوقات نماز میں موسمی وضروری تغیرات مقامی کی وجہ سے تعین کرتا ہے اور اس مسجد کاموذن و امام معین ہیں ایام تشریق میں زیادہ تر لوگ بوجہ ادائے نماز جماعت مستحبہ التزاماً پنجوقتہ شریک ہونے کے عادی ہیں، انہیں ایام میں بعض اشخاص نے بلا انتظام امام معین و مقتدین قدیم بلا اس کے کہ مؤذن ومکبر معین تکبیر اقامت کہے معینہ مقام پر جماعت کرلی زید کو یہاں کا مقامی تجربہ ہے کہ عوام تہدید پسند ہیں اس خیال پر اس نے الفاظ ذیل تہدید کے لئے کہے اور مکرر جماعت مع ان قدیم مقتدیوں کے جو باقی تھے اسی مقام پر پھر ادا کی اس خیال سے کہ سابق پڑھنے والے غیر معین تھے اور کہا کہ جس کسی کو اس جماعت میں شریک ہونا نہ منظور ہو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے، کیا استحقاق ان لوگوں کو ہے جنہوں نے بلاانتظار امام معین اور جماعت و مقتدین قدیم نماز پڑھ لی، پس لفظ''ہماری''کا جو مسجد کی طرف منسوب کیا حالانکہ وہ خانہ خدا ہے اور لفظ ''نہ آنے'' کا جو استعمال کیا حالانکہ مساجد میں اذن عام ہے اس سے زید کیا کرے صرف ندامت کافی ہے یاکوئی کفارہ اس پر لازم آیا اگر کفارہ ہے تو کیا؟بلحاظ تجربہ زید یہ ہوا کہ بعد تہدید مذکور پھر جماعت اسی طور سے جیسی ہمیشہ سے چلی آتی تھی مسجد میں قائم ہے،اور جو لوگ بعدادائے فرض عشاء جو سابقہ جماعت سے پڑھ چکے تھے مکرر جماعت میں زید کی تقریر کے بعد شریک ہوگئے ان کی یہ مکرر نماز کیا ہوئی اس دوسری جماعت کی نماز ز ید نے پڑھائی تھی اس میں ایک اور متولی وقف مذکور شریک تھے جن کو پہلے جماعت نہیں ملی تھی، مگر دوران نماز میں انہیں یہ خیال رہا کہ زید نے مسجد کی اپنی طرف نسبت کی اور اذن عام کے خلاف تقریر کی اگر میں اس کے پیچھے نماز نہ پڑھتا تو اچھا تھا پس اس وقت گویا اس نے باستکراہ اقتدا کی اس لئے اس کی نماز ہوئی یانہیں ہوئی؟بینواتوجروا۔
الجواب
(۱) سجادہ نشینی خلافت خاصہ ہے جس میں اجرائے سلسلہ سجادہ و تولیت اوقاف درگاہ اور جملہ نظم ونسق ورتق وفتق وجمع و فرق ونصب وعزل عملہ میں صاحب سجادہ کی نیابت مطلقہ سب داخل،اور کوئی خاص بے عام متحقق نہیں ہوتااور شرعاً معروف کا لمشروط ہے، معروف یہی ہے کہ سجادہ نشیں وہی ہوسکتا ہے جو اس سلسلہ میں ماذون ومجاز ہوکہ اس کا بڑا مقصد اس سلسلہ کا احیاء ہے نہ کہ مجرد تولیت، ولہذا جو سلسلہ صاحب درگاہ میں خلافت صحیحہ نہ رکھتا ہو کہیں سجادہ نشیں نہیں کیا جاتا اگرچہ دوسرے کسی سلسلہ کا مجاز ہونہ کہ وہ جو رأساً مجاز ہی نہیں یوں تو سجادہ نشینی نری ممبری رہ جائے گی تواخیافی بھانجہ غیر مجاز فی السلسلۃ بلکہ فی سلسلۃ سجادہ نشین نہیں ہوسکتااور بعد کو اجازت لینی اس سجادہ نشینی کی تصحیح نہیں کرسکتی
"فان الشرط یتقدم والعام لایتأخر"
(کیونکہ شرط مقدم ہوتی ہے اور عام متاخر نہیں ہوتا۔ت)
حضرت اسد العارفین سید نا شاہ حمزہ عینی واسطی قدس سرہ فص الکلمات شریف میں فرماتے ہیں:
شیخے ازیں عالم نقل کردو کسے راخلیفہ نگر فت قوم و قبیلہ وارثے یا مریدے کہ بخلافت وے تجویز نمایند ایں خلافت نزدیک مشائخ روانیست وایں نوع خلافت را خلافت افترائی گویند۱؎۔
ایک شیخ نے اس جہاں سے انتقال فرمایا اور کسی کو خلیفہ نہ بنایا، قوم اور قبیلہ نے اس کے کسی وارث یا مرید کو خلیفہ تجویز کیا تو یہ خلافت مشائخ کے نزدیک جائز نہیں، خلافت کی اس قسم کو خلافت افترائی کہتے ہیں۔(ت)
(۱؎ فص الکلمات شاہ حمزہ عینی واسطی)
رہی تو لیت وہ بھی شرعاًحقیقی بھانجے کوحاصل کہ سجادہ نشین متولی نے اپنے مرض الموت میں اس کے لئے وصیت کی، اور دربارہ تو لیت وصیت متولی ماخوذ ومعتمد ہے۔
ردالمحتار میں ہے:
انما صح اذافوض فی مرض موتہ وان لم یکن لہ التفویض عاما لما فی الخانیہ من انہ بمنزلۃ الوصی، وللوصی ان یوصی الی غیرہ۲؎۔
تفویض تولیت صرف اس صورت میں صحیح ہوگی جب متولی اپنی مرض الموت میں تفویض کرے اگرچہ اس کو تفویض عام حاصل نہ ہو اس دلیل کی بنیاد پر جو خانیہ میں ہے کہ وہ بمنزلہ وصی کے ہے اور وصی کو اختیار ہوتا ہے کہ دوسرے کو وصیت کرے ۔
(۲؎ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱)
فتاوٰی تتمہ وغیرہا پھر اشباہ والنظائر پھر درمختار میں ہے:
اسناد الناظر النظر لغیرہ بلا شرط فی مرض الموت صحیح۳؎۔
نگران وقف کا مرض الموت میں بلاشرط نگرانی کسی دوسرے کے سپرد کرنا صحیح ہے۔(ت)
(۳؎ درمختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۱)
یہاں تک کہ متولی نے جس کے لئے وصیت کی اس کے ہوتے ہوئے حاکم شرعی دوسرے کو متولی نہ کرے گا۔
بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:
شرط فی المجتبی ان لایکون المتولی اوصی بہ لآخر عند موتہ فان اوصی لاینصب القاضی۴؎۔
مجتبٰی میں شرط لگائی کہ متولی نے اپنی موت کے وقت کسی دوسرے کو متولی بنانے کی وصیت نہ کی ہو اور اگر اس نے وصیت کی ہے تو قاضی کسی اور کو مقرر نہ کرے۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۰)
نہ کہ ایسے لوگ جن کو طلب تولیت میں یہ کچھ غلو ہو کہ اس کے لئے محصنات مومنات غافلات کو قذف کریں بلاوجہ مسلمان کو حرامی بنائیں۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا لن نستعمل علی عملنا من ارادہ۱؎۔رواہ البخاری واحمد وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بیشک ہم ہر گز اپنے کسی کام پر اسے عامل نہ بنائیں گے جو اس کا طالب ہو(اس کو بخاری اور احمد اور ابوداؤد اور نسائی نے ابوموسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجار الرجل الصالح قدیمی کتب خانہ پشاور ۱/ ۳۰۱)
درمختار میں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ النظر لانہ مولی فیرید التنفیذ۲؎۔
طالب تولیت کومتولی نہیں بنایا جائے گا مگر اس وقت جب واقف نے اس کو متولی بنانے کی شرط کی ہو تو اس وقت اس کو متولی بنائیں گے کیونکہ وہ شرط کے سبب بن چکا ہے اور اب اس کے نفاذ کا طلب گار ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹)
رضاعت بے شہادت عادلہ مثل شہادت مال کے دو مرد یا ایک مرد و دوعورت سب ثقہ عادل اپنے معائنہ کی گواہی دیں ثابت نہیں ہوسکتی اور اگر مجرد کسی کاکہہ دینا کافی ہو تو آج زید نے عمرو کو کہا کل عمرو یا بکر زید کو کہہ دے گا کہ اس کے ماں باپ رضاعی باپ بیٹی تھے۔
درمختار میں ہے:
الرضاع حجتہ حجۃ المال وھی شہادۃ عدلین او عدل وعدلتین۳؎۔
حجت مال ہی حجت رضاعت ہے اور وہ دو عادل مردوں یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورتوں کی شہادت ہے(ت)
(۳؎ درمختار کتاب النکاح باب الرضاع مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۴)
استفسار پر منہ پھیر لینا صریح دلیل انکار ہے دوبارہ پوچھنے پر کچھ کہنا اور مستفسر کا نہ سمجھنا اور ساعیوں کا کہہ دینا کہ اجازت دے دی معتبر نہیں تمام قرائن سابقہ عدم رضا پر صاف دال ہیں اور ساعی اپنے قول میں متہم۔
پس صورت مستفسرہ میں اخیافی کو نہ سجادگی ہے نہ تولیت، اور حقیقی بھانجہ ہی سجادہ نشین و متولی صحیح شرعی ہے، یہ صورت سوال کا حکم ہے اگر واقعہ اسی طرح ہو۔