| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۶(کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف ) |
مسئلہ۳۸۲: مرسلہ نقی احمد صاحب قصبہ سندیلہ ضلع ہردوئی محلہ اشراف ۱۹صفر۱۳۳۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میں: (۱) زید منتظم وبانی جائداد انجمن اسلامیہ جو کہ منجانب گروہ اسلام قائم ہوئی تھی تھا اور عمرو امین جائداد کاتھا۔ (۲) بکر وغیرہ جو کہ متولی گروہ اسلام تھے پانچ سال کے حساب فہمی کا دعوٰی زید منتظم وعمرو امین پر کیا اور کاغذات طلب کئے۔ (۳) ہر دو مدعا علیہم نے جواب دیا کہ تم مستحق حساب فہمی نہیں ہو کیونکہ کل جائداد میرے اہتمام وکوشش سے حاصل ہوئی۔ (۴) عدالت سے کاغذات طلب ہوئے عمروامین روپوش ہوگیا اور کاغذات نہیں دئے عدالت نے بہ ثبوت یک طرفہ مدعاعلیہم پر ڈگری کر دی۔ (۵) بعد ڈگری اس ڈگری کی بابت ثالثی ہوئی جس میں زر ڈگری چوتھائی قائم رہا اور زید منتظم نے بوجہ روپوش ہونے عمرو کے کل روپیہ مطابق فیصلہ ثالثی اداکردیا۔ (۶) اب زید منتظم وعمرو امین کا انتقال ہوگیا اور جو کاغذات امین کے قبضہ میں تھے وہ برآمد ہوئے ان کاغذات کی رو سے بمقابلہ اداشدہ رقم کے بہت کم روپیہ مطالبہ مدعیان کا ذمہ منتظم وامین بر آمد ہوتا ہے آیا شرعاً بروئے کاغذات بقدرمطالبہ ذمہ منتظم وامین نکلے تو رقم ادا شدہ کے بعد جس قدر باقی رہے ان کے ورثہ سے جب کہ جائداد چھوڑی ہو مدعیان رقم پانے کے شرعاً مستحق ہیں یا نہیں ؟ اور اسی طرح اگر منتظم نے زائد روپیہ داخل کیا ہو تو شرعا واپس پانے کا حق ورثاء منتظم کوہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب جس قدر مطالبہ واجبی ثابت ہو اگر اس سے کم ادا ہوتا ہے باقی ان کے ترکہ سے لیاجائے گا اور اگر اول سے زیادہ لے لیا گیا ہے تو جتنا زیادہ ہو انہیں واپس دینا واجب ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی الیدما اخذت حتی تردھا۱؎، وقال تعالٰی
ولاتأکلوااموالکم بینکم بالباطل وتدلو ابھا الی الحکام لتاکلوافریقا من اموال الناس ۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لی، یہاں تک کہ وہ اس کو اداکردے۔اور اﷲتعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر مت کھاؤ اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس لئے لے جاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناحق کھالو۔(ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء ان العاریۃ موداۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۲)(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۸۸)
عقود الدریہ میں ہے:
من دفع شیئا ظانا انہ علیہ کان لہ ان یستردہ۳؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کسی شخص نے دوسرے کو کوئی شے دی یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس کویہ شے دینا مجھ پرلازم ہے تو اس کو واپس لینے کا اختیار ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۳؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۹۱ وکتاب الوقف ۱/ ۲۲۷،۲۲۹ وکتاب المداینات ۲/ ۲۴۹ ارگ بازار قندھار افغانستان )
مسئلہ۳۸۳: مرسلہ حکیم محمد حیات خان صاحب آگرہ کوچہ حکیماں حیات منزل ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ منجملہ پانچ متولیان اوقاف کے جو بحیثیت ایک انجمن کے کثرت رائے پر کام کرتے ہوں اگرچہ ایک علانیہ سود کھاتے ہوں اور خلاف منشاء واقف خرچ کئے جانے پر مصر ہوں اس قابل ہیں کہ عندالشرع متولی رہ سکیں۔ متذکرہ بالا متولی صاحب کا جو علانیہ سود کھاتے ہیں یہ فعل کہ مسجد جامع وغیرہ میں جوان کے زیر نگرانی ہیں حسب موقع اپنے خرچہ سے عام مسلمانوں کو برف وغیرہ پلواتے ہیں آیا عندالشرع اس قابل ہے کہ دیگر متولیان اسے روکیں۔بینواتوجروا۔
الجواب صورت مستفسرہ وہ شخص ہر گز متولی رہنے کے قابل نہیں اوراس کا معزول کرنا واجب۔
درمختار میں ہے:
ینزع وجوبالوالواقف درر فغیرہ بالاولٰی غیرمامون۱؎۔
اس کو وجوباً وقف سے نکال دیاجائےگا اگرچہ وہ خود واقف ہی ہو(درر)جبکہ وہ امین نہ ہو توغیر واقف اگر خائن ہو تو بدرجہ اولٰی اس کو نکال دینا واجب ہوگا۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
اپنے خرچ سے مسلمانوں کو برف پلانا کوئی امر معیوب نہیں بلکہ نیت حسن ہوتو مستحسن ہے مگر وقف کی آمدنی سے حرام ہے جبکہ شرائط وقف کے تحت میں داخل نہ ہو اور مسجد میں بہ مجمع نہ ہونا چاہئے کہ غل شور کا بھی احتمال ہے، اور مسجد میں غیر معتکف کو کھانا پینا بھی نہ چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۸۴: ازموضع درؤ ضلع نینی تال تحصیل کچھا مسئولہ ثروت یارخاں صاحب ۲۶شعبان ۱۳۳۵ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین ایک جائداد وقف کے متولی واحد کے انتقال پر تین متولیان بموجب شرط دستاویز وقف پیدا ہوئیں اور دیگر جائداد میں چھ وارث قائم ہوئے مقدمہ داخل خارج وقف پر منجملہ چھ وارثوں کے دو وارثو ں نے جائداد وقف کو متروکہ قرار دیا اور وقف کے خلاف کوشش کی اور منجملہ انہیں چھ وارثوں کے تین وارث جائداد وقف کے متولیان میں سے دو متولیان نے وقف قائم رکھنے کی کوشش کی اور وہ کامیاب ہوئے ایک متولی خاموش رہا جن وارثوں نے کوشش خلاف وقف متروکہ قائم ہونے کےلئے کی تھی وہ دونوں حقیقی بھائی تھے اور ایک بھائی کے لڑکے کی وہ متولیہ جوکہ خاموش رہی وقت داخل خارج وقف مذکور منکوحہ تھی جس سے یہ اندیشہ دو متولیان اورمسلمانان کو تھا اور ہے کہ اگرجائداد وقف متروکہ قرار پائی گئی تو متولیہ خاموش کو یہ نفع ذاتی پہنچے کہ اس کے دونوں خسر جووارث ہیں حصہ دار جائداد وقف میں بن جائیں اور وقف کو نقصان پہنچے کہ اس وجہ سے آئندہ بھی نقصان کاخیال ہے اب دوسرا مقدمہ واسطے نمبرداری برائے تعمیل شرائط وقف چل رہا ہے تو ایسی صورت میں جو کہ اوپر ظاہر کی گئی ہے کون متولیہ نمبردار مقرر ہونے کے لائق ہے اور کون تولیت سے خارج ہونے کے قابل ہے اور وہ شخص جو خاموش متولیہ کی طرف سے سربراہ کار مقرر ہونا چاہتا ہے جو خسر اس کا ہے اور وقف کے خلاف متروکہ قائم ہونے کی کوشش کرچکا ہے سربراہ کار مقرر ہوسکتا ہے یانہیں؟
الجواب جو خلاف وقف کوشش کرچکاوہ ہر گز سربراہ کار نہیں کیا جاسکتا یہاں تک کہ اگر خود متولی یا خود واقف ایسا کرتا واجب تھا کہ فوراً نکال دیا جاتا۔
درمختار میں ہے:
ینزع وجوبالوالواقف فغیرہ باولی غیر مامون۱؎۔
متولی وقف اگر امین نہ ہو تو اس کو ولایت سے نکال دینا واجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو، اگر متولی غیر واقف ہے توبدرجہ اولٰی نکالنا واجب ہے(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳)
ایک متولیہ کاخاموش رہنا اگرثابت ہو کہ اس نیت فاسدہ سے تھا تو اس کا اخراج بھی واجب ہے، ہاں اگر بوجہ مجبوری ساکت رہی تو حرج نہیں، نمبرداری شرعی مسئلہ نہیں، ہاں جائز متولیوں سے باہر کوئی شخص نہ ہو۔واﷲتعالٰی اعلم۔