Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
142 - 150
تصرفِ اولیا اور مظلومیت حسین
یہ بات یادر کھنے کی ہے کہ بعض جہال ضعیف الایمان اس پر شک کرنے لگتے ہیں، اور اسی قبیل سے ہے جاہل وہابیوں کا اعتراض کہ اولیاء اگر اﷲ تعالٰی کی طرف سے کچھ قدرت رکھتے تو امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کیوں ایسی مظلومی کے ساتھ شہید ہوجاتے، ایک اشارے میں یزید پلید کے لشکر کو کیوں نہ غارت فرمادیا۔ مگر یہ سفہاء نہیں جانتے کہ ان کی قدرت جو انہیں ان کے رب نے عطا فرمائی رضا و تسلیم وعبدیت کے ساتھ ہے نہ کہ معاذ اﷲ جباری و سرکشی و خود سری کے ساتھ مقوقس بادشاہ مصر نے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے امتحاناً پوچھا کہ جب تم انہیں نبی کہتے ہو تو انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاک فرمادیا جب انہوں نے ان کا شہر مکہ چھڑایا تھا، حاطب رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا: کیا تو عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو رسول نہیں مانتا انہوں نے دعا کر کے اپنی قوم کو کیوں نہ ہلاک کردیا جب انہوں نے انہیں پکڑا اور سولی دینے کا ارادہ کیا تھا؟مقوقس بولا:
انت حکــیم جــآء من عند حکیم۱؎،
تم حکیم ہو کہ حکیم کامل صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس سے آئے، رواہ البیھقی عن حاطب رضی اﷲ تعالٰی  عنہ( اس کو بیہقی نے حاطب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماجاء الی کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم المقوقس دارالکتب العلمیہ بیروت ۴/ ۳۹۶)
خیر یہ تو فائدہ زائدہ تھا، حدیث سابق کی طرف عود کریں۔
ہرقل کے پاس انبیاء کی تصاویر

    پھر ہر قل نے ہمیں باعزاز و اکرام ایک مکان میں اتارا، دونوں وقت عزت کی مہمانیاں بھیجتا، ایک رات ہمیں پھر بلا بھیجا، ہم گئے اس وقت اکیلا بالکل تنہا بیٹھا تھا، ایک بڑا صندوقچہ زرنگار منگا کر کھولا اس میں چھوٹے چھوٹے خانے تھے ہر خانے پر دروازہ لگا تھا، اس نے ایک خانہ کھول کر سیاہ ریشم کا کپڑا تہہ کیا ہوا نکالا اسے کھولا تو اس میں ایک سرخ تصویر تھی، مرد فراخ چشم بزرگ سرین کہ ایسے خوبصورت بدن میں ایسی لمبی گردن کبھی نہ دیکھی تھی سر کے بال نہایت کثیر (بے ریش دو گیسو غایت حسن و جمال میں) ہر قل بولا: انہیں پہچانتے ہو؟ہم نے کہا: نہ، کہا:یہ آدم ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پھر وہ تصویر رکھ کر دوسرا خانہ کھولا، اس میں سے ایک سیاہ ریشم کا کپڑا نکالا، اس میں خوب گورے رنگ کی تصویر تھی، مرد بسیار موئے سر مانند موئے قبطیاں،فراخ چشم،کشادہ سینہ،بزرگ سر (آنکھیں سرخ،داڑھی خوبصورت) پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہ، کہا یہ نوح ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ پھر اسے رکھ کر اور خانہ کھولا، اس میں سے حریر سبز کا ٹکڑا نکالا اس میں نہایت گورے رنگ کی ایک تصویر تھی، مرد خوب چہرہ، خوش چشم، دراز بینی(کشادہ پیشانی)،رخسارے سُتے ہوئے، سر پر نشانِ پیری، ریش مبارک سپید نورانی، تصویر کی یہ حالت ہے کہ گویا جان رکھتی ہے، سانس لے رہی ہے (مسکرا رہی ہے) کہا: ان سے واقف ہو؟ہم نے کہا: نہ، کہا: یہ ابراہیم ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔پھر اسے رکھ کر ایک اور خانہ کھولا، اس میں سے سبز ریشم کا پارچہ نکالا، اسے جو ہم نظر کریں تو محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تصویر منیر تھی، بولا: انہیں پہچانتے ہو؟ ہم رونے لگے اور کہا: یہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں، وہ بولا: تمہیں اپنے دین کی قسم یہ محمد ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں ہمیں اپنے دین کی قسم یہ حضور اکرم کی تصویرپاک ہے گویا ہم حضور کو حالتِ حیات دنیوی میں دیکھ رہے ہیں، اسے سنتے ہی وہ اچھل پڑا بے حواس ہوگیا سیدھا کھڑا ہوا پھر بیٹھ گیا دیر تک دم بخود رہا پھر ہماری طرف نظر اٹھا کر بولا: اما انہ اٰخر البیوت ولٰکنی عجلتہ لا نظر ما عندکم۱؎،سنتے ہو یہ خانہ سب خانوں کے بعد تھا مگر میں نے جلدی کر کے دکھایا کہ دیکھوں تمہارے پاس اس باب میں کیا ہے، یعنی اگر ترتیب وار دکھاتا آتا تو احتمال تھا کہ تصویر حضرت مسیح کے بعد دکھانے پر تم خواہ مخواہ کہہ دو کہ یہ ہمارے نبی کی تصویر ہے اس لئے میں نے ترتیب قطع کر کے اسے پیش کیا کہ اگر یہ وہی نبی موعود ہیں تو ضرور پہچان لو گے، بحمداﷲ تعالٰی ایسا ہی ہوا، اور یہی دیکھ کر اس حرماں نصیب کے دل میں درد اٹھا کہ حواس جاتے رہے اٹھا بیٹھا دم بخود رہا۔
واﷲ متم نورہ ولو کرہ الکٰفرونo۲؂ والحمدﷲ رب العٰلمینo۳؂
(اﷲ تعالٰی اپنے نور کو تام فرمائیگا اگرچہ کافر ناپسند کریں۔ والحمدﷲ رب العٰلمین۔ت)
(۱؎ جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن معافی عن عبادۃ بن الصامت حدیث ۱۵۶۴۱، دارالفکر بیروت۲۰/ ۶۳)

(دلائل النبوۃ للبیہقی باب ماوجد فی صورۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، دارالکتب العلمیہ، بیروت ۱/ ۸۸، ۳۸۷)

(۲؂القران الکریم ۶۱/ ۸) (۳؂القرآن الکریم ۱/۱)
ہمارا مطلب تو بحمد اﷲ یہیں پورا ہوگیا کہ یہ خانہ سب خانوں کے بعد ہے، اس کے بعد حدیث میں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تصاویر کریمہ کا ذکرہے، 

حلیہ ہائے منورہ پر اطلاع مسلمین کے لئے اس کا خلاصہ بھی مناسب، یہاں تک کہ دونوں حدیثیں متفق تھیں، ترجمہ مختصراً حدیث عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالٰی عنہ کا تھا، جو لفظ حدیث ہشام رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بڑھائے خطوط ہلالی میں تھے، اب حدیث ہشام اتم وازید ہے کہ اس میں پانچ انبیاء لوط واسحق و یعقوب و اسماعیل و یوسف علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذکر شریف زائد ہے لہٰذا اسی سے اخذ کریں، اور جو مضمون حدیث عبادہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں زائد ہو اسے خطوط ہلالی میں بڑھائیں۔

فرماتے ہیں پھر اس نے ایک اور خانہ کھولا، حریر سیاہ پر ایک تصویر گندمی رنگ سانولی نکالی(مگر حدیث عبادہ میں گورا رنگ ہے) مرد مرغول (عہ۱) مو سخت گھونگر والے بال، آنکھیں جانب باطن مائل، تیز نظر، ترش رو دانت، باہم چڑھے ہونٹ، سمٹا جیسے کوئی حالتِ غضب میں ہو۔ ہم سے کہا: انہیں پہچانتے ہو؟ یہ موسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام ہیں، اور ان کے پہلو میں ایک اور تصویر تھی، صورت ان سے ملتی مگر سر پر خوب تیل پڑا ہوا، پیشانی کشادہ، پتلیاں جانب بینی مائل (سر مبارک مدوّر گول)، کہا: انہیں جانتے ہو؟ یہ ہارون علیہ السلام ہیں۔
عہ۱: الحمدﷲ حدیثیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں ابو یعلٰی وابن عسا کر نے بطریق یحیٰی بن ابی عمر و الشیبانی عن ابی صالح عن ام ھانی رضی اﷲ تعالٰی عنھا نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے حدیث معراج میں موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی حلیہ روایت کیا کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: واما موسٰی فضخم اٰدم طوال، کانہ من رجال شنوأۃ کثیر الشعر، غائر العینین، متراکب الاسنان مقلص الشفۃ خارج اللثۃ، عابس۱؎

لیکن موسٰی علیہ السلام بھاری بدن، گند م گوں، طویل، گویا شنوہ قبیلہ کے لوگ، آنکھیں جانب باطن مائل، باہم چڑھے ہوئے دانت باہم ملے ہوئے ہونٹ، لٹکی داڑھی، سمٹا جیسے حالت غضب ۔ت۔ اور یہیں سے ترجیح حدیث صحیح ہشام رضی اﷲ تعالٰی عنہ ظاہر ہوئی کہ گندمی رنگ بتایا تھا ۱۲ منہ۔
 (۱ ؎ درمنثور بحوالہ ابی یعلٰی وابن عساکر ،تحت آیہ سبحٰن الذی، منشورات مکتبۃ آیۃ اﷲ العظمی، قم ایران، ۴/ ۱۴۸)

(المطالب العالیۃ بحوالہ ابی یعلی، حدیث ۴۲۸۷، دارالباز مکۃ المکرمۃ، ۴/ ۲۰۲)
پھر اور خانہ کھول کر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، مرد گندم گوں، سر کے بال سیدھے، قدمیانہ، چہرے سے آثار غضب نمایاں، کہا: یہ لوط علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، گورا رنگ جس میں سرخی جھلکتی، ناک اونچی، رخسارے ہلکے، چہرہ خوبصورت، کہا یہ اسحق علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، صورت صورتِ اسحق علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مشابہ تھی مگر لب زیریں پر ایک تل تھا، کہا: یہ یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سیاہ پر ایک تصویر نکالی، رنگ گورا، چہرہ حسین، ناک بلند، قامت خوبصورت، چہرے پر نوردرخشاں اور اس میں آثار خشوع نمایاں، رنگ میں سرخی کی جھلک تاباں،کہا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے جد کریم اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی کہ صورت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مشابہ تھی، چہرہ گویاآفتاب تھا، کہا یہ یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی سرخ رنگ، باریک ساقیں، آنکھیں کم کھلی ہوئی(عہ۲) جیسے کسی کو روشنی میں چوندھ لگے، پیٹ ابھرا ہوا، قدمیانہ، تلوار حمائل کئے، مگر حدیث عبادہ میں اس کے عوض یوں ہے حریر سبز پر گوری تصویر جس کے عضو عضو سے نزاکت و دلکشی ٹپکتی، ساق و سرین خوب گول، کہا: یہ داؤد علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔   پھر حریر سپید پر ایک تصویر نکالی، فربہ سرین، پاؤں میں طول، گھوڑے پر سوار(جس کے ہر طرف پر لگے تھے گردن(عہ۱) دبی ہوئی،پشت کو تاہ، گورارنگ) کہا: یہ سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں (اور یہ پردار گھوڑا جس کی ہر جانب پر ہیں ہوا ہے کہ انہیں اٹھائے ہوئے ہے)
عہ۲:یہ اس سالہا سال کے گریہ خوف الٰہی کا اثر تھا جس کے باعث رخسارہ انور پر دو خط سیاہ بن گئے تھے۔

عہ۱ :حدیث مذکورام  ہانی رضی اﷲ تعالٰی عنہا میں حلیہ سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام میں ہے قدمیانہ سے زائد دراز سے کم، سینہ چوڑا، خون کی سرخی بدن پر جھلکتی، بال عمدہ ان کی سیاہی سرخی مائل ۱۲ منہ۔
پھر حریر سیاہ پر ایک گوری تصویر نکالی، مرد جوان،داڑھی نہایت سیاہ، سر کے بال کثیر، چہرہ خوبصورت (آنکھیں حسین، اعضا متناسب)کہا(عہ۲) یہ عیسٰی بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام ہیں۔

ہم نے کہا: یہ تصویریں تیرے پاس کہاں سے آئیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ ضرور سچی تصاویر ہیں کہ ہم نے اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تصویر کریم کے مطابق پائی۔ کہا: آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی تھی کہ میری اولاد کے انبیاء مجھے دکھادے حق سبحانہ تعالٰی نے ان پر تصاویر انبیاء اتاریں کہ مغرب شمس کے پاس خزانہ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں تھیں، ذوالقرنین نے وہاں سے نکال کر دانیال علیہ السلام کو دیں (انہوں نے پارچہ ہائے حریر پر اتاریں کہ یہ بعینہا وہی چلی آتی ہیں) سن لو خدا کی قسم مجھے آرزو تھی کاش میرا نفس ترک سلطنت کو گوارا کرتا اور میں مرتے دم تک تم میں کسی ایسے کا بندہ بنتا جو غلاموں کے ساتھ نہایت سخت برتاؤ رکھتا (مگر کیا کروں نفس راضی نہیں ہوتا) پھر ہمیں عمدہ جائزے دے کر رخصت کیا(اور ہمارے ساتھ آدمی کر کے سرحدِ اسلام تک پہنچادیا) ہم نے آکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حال عرض کیا، صدیق روئے اور فرمایا: مسکین اگر اﷲ اس کا بھلا چاہتا وہ ایسا ہی کرتا، ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خبر دی کہ یہ اور یہودی اپنے یہاں محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نعت پاتے ہیں۱؎
 (۱ ؎ دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما وجد من صورۃ نبینا محمد  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  مکتبہ الاثریہ، لاہور ۱/ ۳۸۸ تا ۳۹۰)

(جامع الاحادیث بحوالہ ابن عسا کر عن المعافی عن عبادہ بن الصامت، حدیث ۱۵۶۴۱ دارالفکر بیروت، ۲۰/ ۶۳ و ۶۴)
عہ۲: فائدہ : یہ نفیس جلیل حدیث طویل جس کا خلاصہ اختصار کے ساتھ تین ورق میں بیان ہوا بحمدللہ صحیح ہے امام حافظ عماد الدین بن کثیر، امام خاتم الحفاظ سیوطی نے فرمایا ھذا حدیث جیدالاسناد ورجالہ ثقات۔ ۱۲منہ
Flag Counter