بیہقی سنن میں حضر ت ابن زمل جُہنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل رؤیا میں راوی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بعد نماز صبح پاؤں بدلنے سے پہلے ستر بار سبحان اﷲ وبحمدہٖ واستغفراﷲ ان اﷲ کان توّابا پڑھتے پھر فرماتے یہ ستر ۷۰ سات سو ۷۰۰ کے برابر ہیں نرا بے خیر ہے جو ایک دن میں سات سو ۷۰۰ سے زیادہ گناہ کرے (یعنی ہر نیکی کم از کم دس ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا، تو یہ ستر کلمے سات سو نیکیاں ہوئے اور ہر نیکی کم از کم ایک بد ی کو محو کرتی ہے۔ ان الحسنات یذھبن السیاٰت، تو اس کے پڑھنے والے کے لئے نیکیاں ہی غالب رہیں گی مگر وہ کہ دن میں سات سو گناہ سے زیادہ کرے اور ایسا سخت ہی بے خیر ہوگا وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے تشریف رکھتے اور اچھا خواب حضور کو خوش آتا دریافت فرماتے: کسی نے کچھ دیکھا ہے؟ ابن زمل نے عرض کی: یارسول اﷲ ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔فرمایا: بھلائی پاؤ اور برائی سے بچو ہمیں اچھا اور ہمارے دشمنوں پر بُرا، رب العالمین کے لئے ساری خوبیاں ہیں خواب بیان کرو۔انہوں نے عرض کی: میں نے دیکھا کہ سب لوگ ایک وسیع نرم بے نہایت راستے پر بیچ شارع عام میں چل رہے ہیں ناگہاں اس راہ کے لبوں پر خوبصورت سبزہ زار نظر آیا کہ ایسا کبھی نہ دیکھا تھا اس کا لہلہاتا سبزہ چمک رہا ہے، شادابی کا پانی ٹپک رہا ہے، اس میں ہر قسم کی گھاس ہے،پہلا ہجو م آیا، جب اس سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی اور سواریاں سیدھے راستے پر ڈالے چلے گئے ادھر ادھر اصلاً نہ پھرے، پھر اس مرغزار کی طرف کچھ التفات نہ کیا، پھر دوسرا ہلّہ آیا کہ پہلوں سے کئی گنا زائد تھا، سبزہ زار پرپہنچے تکبیر کہی راہ پر چلے مگر کوئی کوئی اس چراگاہ میں چرانے بھی لگا اور کسی نے چلتے میں ایک مُٹھّا لے لیا، پھر روانہ ہوئے، پھر عام اژدھام آیا، جب یہ سبزہ زار پر پہنچے تکبیر کہی اور بولے یہ منزل سب سے اچھی ہے یہ ادھر ادھر پڑگئے میں ماجرا دیکھ کر سیدھا راہ راہ پڑلیا، جب سبزہ زار سے گزر گیا تو دیکھا کہ سات زینے کا ایک منبر ہے اور حضور اس کے سب سے اونچے درجے پر جلوہ فرما ہیں، حضور کے آگے ایک سال خوردلاغر ناقہ ہے حضور اس کے پیچھے تشریف لے جاتے ہیں سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا وہ راہ نرم و وسیع وہ ہدایت ہے جس پر میں تمہیں لایا اور تم اس پر قائم ہو اور وہ سبزہ زار دنیا اور اس کے عیش کی تازگی ہے میں اور میرے صحابہ تو چلے گئے کہ دنیا سے اصلاً علاقہ نہ رکھا نہ اسے ہم سے تعلق ہوا نہ ہم نے اسے چاہا نہ اس نے ہمیں چاہا پھر دوسرا ہجوم ہمارے بعد آیا وہ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے، ان میں سے کسی نے چرایا کسی نے گھاس کا مُٹّھا لیا اور نجات پا گئے، پھربڑا ہجوم آیا وہ سبزہ زار میں دہنے بائیں پڑگئے تو انّا ﷲ وانّا الیہ رٰجعونoاور اے ابن زمل!تم اچھی راہ پر چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے ملو اور وہ سات زینے کا منبر جس کے درجہ اعلٰی پر مجھے دیکھا یہ جہان ہے اس کی عمر سات ہزار برس کی ہے اور میں اخیر ہزار میں ہوں وامّا ناقۃ التی رأیت ورأیتنی اتبعھا فھی الساعۃ علینا تقوم لا نبی بعدی ولا اُمۃ بعد اُمتی اور وہ ناقہ جس کے پیچھے مجھے جاتا دیکھا قیامت ہے ہمارے ہی زمانے میں آئے گی، نہ میرے بعد کوئی نبی نہ میری امت کے بعد کوئی امت۱؎،
صلی اﷲ تعالٰی علیک وعلٰی امتک اجمعین وبارک وسلم واٰخردعوٰنا ان الحمدﷲ رب العٰلمین۔
تسجیل جمیل: بحمداﷲ بیس ۲۰ احادیث علویہ کے علاوہ خاص مقصود محمود ختم نبوت پر یہ ایک سو ایک ۱۰۱ حدیثیں ہیں اور مع تذییلات ایک سو اٹھارہ ۱۱۸ جن میں نوے۹۰ مرفوع ہیں اور ان کے رواۃ و اصحاب اکہتر۷۱۔
گیارہ تابعی صحابہ وتابعین جن میں صرف گیارہ تابعی:
۱۔ امام اجل محمد باقر ۲۔سعد بن ثابت
۳۔ابن شہاب زہری ۴۔عامر شعبی
۵۔عبداﷲ بن ابی الہذیل ۶۔علاء بن زیاد
۷۔ابو قلابہ ۸۔کعب احبار
۹۔مجاھد مکی ۱۰۔محمد بن کعب قرظی
۱۱۔وہب بن منبہ
اکاون صحابہ:باقی ساٹھ صحابی ازاں جملہ اکاون صحابہ خاص اصول مرویات میں:
۱۲۔ابی بن کعب ۱۳۔ابوامامہ باہلی
۱۴۔انس بن مالک ۱۵۔اسماء بنت عمیس
۱۶۔براء بن عازب ۱۷۔بلال مؤذن
۱۸۔ثوبان مولٰی رسول اﷲؐ ۱۹۔جابر بن سمرہ
۲۰۔جابر بن عبداﷲ ۲۱۔جبیر بن مطعم
۲۲۔حبیش بن جنادہ ۲۳۔حذیفہ بن اسید
۲۴۔حذیفہ بن الیمان ۲۵۔حسان بن ثابت
۲۶۔حویصہ بن مسعود ۲۷۔ابوذر
۲۸۔ابن زمل ۲۹۔زیاد بن لبید
۳۰۔زیدبن ارقم ۳۱۔زیدبن ابی اوفٰی
۳۲۔سعد بن ابی وقاص ۳۳۔سعید بن زید
۳۴۔ابو سعید خدری ۳۵۔سلمان فارسی
۳۶۔سہل بن سعد ۳۷۔ام المؤمنین ام سلمہ
۳۸۔ابو الطفیل عامر بن ربیعہ ۳۹۔عامر بن ربیعہ
۴۰۔عبداﷲ بن عباس ۴۱۔عبداﷲ بن عمر
۴۲۔عبدالرحمن بن غنم ۴۳۔عدی بن ربیعہ
۴۴۔عرباض بن ساریہ ۴۵۔عصمہ بن مالک
۴۶۔عقبہ بن عامر ۴۷۔عقیل بن ابی طالب
۴۸۔امیر المؤمنین علی ۴۹۔امیر المؤمنین عمر
۵۰۔عوف بن مالک اشجعی ۵۱۔ام المؤمنین صدیقہ
۵۲۔ام کرز ۵۳۔مالک بن حویرث
۵۴۔مالک بن سنان والد ابی سعید خدری ۵۵۔محمد بن عدی بن ربیعہ
۵۶۔معاذ بن جبل ۵۷۔امیر معاویہ
۵۸۔مغیرہ بن شعبہ ۵۹۔ابن ام مکتوم
۶۰۔ابو منظور ۶۱۔ابو موسٰی اشعری
۶۲۔ابوہریرہ
اور نو صحابی تذییلات میں :
۶۳۔حاطب بن ابی بلتعہ ۶۴۔عبداﷲ ابن ابی اوفٰی
۶۵۔عبداﷲ بن زبیر ۶۶۔عبداﷲ بن سلام
۶۷۔عبداﷲبن عمرو بن عاص ۶۸۔عبادہ بن صامت
۶۹۔عبید بن عمرو لیثی ۷۰۔نعیم بن مسعود
۷۱۔ہشام بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
ختم نبوت پر دیوبندی عقیدہ:
ان احادیث کثیرہ وافرہ شہیرہ متواترہ میں صرف گیارہ حدیثیں وہ ہیں جن میں فقط نبوت کا انہیں الفاظ موجودہ قرآن عظیم سے ذکر ہے جن میں آج کل کے بعض ضُلّال قاسمانِ کفر و ضلال نے تحریف معنوی کی اور معاذاﷲ حضور کے بعد اور نبوتوں کی نیو جمانے کو خاتمیت بمعنی نبوت بالذّات لی یعنی معنی خاتم النبیین صرف اس قدر ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نبی بالذّات ہیں اور انبیاء نبی بالعرض، باقی زمانے میں تمام انبیاء کے بعد ہونا حضور کے بعد اور کسی کو نبوت ملنی ممتنع ہونا یہ معنی ختم نبوت نہیں اور صاف لکھ دیا کہ حضور کے بعد بھی کسی کو نبوت مل جائے تو ختم نبوت کے اصلاً منافی نہیں اس کے رسالہ ضلالت مقالہ کا خلاصہ عبارت یہ ہے:
قاسم نانوتوی کا عقیدہ:
عوام کے خیال میں تو رسول اﷲ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ سب میں آخر نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن کہ تقدّم یا تاخّر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھرمقام مدح میں ولٰکن رسول اﷲ و خاتم النبیین فرمانا کیونکر صحیح ہوسکتا بلکہ موصوف بالعرض کا قصّہ موصوف بالذات پر ختم ہوجاتا ہے اسی طور پر رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خاتمیت کو تصور فرمائیے آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور نبی موصوف بالعرض ایں معنی جو میں نے عرض کیا آپ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہوتو خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے۱؎ھ ملتقطاً
(۱؎ تحذیر الناس، مطبوعہ دارالاشاعت کراچی۔ ص۱۸و۲۴)
مسلمانو! دیکھا اس ملعون ناپاک شیطانی قول نے ختم نبوت کی کیسی جڑ کاٹ دی، خاتمیت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ کہ وہ تاویل گھڑی کہ خاتمیت خود ہی ختم کردی صاف لکھ دیا کہ اگر حضور خاتم الانبیاء علیہ وعلیہم افضل الصلوٰۃ والثنا کے زمانے میں بلکہ حضور کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو ختم نبوت کے کچھ منافی نہیں اﷲ اﷲ جس کفر ملعون کے موجد کو خود قرآن عظیم کا وخاتم النبیین فرمانا نافع نہ ہوا کما قال تعالٰی (جیسا کہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا۔:
وننزّل من القراٰن ما ھو شفاء ورحمۃ للمؤمنین ولا یزید الظّٰلمین الاّ خساراo۲
اتارتے ہیں ہم اس قرآن سے وہ چیز کہ مسلمانوں کیلئے شفاء ورحمت ہے اور ظالموں کو اس سے کچھ نہیں بڑھتا سوا زیاں کے۔
(۲القرآن الکریم ۱۷/ ۸۲)
اسے احادیث میں خاتم النبیین فرمانا کیا کام دے سکتا ہے فبای حدیث بعدہ یومنون۳
قرآن کے بعد اور کون سی حدیث پر ایمان لائیں گے۔
(القرآن الکریم ۷/ ۱۸۵)
صحابہ کرام اور ختم نبوت:
فقیر غفرلہ المولی القدیر نے ان احادیث کثیرہ میں صرف گیارہ حدیثیں ایسی لکھیں جن میں تنہا ختم نبوت کا ذکر ہے باقی نوے ۹۰ احادیث اور اکثر تذییلات، ان پر علاوہ سو ۱۰۰ سے زائد حدیثیں وہی جمع کیں کہ بالتصریح حضور کا اسی معنی پر خاتم ہونا بتارہی ہیں جسے وہ گمراہ ضال عوام کا خیال جانتا ہے اور اس میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے کوئی تعریف نہیں مانتا، صحابہ کرام وتابعین عظّام کے ارشادات کہ تذییلوں میں گزرے،مثلاً:
۱۔امیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کو سب انبیاء کے بعد بھیجا۔
۲۔انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول تمہارے نبی آخر الانبیاء ہیں۔
۳۔عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ارشاد کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۴۔امام باقر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا قول کہ وہ سب انبیاء کے بعد بھیجے گئے۔
انہیں تو یہ گمراہ کب سنے گا کہ وہ اسی وسوسۃ الخناس میں صاف یہ خود بھی بتایا گیا ہے کہ وہ سلف صالح کے خلاف چلا ہے اور اسکا عذر یوں پیش کیا کہ:
اگر بوجہ کم التفاتی بڑوں کا فہم کسی مضمون تک نہ پہنچا تو ان کی شان میں کیا نقصان آگیا اور کسی طفل ناداں نے کوئی ٹھکانے کی بات کہہ دی تو کیا وہ عظیم الشان ہوگیا''۔
مگر آنکھیں کھول کر خود محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی متواتر حدیثیں دیکھئے کہ:
۱۔میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔میں سب انبیاء میں آخر نبی ہوں۔
۳۔میں تمام انبیاء کے بعد آیا۔
۴۔ہمیں پچھلے ہیں۔
۵۔میں سب پیغمبروں کے بعد بھیجا گیا۔
۶۔قصر نبوت میں جو ایک اینٹ کی جگہ تھی مجھ سے کامل کی گئی۔
۷۔میں آخر الانبیاء ہوں۔
۸۔میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۹۔رسالت و نبوت منقطع ہوگئی اب نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی۔
۱۰۔نبوت میں سے اب کچھ نہ رہا سوا اچھے خواب کے۔
۱۱۔ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔
۱۲۔میرے بعد دجّال کذّاب ادعائے نبوت کریں گے۔
۱۳۔میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
۱۴۔نہ میری امت کے بعد کوئی امت۔
ادھر علمائے کتبِ سابقہ(عہ) اﷲ و رسل جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشادات سن سن کر شہادات ادا کریں گے کہ:
۱۔احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہوں گے ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔
۲۔انکے سوا کوئی نبی باقی نہیں۔
۳۔وہ آخر الانبیاء ہیں۔
عہ: نیز تذییلات میں مقوقس کی دو حدیثیں گزریں کہ ایک نبی باقی تھے وہ عرب میں ظاہر ہوئے، ہرقل کی دو حدیثیں کہ یہ خانہ آخر البیوت تھا، عبداﷲ بن سلام کی حدیث کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوئے، ایک حبر کا قول کہ وہ امت آخرہ کے نبی ہیں بلکہ جبریل علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عرض کہ حضور سب پیغمبروں سے زمانے میں متاخر ہیں۔(م)
ادھر ملائکہ و انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی صدائیں آرہی ہیں کہ:
۴۔وہ پسین پیغمبراں ہیں۔
۵۔وہ آخر مرسلان ہیں۔
خود حضرت عزت عزت عزتہ سے ارشادات جانفزا و دلنواز آرہے ہیں کہ:
۶۔محمد ہی اوّل و آخر ہے۔
۷۔اس کی امت مرتبے میں سب سے اگلی اور زمانے میں سب سے پچھلی۔
۸۔وہ سب انبیاء کے پیچھے آیا۔
۹۔اے محبوب! میں نے تجھے آخر النبیین کیا۔
۱۰۔اے محبوب! میں نے تجھے سب انبیاء سے پہلے بنایا اور سب کے بعد بھیجا۔
۱۱۔محمد آخر الانبیاء ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
مگر یہ ضال مضل محرف قرآن مغیر ایمان ہے کہ نہ ملائکہ کی سنے نہ انبیاء کی نہ مصطفٰی کی مانے نہ ان کے خدا کی۔ سب کی طرف سے ایک کان گونگا ایک بہرا، ایک دیدہ اندھا ایک پھوٹا، اپنی ہی ہانک لگائے جاتا ہے کہ یہ سب نافہمی کے اوہام، خیالاتِ عوام ہیں، آخر الانبیاء ہونے میں فضیلت ہی کیا ہے
انّا ﷲ وانّا الیہ رٰجعونo کذٰلک یطبع اﷲ علٰی کل قلب متکبر جبارo۱ ربّنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا و ھب لنا من لدنک رحمۃ انّک انت الوھابo۲
اﷲ یونہی مہر کر دیتا ہے متکبر سر کش کے دل پر۔ اے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تونے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر بیشک توہی بڑا دینے والا۔
(۱القرآن الکریم ۴۰/ ۳۵)(۲القرآن الکریم ۳/ ۸)
ہاں ان نوے ۹۰ حدیثوں میں تین حدیثیں صرف بلفظ خاتمیت بھی ہیں، دو حدیث سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہ اے چچا! جس طرح اﷲ تعالٰی نے مجھ پر نبوت ختم کی تم پر ہجرت کو ختم فرمائے گا، جیسے میں خاتم النبیین ہوں تم خاتم المہاجرین ہوگے۔ شاید وہ گمراہ یہاں بھی کہہ دے کہ تمام مہاجرین کرام مہاجر بالعرض تھے حضرت عباس مہاجر بالذات ہوئے۔
ایک اور حدیث الٰہی جل وعلا کہ میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم کرو نگا اور ان کے دین وشریعت پر ادیان شرائع کو۔
اوگمراہ! اب یہاں بھی کہہ دے کہ اور دین دین بالعرض تھے یہ دین دین بالذات ہے توریت و انجیل و زبور اﷲ تعالٰی کے کلام بالعرض تھے قرآن کلام بالذات ہے مگر ہے یہ کہ:
من لم یجعل اﷲ لہ نورا فما لہ من نورo۳ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ونعوذ بہ من الحور بعد الکور والکفر بعد الایمان والضلال بعد الھدی ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد اٰخر المرسلین و خاتم النبیین واٰلہ و صحبہ اجمعین، والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
جس کے لئے اﷲ تعالٰی نور نہ بنائے تو اس کے لئے کوئی نور نہیں، ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور عافیت کے طلبگار ہیں، اور ہم سنور نے کے بعد بگڑنے اور ایمان کے بعد کفر اور ہدایت کے بعد گمراہی سے اس کی پناہ کے طالب ہیں، حرکت اور طاقت نہیں مگر صرف اﷲ تعالٰی سے جو بلند و عظیم ہے، اﷲ تعالٰی کی صلواتیں ہمارے آقا و مولٰی محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر جو رسولوں کے آخری اور نبیوں کے آخری ہیں اور آپ کی سب آل و اصحاب پر، والحمد ﷲ رب العالمین (ت)