Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
148 - 150
اہل بیت عذاب سے بری ہیں
طبرانی بسندصحیح(عہ) حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت بتول رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے فرمایا:
ان اﷲ تعالٰی غیر معذبک ولا ولدک ۱؎
بیشک اﷲ تعالٰی نہ تجھے عذاب فرمائے گا نہ تیری اولاد کو۔
عہ: افادہ الھیثمی فی الصواعق حیث قال جاء بسند رواتہ ثقات انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لفاطمۃ فذکرہ۔۱۲ منہ (م)

عہ: ہیثمی نے صواعق میں اس کا افادہ کیا جہاں انہوں نے کہا سند کے ساتھ مروی جس کے تمام راوی ثقہ ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کو فرمایا تو پھر اس حدیث کا ذکر کیا ۱۲ منہ (ت )
 (۱ ؎ المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۱۶۸۵، المکتبۃ الفیصلیۃ، بیروت، ۱۱/ ۲۶۳)
حضرت فاطمہ کی وجہ تسمیہ:

ابن عساکر حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انما سمیت فاطمۃ لان اﷲ فطمہا وذریتہا عن النار یوم القٰیمۃ ۲؎
فاطمہ اس لئے نام ہوا کہ اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی نسل کو روز قیامت آگ سے محفوظ فرمادیا۔
(۲ ؎ المواہب اللدنیہ، بحوالہ ابن عساکر، المقصد الثانی، الفصل الثانی، المکتب الاسلامی، بیروت، ۲/ ۶۴)

(تنزیہ الشریعۃ بحوالہ ابن عساکر باب مناقب السبطین الخ الفصل الاول، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱/ ۴۱۳)
اہل بیت آگ میں نہیں جاسکتے

قرطبی آیہ کریمہ ولسوف یعطیک ربّک فترضٰی کی تفسیر میں حضرت ترجمان القرآن رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ناقل کہ انہوں نے فرمایا:
رضا محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان لا یدخل احد من اھل بیتہ النّار۳؎
یعنی اﷲ عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے راضی کردینے کا وعدہ فرمایا اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی رضا اس میں ہے کہ ان کے اہل بیت سے کوئی دوزخ میں نہ جائے۔
(۳ ؎ الجامع لاحکام القرآن (تفسیر القرطبی) تحت اٰیۃ ولسوف یعطیک ربک، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۲۰/ ۹۵)
نار دوقسم کی ہے، نارِ تطہیرکہ مومن عاصی جس کا مستحق ہو، اور نارِ خلود کافرکے لئے ہے، اہل بیت کرام میں حضرت امیر المؤمنین مرتضی و حضرت بتول زہرا و حضرت سید مجتبٰی و حضرت شہید کربلا صلی اﷲ تعالٰی علٰی سید ہم و علیہم وبارک وسلم تو بالقطع والیقین ہر قسم سے ہمیشہ ہمیشہ محفوظ ہیں اس پر تو اجماع قائم اور نصوص متواترہ حاکم باقی نسل کریم تا قیام قیامت کے حق میں اگر بفضلہٖ تعالٰی مطلق دخول سے محفوظی لیجئے اور یہی ظاہر لفظ سے متبادر، اور اسی طرف کلماتِ اہل تحقیق ناظر، جب تو مراد بہت ظاہر، اور منع خلود مقصود جب بھی نفی کفر پر دلالت موجود۔

شرح المواہب للعلامۃ الزرقانی میں زیر حدیث مذکور:
انما سمیت فاطمۃ ھی فاما ھی وابنا ھا فالمنع مطلق واما من عداھم فالممنوع عنھم نار  الخلود، واما مارواہ ابو نعیم والخطیب ان علیا الرضا بن موسٰی الکاظم ابن جعفر الصادق سئل عن حدیث ان فاطمۃ احصنت فقال خاص بالحسن و الحسین وما نقلہ الاخبار یون عنہ من توبیخہ لاخیہ زید حین خرج علی المامون وقولہ اغرک قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان فاطمۃ احصنت الحدیث ان ھذا لمن خرج من بطنہا لا لی ولا لک فھذا من باب التواضع وعدم الاغترار بالمناقب وان کثرت کما کان الصحابۃ المقطوع لھم بالجنّۃ علی غایۃ من الخوف والمراقبۃ والا فلفظ ذریۃ لا یخص بمن خرج من بطنھا فی لسان العرب ومن ذریتہ داؤد وسلیمٰن الاٰیۃ وبینھم وبینہ قرون کثیرۃ فلا یرید ذٰلک مثل علی الرضا مع فصاحتہ ومعرفتہ لغۃ العرب علی ان التقلید بالطائع یبطل خصوصیۃ ذریتھا ومحبیھا الا ان یقال ﷲ تعذیب الطائع فالخصوصیۃ ان لا یعذ بہ اکراما لھا واﷲ اعلم ۱؎، ۱ھ مختصرا
  بیشک فاطمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کا یہ نام ہے لیکن فاطمہ اور ان کے بیٹے تو ان پر مطلقاً جہنم کی آگ ممنوع ہے لیکن ان کے ماسوا کے لئے جہنم کا خلود ممنوع ہے۔ آپ پر اور ان پر اﷲ تعالٰی کا سلام ہو۔ اور لیکن جو ابونعیم اور خطیب نے روایت کیا ہے کہ علی رضا بن موسٰی کاظم ابن جعفر الصادق سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا کہ فاطمہ نے اپنے حرم گاہ کو محفوظ رکھا تو انہوں نے جواب میں فرمایا یہ حسن اور حسین کے لئے خاص ہے اور وہ جو مورخین نے ان سے یہ نقل کیا کہ انہوں نے اپنے بھائی زید کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا جب اس نے مامون پر خروج کیااو رکہا کیا تجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس فرمان نے غرور میں مبتلا کیا ہے کہ فاطمہ نے اپنی حرم گاہ کو محفوظ رکھا ہے۔(الحدیث) اس پر انہوں نے فرمایا یہ میرے اور تیرے لئے خاص نہیں بلکہ جو آپ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے بطن سے پیدا ہوا ہے ان سب کے لئے ہے، تو یہ تواضع اور مناقب کثیرہ کے باوجود غرور نہ کرنے کے باب سے ہے جیسے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے لئے جنت قطعی ہے اس کے باوجود وہ خوف و مراقبہ میں مبتلا تھے، ورنہ تو ذریت کا لفظ عربی زبان میں ایک پیٹ کی اولاد کے لئے خاص نہیں، جیسے آیہ کریمہ ومن ذریتہ داؤد سلیمٰن ہے، حالانکہ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام اور داؤد و سلیمٰن علیہما السلام کے درمیان کئی قرون کا فاصلہ ہے، لہٰذا علی رضا اپنی فصاحت اور عربی لغت کی معرفت کے باوجود یہ خاص مراد نہیں لے سکتے، علاوہ ازیں نافرمان کی تقلید حضرت زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی اولاد کی خصوصیت کو باطل کردیتی ہے، مگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اﷲ تعالٰی کو نافرمان کی تعذیب کا اختیار ہے لیکن حضرت زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے اکرام کے لئے اُسے ۱؎ عذاب نہیں دیتا، واﷲ تعالٰی اعلم ۱ھ مختصراً۔
 (۱ ؎ شرح الزرقانی المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی، الفصل الثانی، دارالمعرفۃ، بیروت، ۳/ ۲۰۳)
ورأیتنی کتبت علی ھا مش قولہ الا ان یقال ما نصہ۔ اقول ولا یجدی فان الوقوع ممنوع باجماع اھل السنۃ واما الامکان فثابت عند من یقول بہ الی خلاف ائمتنا الماتریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم فانھم یحیلونہ وقد تکلمت فی مسئلۃ علی ھامش فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت لبحرا لعلوم بما یکفی ویشفی فانی اجدنی فیھا ارکن وامیل الی قول ساداتنا الاشعریۃ رحمھم اﷲ تعالٰی و رحمنا بھم جمیعا واﷲ اعلم بالصواب فی کل باب۔
میں نے زرقانی کے قول ''الا ان یقال'' پر حاشیہ لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے اقول ( میں کہتا ہوں) ان کا یہ بیان مفید نہیں ہے عذاب کا وقوع تو باجماع اہلسنّت ممنوع ہے، باقی رہا امکان تو یہ اس قائل کے ہاں ثابت ہے جو ہمارے ائمہ ماتریدیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے خلاف ہے کیونکہ یہ ائمہ محال سمجھتے ہیں، میں نے اس مسئلہ پر کتاب مسلم الثبوت کی شرح بحرالعلوم فواتح الرحموت پر حاشیہ میں کافی اور شافی بحث کی ہے میں نے وہاں اپنے کو سادات اشعریہ رحمہم اﷲ کے قول کی طرف مائل پایا، اﷲ تعالٰی ہم سب پر رحم فرمائے۔ (واﷲ تعالٰی اعلم) 

فتاوٰی حدیثیہ امام ابن حجر مکی میں ہے:
    اذا تقرر ذٰلک فمن علمت نسبتہ الٰی اٰل البیت النبوی والسرالعلوی لا یخرجہ عن ذٰلک عظیم جنایتہ ولا عدم دیانتہ وصیانتہ ومن ثم قال بعض المحققین ما مثال الشریف الزانی او الشارب او السارق مثلاً اذا اقمنا علیہ الحد الا کامیر اوسلطان تلطخت رجلاہ بقذر فغسلہ عنھما بعض خدمہ ولقدبر فی ھذا المثال وحقق ولیتأمل قول الناس فی امثالھم الولد العاق لا یحرم المیراث نعم الکفران فرض وقوعہ لاحد من اھل البیت والعیاذ باﷲ تعالٰی ھو الذی یقطع النسبۃ بین من وقع منہ وبین شرفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انما قلت ان فرض لا ننی اکادان اجزم ان حقیقۃ الکفر لا تقع ممن علم اتصال نسبہ الصحیح بتلک البضغۃ الکریمۃ حاشا ھم اﷲ من ذٰلک و قد احال بعضھم وقوع نحو الزنا واللواط ممن علم شرفہ فما ظنک بالکفر۱؎
تو جب یہ ثابت ہوا تو جس کی نسبت اہلبیت نبی اور علوی حضرات کی طرف معلوم ہے تو اس کی بڑی جنایت اور عدم دیانت وصیانت اس کو اس نسبت سے خارج نہ کرے گی، اس بات کی بناء پر بعض محققین نے فرمایا زانی یا شرابی یا چو رسید پر حد قائم کرنے کی مثال صرف یہی ہے جیسے امیر یا سلطان کا کوئی خادم اس کے پاؤں پر لگی نجاست کو صاف کرے، اس مثال کو غور سے سمجھا جائے اور لوگوں کی اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ نافرمان اولاد وراثت سے محروم نہیں ہوتی، ہاں اگر ان حضرات سے کفر کا وقوع فرض کیا جائے، والعیاذ باﷲ، تو اس سے وہ نسبت منقطع ہوجائے گی، میں نے صرف فرض کرنے کی بات اس لئے کی ہے کیونکہ مجھے جزم کی حد تک یقین ہے کہ جو صحیح النسب سید ہو اس سے حقیقی کفر کا وقوع نہیں ہوسکتا اﷲ تعالٰی ان کو اس سے بلند رکھے، بعض نے ان سے زنا اور لواطت جیسے افعال کو بھی محال کہا ہے بشرطیکہ ان کی نسبی شرافت یقینی ہو تو پھر کفر کے متعلق تیرا کیا خیال ہے۔(ت)
 (۱ ؎ فتاوٰی حدیثیہ، طلب ما الحکمۃ فی خصوص اولاد فاطمہ بالمشرف، المطبعۃ الجمالیہ، مصر، ص ۱۲۲)
شیخ اکبر اور اہلبیت:
امام الطریقۃ لسان الحقیقۃ شیخ اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فتوحات مکیہ باب ۲۹ میں فرماتے ہیں: لما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عبدا مخصا قد طھرہ اﷲ و اھل بیتہ تطھیرا واذھب عنہم الرجس وھو کل ما یشینھم فھم المطھرون بل ھم عین الطھارۃ فھذہ الاٰیۃ تدل علی ان اﷲ تعالٰی قد شرک اھل البیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی قولہ تعالٰی لیغفر لک اﷲ ما تقدم من ذنبک وما تأخر، و ای وسخ وقذر من الذنوب فطھر اﷲ سبحانہ نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالمغفرۃ ممّا ھو ذنب بالنسبۃ الینا فدخل الشرفاء اولاد فاطمۃ کلھم رضی اﷲ تعالٰی عنہم الی یوم القٰیمۃ فی حکم ھذہ الاٰیۃ من الغفران الی اٰخر ما افادوا جا دو ثمہ کلام طویل نفیس جلیل فعلیک بہ رزقنا اﷲ العمل بما یحبہ ویرضاہ اٰمین! ۱؎
جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اﷲ تعالٰی کے خاص عبد ہیں کہ ان کو اور ان کے اہل بیت کو کامل طورپر پاک کردیا ہے اور ناپاکی کو ان سے دور کردیا ہے اور رجس ہر ایسی چیز ہے جو ان حضرات کو داغدار کرے تو وہ پاکیزہ لوگ بلکہ وہ عین طہارت ہیں، تو اﷲ تعالٰی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اہل بیت کو طہارت میں شریک فرمایا ہے جس پر آیہ کریمہ ہے ''لیغفر لک اﷲ'' اﷲتعالٰی نے آپ کے لئے پہلے اور پچھلے آپ کے خطا یا معاف کردئے یعنی گناہوں کی میل و قذر سے آپ کو پاک رکھا ہے جو ہماری نسبت سے گناہ ہوسکتے ہیں تو تمام سادات حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی اولاد اس حکم میں داخل ہے الخ، تک جو حضر ت شیخ نے بہترین فائدہ مند کلام فرمایا یہاں آپ کا جلیل نفیس طویل کلام ہے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کی طرف راجع ہوں اﷲ تعالٰی ہمیں اپنے پسندیدہ عمل کا حصّہ عطا فرمائے، آمین!ت
 (۱ ؎ الفتوحات المکیۃ،الباب التاسع والعشرون، داراحیاء التراث العربی بیروت، ۱/ ۱۹۶)
Flag Counter