| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر) |
طبرانی معجم کبیر میں سیدنا جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، میں زمانہ جاہلیت میں ملک شام کو تجارت کے لئے گیا تھا ملک کے اسی کنارے پر اہل کتاب سے ایک شخص مجھے ملا پوچھا کیا تمہارے یہاں کسی شخص نے نبوت کا دعوٰی کیا ہے؟ہم نے کہاہاں، کہا تم ان کی صورت دیکھو تو پہچان لو گے؟میں نے کہا ہاں، وہ ہمیں ایک مکان میں لے گیا جس میں تصاویر تھیں، وہاں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صورت کریمہ مجھے نظر نہ آئی، اتنے میں ایک اور کتابی آکر بولا: کس شغل میں ہو؟ہم نے حال کہا، وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا وہا ں جاتے ہی حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تصویر منیرمجھے نظر آئی اور دیکھا کہ ایک شخص حضور کے پیچھے حضور کے قدم مبارک کو پکڑے ہوئے ہے، میں نے کہا یہ دوسرا کون ہے، وہ کتابی بولا:
انہ لم یکن نبی الا کان بعدہ نبی الا ھذا فانہ لا نبی بعدہ وھذا الخلیفۃ بعدہ۔
بیشک کوئی نبی ایسا نہ ہوا جس کے بعد نبی نہ ہو سوا اس نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ دوسرا ان کے بعد خلیفہ ہے۔ اسے جو میں دیکھوں تو ابوبکر صدیق کی تصویر تھی ۱؎
(۱ ؎ المعجم الکبیر، حدیث ۱۵۳۷، المکتبۃ الفیصلیۃ،بیروت، ۲/ ۱۲۵) (دلائل النبوۃ ابو نعیم، عالم الکتب،بیروت، ۱/ ۹)
بادشاہ روم کے دربار میں ذکر مصطفی: تذ ییل اوّل: ابن عساکر بطریق قاضی معافی بن زکریا حضرت عبادہ بن صامت، اور بیہقی و ابو نعیم بطریق حضرت ابوامامہ باہلی حضرت ہشام بن عاص سے راوی رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، جب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ہمیں بادشاہ روم ہرقل کے پاس بھیجا اور ہم اس کے شہ نشین کے نزدیک پہنچے وہاں سواریاں بٹھائیں اور کہا لا الٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ جانتا ہے یہ کہتے ہی اس کا شہ نشین ایسا ہلنے لگا جیسے ہوا کے جھونکے میں کھجور، اس نے کہلا بھیجا یہ تمہیں حق نہیں پہنچتا کہ شہروں میں اپنے دین کا اعلان کرو، پھر ہمیں بلایا ہم گئے وہ سرخ کپڑے پہنے سرخ مسند پر بیٹھا تھا آس پاس ہر چیز سرخ تھی اس کے اراکین دربار اس کے ساتھ تھے ہم نے سلام نہ کیا اور ایک گوشے میں بیٹھ گئے وہ ہنس کر بولا تم آپس میں جیسا ایک دوسرے کو سلام کرتے ہو مجھے کیوں نہ کیا؟ ہم نے کہا ہم تجھے اس سلام کے قابل نہیں سمجھتے اور جس مجرے پر تو راضی ہوتا ہے وہ ہمیں روا نہیں کہ کسی کے لئے بجا لائیں، پھر اس نے پوچھا سب سے بڑا کلمہ تمہارے یہا ں کیا ہے؟ہم نے کہا لا الٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر، خدا گواہ ہے یہ کہتے ہی بادشاہ کے بدن پر لرزہ پڑگیا پھر آنکھیں کھول کر غور سے ہمیں دیکھا اور کہا یہی وہ کلمہ ہے جو تم نے میرے شہ نشین کے نیچے اترتے وقت کہا تھا؟ ہم نے کہا ہاں،کہا جب اپنے گھروں میں اسے کہتے ہو تو کیا تمہاری چھتیں بھی اس طرح کانپنے لگتی ہیں؟ ہم نے کہا خدا کی قسم یہ تو ہم نے یہیں دیکھا اور اس میں خدا کی کوئی حکمت ہے، بولا سچی بات خوب ہوتی ہے سن لو خدا کی قسم مجھے آرزو تھی کہ کاش میرا آدھا ملک نکل جاتا اور تم یہ کلمہ جس چیز کے پاس کہتے وہ لرزنے لگتی۔ ہم نے کہا یہ کیوں؟کہا یوں ہوتا تو کام آسان تھا اور اس وقت لائق تھا کہ یہ زلزلہ شان نبوت سے نہ ہو بلکہ کوئی انسانی شعبدہ ہو ۱؎ (یعنی اﷲ تعالٰی ایسے معجزات ہر وقت ظاہر نہیں فرماتا بلکہ عالم اسباب میں شان نبوت کو بھی غالباً مجرائے عادت کے مطابق رکھتا ہے)
(۱ ؎ دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ما وجد من صورۃ نبینا محمد، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱/ ۸۷۔۳۸۶) (جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن المعافی عن عبادۃ بن الصامت، حدیث ۱۵۶۴۱ دارالفکر،بیروت، ۲۰/ ۶۲ )
ولو جعلنٰہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا علیھم ما یلبسون۲
اگر ہم فرشتے کو نبی بناتے تو مرد ہی بناتے اور اس کو وہی لباس پہناتے جو مرد لوگ پہنتے ہیں۔ ولہٰذا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے جہادوں میں بھی جنگ دو سرداروں کا مضمون رہتا ہے۔
الحرب بیننا وبینہ سجال ینال منا و ننال منہ۳؎ ۔
رواہ الشیخان عن ابی سفیان رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔(ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کبھی وہ کامیاب اور کبھی ہم کامیاب ہوتے ہیں، اس کو شیخین نے ابوسفیان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲القرآن الکریم ۹/ ۶) (۳ ؎ صحیح البخاری، باب کیف کان بدء الوحی، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۱/ ۴)
لہٰذا جب ابوسفیان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے ہر قل کو خبر دی کہ لڑائی میں کبھی ہم بھی ان پر غالب آتے ہیں ہر قل نے کہا ھذہ اٰیۃ النبوۃ۴؎ یہ نبوت کی نشانی ہے رواہ البزار و ابونعیم عن دحیۃ الکلبی رضی اﷲ تعالٰی عنہ (اسے بزار اور ابو نعیم نے دحیہ کلبی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۴؎ کشف الاستار عن زوائد البزار باب فیما کان عند اہل الکتاب من علامات نبوتہ، موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۳/ ۱۱۷)