مسئلہ ۳۹۹: از جوناگڑھ محلہ کتبانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمد حسین ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جو شخص تقدیر اور وسیلہ پکڑنے کے خلاف ہو ایسا آزاد شخص حنفیوں کے مدرسہ کا خیر خواہ ہوسکتا ہے یانہیں؟
الجواب
تقدیر کا منکر رافضی معتزلی گمراہ ہے اور محبوبان خدا سے توسل کا منکر نجدی وہابی بدراہ ہے جو شخص ایسا ہو اس سے مدرسہ اہلسنت کی خیر خواہی کی کیا امید ہوسکتی ہے، نہ اسے مدرسہ پر کسی قسم کا اختیار دیا جائے، امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اپنے زمانہ خیر میں کہ اسلام کاآفتاب نصف النہار پر تھا اور کفار ہر طرح ذلیل و خوار، ایک نصرانی کو کہ حساب وسیاق میں طاق تھا اور صوبہ یمن میں ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ اسے محرری پر نوکر رکھنا چاہتے تھے امیر المومنین سے اجازت چاہی منع فرمایا انہوں نے پھر عرضی بھیجی، اس پر تحریر فرمایا:
مات النصرانی، والسلام۱؎
(نصرانی ہلاک ہوا، والسلام۔ت) غرض کسی طرح اجازت نہ فرمائی، تو اس وقت ضعف اسلام میں کسی مخالف عقیدہ کو اختیار دینا کس درجہ مضر ہے کہ بوجہ کلمہ گوئی کافروں سے اس کا ضرر زائد ہوگا پھر اس ز مانہ میں اس کی مغلوبی تھی اور اب مطلق العنانی۔ اور وہ ایک محرری کی خدمت تھی اور یہ افسری، جب وہ اس وقت میں قبول نہ فرمائی تو یہ اس وقت میں کیونکر مقبول ہوسکتی ہے،
من استعمل علی عشرۃ من فیہم ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ و المؤمنین۲؎۔
جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جس نے دس شخصوں پر کسی ایسے کو افسر کیا کہ نظر شرع میں اس سے زیادہ پسندیدہ کوئی دوسرا موجود تھا تو اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں سب کی خیانت کی، جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ کنز العمال بحوالہ عن حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حدیث ۴۱۶۵۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۱۹)
( المستدرک للحاکم کتاب الاحکام الامامۃ امانۃ دارلفکربیروت ۴/ ۹۳۔۹۲)
مسئلہ ۴۰۰ تا ۴۰۳: ازبمبئی محلہ شیخ بھائی بلڈنگ کھانڈبازار جوناکولی مرسلہ یوسف عبدالرحمٰن مروٹھی۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱) متولی مسجد کو یہ حق حاصل ہے کہ امام مسجد کو بغیر کسی عذر شرعی کے خارج کردے۔
(۲) امام مسجد نوکر مانا جائیگا یا سردارقوم؟ اور اس کو نمازیوں کی تابعداری کرنا چاہئے، یانمازی اس کی تابعداری کریں، مثلاً اوقات صوم وصلوٰۃ سے بخوبی واقف ہے وہ برابر لوگوں کو وقت پر افطاری کراتا ہو اور امساک کا حکم کرتا ہو اور نمازوں میں بہت احتیاط اوقات میں کرتا ہو تو قوم اس کو کہے کہ ہم کو فلاں وقت جماعت ملنا چاہئے فلاں وقت اذان ہونا چاہئے اس میں امام کیا ان کی اطاعت کرے یا موافق مسائل شرعی کار بند رہے۔
(۳) نصارٰی کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی طرف سے مسجد کے متولی بنائے اور ان کو قوانین کا پابند کرے اگرچہ وہ قوانین خلاف مذہب اہلسنت و جماعت واحناف ہوں۔
(۴) اگر نصاری کا مقرر کردہ متولی اپنی نفسانیت سے امام کو اپنا نوکر قرار دے کر نکلوانا چاہے اور قوم ا سکی مخالفت کرے اور مقدمہ کرے اس مقدمہ میں وہ متولی یہ کہے کہ میں مسائل شرعیہ کو مانتا ہوں میں قانون سے اس کو نکلواتا ہوں وہ میرا نوکر ہے یہ جملہ کہ''میں مسائل شرعیہ کو نہیں مانتا'' اس وقت کہے جب کہ اس کو مسئلہ بتلایا جائے کہ امام مسجد نوکر نہیں ہے یہ نائب رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور بغیر کسی عذر شرعی کے نہیں جدا ہوسکتا تو اس کے مقابلہ میں یہ لفظ کہے ایسامتولی قابل ہے متولی بننے کے؟
الجواب
بغیر عذر شرعی کے امام کو خارج کرنیکا متولی وغیرہ کسی کو حق نہیں۔
درمختار میں ہے:
لایجوز عزل صاحب وظیفۃ بغیر جنحۃ۱؎۔
کسی صاحب وظیفہ کو بغیر جرم کے معزول کرنا جائز نہیں(ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۵۱)
( ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۳۸۶و۴۱۹)
(۲) امام اگر کسی قوم کا تنخواہ دار ہے تو وہ ان کا نوکر ضرور ہے مگر نہ خدمت گار بلکہ مخدوم جیسے علماء وقضاۃ وسلاطین کہ بیت المال سے وظیفہ پاتے ہیں مگر وہ رعایا کے خدمت گار نہیں ہوسکتے۔
اپنے افضلوں کو اپنا امام بناؤ کہ وہ تم میں اور تمہارے رب میں واسطہ عرضداشت ہیں۔
(۲؎ سنن الدار قطنی باب تخفیف القرأۃ لحاجۃ نشر السنۃ ملتان ۲/ ۸۸)
ہاں بایں معنٰی امام و علماء وقضاۃ وسلاطین سب خادم ہوسکتے ہیں کہ
سید القوم خادمھم۱؎
قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے یعنی اسے قوم کے آرام و تربیت کی ہر وقت ایسی فکر چاہئے جیسے خادم کو مخدوم کے کام کی۔
(۱؎ کنز العمال حدیث ۱۷۵۱۷ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۷۱۰)
امام جب کہ اوقات کا عالم ہے تو امساک و افطار میں اس کے حکم کا اتباع لازم ہے، رہی نماز اس کے اوقات میں امام پر تکثیر جماعت کی رعایت لازم ہے جہاں تک کراہت لازم نہ آئے وہ وقت مقرر کرے جس میں اس کے اہل مسجد زیادہ جمع ہوسکیں، خود حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جب ملاحظہ فرماتے کہ لوگ جمع ہوگئے نماز میں جلدی فرماتے، ایسا ہی امام کو چاہئے کہ قوم کے واقعی اعذار کا لحاظ رکھے۔ ہاں بعض لوگ بلاوجہ ضد کرتے ہوں تو اس کا اعتبار نہیں۔
(۳) قانون میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مذہب میں دست اندازی نہ کی جائے گی لہذا امر مذکور فی الحال متوقع نہیں اور اگر واقع ہوتو اس کی باضابطہ چارہ جوئی کی جائے کہ مساجد کے متولی حسب شرط بانی مقرر ہوں وہ نہ رہا ہو تو اسکی اولاد، ورنہ نمازیان مسجد کی صوابدید سے، اور یہ کہ امور مسجد میں کسی خلاف مذہب کو دخل دینے سے معاف رکھا جائے۔
(۴) جو شخص مسائل شرعیہ کے مقابلہ میں کہے کہ وہ مسائل شرعیہ کو نہیں مانتا وہ اسلام سے خارج ہوگیااور اسے امور اسلامی میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں رہا اسے تولیت سے جداکرنا لازم ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۰۴: ازدھام پور ضلع بجنور مرسلہ عبدالحفیظ ٹھیکہ دار ۲۱ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
جو شخص سود لیتا ہے آیا وہ متولی جائداد موقوفہ ہوسکتا ہے یانہیں؟اورکسی کو حساب نہ دیتا ہو اور خرچ ضروری مسجد بھی نہ کرتا ہو۔
الجواب
جب ضروری خرچ مسجد کے نہیں کرتا اور مسجد کی آمدنی کافی ہو اور اس کے سود کھانے سے ظاہر کہ وہ حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتا، توظاہر حال یہی ہے کہ وہ تغلب کرتا ہے تو اس پر اطمینان نہ ہوا، اور جس متولی پر اطمینان نہ ہو اس کا اخراج واجب ہے۔
خائن او رغیرامین متولی کو ولایت وقف سے وجوباًنکال دیا جائیگا اگرچہ متولی واقف ہو لہذا غیر واقف اگر خائن ہو تو بدرجہ اولٰی نکالنا واجب ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
مسئلہ ۴۰۵ تا۴۰۸: ازپیلی بھیت مرسلہ عبدالعزیز صاحب۲۶جمادی الآخرہ۱۳۳۶ھ
زید نے کسی جائداد کو اپنی ملکیت سے علیحدہ کرکے وقف کیا اور تاحیات اپنے کو متولی کیا اور بعد اپنے شخص غیر کو تولیت تحریر کردی او راپنے پسر و نبیرہ کو حق تولیت میں شریک نہیں کیا لیکن وقف کنندہ نے یہ وقفی کارروائی حالت بیماری و ناتوانی وبدحواسی میں کی ہے بعد صحت اب واقف کہتا ہے کہ میں مضامین وقف نامہ کو نہیں سمجھا اور نہ مجھے سمجھنے کی اس وقت قابلیت تھی وقف کرنا میں نہیں چاہتا ہوں، کیازید کی وقفی کارروائی ازروئے شرع شریف جائز ہے یانہیں؟
(۲) زید نے بحالت غم وغصہ اپنے پسر کو تولیت سے محروم کرکے غیر شخص کو متولی مقرر کیا اب جب کہ غم وغصہ اس کا فرو ہو ا اور اپنے پسر سے رضامندہوا تو شخص غیر جس کو وہ غصہ میں متولی بناچکا تھا علیحدہ کرکے اپنے پسر کو کیا متولی مقرر کرسکتا ہے؟
(۳) اگر واقف بدحواسی کی حدکو نہیں پہنچا لیکن سفیہ ضرور ہے تو ایسی کارروائی وقف وتولیت کی جو سفاہت سے ہوئی ہے جائز رہ سکتی ہے یانہیں؟
(۴) اگر درحقیقت زید کے حواس وقت وقف نامہ درست تھے اور قبل نفاذ وقف نامہ اس کی نیت خراب ہوئی اور وہ وقف نامہ کو منسوخ کرنا چاہتا ہے تو کیا وقف نامہ منسوخ ہوجائے گا یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب
اگر یہ وقف صحیح شرعی ہوتوسوالات سائل کا جواب یہ ہے کہ ناتوانی کچھ مانع صحت وقف نہیں، نہ بیماری کا کچھ اثر رہا جب کہ سائل لکھتا ہے کہ اس کے بعد تندرست ہوگیا، رہا بدحواسی کا دعوٰی وہ غیر بینہ عادلہ شاہدان ثقہ شرعی کی شہادت کے مقبول نہیں ہوسکتا ورنہ ہر شخص وقف، بیع، اجارہ، نکاح، طلاق تمام تصرفات کرکے یونہی پھر جائے اور کہہ دے کہ میں اس وقت بدحواس تھا رجسٹری بھی بدحواسی میں ہوئی، ہاں اگر معلوم و معروف ہو کہ اس مرض میں اس کی عقل زائل ہوجاتی ہے،بدحواس و مجنون ہوجاتا ہے، پہلے بھی ایسا واقع ہوچکا ہے اور اب کہے کہ اس باربھی میری یہی حالت ہوگئی تھی تو اس کا قول حلف کے ساتھ قبول کرلیں گے۔
ردالمحتار میں فتاوٰی خیریہ سے ہے:
سئل فیمن طلق وھو مغتاظ مدھوش فاجاب ان الدھش من اقسام الجنون فلایقع، واذاکان یعتادہ بان عرف منہ الدھش مرۃ یصدق بلا برھان ا؎(ملخصاً)
سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دی جب غضبناک اور بدحواس تھا تو جواب دیا کہ بدحواسی جنون کی قسموں میں سے ہے لہذا طلاق واقع نہ ہوگی اور جب بدحواسی اس کی عادت ہے بایں طور کہ پہلے بھی اس سے یہ بدحواسی دیکھنے میں آچکی ہے اور معروف ہے تو بغیر دلیل حلف کے ساتھ اس کے قول کی تصدیق کردی جائیگی(ملخصاً)۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷)
اسی میں ہے:
وکذایقال فیمن اختل عقلہ لمرض او لمصیبۃ فاجأتہ۲؎۔
اور یہی کہا جائے گا اس شخص کے بارے میں جس کی عقل میں کسی بیماری یا اچانک صدمہ کی وجہ سے خلل واقع ہوگیا ہو(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷)
(۲) یہ دوسرا سوال دوسرا پہلو ہے اور بدحواسی کو دفع کرتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ غصہ میں دوسرے کو متولی کیا تھا یا رضامندی میں بہر حال اسے اس کے معزول کرنے اور پنے پسر خواہ جس کو چاہے متولی کرنے کا اختیار ہے۔ بحرالرائق میں ہے:
التولیۃ من الواقف خارجۃ عن حکم سائر الشرائط لان لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط فی عقدۃ الوقف۳؎۔
واقف کی تولیت تمام شرائط وقف کے حکم سے خارج ہیں کیونکہ واقف کو اس میں جب مناسب سمجھے تبدیلی و ترمیم کا اختیار ہے اگرچہ عقد وقف میں اس کی شرط نہ کی ہو۔(ت)
(۳؎ بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۲۳۱)
(۳) یہ تیسرا پہلو ہے سائل نے سفیہ کہا اور یہ نہ بتایا کہ اس سے کیا مراد لی، لوگ احمق غبی کندذہن کو سفیہ کہتے ہیں صرف اس قدر مانع صحت تصرف نہیں۔
(۴) وقف جب کہ صحیح واقع ہو واقف کو اس سے رجوع کا کوئی اختیار نہیں رہا کہ اب وہ اس کی ملک سے نکل گیا،
ویتم الوقف بمجرد القول عند الامام ابی یوسف سلمہ اﷲ تعالٰی وعلیہ الفتوی وبہ یفتی۔
امام ابویوسف سلمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک محض زبانی کہہ دینے سے وقف تام ہوجاتا ہے اسی پر فتوٰی ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا(ت)
یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ وہ وقف صحیح شرعی ہو جیسا کہ عبارت سوال کا مفاد ہے ورنہ بحالت بطلان ان سوالات کا کوئی محل ہی نہ ہوگا