الحمدﷲ کہ بیان اپنے منتہٰی کو پہنچا اور حق کا وضوح ذروہ اعلٰی کو۔ احادیث متواترہ سے اصل مقصد یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا خاتم النبیین اور اہلبیت کرام کا نبوت و رسالت سے بے علاقہ ہونا تو بروجہ تواتر قطعی خود ہی روشن و آشکار ا ہوا اور اس کے ساتھ طائفہ تالفہ وہابیہ قاسمیہ کو خاتم النبیین کو بہ معنی آخر النبیین نہ ماننا، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد اور نبی ہونے سے ختم نبوت میں نقصان نہ جاننا اس کے کفر خفی ونفاق جلی کا بھی بفضلہٖ تعالٰی خوب اظہار ہوا اور ساتھ لگے رافضیوں کے چھوٹے بھائی حضرات تفضیلیہ کی بھی شامت آئی، اسد الغالب کی بارگاہ سے اسی ۸۰ کوڑوں کی سزا پائی، ان چھوٹے مبتدعوں کا رد یہاں محض تبعاًواستطراداً مذکور ورنہ ان کے ابطال مشرب ضلال سے قرآن عظیم واحادیث مرفوعہ واقوال اہلبیت وصحابہ وارشاداتِ امیر المؤمنین علی مرتضٰی واولیائے کرام وعلمائے اعلام و دلائل شرعیہ اصلیہ و فرعیہ کے دفتر معمور جس کی تفصیل جلیل وتحقیق جزیل فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ کی کتاب مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین ۱۲۹۷ھ میں مسطور ہے۔
منکرانِ ختم نبوت پر علمائے اسلام کی گرفت:
اب بتوفیقہ تعالٰی تکفیر منکرانِ ختم نبوت میں بعض نصو ص ائمہ کرام لکھ کر بقیہ سوال کی طرف عنان گردانی منظور ۔
علامہ تور پشتی:
(نص ۱):امام علامہ شہاب الدین فضل اﷲ بن حسین تورپشتی حنفی معتمد فی المعتقد میں فرماتے ہیں:
بحمداﷲ ایں مسئلہ در اسلامیان روشن ترازان ست کہ آنرا بکشف وبیان حاجت نہ افتداما ایں مقدار از قرآن از ترس آں یاد کردیم کہ مبادا زندیقے جاہلے رادرشبہتے اندازد و بسیار باشد کہ ظاہر نیار ند کردن وبدیں طریقہا پائے درنہند کہ خدائے تعالٰی برہمہ چیز قادرست کسے قدرت اورا منکر نیست اما چوں خدائے تعالٰی از چیز ے خبر دہد کہ چنیں خواھد بودن یا نخواہد بودن جزچناں نبا شد کہ خدائے تعالٰی ازاں خبر دہد وخدائے تعالٰی خبر داد کہ بعد از وے نبی دیگر نباشد ومنکر ایں مسئلہ کسے تواند بود کہ اصلا در نبوت او معتقد نبا شد کہ اگر برسالت او معترف بودے ویرادر ہرچہ ازاں خبر دادے صادق دانستے وبہماں حجت ہاکہ از طریق تواتر رسالت او پیش مابداں درست شدہ است ایں نیز درست شد کہ وے باز پسیں پیغمبران ست در زمان او و تاقیامت بعد ازوے ہیچ نبی نبا شد و ہر کہ دریں بہ شک ست درآں نیز بہ شک ست وآنکس کہ گوید کہ بعد از وے نبی دیگر بود یا ہست باخوامد بود وآنکس کہ گوید کہ امکان دارد کہ باشد کافر ست اینست شرط درستی ایمان بخاتم انبیاء محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۱؎
(۱ ؎ معتمد فی المعتقد (فارسی)
بحمد اﷲ تعالٰی یہ مسئلہ مسلمانوں میں روشن تر ہے کہ اسے بیان و وضاحت کی حاجت کیا ہے لیکن قرآن سے کچھ اس لئے بیان کررہے ہیں کہ کسی زندیق کے لئے کسی جاہل کو شبہ میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ رہے بسا اوقات کھلی بات کے بجائے یوں فریب دیتے ہیں کہ اﷲ ہر چیز پر قادر ہے کوئی اس کی قدرت کا انکار نہیں کرسکتا لیکن جب اﷲ تعالٰی کسی چیز کے متعلق خبر دے دے کہ ایسے ہوگی یا نہ ہوگی، تو اس کا خلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ اﷲ تعالٰی اسی سے خبر دیتا ہے اور اﷲتعالٰی خبر دیتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا نبی نہ ہوگا، اس بات کا منکر وہی ہوسکتا ہے جو سرے سے نبوت کا منکر ہوگا جو شخص آپ کی رسالت کا معترف ہوگا وہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بیان کردہ ہر خبر کو سچ جانے گا جن دلائل سے آپ کی رسالت کا ثبوت بطریق تواتر ہمارے لئے درست ہے اسی طرح یہ بھی درست ثابت ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد آپ کے زمانہ میں اور قیامت تک آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا جو آپ کی اس بات میں شک کرے گا وہ آپ کی رسالت میں شک کرے گا،جو شخص کہے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی تھا یا ہے یا ہوگا اور جو شخص کہے کسی نبی کے آنے کا امکان ہے وہ کافر ہے یہی خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر صحیح ایمان کی شرط ہے۔(ت)
امام ابن حجر مکی:
(نص ۲، ۳)امام ابن حجر مکی شافعی خیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان میں فرماتے ہیں:
تنبأ فی زمنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ رجل قال امھلونی حتی اتٰی بعلامۃ فقال من طلب منہ علامۃ کفر لانہ بطلبہ ذٰلک مکذب لقول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا نبی بعدی۲؎ ۔
امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے زمانے میں ایک مدعی نبوت نے کہا مجھے مہلت دو کہ کوئی نشانی دکھاؤں، امام ہمام نے فرمایا جو اس سے نشانی مانگے گا کافر ہوجائے گا کہ وہ اس مانگنے کے سبب مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشاد قطعی و متواتر ضروردینی کی تکذیب کرتا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(۲؎ خیرات الحسان فی مناقب الامام الفصل الحادی والعشرون فی فراستہ، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی، ص ۱۱۹)
فتاوٰی ہندیہ(فتاوٰی عالمگیریہ فقیرغفرلہ):
(نص ۴ تا ۷) فتاوٰی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں ہیں:
واللفظ للعمادی قال قال انا رسول اﷲ او قال بالفارسیۃ من پیغمبرم یرید بہ من پیغام می برم یکفر ولوانہ حین قال ھذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب والمتأخرون من المشائخ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزہ و افتضاحہ لا یکفر ۱؎
یعنی اگر کوئی شخص کہے میں اﷲ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے میں پیغمبر ہوں کافر ہوجائے گا اگرچہ مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں، اور اگر اس کہنے والے سے کوئی معجزہ مانگے تو کہا گیا یہ بھی مطلقًا کافر ہے، اور مشائخ متأخرین نے فرمایا اگر اسے عاجز و رسوا کرنے کی غرض سے معجزہ طلب کیا تو کافر نہ ہوگا ورنہ ختم نبوۃ میں شک لانے کے سبب یہ بھی کافر ہوجائے گا۔
اعلام بقواطع الاسلام
(نص ۸) اعلام بقواطع الاسلام میں ہے:
واضح تکفیر مدعی النبوۃ و یظھر کفر من طلب منہ معجزۃ لا نہ بطلبہ لھا منہ مجوز لصدقہ مع استحالتہ المعلومۃ من الدین بالضرورۃ نعم ان اراد بذٰلک تسفیھہ وبیان کذبہ فلا کفر۲؎
مدعی نبوت کی تکفیر تو خود ہی روشن ہے اور جو اس سے معجزہ مانگے اس کا بھی کفر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مانگنے میں اس مدعی کا صدق محتمل مان رہا ہے حالانکہ دین متین سے بالضرورۃ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد دوسرا نبی ممکن نہیں، ہاں اگر اس طلب سے اسے احمق بنانا اس کا جھوٹ ظاہر کرنا مقصود ہو تو کفر نہیں۔
(۲ ؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ، مکتبۃ الحقیقۃ استنبول،ترکی، ص۳۷۶)
(نص ۹،۱۰)اسی (اعلام بقواطع الاسلام) میں ہے:
ومن ذٰلک (ای المکفرات) ایضا تکذیب نبی او نسبۃ تعمد کذب الیہ او محاربتہ اوسبہ او الاستخفاف ومثل ذٰلک کما قال الحلیمی مالو تمنی فی زمن نبینا او بعدہ ان لو کان نبیا فیکفر فی جمیع ذٰلک والظاھر انہ لافرق بین تمنی ذٰلک باللسان او القلب ۱؎اھ مختصراً۔
انہیں باتوں میں جو معاذ اﷲ آدمی کو کافر کر دیتی ہیں کسی نبی کو جھٹلانا یا اس کی طرف قصداً جھوٹ بولنے کی نسبت کرنا یا نبی سے لڑنا یا اسے بُرا کہنا اس کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہونا اور بتصریح امام حلیمی انہیں کفریات کی مثل ہے ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانے میں یا حضور کے بعد کسی شخص کا تمنا کرنا کہ کسی طرح سے نبی ہوجاتا، ان صورتوں میں کافر ہوجائے گا اور ظاہر یہ ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں وہ تمنا زبان سے یا صرف دل میں کرے ۱ھ مختصراً۔
سبحان اﷲ! جب مجرد تمنا پر کافر ہوتا ہے تو کسی کی نسبت ادعائے نبوت کس درجہ کا کفر خبیث ہوگا، والعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
(نص ۱۱ تا ۱۴) تیمیۃ الدہر پھر ہندیہ میں بعض ائمہ حنفیہ سے اور اشباہ والنظائر وغیر ہا میں ہے:
واللفظ لھا اذالم یعرف ان محمدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰخر الانبیاء فلیس بمسلم لانہ من الضروریات ۲؎
جب نہ پہچانے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے پچھلے نبی ہیں تو مسلمان نہیں کہ یہ ضروریات دین سے ہے۔
(۲ ؎ الاشباہ والنظائر، کتاب السیر باب الردۃ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ،کراچی، ۱/ ۲۹۶)
طائفہ قاسمیہ:
مولٰی سبحَانہ و تعالٰی ہزاراں ہزار جزا ہائے خیر و کرم ورضوان اتم کرامت فرمائے ہمارے علمائے کرام کو ان سے کس نے کہہ دیا تھا کہ صد ہا برس بعد وہابیہ میں ایک طائفہ حائفہ قاسمیہ ہونے والا ہے کہ اگرچہ براہ نفاق و فریب کہ عوام مسلمین بھڑک نہ جائیں بظاہر لفظ خاتم النبیین کا اقرار کرے گا مگر اس کے بہ معنی آخر الانبیاء ہونے سے صاف انکار کرے گا اس معنی کو خیال عوام و ناقابل مدح قرار دے گا، اسی دن کے لئے ان اجلہ کرام نے لفظ اشہرواعرف ومکتوب فی المصحف اعنی خاتم النبیین کے عوض مسئلہ بلفظ آخر الانبیاء تحریر فرمایا کہ جو حضور کو سب سے پچھلا نبی نہ مانے مسلمان نہیں یعنی ختم نبوت اسی معنی پر داخل ضروریاتِ دین ہے یہی مراد رب العالمین ہے، اسی ضروری دین وارشاد الٰہ العالمین کو یہ گمراہ معاذ اﷲ عامی خیال بتاتے ہیں ۔ مہمل و مختل ٹھہراتے ہیں
قاتلھم اﷲ انّٰی یؤفکون ۱
(۱القرآن الکریم ۶۳/ ۴)
اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت) بحمداﷲ یہ کرامت علمائے کرام امت ہے
(اﷲ تعالٰی ان کو قابل فخر ثواب کی جزا دے اور ہمیں ان کی برکات سے دنیا و آخر ت میں نفع عطا فرمائے۔آمین۔ت)
فتاوٰی تاتارخانیہ:
تاتارخانیہ پھر عالمگیر یہ میں ہے:
رجل قال لا خر من فرشتہ توام فی موضع کذااعینک علی امرک فقد قیل انہ لا یکفر وکذااذا قال مطلقا انا ملک بخلاف مااذا قال انا نبی ۲؎
یعنی ایک نے دوسرے سے کہا میں تیرا فرشتہ ہوں فلاں جگہ تیرے کام میں مدد کروں گا اس پر تو بعض نے بیشک کہا کافر نہ ہوگا یوں ہی اگر مطلقاً کہا میں فرشتہ ہوں بخلاف دعوٰی نبوت کہ بالاجماع کفر ہے۔یہ حکم عام ہے کہ مدعی زمانہ اقدس میں ہو مثل ابن صیاد و اسود خواہ بعد کما تقدم و سیاتی (جیسا کہ گزرا اور آگے آئے گا۔ت)
(۲ ؎ فتاوٰی ہندیہ، الباب التاسع فی احکام المرتدین، نورانی کتب خانہ، پشاور، ۴/ ۲۶۶)