Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
150 - 150
تقریظ جناب مولانا شیخ احمد مکی مدرس مکہ معظمہ دام مجدہ
الحمد ﷲ الذی جعلنا من ذوی العقول و منحنا بالرضا والقبول نسألہ الصلوٰۃ والسلام کما ینبغی لجلال عظمۃ قدر نبینا و سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء وسید کل رسول اشھد ان لا الٰہ الّا اﷲ وحدہ لا شریک لہ المنزہ عن الکذب والاقول والصلوٰۃ والسلام علٰی سیدنا محمدخاتم انبیائہ واشرف رسلہ المبعوث الٰی کافۃ الخلق والی الاسود والاحمر ھو الشافع المشفع فی المحشر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ واصحابہ المصابیح العزر وعلی الائمۃ المجتھدین الی یوم الیقین اما بعد فقد نورت جفنی باثمدھٰذا الجواب فیاطرب من جواب اصاب لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ بل ھدایۃ مھداۃ الی الحق والصواب وکیف لا وھو للبحرالطمطام والحبر الفھام قدوۃ الفقھاء والمحدثین وزبدۃ الکملاء والمفسرین ریاض البلغاء المتکلمین ومرکز الفصحاء الماھرین جامع المتون وشارح الفنون التقی النقی نعمان الزمان مولانا الحاج الحافظ القاری الشیخ احمد رضا خاں لا زالت شموس افاضتہ علی العٰلمین مشرقۃ وصمصام اجوبتہ لاعناق الملحدین قاطعۃ جزاہ اﷲ عنا وعن المسلمین خیرا لجزاء وجمع اﷲ شملہ مع الاوتاد والنجباء فلعمری ان ھذا الجواب لا یقبلہ الاّ ذو قلب سلیم ولا یخوض فیہ بالباطل الاّ الملحد الزندیق الرجیم کما قیل ؎

الحمدﷲ ان الحق قد ظھرا 

الا علی اکمہ لا یعرف القمرا

من فاضل نال من ابائہ الشرفا

اروی سحاب نداہ الجن والبشرا

والحق ان من یضلل اﷲ فلا ھادی لہ ومن یھد ہ فلا مضل لہ اللھم اجعلنا متصفین بالافعال کما جعلتنا واصفین بالاقوال وارضنا وارض عنّا بجاہ سیدنا محمد والاٰل واحفظنا عن زائغ الزائغین ومن ھمزات الشیاطین واٰخر دعوانا ان الحمد ﷲ رب العٰلمین نمقہ ببنانہ الراجی عفو ربہ الحفی الباری احمد المکی الجشتی الصابری الامدادی المدرس بالمدرسۃ الاحمد یۃ الواقعۃ فی مکّۃ المحمیۃ ۱۳۱۷ھ۔
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے جس نے ہمیں ذوالعقول بنایا اور رضا و قبول کا تحفہ دیا، اس سے ہم اپنے نبی و سردار محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جو انبیاء کے پچھلے اور تمام رسولوں کے سردار کی پُر جلال عظمتِ قدر کے مناسب پر صلوٰۃ وسلام کا سوال کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ وحدہ لا شریک کے بغیر کوئی معبود برحق نہیں جو کذب اور بے جا بات سے پاک ہے، ہمارے سردار، اﷲتعالٰی کے انبیاء و رسولوں کے خاتم و اشرف، جو تمام مخلوق کی طرف مبعوث و ہ محشر کے روز شفاعت کرنے والے جن کی شفاعت مقبول ہے سیدنامحمدپر صلوٰۃ و سلام اور ان کی آل و اصحاب پر جو قابلِ قدر چراغ ہیں اور ائمہ مجتہدین پر قیامت تک، امابعد میں نے اس جواب کے سرمہ اثمد سے اپنی پلکوں کو منور کیا، کیا ہی خوشی ہے ایسے جواب باصواب سے کہ باطل اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا، بلکہ یہ نری ہدایت ہے جو حق وصواب تک پہنچانے والی ہے کیوں نہ ہو کہ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر، انتہائی فہم والے ماہر، فقہاء اور محدثین کے مقتداء، کاملین ومفسرین کے نشان، بلیغ کلام والوں کے باغ، فصیح ماہرین کے مرکز، متون کے جامع، فنون کے شارح، پاکیزہ، متقی، نعمانِ وقت مولانا الحاج حافظ قاری الشیخ احمد رضا خاں کا یہ جواب ہے ان کے فیض کا سورج تمام جہانوں پر چمکتا رہے اور ان کے جوابات کی تلوا ر ملحدین کی گرد ن کو کاٹتی رہے، اﷲ ان کو ہماری اور تمام مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اور اﷲ تعالٰی ان کی مقبول خدمات کو اوتاد و نجباء کے ساتھ شمار فرمائے، مجھے اپنی عمر کی قسم اس جواب کو صرف سلیم قلب والے لوگ ہی قبول کریں گے اور اس میں باطل کی تلاش صرف ملحد و زندیق مردود کو ہی ہوگی، جیسے کسی نے کہا:

الحمد ﷲ بیشک حق ظاہر ہوا مگر اندھوں کے لئے نہیں جو چاند کو نہیں پہچانتے، یہ ظہور ایسے فاضل سے ہوا جس نے اپنے آباء واجداد سے شرف پایا، ا س کی مجلس کے بادل نے جن و بشر کو سیراب کیا۔یہ حق ہے کہ جس کو اﷲ تعالٰی گمراہ کرے اس کا کوئی ہادی نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں، اے اﷲ!ہمیں افعال میں ایسے متصف فرما جیسے تو نے ہمیں اقوال میں واصف بنایا، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی آل پاک کے وسیلہ سے ہمیں راضی بنا اور ہم سے راضی رہ، اور ہمیں گمراہوں کی گمراہی اور شیطانوں کی شیطنت سے محفوظ فرما،ہماری آخری التجا اﷲ رب العالمین کی حمد ہے، احمد مکی چشتی صابری امدادی مدرس مدرسہ احمدیہ نے ۱۳۱۷ھ میں اپنے دستخطوں سے مکہ مکرمہ میں جاری کیا۔ت
15_25.jpg
Flag Counter