تذ ییل دوم: امام واقدی اور ابو القاسم بن عبدا لحکم فتوح مصر میں بطریق ابان بن صالح راوی جب حاطب بن ابی بلتعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرمان اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لے کر مقوقس نصرانی بادشاہ مصر و اسکندریہ کے پاس تشریف لے گئے، اس نے ان سے دریافت کیا کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کس بات کی طرف بلاتے ہیں؟انہوں نے فرمایا: توحید و نماز پنجگانہ و روزہ رمضان وحج و فائے عہد۔ پھر اس نے حضور کا حلیہ پوچھا، انہوں نے باختصار بیان کیا، وہ بولا:
قد بقیت اشیاء لم تذکر ھا فی عینیہ حمرۃ قلت ما تفارقہ وبین کتفیہ خاتم النبوۃ الخ
ابھی اور باتیں باقی رہیں کہ تم نے نہ بیان کیں ان کے آنکھو ںمیں سرخ ڈورے ہیں کہ کم کسی وقت جدا ہوتے ہوں اور ان کے دونوں شانوں کے بیچ مہر نبوت ہے۔
پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اور صفات کریمہ بیان کر کے بولا:
قد کنت اعلم ان نبیا قدبقی وقد کنت اظن مخرجہ بالشام، وھناک کانت تخریج الانبیاء قبلہ فاراہ قد خرج فی ارض العرب فی ارض جھد وبؤس والقبط لا تطاوعنی علی اتباعہ وسیظھر علی البلاد۱؎
مجھے یقینا معلوم تھا کہ ایک نبی باقی ہے اور مجھے گمان تھا کہ وہ شام میں ظاہر ہوگا کہ اگلے انبیاء نے وہاں ظہور کیا اب میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے عرب میں ظہور فرمایا، محنت میں مشقت کی زمین میں، اور قبطی ان کی پیروی میں میری نہ مانیں گے عنقریب وہ ان شہروں پر غلبہ پائیں گے۔
(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب بحوالہ واقدی وابن عبدالحکیم، المقصد الثانی، الفصل الثالث، دارالمعرفۃ، بیروت،۳/ ۳۵۰)
تتمہ حدیث: ابوالقاسم نے بطریق ہشام بن اسحق وغیرہ اور ابن سعد نے طبقات میں بطریق محمد بن عمر بن واقد ان کے شیوخ سے روایت کیا کہ مقوقس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اسی مضمون کی عرضی لکھی کہ:
قد علمت ان نبیا بقی وکنت اظن انہ یخرج بالشام وقد اکرمتک رسولک وبعثت الیک بھدیۃ۲؎
مجھے یقین تھا کہ ایک نبی باقی ہے اور میرے گمان میں وہ شام سے ظہور کرتا اور میں نے حضور کے قاصد کا اعزاز کیا اور حضور کے لئے نذر حاضر کرتا ہوں۔
(۲؎ الطبقات الکبرٰی، ذکر بعثتہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الخ، دارصادر، بیروت، ۱/ ۲۶۰)
عبداﷲ بن سلام کا واقعہ ایمان:
تذ ییل سوم: بیہقی دلائل میں حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، جب میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا چرچا سنا اور حضور کے صفت ونام وہیات اور جن جن باتوں کی ہم حضور کے لئے۔ توقع کر رہے تھے سب پہچان لیں تو میں نے خاموشی کے ساتھ اسے دل میں رکھا یہاں تک کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے مجھے خبر رونق افروزی پہنچی میں نے تکبیر کہی میری پھوپھی بولی: اگر تم موسٰی بن عمران علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آنا سنتے تو اس سے زیادہ کیا کرتے؟میں نے کہا: اے پھوپھی ! خدا کی قسم وہ موسٰی بن عمران کے بھائی ہیں جس بات پر موسٰی بھیجے گئے تھے اسی پر یہ بھی مبعوث ہوئے ہیں، وہ بولی:
یا ابن اخی اھو النبی الذی کنا نخبر بہ انہ یبعث مع بعث الساعۃ، قلت لھا نعم ۱؎
اے میرے بھتیجے! کیایہ وہ نبی ہیں جن کی ہم خبر دئے جاتے تھے کہ وہ قیامت کے ساتھ مبعوث ہوں گے؟ میں کہا: نعم ہاں۔ (الحدیث) خطیب و ابن عساکر حضرت عبدا ﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا احمد و محمد والحاشر والمقفی و الخاتم۲؎
میں احمد ہوں اور محمد اور تمام جہان کو حشر دینے والا، اور سب انبیاء کے پیچھے آنے والا، اور نبوت ختم فرمانے والا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۱؎ دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما جاء فی دخول عبداﷲ بن سلام علٰی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالکتاب العلمیہ، بیروت، ۲/ ۵۳۰)
(۲؎ تاریخ بغدادللخطیب، ترجمہ ۲۵۰۱ احمد بن محمد السوطی، دارالکتاب العربی، بیروت، ۵/ ۹۹)
ہجرت حضرت عباس:
ابو یعلٰی و طبرانی و شاشی وابونعیم فضائل الصحابہ میں اور ابن عسا کر و ابن النجار حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے موصولاً اور رؤیانی وابن عساکر محمد بن شہاب زہری سے مرسلاً راوی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالٰی عنہما عمِ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں(مکہ معظمہ سے) عرضی حاضر کی کہ مجھے اذن عطا ہو تو ہجرت کر کے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوں۔ اس کے جواب میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے یہ فرمان نافذ فرمایا:
یا عم اقم مکانک الذی انت فیہ، فان اﷲ یختم بک الھجرۃ کما ختم بی النبوۃ ۳؎
اے چچا! اطمینان سے رہو کہ تم ہجرت میں خاتم المہاجرین ہونے والے ہو، جس طرح میں نبوت میں خاتم النبیین ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۳ ؎ تہذیب تاریخ دمشق الکبیر، ذکر من اسمہ عباس، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۷/ ۲۳۵)
امام اجل فقیہ محدث ابوالیث سمر قندی تنبیہہ الغافلین میں فرماتے ہیں: حدثنا ابوبکر محمد بن احمد ثنا ابو عمران ثنا عبدالرحمن ثنا داؤد ثنا عباد بن الکثیر عن عبد خیر عن علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ ہمیں ابو بکر محمد بن احمد ان کو ابو عمران ان کو عبدالرحمن ان کو داؤد ان کو عباد بن کثیر ان کو عبد خیر سے انہوں نے حضرت علی مرتضی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بیان کیا۔ جب سورۃ اذا جاء نصراﷲ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مرض وصال شریف میں نازل ہوئی حضور فوراً برآمد ہوئے پنجشنبہ کا دن تھا، منبر پر جلوس فرمایا، بلال رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو حکم دیا کہ مدینے میں ندا کردو''لوگو!رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی وصیت سننے چلو'' یہ آواز سنتے ہی سب چھوٹے بڑے جمع ہوئے، گھروں کے دروازے ویسے ہی کھلے چھوڑدئیے یہاں تک کہ کنواریاں پردوں سے باہر نکل آئیں، حد یہ کہ مسجد شریف حاضرین پر تنگ ہوئی، اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرمارہے ہیں اور اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو، اپنے پچھلوں کے لئے جگہ وسیع کرو۔ پھر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم منبر پر قیام فرما کر حمد و ثنائے الٰہی بجا لائے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام پر درود بھیجی، پھر ارشاد ہوا:
انا محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ھاشم العربی الحرمی المکی لا نبی بعدی۱؎ الحدیث، ھذا مختصر۔
میں محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم عربی صاحب حرم محترم و مکہ معظمہ ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں،الحدیث، ہذا مختصر
(۱ ؎ تنبیہ الغافلین، باب الرفق، دارالکتب العلمیۃ،بیروت، ص ۴۳۷)
مدینہ طیبہ میں حضور کی تشریف آوری
اﷲ اﷲ ایک وہ دن تھا کہ مدینہ طیبہ میں حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تشریف آوری کی دھوم ہے، زمین و آسمان میں خیر مقدم کی صدائیں گونج رہی ہیں، خوشی و شادمانی ہے کہ درو دیوار سے ٹپکی پڑتی ہے، مدینے کے ایک ایک بچے کا دمکتا چہرہ انار دانہ ہورہا ہے، باچھیں کھلی جاتی ہیں، دل ہیں کہ سینوں میں نہیں سماتے، سینوں پر جامے تنگ، جاموں میں قبائے گل کا رنگ، نور ہے کہ چھماچھم برس رہا ہے فرش سے عرش تک کا نور کا بقعہ بنا ہے، پردہ نشین کنواریاں شوق دیدارِ محبوبِ کر دگار میں گاتی ہوئی باہر آئی ہیں کہ :
طلع البدر علینا من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا ما دعاﷲ داع ۱؎
ہم پر چاند نکل آیا وداع کی گھاٹیوں سے
ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب تک دعا مانگنے والا دعا مانگے
بنی النجار کی لڑکیاں کوچے کوچے محوِ نغمہ سرائی ہیں کہ:
نحن جوارٍ من بنی النجار ٖ یا حبذامحمد من جارٖ ۲؎
ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں اے نجاریو!محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کیسا اچھا ہمسایہ ہے۔ت
ایک دن آج ہے کہ اس محبوب کی رخصت ہے، مجلسِ آخری وصیت ہے ، مجمع تو آج بھی وہی ہے، بچوں سے بوڑھوں تک، مردوں سے پردہ نشینوں تک سب کا ہجوم ہے، ندا ئے بلال سنتے ہی چھوٹے بڑے سینوں سے دل کی طرح بے تابانہ نکلے ہیں، شہر بھرنے مکانوں کے دروازے کھلے چھوڑ دئے ہیں، دل کمھلائے چہرے مرجھائے دن کی روشنی دھیمی پڑگئی کہ آفتابِ جہاں تاب کی وداع نزدیک ہے، آسمان پژمردہ، زمین افسردہ، جدھر دیکھو سناٹے کا عالم اتنا اژدھام اور ہو کا مقام، آخری نگاہیں اس محبوب کے روئے حق نما تک کس حسرت و یاس کے ساتھ جاتی اور ضعفِ نومیدی سے ہلکان ہو کر بیخودانہ قدموں پر گر جاتی ہیں، فرطِ ادب سے لب بند مگر دل کے دھوئیں سے یہ صدا بلند ؎
اﷲ کا محبوب، امت کا داعی کس پیار کی نظر سے اپنی پالی ہوئی بکریوں کو دیکھتا اور محبت بھرے دل سے انہیں حافظ حقیقی کے سپرد کر رہا ہے، شان رحمت کو ان کی جدائی کا غم بھی ہے اور فوج فوج امنڈ تے ہوئے آنے کی خوشی بھی کہ محنت ٹھکانے لگی، جس خدمت کو ملک العرش نے بھیجا تھا با حسن الوجوہ انجام کو پہنچی۔
نوح کی ساڑھے نوسو برس وہ سخت مشقت اور صرف پچاس شخصوں کو ہدایت، یہاں بیس (۲۰) تئیس (۲۳) ہی سال میں بحمداﷲ یہ روز افزوں کثرت، کنیز و غلام جوق جوق آرہے ہیں، جگہ باربار تنگ ہوجاتی ہے دفعہ دفعہ ارشاد ہوتا ہے آنے والوں کو جگہ دو، آنے والوں کوجگہ دو، اس عام دعوت پر جب یہ مجمع ہو لیا ہے سلطان عالم نے منبر اکرم پر قیام کیا ہے، بعد حمد و صلوٰۃ اپنے نسب و نام و قوم و مقام و فضائل عظام کا بیان ارشاد ہوا ہے، مسلمانو! خدارا پھر مجلس میلا د اور کیا ہے، وہی دعوت عام، وہی مجمع تام، وہی منبر و قیام، وہی بیان فضائل سید الانام علیہ وآلہ الصلوٰۃ و السلام مجلس میلاد اور کس شئے کا نام ، مگر نجدی صاحبوں کو ذکر محبوب مٹانے سے کام وربنا الرحمن المستعان وبہ الاعتصام وعلیہ التکلان (ہمارا رب رحمن مددگار ہے اور اسی ذات سے مضبوطی اور اسی پر اعتماد۔ت)
چار پائے کلام کرتے ہیں:
ابن حبان و ابن عساکر حضرت ابو منظور اور ابو نعیم بروجہ آخر حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، جب خیبر فتح ہوا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک دراز گوش سیاہ رنگ دیکھا اس سے کلام فرمایا، وہ جانور بھی تکلم میں آیا، ارشاد ہوا، تیرا کیا نام ہے؟ عرض کی: یزید بیٹا شہاب کا،، اﷲ تعالٰی نے میرے دادا کی نسل سے ساٹھ دراز گوش پیدا کئے کلھم لا یرکبہ الا نبی ان سب پر انبیاء سوار ہوا کئے وقد کنت اتوقعک ان ترکبنی، لم یبق من نسل جدی غیری ولا من الانبیاء غیرک مجھے یقینی توقع تھی کہ حضور مجھے اپنی سواری سے مشرف فرمائیں گے کہ اب اس نسل میں سوا میرے اور انبیاء میں سوا حضور کے کوئی باقی نہیں، میں ایک یہودی کے پاس تھا اسے قصداً گرا دیا کرتا وہ مجھے بھوکا رکھتا اور مارتا، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کا نام یعفور رکھا، جسے بلانا چاہتے اسے بھیج دیتے چوکھٹ پر سرمارتا جب صاحب خانہ باہر آتا اسے اشارے سے بتاتا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، جب حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا وہ مفارقت کی تاب نہ لایا ابو الہیثم بن التیہان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے کنویں میں گر کر مرگیا ۱؎
ھذا حدیث ابی منظور ونحوہ عن معاذ باختصار غیر انہ ذکر مکان الاباء ثلثۃ اخوۃ واسمہ مکان یزید عمر وقال کلنا رکبنا الانبیاء انا اصغرھم وکنت لک۲؎، الحدیث
یہ ابو منظور کی حدیث ہے اور اسی کی مثل حضرت معاذ سے بطریق اختصار مروی ہے مگر انہوں نے آباء کی جگہ تین بھائیوں کا اور یزید کی جگہ نام عمر ذکر کیا اور اس نے کہا ہم سب پر انبیاء علیہم السلام سوا ر ہوئے جبکہ میں سب سے چھوٹا ہوں اور میں آپ کے لئے ہوں، الحدیث۔
(۱؎ المواھب اللدنیۃ بحوالہ ابن عساکر عن ابی منظور، مقصد رابع، فصل اول، المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۵۵۴)
(۲ ؎ دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الثانی والعشرون، عالم الکتب،بیروت، ص ۱۳۸)
قلت ولا علیک من دندنۃ العلامۃ ابن الجوزی کعادتہ علیہ ولا من تحامل ابن دحیۃ علٰی حدیث الضب المارسابقا فلیس فیھما ما ینکر شرعا ولا فی سندھما کذاب ولا وضاع ولا متھم بہ فانی یاتھما الوضع وھذا امام الشان العسقلانی قد اقتصرفی حدیث ابی منظور علی تضعیفہ ولہ شاھد من حدیث معاذکما تری لا جرم ان قال الزرقانی نہایتہ الضعف لا الوضع ۱؎، وقال ھو والقسطلانی فی حدیث الضب(معجزاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیھا ما ھو ابلغ من ھذا ولیس فیہ ما ینکر شر عا خصوصا و قدرواہ الائمۃ) الحافظ الکبار کابن عدی وتلمیذہ الحاکم و تلمیذہ البیھقی وھو لا یروی موضوعا والدارقطنی وناھیک بہ (فنھا یتہ الضعف لاالوضع) کما زعم کیف ولحدیث ابن عمر طریق اٰخر لیس فیہ السلمی رواہ ابو نعیم وورد مثلہ من حدیث عائشۃ وابی ھریرۃ عند غیر ھما۲؎ ۱ھ
قلت(میں کہتا ہوں) علامہ ابن جوزی کا اعتراض جیسا کہ اس کی عادت ہے تجھے مضر نہیں، اور نہ ہی ابن دحیہ کی سو سمار سے متعلق گزشتہ حدیث پر جسارت تجھے مضر ہے، ان دونوں حدیثوں میں شرعی طور پر کوئی قابل انکار چیز نہیں اور نہ ہی ان کی سندوں میں کوئی کذاب اور وضاع اور متہم راوی ہے تو ان حدیثوں کا موضوع ہونا کہاں سے ہوا جبکہ امام عسقلانی نے ابو منظور کی حدیث کو ضعیف کہنے پر اقتصار کیا حالانکہ اس حدیث کا شاہد حضرت معاذ کی حدیث ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے اسی بنا پر علامہ زرقانی نے فرمایا زیادہ سے زیادہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں ہے، اور انہوں نے اور امام قسطلانی نے بھی سو سمار والی حدیث کے متعلق فرمایا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات میں تو اس سے بڑھ کر واقعات ہیں جبکہ اس حدیث میں شرعی طور پر قابل انکا ر چیز بھی نہیں، خصوصاً جبکہ اس کو بڑے ائمہ حفاظ جیسے ابن عدی، ان کے شاگرد امام حاکم اور ان کے شاگرد امام بیہقی نے روایت کیا ہو، امام بیہقی تو موضوع روایت ذکر نہیں کرتے، اس کو دارقطنی نے روایت کیا ان کی سند تو تجھے کافی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ حدیث ضعیف ہوسکتی ہے موضوع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے خیال کیا، موضوع کیسے کہا جائے جبکہ ابن عمر کی حدیث دوسرے طریقہ سے بھی مروی ہے جس میں سلمٰی مذکور نہیں اس طریق کو ابو نعیم نے روایت کیا اور حضرت عائشہ صدیقہ اور ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کی مثل دونوں کے غیر سے وارد ہے ۱ھ
(۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب، دارالمعرفۃ بیروت، ۵/ ۱۴۸)
(۲؎ المواہب اللدنیہ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب،المکتب الاسلامی، بیروت، ۲/ ۵۵۵)
(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ مقصد رابع، فصل اول، حدیث الضب،دارالمعرفۃ بیروت، ۵/ ۵۰۔۱۴۹)
قلت وقد اوردکلا الحدیثین الامام خاتم الحفاظ فی الخصائص الکبری وقد قال فی خطبتہا نزھتہ عن الاخبار الموضوعۃ وما یرد ۱ھ ۳؎ ، قلت وعزو الزرقانی حدیث الضب لا بن عمر تبع فیہ الماتن اعنی الامام القسطلانی صاحب المواھب وسبقھما الد میری فی حٰیوۃ الحیوان الکبری لکن الذی رأیت فی الخصائص الکبرٰی والجامع الکبیر للامام الجلیل الجلال السیوطی ھو عزوہ لامیرالمؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کما قدمت وقد اوردہ فی الجامع فی مسند عمر فزیادۃ لفظ الابن اما وقع سھوا اویکون الحدیث من طریق ابن عمر عن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما فیصح العزو الی کل وان کان الاولی ذکرا لمنتھی ویحتمل علی بُعد عن کل منھما فاذن یکون مرویا عن ستۃ من الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم، واﷲ تعالٰی اعلم۔
قلت( میں کہتا ہوں) ان دونوں حدیثوں کو امام جلا ل الدین سیوطی نے خصائص الکبرٰی میں ذکر فرمایا حالانکہ انہوں نے اس کتاب کے خطبہ میں فرمایا ہے میں نے اس کتاب کو موضوع اور مردودروایات سے دور رکھا ہے۱ھ قلت( میں کہتا ہوں) زرقانی کا سو سمار والی حدیث کو ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی طرف منسوب کرنا ماتن یعنی مصنف مواہب امام قسطلانی کی پیروی ہے جبکہ ان دونوں سے قبل علامہ دمیری نے حٰیوۃ الحیوان میں اس کو ذکر کیا لیکنمیں نے امام جلا ل الدین سیوطی کی خصائص الکبرٰی اور جامع کبیر میں دیکھا انہوں نے اس کو امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ میں پہلے ذکر کرچکا ہوں، انہوں نے اسے اپنی جامع میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مسند میں ذکر فرمایا، تو ''ابن'' کا لفظ سہواً لکھا گیا ہے یا پھر ابن عمر کے ذریعے حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے لہٰذا دونوں حضرات کی طرف نسبت درست ہے، اگر چہ منتہی راوی یعنی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب کرنا اولٰی ہے اور بعید احتمال کے طور پر دونوں حضرات سے مستقل روایت بھی ہوسکتی ہے تو یوں چھ صحابہ سے یہ حدیث مروی ہوگی۔ (واﷲ تعالٰی اعلم )۔ت
میرے بعد کوئی نبی نہیں:
سعید بن ابی منصور و امام احمد وابن مردویہ حضرت ابوالطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ۱؎
میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھے خواب۔
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل، حدیث َابی الطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ، دارالفکر بیروت، ۵/ ۴۵۴)
(مجمع الزوائد، کتاب التعبیر، دارالکتاب،بیروت، ۷/ ۱۷۳)
احمد وخطیب اور بیہقی شعب الایمان میں اس کے قریب ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا یبقی بعدی من النبوۃ شیئ الاالمبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا العبد اوتری لہ۱؎
میرے بعد نبوت سے کچھ باقی نہ رہے گا مگر بشارتیں، اچھا خواب کہ بندہ آپ دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل، حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ا ﷲتعالٰی عنہا، دارالفکر بیروت، ۶/ ۱۲۹)
(تاریخ بغداد للخطیب، ترجمہ ۵۸۳۶، عبدالغالب بن جعفر، دارالکتاب، العربی، بیروت، ۱۱/ ۱۴۰)
تیس (۳۰) کذّاب:
ابو بکر ابن ابی شیبہ مصنف میں عبید بن عمر ولیثی اور طبرانی کبیرمیں نعیم بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلٰثون کذّابا کلھم یزعم انہ نبی زاد۲؎عبید قبل یوم القٰیمۃ۔
قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ اس سے پہلے تیس کذاب نکلیں ہر ایک اپنے آپ کو نبی کہتا ہو۔ عبید نے اس پر ''قبل یوم القٰیمۃ''کو زائد کیا۔
(۲ ؎ مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفتن حدیث ۱۹۴۱۱، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ،کراچی ۱۵/ ۱۷۰)
اقول وانما اخرنا ھما الی التذییل بخلاف عین اللفظ المتقدم فی الحدیث الثانی والستین لان فی تتمتہ ان من قال فافعلوا بہ کذاوکذا وھٰذا العموم انما تم لا جل ختم النبوۃ اذلوجاز ان یکون بعدہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی صادق لما ساع الامر المذکور بالعموم وان کان یاتی ایضا ثلٰثون او الوف من الکذابین بل کان یجب اقسامۃ امارۃ تمیز الصادق من الکاذب والامر بالایقاع بمن ھو کاذب منھم لا غیر کما لا یخفی والی اﷲ المشتکٰی من ضعفنا فی ھٰذہ الزمان الکثیر فجارہ القلیل انصارہ الغالب کفارہ البین عوارہ وقد ظھر الاٰن بعض ھٰؤلاء الدجالین الکذابین فلواراداﷲ باحدھم شیئًا یطیروا بالمسلم والمسلم انما حدّث فانّا ﷲ واناّ الیہ رٰجعون لکن الاحتراس کان اسلم للمسلم وانفی للفساد فاحببنا الاقتصار علی القدر المراد واﷲ المستعان وعلیہ التکلان ولا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم۔
اقول(میں کہتا ہوں) ان دونوں حدیثوں کو ہم نے تذییل کے آخر میں ذکر کیا برخلاف اس کے جو باسٹھویں حدیث میں پہلے گزرا عین لفظ اس کے کیونکہ اس کے آخر میں یوں ہے کہ جو بھی نبوت کا دعوٰی کرے اسے یہ یہ کرو۔ اور جو بھی ایسا دعوٰی کرے اس سے یوں کرو''یہ عموم ختم نبوت کے لئے ہی تام ہوسکتا ہے کیونکہ اگر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا آنا جائز ہوتا تو پھر یہ عام حکم ایسے لوگ تیس ہوں یا ہزاروں ہوں سب کو شامل نہ ہوتا بلکہ پھر سچے اور جھوٹے نبی کی تمیز میں کوئی امتیازی علامت بیان کر کے''یہ یہ کرنے'' کا حکم ان میں سے صرف کاذبین کے لئے ہوتا ہر ایک کے لئے نہ ہوتا، جیسا کہ ظاہر ہے، اور اﷲ تعالٰی سے ہی اس زمانہ میں ہمیں اپنے کمزور ہونے کی شکایت ہے یہ زمانہ جس میں فجار کی کثرت، مددگاروں کی قلت، کافروں کا غلبہ اور کج روی عام ہے جبکہ اب بعض ایسے کذاب دجّال لوگ ظاہر ہوئے ہیں، اگر ایسے دجالوں کو اﷲ تعالٰی کے ارادہ سے کچھ ہوگیا تو اس کو مسلمانوں کی طرف منسوب کیا جائے گا کہ انہوں نے ایسی حدیث بیان کی جس پریہ کچھ ہوا ہم اﷲ تعالٰی کی ملک ہیں اور اس کی طرف ہمارا لوٹنا ہے تاہم مسلمانوں کو اپنی حفاظت مناسب ہے اور فساد کو دفع کرنا زیادہ بہتر ہے تو اس لئے صرف مراد کو بیان کرنا ہی پسند کیا ہے، اور اﷲ تعالٰی ہی سے مدد اور اسی پر توکل ہے لاحو ل ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم۔(ت)
علی بمنزلہ ہارون ہیں:
خطیب حضرت امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
انما علی مِنّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الا انہ لا نبی بعدی ۱؎
علی مجھ سے ایسا ہے جیسا موسٰی سے ہارون( کہ بھائی بھی اور نائب بھی) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(۱؎ تاریخ بغداد للخطیب، ترجمہ ۴۰۲۳، الحسن بن یزید، دارالکتاب العربی، بیروت، ۷/ ۴۵۳)
امام احمد مناقب امیر المؤمنین علی میں مختصراً، اور بغوی وطبرانی اپنی معاجیم، باوردی معرفت، ابن عدی کامل، ابو احمد حاکم کنٰی میں بطریق امام بخاری، ابن عساکر تاریخ میں سب زید بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل میں راوی وھذا حدیث احمد ( یہ حدیث احمد ہے۔ت) جب حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے باہم صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں بھائی چارہ کیا امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ نے عرض کی: میری جان نکل گئی اور پیٹھ ٹوٹ گئی، یہ دیکھ کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کے ساتھ کیا جو میرے ساتھ نہ کیا یہ اگر مجھ سے کسی ناراضی کے سبب ہے تو حضور ہی کے لئے منانا اور عزت ہے۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
والذی بعثنی بالحق ما اخرتک الا لنفسی وانت منّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی غیر انہ لا نبی بعدی۲؎
قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا میں نے تمہیں خاص اپنے لئے رکھ چھوڑا ہے تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسٰی سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تم میرے بھائی اور وارث ہو۔
(۲؎ تاریخ دمشق لابن عسا کر،ذکر من اسمہ سلمان، ترجمہ سلمان بن الاسلام الفارسی، داراحیاء التراث، العربی بیروت،۶/ ۲۰۳)
(فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل، حدیث ۱۰۸۵، موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۲/ ۳۹۔۶۳۸)
امیر المؤمنین نے عرض کی: مجھے حضور سے کیا میراث ملے گی؟فرمایا: جو اگلے انبیاء کو ملی۔ عرض کی: انہیں کیا ملی تھی؟فرمایا: خدا کی کتاب اور نبی کی سنت، اور تم میرے ساتھ جنت میں میری صاحبزادی کے ساتھ میرے محل میں ہوگے اور تم میرے بھائی اور رفیق ہو۔
ابن عساکر (عہ)بطریق عبداﷲ بن محمد بن عقیل عن ابیہ عن جدہٖ عقیل بن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت عقیل رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا: خدا کی قسم میں تمہیں دو جہت سے دوست رکھتا ہوں، ایک تو قرابت، دوسرے یہ کہ ابوطالب کو تم سے محبت تھی، اے جعفر! تمہارے اخلاق میرے اخلاق کریمہ سے مشابہ ہیں:
واما انت یا علی فانت منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی غیر انہ لانبی بعدی ۱؎
تم اے علی! مجھ سے ایسے ہو جیسے موسٰی سے ہارون مگر یہ کہ میرے بعد نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن عبداﷲ بن عقیل حدیث ۳۳۶۱۶،موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۱/ ۷۳۹)
عہ: فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ عن عبداﷲ بن عقیل عن ابیہ عن جدہ عقیل وھو خطاء وصوابہ عبداﷲ بن محمد بن عقیل، عبداﷲ تابعی صدوق من رجال الاربعۃ ما خلا النسائی قال الذھبی حدیثہ فی مرتبۃ الحسن وابوہ تابعی مقبول رجال ابن ماجۃ۱۲ منہ (م)
کنزالعمال کے مطبوعہ نسخہ میں عبداﷲ بن عقیل اپنے والد ماجد اور ان کے دادا عقیل سے راوی جبکہ یہ خطا ہے اور صحیح یہ ہے عبداﷲ بن محمد بن عقیل، یہ عبداﷲ تابعی ہیں نہایت صادق، نسائی کے ماسوا سنن صحاح کے راویوں میں شمار ہیں، امام ذہبی نے فرمایا ان کی روایت حسن کے مرتبہ میں ہے اور ان کے والد بھی تابعی اور مقبول، ابن ماجہ کے راویوں میں شمار ہیں۔( ت)
الحمدﷲ تین چہل حدیث کا عدد تو کامل ہواجن میں چوراسی ۸۴ حدیثیں مرفوع تھیں اور سترہ۱۷ تذییلات علاوہ، پہلے گزری تھیں سات (عہ) اس تکمیل میں بڑھیں، ان سترہ میں بھی پانچ مرفوع تھیں تو جملہ مرفوعات یعنی وہ حدیثیں جو خود حضور پر نور خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مروی حضور کے ارشاد و تقریر کی طرف منتہٰی ہیں نواسی ۸۹ ہوئیں لہٰذا چاہا کہ ایک حدیث مرفوع اور شامل ہو کہ نوّے ۹۰ احادیث مرفوعہ کا عدد کامل ہو نیز ان اﷲ وتر یحب الوتر(اﷲ واحد ہے اور واحد کو پسند کرتا ہے۔ت) کا فضل حاصل ہو۔
عہ: بعد حدیث ۱۱۰ تذییل اول دو حدیث عبادہ بن صامت وہشام بن عاص، وتذییل دوم دو حدیث حاطب وشیوخ واقدی، وتذییل سوم حدیث ابن سلام وبعد حدیث ۱۱۷ دو حدیث عبید و نعیم رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۱۲ منہ (م)