Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
149 - 150
بدعقیدہ سید
    اگر کہے بعض کٹر نیچری بیشمار اشد غالی رافضی بہت سچّے ملحد جھوٹے صوفی کچھ ہفت خاتم شش مثل والے وہابی غرض بکثرت کفار کہ صراحۃً منکرین ضروریات دین ہیں سید کہلاتے میر فلاں لکھے جاتے ہیں۔

اقول: کہلانے سے واقعیت تک ہزاروں منزل ہیں نسب میں اگرچہ شہرت پر قناعت والناس امناء علٰی انسابھم (لوگ اپنے نسبوں میں امین ہیں۔ت) مگر جب خلاف پر دلیل قائم ہو تو شہرت بے دلیل نامقبول وعلیل اور خود اس کے کفر سے بڑھ کر نفی سیادت پر اور کیا دلیل درکار، کافر نجس ہے
قال تعالٰی انما المشرکون نجس۱؂
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا:بے شک مشرک نر ے ناپاک ہیں)
(۱؂القرآن الکریم ۹/ ۲۸)
اور ساداتِ کرام طیب و طاہر
قال اﷲ تعالٰی ویطھر کم تطھیرا۲؂
 (۲؂القرآن الکریم ۳۳/ ۳۳)
(اﷲ تعالٰی نے فرمایا: اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کردے)

اور نجس و طاہر باہم متبائن ہیں کہ ایک شیئ پر معاً ان کا صدق محال، جب علمائے کرام تصریح فرما چکے کہ سید صحیح النسب سے کفر واقع نہ ہوگا اور یہ شخص صراحۃً کافر تو اس کا سید صحیح النسب نہ ہونا ضرورۃً ظاہر، اب اگر اس نسب کریم سے انتساب پر کوئی سند معتمد نہ رکھتا ہو تو امر آسان ہے ہزاروں اپنی اغراضِ فاسدہ سے براہِ دعوٰی سید بن بیٹھے :
غلّہ تا ارزاں شود امسال سید می شوم
 (اس سال سید بنوں گا تاکہ خوراک میں آسانی ہو)
رافضی سید :

رافضی صاحبوں کے یہاں تو یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، آج ایک رذیل سا رذیل دوسرے شہر میں جاکر رفض اختیار کرے کل میر صاحب کا تمغا پائے توفلاں کافر سے کیا دور ہے کہ خودبن بیٹھا ہو یا اس کے باپ دادا میں کسی نے ادعائے سیادت کیا اور جب سے یونہی مشہور چلا آتا ہو، اور اگر بالفرض کوئی سند بھی ہو تو اس پر کیا دلیل ہے کہ یہ اسی خاندان کا ہے جس کی نسبت یہ شہادت تامہ ہے،
علامہ محمد بن علی صبان مصری اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی و فضائل اہل بیت الطاہرین میں فرماتے ہیں: ومن این تحقق ذٰلک لقیام احتمال زوال بعض النساء و کذب بعض الاصول فی الانتساب۳؎
یہ کیسے ثابت ہوا جبکہ بعض عورتوں کی غلط کاری اور نسب بنانے میں بعض مردوں کے جھوٹ کا احتمال ہے۔ت
 (۳؎ اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی وفضائل اہل البیت الطاہرین، محمد بن علی صبان مصری)
یہ وجوہ ہیں ورنہ حاشا ﷲ ہزار ہزار حاشاﷲ نہ بطن پاک حضرت بتول زہرا میں معاذ اﷲ کفر و کافری کی گنجائش، نہ جسم اطہر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کوئی پارہ کتنے ہی بُعدپر عیاذاً باﷲ دخولِ نار کے لائق، الحمدﷲ یہ دو دلیل جلیل واجب التعویل ہیں کہ کوئی عقیدہ کفریہ رکھنے والا رافضی وہابی متصوف نیچری ہر گز سید صحیح النسب نہیں۔
تین قیاس پر مشتمل

دلیل اوّل:

(۱) یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر نجس۔ نتیجہ: یہ شخص نجس ہے۔

(۲) ہر سید صحیح النسب طاہر ہے اور کوئی طاہر نجس نہیں، نتیجہ: کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔

(۳) اب یہ دونوں نتیجے ضم کیجئے یہی شخص نجس ہے اور کوئی سید صحیح النسب نجس نہیں۔ 

نتیجہ:یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔

قیاس اول کا صغرٰی مفروض اور کبرٰی منصوص اور دوم کا صغرٰی منصوص اور کبرٰی بدیہی تو نتیجہ قطعی۔

دلیل دوم:

قیاس مرکب، یہ بھی تین قیاسوں کو متضمن، یہ شخص کافر ہے اور ہر کافر مستحقِ نار۔

نتیجہ: یہ شخص مستحقِ نار ہے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا کوئی پارہ مستحقِ نار نہیں۔

نتیجہ:یہ شخص نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسمِ اقدس کا پارہ نہیں اور ہر سیدصحیح النسب نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جسم اقدس کا پارہ ہے۔

نتیجہ: یہ شخص سید صحیح النسب نہیں۔

پہلا کبرٰی منصوص قرآن، اور دوسرے کا شاہد ہر مومن کا ایمان، اور تیسرا عقلاً و فقہاً واضح البیان۔
والحمدﷲ الکریم المنان والصلوٰۃ والسلام الاتمان الاکملان علٰی سیدنا ومولانا سید الانس والجان خاتم النبیین بنص الفرقان وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وتابعیھم باحسان وعلینا معھم یااﷲ یارحمن اٰمین اٰمین یارؤف یاحنان سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الٰہ الا انت استغفرک واتوب الیک واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔
تمام تعریفیں احسان فرمانے والے اﷲ کریم کے لئے تام وکامل صلوٰۃ وسلام ہمارے آقا و مولٰی انسان و جن کے سردار، قرآنی نص سے خاتم النبیین اور آپ کی آل واصحاب اور تابعین اور ان کے ساتھ ہم پر، یا اﷲ یا رحمان، آمین آمین، اے شفقت ومہربانی فرمانے والے! تو پاک ہے اے اﷲ! اور تیری ہی تعریفیں، گواہی دیتا ہوں کہ تیرے بغیر کوئی معبود برحق نہیں، تجھ سے بخشش کا طالب ہوں اور تیری طرف ہی رجوع، اﷲ سبحانہ وتعالٰی بڑے علم والا اور اسی جل مجدہ کا علم نہایت تام اور نہایت قطعی ہے۔ت
کتبہ عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عفی عنہ محمد المصطفٰی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
15_24.jpg
Flag Counter