مسئلہ ۳۸۵ تا ۳۸۸: ازجبلپور اومتی کاپل مرسلہ محمد نمیر خاں ۷ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
(۱) زید نے اپنی زمین مسجد کےلئے وقف کردی اور کچھ پتھر بھی برائے تعمیر مسجد دئے، زمین اور پتھروں کی قیمت تقریباً ۲۰۰مالہ/ہوں گے، اور عمرو نے اپنی ذات خاص سے بالکل مسجد باقاعدہ اور ایک حجرہ بھی تیار کرکے دونوں کو وقف کردیاجس میں غالباً پانچ ہزار روپیہ صرف ہوا ہوگا بعدہ زید کے کہنے سے عمرو نے زید کے نام سے واسطے نگرانی مسجد ایک کاغذرجسٹری شدہ تحریر کردیا اور مسجد تیار ہوئے بارہ برس ہوئے جب سے ہر طرح کے خرچ کا کفیل مثل چراغ تنخواہ امام ومؤذن ورمضان شریف میں حافظ کی خدمت وتقسیم شیرینی اور بھی درمیان میں مسجد کے متعلق جوضرورت ہوا کرتی ہے عمرو صرف اپنی ذات سے صرف کرتا ہے اور عمرو نہایت خلیق پابند صوم وصلوٰۃ باخدا شخص ہے اور عمرو زید کے افعال سے واقف نہ تھا کیونکہ زید بڑافتنہ انگیز، حاسد، غیبت کنندہ، جماعت میں تفرقہ ڈالنے والا اور مسجد پر اپنی حکومت جتانے والا، ایک نہ ایک شرارت پیداکرنے والا ہے، اس صورت میں متولی کس کو شرع شریف قرار دیتی ہے اور وہ رجسٹری زید کی بموجب شرع شریف کار آمدہے حالانکہ اہل محلہ اور اہل جماعت عمرو کا متولی ہونا پسند کرتی ہیں؟
(۲) صرف زید کے حکم سے پیش امام ومؤذن مقررہوسکتے ہیں یا برخاست ہوسکتے ہیں یا کل اہل جماعت کی رائے سے؟
(۳) پیش امام کے موجود ہوتے ہوئے زید شرارتاً امامت کرتا ہے زید کے پیچھے نماز درست ہوسکتی ہے؟
(۴) زید کی امامت درست ہے یانمازی اپنی اپنی نمازبوجہ کراہت دہرالیا کریں؟
الجواب
(۱) اگریہ امر واقعی ہے کہ زید فتنہ گر،شریر، مفرق جماعت ہے تو وہ ہرگز تولیت مسجد کے قابل نہیں، اس کا معزول کرنا واجب ہے۔
درمختار میں ہے:
درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا لوالواقف غیر مامون۱؎۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے نکال دینا واجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
(۲) مؤذن وامام جس کے مقرر کئے شرعاًان منصوبوں کے لئے زیادہ لائق ہوں انہیں کو ترجیح ہوگی اور اگر یکساں ہوں تو زید کے مقرر کردہ مرجح ہیں کہ اصل مسجد یعنی زمین اسی کی وقف ہے،
درمختارمیں ہے:
البانی للمسجد اولی من القوم بنصب الامام والمؤذن فی المختار الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی۲؎۔
مسجد کا بانی مسجد کے امام ومؤذن کی تقرری میں باقی لوگوں کی بنسبت اولٰی ہے یہی قول مختار ہے مگر جب قوم کا مقرر کیا ہو اامام یامؤذن بانی کے مقرر کئے ہوئے سے افضل اور زیادہ صلاحیت کاحامل ہو تو وہی بہتر ہے۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰)
مگر جب کہ مؤذن وامام تنخواہ دار ہیں اور تنخواہ انہیں عمر و دیتا ہے تو استحقاق تنخواہ اسی کو ہوگا جسے عمرو مقرر کرے، اس پر لازم ہے کہ اسے پسند کرے جو شرعاً زیادہ مناسب ہو اور تنخواہ دار کی برخاستگی بھی عمرو کی رائے پر ہوگی، لانہ ھوا لمستاجر فلیس لثالث فسخھا(کیونکہ وہی کرایہ پر لینے والا ہے تو تیسرے شخص کو فسخ اجارہ کا حق نہیں۔ت)
(۳و۴) اگر زید سے علانیہ فسق ثابت ہو تو اس کی امامت اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔
تبیین الحقائق میں ہے:
فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا۳؎۔
فاسق کو امامت کےلئے مقدم کرنے میں اس کی تعـظیم ہے جبکہ شرعاً مسلمانوں پر فاسقوں کی توہین واجب ہے(ت)
(۳؎ تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴)
اوراگرزید میں کوئی وجہ مانع امامت نہیں مگر امام مقرر کردہ اس سے افضل واولٰی ہے اور اس وجہ سے
اہل جماعت امام کے ہوتے زید کی امامت مکروہ وناپسند رکھتے ہیں تو زید کو جائز نہیں کہ امامت کے لئے تقدم کرے
لانہ ممن ام قوما وھم لہ کارھون۱؎
(کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جس نے کسی قوم کی امامت کی حالانکہ وہ اس کی امامت کو ناپسند جانتے ہیں۔ت) مگر اس صورت میں نمازمیں خلل نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۸۹: ازگنگا جھدی ڈاکخانہ دونی واڑہ تحصیل گوند یا ضلع بھنڈارہ ملک متوسط مرسلہ محمد اسمٰعیل خان۲۵ربیع الاول۱۳۳۶ھ
متولی مسجد نے مسجد کے پیسہ میں خیانت کی ایسے شخص کو متولی رکھنا جائز ہے یانہیں؟ یا متولی نے جھوٹی شہادت دی تو تولیت اسے دینا جائز ہوگی یانہیں؟
الجواب
جس نے جھوٹی شہادت کہی اس میں تو بہت احتمال ہیں کہ واقعی جھوٹی نہ ہو لوگ اسے جھوٹی سمجھیں یا واقع میں جھوٹی ہو مگر شہادت دینے والے نے اپنے نزدیک سچی سمجھ کر دی ہو یا کسی مصلحت اعظم کےلئے کوئی پہلو دار بات کہی ہو یا راستی فتنہ انگیز سے بچنے کےلئے مرتکب ہو اہو یا اس شہادت سے اسے حمایت وقف مقصود ہو، اسی طرح بہت احتمال نکل سکتے ہیں جن کے باعث وہ معزولی متولی کا سبب نہ ہوگی مگر پہلی بات بالکل صاف ہے جب ا س نے مال وقف میں خیانت کی اس کا معزول کرنا واجب۔
متولی اگر امین نہ ہو تو اس کو ولایت وقف سے نکال دیناواجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر) لہذا غیر واقف کو بدرجہ اولٰی نکال دینا واجب ہوگا(بزازیہ) واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
مسئلہ۳۹۰: اجمیر شریف محلہ خادمان چاہ ارٹھ مرسلہ سید امتیاز علی صاحب۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
ایک شخص مسمی سید امیر علی متولی درگاہ تھا اور اس کی چار بیبیاں منکوحہ تھیں اول زوجہ اس کے چچا کی دختر تھی اور دوسری پٹھانی اور تیسری کاشت کار قوم چتیہ کی لڑکی چھوٹی قوم سے تھی، اول زوجہ سے ایک دختر اور دوسری سے ایک پسر مسمی شریف حسین اور تیسری سے دو دختران، اور متولی مذکور کے ایک برادر علاتی پٹھانی بیوی سے ہیں جب کہ متولی مذکورالصد رنے انتقال کیا تو اولاد مندرجہ برادر علاتی کو چھوڑ ا اب برادر علاتی مسمی نثار احمد بمقابلہ پسر مسمی شریف حسین کے دعویدار ہے کہ میں عہدہ تولیت کا مستحق ہوں، اب شرعاً لڑکا ہونا چاہئے یا برادر؟بینواتوجروا۔
الجواب
اگر مال کی کوئی وراثت ہوتو بیٹے کے آگے بھائی محروم ہے مگر وقف کی تولیت کوئی ترکہ نہیں، اس میں شرائط واقف پھر عملدرآمد سابق پھر صوابدید مسلمانان پر نظر ہوگی ان کے اعتبار سے جسے ترجیح ہوگی وہی متولی ہو گا بیٹا ہو یا بھائی یا غیر۔
ردالمحتار میں ہے:
(من جھلھم) قولھم خبز الاب لابنہ۱؎۔واﷲ تعالٰی اعلم
ان کی جہالت کی بناء پر ہے ان کا یہ قول کہ باپ کی روٹی بیٹے کی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۵)
مسئلہ ۳۹۱ تا ۳۹۸: ازاودے پور میواڑراجپوتانہ دہلی دروازہ مرسلہ سید ضامن علی صاحب ۸ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱) ایک شہر میں مسلمانوں نے باتفاق باہمی قومی سرمایہ سے ایک مدرسہ موسومہ مدرسہ حنفیہ تعلیم دینیات جاری کیا اور اس پر انجمن اسلام کی نگرانی قائم کی گئی اور زید کو معمولی اختیاروں کے ساتھ بہ نفاذ ایک دستور العمل مہتمم مدرسہ مقرر کیا۔
(۲) زید نے بظاہر بصلہ حسن کار گزاری تیسرے سال مربیت اور پانچویں سال متولیت کا ادعا حاصل کیا۔
(۳) چھٹے سال بلا استصواب قوم مدرسہ حنفیہ کو مدرسہ نظامیہ سے وابستہ کرکے روداد سالانہ میں بجائے حنفیہ کے نظامیہ لکھنا شروع کیا تا کہ زید کے تعلقات خاندان نظامیہ سے مدرسہ مخصوص سمجھاجائے۔
(۴) اس کے بعد زید نے دستور العمل نظام مدرسہ کی پابندی سے انحراف کرنا شروع کیا اور ارباب انجمن کو یکے بعد دیگرے ممبرانہ حیثیت سے گرانا شروع کیا۔
(۵) نویں دسویں سال اسی قوم کے جذبات مذہی کو بذریعہ تحریر صدمہ پہنچانے لگا یعنی کھلے لفظوں میں یہ لکھ کر اطراف ہندوستان میں شائع کردیا کہ فلاں شہر کے مسلمان کلمہ کی جگہ بتوں کا نام لیتے ہیں سجدہ کی جگہ دہوک دیتے ہیں، روزہ نماز کے وہ پابندنہیں، نہ ان لوگوں کو خوف خدا ورسول ہے، یہ مذہب سے سراسرآزاد ہیں، میں نے ان کے لئے اسلام کی بنیاد کا پتھر رکھا ہے حالانکہ یہ بہتان عظیم ہے اور واقعات سراسراس کے خلاف ہیں۔
(۶)گیارھویں سال کی روداد میں حسب معمول زید نے لفظ انجمن نہیں لکھا تاکہ بادی النظر میں مدرسہ انجمن کی نگرانی میں نہ سمجھا جائے۔
(۷) تعلیم وتربیت کے اعتبار سے مدرسہ نے کچھ بھی ترقی نہ کی۔
(۸) حالات صدر کومحسوس کرکے جب قوم نے چند اشخاص کو کاروبار مدرسہ میں شریک کرنا چاہا تو زید نے انکارکردیا اور خدمت مہتممی سے علیحدہ کردئے جانے کے بعد زید نے کچہری میں مدرسہ پر قبضہ دلاپانے کا دعوٰی کیا لہذا واقعات اور حالات حاضرہ کی روسے زید کی نیت سے یہ ثابت ہوچکا کہ جو کچھ وہ کرتا رہا قومی نقطہ نظر کے خلاف کرتا رہا اس کو ترقی تعلیم وخدمت اسلام مد نظر نہ تھی بلکہ اس کو اس پر دہ میں اپنی نام آوری اور مفادذاتی منظور تھا، پس زید کی نسبت شریعت حقہ میں کیا حکم ہے؟
الجواب
اگر یہ بیان واقعی ہے تو زید حقوق اﷲ و حقوق العباد دونوں میں گرفتار، اور شریعت مطہرہ کے نزدیک سخت سزا کا سزوار ہے کہ اس نے مسلمانوں پر اتہام رکھے اور ان کی دینی حیثیت سے بدنام کیا اور مدرسہ وقفی کو اپنی ذاتی اغراض کا ذریعہ بنانا چاہا وہ جب ایک دستور العمل کی پابندی سے مشروط کرکے مہتمم کیا گیا تھا اور اس نے بلاوجہ شرعی اس کی پابندی نہ کی مہتممی سے خارج ہوگیا
اذا فات الشرط فات المشروط
(جب شرط فوت ہوئی تو مشروط فوت ہوگیا۔ت) اور اب کہ اسے اس بارے میں اتنی طمع ہے کہ کچہری میں نالشی ہو کر مدرسہ پر قبضہ کرنا چاہا تو ہر گز اس قابل نہیں کہ مدرسہ میں اس کو دخل دیا جائے، درمختار وغیرہ کتب معتبرہ میں ہے:
طالب التولیۃ لایولی۱؎
(تولیت کا طلبگار کو متولی نہیں بنایا جائے گا۔ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ۲؎، رواہ الائمۃ احمد والبخاری وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
بیشک ہم ہر گز اپنے معاملات کا عامل اس کو نہیں بناتے جو اس کی خواہش رکھتا ہو۔ (اس کو امام احمد، بخاری، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الاجارۃ باب استیجارالرجل الصالح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱)