تمہید ابو شکور سالمی میں ہے : قالت الروافض ان العالم لا یکون خالیا عن النبی قط وھذا کفر لان اﷲ تعالٰی قال وخاتم النبیین ومن ادعی النبوۃ فی زماننا فانہ یصیر کافرا ومن طلب منہ المعجزات فانہ یصیر کافر ا لانہ شک فی النص ویجب الاعتقاد بانہ ماکان لاحد شرکۃ فی النبوۃ لمحمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بخلاف ما قالت الروافض ان علیا کا ن شریکا لمحمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی النبوۃ وھذا منھم کفر۱؎
رافضی کہتے ہیں دنیا نبی سے خالی نہ ہوگی اور یہ کفر ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے وخاتم النبیین اب جو دعوٰی نبوت کرے کافر ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے وہ بھی کافر کہ اسے ارشاد الٰہی میں شک پیدا ہوا جب تو معجزہ مانگا اور اس کا اعتقاد فرض ہے کہ کوئی شخص نبوت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شریک نہ تھا بخلاف روافض کے کہ مولٰی علی کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے شریک نبوت مانتے ہیں اور یہ ان کا کفر ہے۔
(۱ ؎ التمہید فی بیان التوحید، الباب السابع فی المعرفۃ والایمان دارالعلوم حزب الاحناف لاہور، ص ۱۴۔۱۱۳)
مولانا عبدالعلی:
بحر العلوم ملک العلماء مولانا عبدالعلی محمد شرح سلم میں فرماتے ہیں:
محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتم النبیین وابو بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ افضل الاصحاب والاولیاء وھا تان القضیتان مما یطلب بالبرھان فی علم الکلام والیقین المتعلق بھما یقین ثابت ضروری باق الی الابد ولیس الحکم فیھما علی امر کلی یجوز العقل تناول ھذا الحکم لغیر ھٰذین الشخصین وانکار ھذا مکابرۃ وکفر۲؎
محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور ابو بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ تمام اولیاء سے افضل ہیں اور ان دونوں باتوں پر دلیل قطعی علم عقائد میں مذکور ہے اور ان پر یقین وہ جما ہوا ضروری یقین ہے جو ابدا لآباد تک باقی رہے گا اور یہ خاتم النبیین اور افضل الانبیاء ہونا کسی امر کلی کے لئے ثابت نہیں کیا ہے کہ عقل ان دونوں ذات پاک کے سوا کسی اور کے لئے اس کا ثبوت ممکن مانے اور اس کا انکار ہٹ دھرمی اور کفر ہے۔ فیہ لف ونشر بالقلب یعنی صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے افضل الاولیاء ہونے سے انکار قرآن و سنت واجماع امت کے ساتھ مکابرہ ہے اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے سے انکار کفر، والعیاذ باﷲ رب العالمین۔
(۲ ؎ شرح سلم لعبد العلی، بحث التصدیقات آخر کتاب، مطبع مجتبائی،دہلی، ص ۲۶۰)
امام احمد قسطلانی:
امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ مقصد سابع فصل اول،پھر علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ باب اول فصل ثانی میں فرماتے ہیں:
العلم اللدنی نوعان لدنی رحمانی ولدنی شیطانی والمحک ھو الوحی و لا وحی بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، وامّا قصۃ موسٰی مع الخضر علیھما الصلٰوۃ والسلام فالتعلق بھا فی تجویز الاستغناء عن الوحی بالعلم اللدنی الحاد وکفر یخرج عن الاسلام موجب لاراقۃ الدم والفرق ان موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام لم یکن مبعوثا الی الخضر،ولم یکن الخضر مامورا بمتا بعتہ ومحمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الٰی جمیع الثقلین فرسالتہ عامۃ للجن والانس فی کل زمان ، فمن ادعی انہ مع محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کالخضر مع موسٰی علیھما الصلوٰۃ والسلام اوجوز ذٰلک لاحد من الامۃ فلیجدد اسلامہ (لکفرہ بھٰذہ الدعوی) ولیشھد شھادۃ الحق (لیعود الی الاسلام)فانہ مفارق لدین الاسلام بالکلیۃ فضلا عن ان یکون من خاصۃ اولیاء اﷲ تعالٰی وانما ھو من اولیاء الشیطٰن و خلفائہ ونوابہ (فی الضلال والاضلال) والعلم اللدنی الرحمانی ھوثمرۃ العبودیۃ والمتابعۃ لھٰذا النبی الکریم علیہ ازکی الصلوٰۃ واتم التسلیم وبہ یحصل الفھم فی الکتاب والسنۃ بامریختص بہ صاحبہ کما قال علی (امیر المؤمنین) وقد سئل (کما فی الصحیح وسنن النسائی) ھل خصکم رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بشیئ دون الناس (کما تزعم الشیعۃ) فقال لا الا فھمایؤتیہ اﷲ عبدا فی کتابہ ۱ھ۱؎ مختصراً مزیدا ما بین الھلالین من شرح العلامۃ الزرقانی۔ رزقنا اﷲ تعالٰی بمنّہ واٰلائہ بفضل رحمتہ باولیائہ وصل وسلم علٰی خاتم انبیائہ محمد واٰلہ وصحبہ واحبائہ اٰمین۔
یعنی علم لدنی دو قسم ہے رحمانی اور شیطانی، اور ان کے پہچاننے کا معیار وحی ہے کہ جو اس کے مطابق ہے رحمانی ہے اور جو اس کے خلاف ہے شیطانی ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد وحی نہیں کہ کوئی کہے میرا یہ علم وحی جدید کے مطابق ہے،رہا خضر و موسٰی علیہما الصلوٰۃ والسلام کا قصہ (کہ خضر کے پاس وہ علم لدنی تھا جو موسٰی علیہما الصلوٰۃ والسلام کو معلوم نہ تھا، اسے یہاں دستاویز بنا کر علم لدنی کے سبب وحی کی پروا نہ رکھنا نری بے دینی و کفر ہے، اسلام سے نکال دینے والی بات ہے جس کے قائل کا قتل واجب، اور فرق یہ ہے کہ موسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام حضر ت خضر کی طرف مبعوث نہ تھے نہ خضر کو ان کی پیروی کا حکم ( کہ وہ تو خاص بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے کان النبی یبعث الٰی قومہ خاصۃ) اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمام جن و انس ( بلکہ تمام ماسوائے اﷲ) کی طرف مبعوث ہیں (وارسلت الی الخلق کافّۃ) تو حضور کی رسالت ہر زمانے میں سب جن و انس کو شامل ہے تو جو مدعی ہو کہ وہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ساتھ ایسے تھے جیسے موسٰی کے ساتھ خضر، امت میں کسی کے لئے یہ مرتبہ ممکن مانے وہ نئے سرے سے مسلمان ہو کہ اس قول کے باعث کافر ہوگیا مسلمان ہونے کے لئے کلمہ شہادت پڑھے کہ وہ دین اسلام سے یک لخت جدا ہوگیا چہ جائیکہ اﷲ عزوجل کے خاص اولیاء سے ہو وہ تو شیطان کا ولی اور گمراہی و گمراہ گری میں ابلیس کا خلیفہ و نائب ہے علم لدنی رحمانی بندگی خدا و پیروی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پھل ہے جس سے قرآن و حدیث میں ایک خاص سمجھ حاصل ہوجاتی ہے جس طرح صحیح بخاری و سنن نسائی میں ہے کہ امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے سوال ہوا کہ تم اہل بیت کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کوئی خاص شئے ایسی عطا فرمائی ہے جو اور لوگوں کو نہ دی جیسا کہ رافضی گمان کرتے ہیں؟فرمایا: نہ مگر وہ سمجھو جو اﷲ عزوجل نے اپنے بندوں کوقرآن عزیز میں عطا فرمائی ۱ھ، مختصراً ہلالین میں شرح زرقانی کی عبارت زائد لائی گئی ہے۔ اﷲ تعالٰی اپنی رحمت و فضل،احسان و نعمت ہمیں عطا فرمائے بوسیلہ اولیاء اﷲ صلوٰۃ وسلام نازل فرمائے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر اور ان کی آل و اصحاب سب پر۔ آمین۔ت
(۱؎ المواہب اللدنیۃ المقصد السابع، الفصل الاول علامات محبۃ الرسول،المکتب الاسلامی،بیروت، ۳/ ۹۷۔۲۹۶)
(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، الفصل الاول علامات محبۃ الرسول،دارالفکر بیروت، ۶/ ۱۱۔۳۱۰)
سید کفریہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا:
ولید بلید خواہ کوئی پلید ختم نبوت کا ہر منکر عنید صراحۃً جاحد ہو یا تاویل کا مرید مطلقاً نفی کرے یا تخصیص بعید امیری، قاسمی، مشہدی مرید،رافضی غالی وہابی شدید، سب صریح کا فر مرتد طرید علیھم لعنۃ العزیز الحمید (ان پر اﷲ عزوجل کی لعنت ہو) اور جو کافر ہو وہ قطعاً سید نہیں، اﷲ تعالٰی فرماتا ہے:
انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح۲
وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں۔(ت) نہ اسے سید کہنا جائز۔
(۲القرآن الکریم ۱۱/ ۴۶)
منافق کو سید نہ کہو:
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا تقولوا للمنافق سید فانہ ان یکن سیدا فقد استخطتم ربکم عزوجل۳؎، رواہ ابوداؤد والنسائی بسند صحیح عن بریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
منافق کو سید نہ کہو کہ اگر وہ تمہارا سید ہو تو بیشک تم پر تمہارے رب عزوجل کا غضب ہو(اس کو ابوداؤد اور نسائی نے بسند صحیح حضرت بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا)
(۳؎ سنن ابی داؤد، کتاب الادب باب لا یقول المملوک ربی وربتی، آفتاب عالم پریس،لاہور، ۲/ ۳۲۴)
روایت حاکم کے لفظ یہ ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا قال الرجل للمنافق یا سید فقد اغضب ربہ عزوجل۱؎
جو کسی منافق کو ''اے سید'' کہے اس نے اپنے رب کا غضب اپنے اوپر لیا۔ والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
(۱؎ المستدرک للحاکم، کتاب الرقاق، دارالفکر بیروت، ۴ /۳۱۱)
پھر یہی نہیں کہ یہاں صرف اطلاق لفظ سے ممانعت شرعی اور نسب سیادت کا انتقائے حکمی ہو حاشا بلکہ واقع میں کافر اس نسل طیب و طاہر سے تھا ہی نہیں اگرچہ سید بنتا اور لوگوں میں براہ غلط سید کہلاتا ہو ائمہ دین اولیائے کاملین علمائے عالمین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین تصریح فرماتے ہیں کہ ساداتِ کرام بحمد اﷲ تعالٰی خباثت کفر سے محفوظ و مصئون ہیں جو واقعی سید ہے اس سے کبھی کفر واقع نہ ہوگا،
قال اﷲ تعالٰی: انّما یرید اﷲ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا۲
(۲القرآن الکریم ۳۳/۳۳)
اﷲ یہی چاہتا ہے کہ تم سے نجاست دور رکھے اے نبی کے گھر والو! اور تمہیں خوب پاک کردے ستھرا کر کے۔
تمام فوائد اور بزار وابویعلٰی مسند اور طبرانی کبیر اور حاکم بافادہ تصحیح مستدرک میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان فاطمۃ احصنت فرجھا فحر مھا اﷲ و ذریتھا علی النّار۳؎
بیشک فاطمہ نے اپنی حرمت پر نگاہ رکھی تو اﷲ عزوجل نے اسے اور اس کی ساری نسل کو آگ پر حرام کردیا۔
اہل بیت سے کوئی بھی جہنمی نہیں
ابوالقاسم بن بشران اپنے امالی میں حضرت عمران بن حصین رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سالت ربی ان لا یدخل احدا من اھل بیتی النار فاعطا نیھا۴؎
میں نے اپنے رب عزوجل سے سوال کیا کہ میرے اہلبیت سے کسی کو دوزخ میں نہ ڈالے اس نے میری یہ مراد عطا فرمائی۔
(۴؎ کنزالعمال بحوالہ ابن بشران فی امالیہ عن عمران بن حصین حدیث ۳۴۱۴۹، موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۱۲/ ۹۵)