Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
146 - 150
شفاء قاضی عیاض :
شفاء شریف امام قاضی عیاض مالکی اور اس کی شرح نسیم الریاض للعلامۃ الشہاب الخفاجی میں ہے  :(وکذٰلک یکفر من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) ای فی زمنہ کمسیلمۃ الکذاب والاسود العنسی (او ) ادعی (نبوۃ احد بعدہ) فانہ خاتم النبیین بنص القراٰن والحدیث فھذا تکذیب اﷲ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (کالعیسویۃ) وھم طائفۃ (من الیھود) نسبوا لعیسٰی بن اسحٰق الیہودی ادعی النبوۃ فی زمن مروان الحمار و تبعہ کثیر من الیہود وکان من مذھبہ تجویز حدوث النبوۃ بعد نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ( وکاکثر الرافضۃ القائلین بمشارکۃ علی فی الرسالۃ للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبعدہ کالبزیغیۃ والبیانیۃ منھم) وھم اکفر من النصاری واشد ضررا منھم لا نھم بحسب الصورۃ مسلمون ویلتبس امرھم علی العوام (فٰھٰؤلاء) کلھم (کفار مکذبون للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاٰنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اخبر انہ خاتم النبیین وانہ ارسل کافۃ للناس واجمعت الامۃ علٰی ان ھذا الکلام علی ظاھرہ وان مفھومہ المراد منہ دون تاویل ولا تخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤلاء الطوائف کلھا قطعًا اجماعًا وسمعًا)۱؎ ۱ ھ مختصراً۔
یعنی اسی طرح وہ بھی کفر ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں کسی کی نبوت کا ادعا کرے جیسے مسیلمہ کذاب واسود عنسی یا حضور کے بعد کسی کی نبوت مانے اس لئے کہ قرآن و حدیث میں حضور کے خاتم النبیین ہونے کی تصریح ہے تو یہ شحص اﷲ و رسول کو جھٹلاتا ہے جل جلالہ و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، جیسے یہود کا ایک طائفہ عیسویہ کہ عیسٰی بن اسحٰق یہودی کی طرف منسوب ہے، اس نے مروان الحمار کے زمانے میں ادعائے نبوت کیا تھا اور بہت یہود اس کے تابع ہوگئے، اس کا مذہب تھا کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد نئی نبوت ممکن ہے اور جیسے بہت رافضی کہ مولا علی کو رسالت میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شریک اور حضور کے بعد انہیں نبی کہتے ہیں اور جیسے رافضیوں کے دو فرقے بزیغیہ و بیانیہ، ان لوگوں کا کفر نصارٰی سے بڑھ کر ہے اور ان سے زائد ان کا ضرر کہ یہ صورت میں مسلمان ہیں ان سے عوام دھوکے میں پڑجاتے ہیں یہ سب کے سب کفار ہیں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تکذیب کر نے والے اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور خبر دی کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں اور اپنے رب عزوجل سے خبر دی کہ وہ حضور کو خاتم النبیین اور تمام جہان کی طرف رسول بتاتا ہے اور امت نے اجماع کیا کہ یہ آیات و احادیث اپنے معنی ظاہر پر ہیں جو کچھ ان سے مفہوم ہوتا ہے خدا اور رسول کی یہی مراد ہے نہ ان میں کچھ تاویل ہے نہ تخصیص، تو کچھ شک نہیں کہ یہ سب طائفے بحکم اجماع امت وبحکم حدیث وآیت بالیقین کا فر ہیں۔
 (۱؎کتاب الشفاء للقاضی عیاض، فصل فی بیان ما ھو من المقالات، مطبعۃ شرکۃ صحافیہ، ۲/ ۷۱۔۲۷۰)

(نسیم الریاض شرح شفاء للقاضی عیاض فصل فی بیان ما ھو من المقالات دارالفکر بیروت، ۴/ ۵۰۶ تا ۵۰۹)
منکرانِ ختم نبوت کے فرقے:

الحمد ﷲ اس کلام رشید نے ولید پلید وروافض بلید و قاسمیہ جدید و امیر یہ(عہ) طرید کسی مردود و عنید کا تسمہ نہ لگا وﷲ الحجۃ السامیہ، یہ فقرے آب زر سے لکھنے کے ہیں کہ ان خبیثوں کا کفر یہود و نصارٰی سے بدتر اور کھلے کافروں سے انکار زائد ضرر، والعیاذ باﷲ العزیز الاکبر۔
عہ: اسی طرح طائفہ مرزائیہ متبعان غلام احمد قادیانی کہ سب سے تازہ ہے یہ بھی مرزا کو مرسل من اﷲ کہتا ہے اور خود مرزا اپنے اوپر وحی اترنے کا مدعی ہے اپنے کلام کو کلام الٰہی ومنزل من اﷲ بتاتا ہے اور اس کے رسالہ''ایک غلطی کا ازالہ'' سے منقول کہ اس میں صراحۃً اپنے آپ کو نبی بلکہ بہت انبیاء سے افضل لکھا ہے اس بارے میں ابھی چند روز ہوئے امر تسر سے سوال آیاتھا جس پر حضرت مصنف علامہ مدظلہ نے مدلل و مفصل فتوٰی تحریر فرمایا جس کا حسن بیان دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جس کا نام السوء والعقاب ہے۔ (وﷲ الحمد، عفی عنہ مصحح)
 مجمع الانہر:

وجیز امام کردری و مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:

اما الایمان بسیدنا محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیجب بانہ رسولنا فی الحال وخاتم الانبیاء والرسل فاذا اٰمن بانہ رسول ولم یؤمن بانہ خاتم الانبیاء لا یکون مؤمنا ۱؎
ہمارے مولا ہمارے سردار محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر یوں ایمان لانا فرض ہے کہ حضور اب بھی ہمارے رسول ہیں (نہ یہ کہ معاذ اﷲ بعد وصال شریف حضور رسول نہ رہے یا حضور کے بعد اب اور کوئی ہمارا رسول ہوگیا)اور ایمان لانا فرض ہے کہ حضور تمام انبیاء ومرسلین کے خاتم ہیں، اگر حضور کے رسول ہونے پر ایمان لایا اور خاتم الانبیاء ہونے پر ایمان نہ لایا تو مسلمان نہ ہوگا۔
 (۱ ؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد، ثم ان الفاظ الکفر انواع داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱/ ۶۹۱)
یہاں رسالت پر ایمان مجازاً بنظر صورت بحسب ادعائے قائل بولا گیا ورنہ جو ختم نبوت پر ایمان نہ لایا قطعاً حضور کی رسالت ہی پر ایمان نہ لایا کہ رسول جانتا تو حضور جو کچھ اپنے رب جل جلالہ کے پاس سے لائے سب پر ایمان لاتا۔ کما تقدم فی کلام الامام التور پشتی رحمہ اﷲ تعالٰی (جیسا کہ امام تورپشتی کے کلام میں پہلے گزر چکا ہے۔ت)
علامہ یوسف اردبیلی:

امام علامہ یوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں فرماتے ہیں:
من ادعی النبوۃ فی زماننا او صدق مدعیا لھا او اعتقدنبیا فی زمانہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوقبلہ من لم یکن نبیا کفر ۱ھ ملخصًا۱؎
جو ہمارے زمانے میں نبوت کا مدعی ہو یا دوسرے کسی مدعی کی تصدیق کرے یا حضور کے زمانے میں کسی کو نبی مانے یا حضور سے پہلے کسی غیر کو نبی جانے کافر ہوجائے ۱ھ ملخصاً۔
 (۱؎ الانوار لا عمال الابرار)
امام غزالی:

امام حجۃ الاسلام محمد محمدمحمدغزالی کتاب الاقتصاد میں فرماتے ہیں:
ان الامت فھمت من ھذا اللفظ انہ افھم عدم نبی بعدہ ابدا وعدم رسول بعدہ ابدا وانہ لیس فیہ تاویل ولا تخصیص ومن اولہ بتخصیص فکلامہ من انواع الھذیان لا یمنع الحکم بتکفیرہ لانہ مکذب لھذا النص الذی اجمعت الامۃ علی انہ غیر مؤول ولا مخصوص۲؎
یعنی تمام امت محمدیہ علی صاحبہا وعلیہا الصلوٰۃ والتحیۃ نے لفظ خاتم النبیین سے یہی سمجھا کہ وہ بتاتا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کبھی کوئی نبی نہ ہوگا حضور کے بعد کبھی کوئی رسول نہ ہوگا اور تمام امت نے یہی مانا کہ اس لفظ میں نہ کوئی تاویل ہے کہ آخر النبیین کے سوا خاتم النبیین کے کچھ اور معنی گھڑئیے نہ اس عموم میں کچھ تخصیص ہے کہ حضور کے ختم نبوت کو کسی زمانے یا زمین کے کسی طبقے سے خاص کیجئے اور جو اس میں تاویل و تخصیص کو راہ دے اس کی بات جنون یا نشے یا سرسام میں بہکنے برّانے بکنے کے قبیل سے ہے اسے کافر کہنے سے کچھ ممانعت نہیں کہ وہ آیت قرآن کی تکذیب کررہا ہے جس میں اصلاً تاویل و تخصیص نہ ہونے پر امتِ مرحومہ کا اجماع ہوچکا ہے۔
 (۲؎ الاقتصاد فی الاعتقاد )
بحمد اﷲ یہ عبارت بھی مثل عبارت شفاء و نسیم تمام طوائف جدیدہ قاسمیہ وامیریہ خذلہم اﷲ تعالٰی کے ہذیانات کا رد جلیل وجلی ہے آٹھ آٹھ سو برس بعد آنے والے کافروں کا رد فرما گئے، یہ ائمہ دین کی کرامت منجلی ہے۔
غنیۃ الطالبین:

غنیۃ الطالبین شریف میں عقائد ملعونہ غلاۃ روافض کے بیان میں فرمایا:
ادعت ایضاان علیا نبی ( الی قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ) لعنھم اﷲ وملٰئکتہ وسائر خلقہ الٰی یوم الدین وقلع آثارھم واباد خضراء ھم ولا جعل منھم فی الارض دیارافانھم بالغوا فی غلوھم ومرضوا علی الکفر وترکوا الاسلام وفارقوا الایمان وجحدو ا الالہ والرسل والتنزیل فنعوذ باﷲ ممن ذھب الٰی ھٰذہ المقالۃ ۱؎
یعنی غالی رافضیوں کا یہ دعوٰی بھی ہے کہ مولا علی نبی ہیں اﷲ اور اس کے فرشتے اور تمام مخلوق قیامت تک ان رافضیوں پر لعنت کریں اﷲ ان کے درخت کی جڑ اکھاڑ کر پھینک دے تباہ کردے زمین پر ان میں کوئی بسنے والا نہ رکھے کہ انہوں نے اپنا غلو حد سے گزار دیا کفر پر جم گئے اسلام چھوڑ بیٹھے ایمان سے جدا ہوئے اﷲ و رسول و قرآن سب کے منکر ہوگئے، ہم اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں اس سے جو ایسا مذہب رکھے۔
 (۱ ؎ غنیۃ الطالبین فصل علامات اہل بدعت کے بیان میں، مصطفی البابی مصر، ۱/ ۸۸)
الحمدﷲ، اﷲ عزوجل نے یہ دعائے کریم مستجاب فرمائی غرابیہ و غیر ہا ملعون طوائف کا نشان نہ رہا اب جو اس دارالفتن ہند پر محن کی زمین میں فتنوں کی بوچھاڑ کی گندہ بہار میں دو ایک حشرات الارض کہیں کہیں تازہ نکل پڑے وہ بھی بحمد اﷲ تعالٰی جلد جلد اپنے مقرسقر کو پہنچ گئے ایک آدھ کہیں باقی ہو تو وہ بھی قہر الٰہی سے
الم نھلک الاولینo ثم نتبعھم الاٰخرینo کذٰلک نفعل بالمجرمین۲؂
 (۲؂القرآن الکریم ۷۷/ ۱۶تا۱۸)
  کیا ہم نے اگلو ں کو ہلاک نہ فرمایا پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ ت) کا منتظر ہے۔
تحفہ شرح منہاج:

تحفہ شرح منہاج میں ہے:
اوکذب رسولا اونبیا او نقصہ بای منقص کان صغر اسمہ مریدا تحقیرہ او جوز نبوۃ احد بعد وجود نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعیسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام نبی قبل فلا یرد۳؎
یعنی کافر ہے جو کسی نبی کی تکذیب کرے یا کسی طرح اس کی شان گھٹائے، مثلاً بہ نیت توہین اس کا نام چھوٹا کر کے لے یا ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد کسی کی نبوت ممکن مانے اور عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو حضور کی تشریف آوری سے پہلے نبی ہوچکے ان سے اعتراض وارد نہ ہوگا۔
 (۳ ؎ المعتقد المنتقد بحوالہ التحفہ شرح المنہاج مع المستند المعتمد، مکتبہ حامدیہ، لاہور، ص ۲۸۔۱۲۷)
شرح فرائد:

عارف باﷲ علامہ عبدالغنی نابلسی شرح الفرائد میں فرماتے ہیں: فساد مذھبھم غنی عن البیان بشھادۃ العیان، کیف وھو یؤدی الٰی تجویز مع نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اوبعدہ و ذٰلک یستلزم تکذیب القراٰن اذ قد نص علی انہ خاتم النبیین واٰخر المرسلین، وفی السنۃ انا العاقب لا نبی بعدی، واجمعت الامۃ علی ابقاء ھذا الکلام علٰی ظاھرہ وھٰذا احدی المسائل المشھورۃ التی کفرنا بھا الفلاسفۃ لعنھم اﷲ تعالی ۱؎
فلاسفہ نے کہا تھا کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے آدمی ریاضتیں مجاہدے کرنے سے پا سکتا ہے اس کے رد میں فرماتے ہیں کہ ان کے مذہب کا بطلان محتاجِ بیان نہیں آنکھوں دیکھا باطل ہے اور کیوں نہ ہو کہ اس کے نتیجے میں ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی نبی کا امکان نکلے گا اور یہ تکذیب قرآن کو مستلزم ہے قرآن عظیم نص فرما چکا کہ حضور خاتم النبیین و آخر المرسلین ہیں اور حدیث میں ہے میں پچھلا نبی ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام اسی معنی پر ہے جو اس کے ظاہر سے سمجھ میں آتے ہیں، یہ ان مشہور مسئلوں میں سے ہے جن کے سبب ہم اہل اسلام نے فلاسفہ کو کافر کہا اﷲ تعالٰی ان پر لعنت کرے۔
 (۱ ؎ المعتقد المنتقد بحوالہ شرح الفرائد للنابلسی مع المستند المعتمد، مکتبہ حامدیہ،لاہور، ص ۱۵۔۱۱۴)
نقل ھٰذین خاتم المحققین معین الحق المبین السیف المسلول مولانا فضل الرسول قدس سرہ فی المعتقد المنتقد۔  یہ مذکورہ دونوں عبارتیں خاتم المحققین ، حق مبین کے معاون ننگی تلوار مولانا فضل رسول قدس سرہ نے اپنی کتاب المعتقد المنتقد میں نقل کی ہیں۔
مواہب شریف:

مواہب شریف آخر نوع ثالث، مقصد سادس میں امام ابن حبان صاحب صحیح مسمی بالتقاسیم والانواع سے نقل فرمایا:
من ذھب الٰی ان النبوۃ مکتسبۃ لا تنقطع او الٰی ان الولی افضل من النبی فھو زندیق الٰی آخرہ۲؎
جو اس طرف جائے کہ نبوت کسب سے مل سکتی ہے ختم نہ ہوگی، یا کسی ولی کو کسی نبی سے افضل بتائے وہ زندیق بے دین ملحد دہریہ ہے۔
 (۲؎ المواہب اللدنیہ، المقصد السادس، النوع الثالث، المکتب الاسلامی،بیروت، ۳/ ۱۸۳)
علامہ زرقانی نے اس کی دلیل میں فرمایا:
لتکذیب القراٰن وخاتم النبیین ۱؎،
یہ شخص اس وجہ سے کافر ہوا کہ قرآن عظیم و ختم نبوت کی تکذیب کرتا ہے۔
 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ، المقصد السادس النوع الثالث، دارالمعرفۃ بیروت ۶/ ۱۸۸)
امام نسفی:

بحرالکلام امام نسفی پھر تفسیر روح البیان میں ہے :
صنف من الروا فض قالوا بان الارض لا تخلو عن النبی والنبوۃ صارت میراثا لعلی واولادہ وقال اھل السنۃ والجماعۃ لا نبی بعد نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال اﷲ ولکن رسول اﷲ وخاتم النبیین و قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا نبی بعدی ومن قال بعد نبینا نبی یکفر لانہ انکر النص وکذٰلک لوشک فیہ۲؎ببعض اختصار۔
رافضیوں کا ایک طائفہ کہتا ہے زمین نبی سے خالی نہیں ہوتی اور نبوت مولا علی اور ان کی اولاد کے لئے میراث ہوگئی ہے اور اہلسنّت و جماعت نے فرمایا ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں کہ اﷲ تعالٰی فرماتا ہے ہاں خدا کے رسول ہیں اور سب انبیاء میں پچھلے، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں میرے بعد کوئی نبی نہیں، تو جو حضور کے بعد کسی کو نبی مانے کافر ہے کہ قرآن عظیم و نص صریح کا منکر ہے یوں ہی جسے ختم نبوت میں کچھ شک ہو وہ بھی کافر ہے۔
 (۲؎ روح البیان، آیہ ماکان محمد ابا احد من رجالکم الخ المکتبۃ الاسلامیہ ریاض الشیخ، ۷/ ۱۸۸)
Flag Counter