Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
140 - 150
نصوص ختم نبوت:
یہاں تک سو ۱۰۰ احادیث فقیر نے لکھیں اور چاہا کہ اسی پر بس کرے، پھر خیال آیا کہ ذکر پاک امیر المؤمنین علی کرم اﷲ وجہہ ہے دس حدیثیں اور شامل ہوں کہ نام مبارک مولٰی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے عدد حاصل ہوں، نظر کروں تو فیضان روح مبارک امیر المؤمنین سے تذییلات میں دس حدیثیں خود ہی گزر چکی ہیں تذییل بعد حدیث ۲۵ یک و بعد ۳۹ سہ و بعد ۴۲ یک و بعد ۴۸ و ۵۸دو دو وبعد ۶۲ یک یہ مقصود تو یوں حاصل تھا مگر از انجا کہ وضع رسالہ نصوص ختم نبوت میں ہے اور ۸ سے ۱۰۰ تک بیس حدیثیں اس مطلب کو دوسرے طرز سے ادا کرتی تھیں لہٰذا خاص مقصود کی بیس حدیثوں کا اضافہ ہی مناسب نظر آیا کہ خود اصل مرام پر سو حدیثوں کا عدد کامل اور اصل مرویات ایک سو ۱۲۰ ہو کر تین چہل حدیث کا فضل حاصل ہو۔



ارشاداتِ انبیاء وعلمائے کتب سابقہ:

حاکم صحیح مستدرک میں وہب بن منبہ سے وہ حضرت عبداﷲ بن عباس اور سات دےگر صحابہ کرام سے کہ سب اہل بدر تھے رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین روایت کرتے ہیں، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں بیشک اﷲ عزوجل روز قیامت اوروں سے پہلے نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی قوم کو بلا کر فرمائے گا تم نے نوح کو کیا جواب دیا وہ کہیں گے نوح نے نہ ہمیں تیری طرف بلایا، نہ تیرا کوئی حکم پہنچایا، نہ کچھ نصیحت کی، نہ ہاں یا نہ کا کوئی حکم سنایا، نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام عرض کریں گے:
دعوتھم یا رب دعاء فاشیا فی الاولین و الاٰخرین امۃ حتی انتھی الی خاتم النبیین احمد فانتسخہ وقرأہ وامن بہ وصدقہ۔
الٰہی! میں نے انہیں ایسی دعوت کی جس کی خبر یکے بعد دےگرے سب اگلوں پچھلوں میں پھیل گئی، یہاں تک کہ سب سے پچھلے نبی احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تک پہنچی انہوں نے اسے لکھا اور پڑھا اور اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق فرمائی، حق سبحانہ، وتعالٰی فرمائے گا احمد وامتِ احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو بلاؤ۔
فیاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وامتہ یسعی نورھم بین ایدیھم ۱؎
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور حضور کی امت حاضر آئینگے یوں کہ ان کے نور ان کے آگے جولان کرتے ہوں گے۔
 (۱ ؎ المستدرک للحاکم، کتاب التواریخ المتقد مین من الانبیائ، دارالفکربیروت، ۲/ ۴۸۔۵۴۷)
نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے شہادت ادا کریں گے الحدیث وقد اختصرناہ (ہم نے حدیث کو اختصاراً نقل کیا ہے)

دارقطنی غرائب، امام مالک اور بیہقی دلائل اور خطیب رواۃ مالک میں بطریق عدیدہ عن مالک بن انس عن نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما، اور ابن ابی الدنیا، اور بیہقی وابو نعیم دلائل میں بطریق ابن لہیعہ عن مالک بن الازہر عن ،نافع عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما اور ابو نعیم دلائل میں من طریق یحیٰی بن ابراہیم بن ابی قتیلۃ عن بن اسلم عن ابیہ اسلم مولٰی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، اور معاذ بن المثنٰی زوائد مسند مسدد میں بطریق منتصر بن دینار عن عبداﷲ بن ابی الھذیل راوی ہیں اور بروجہ آخر واقدی مغازی میں عن عبدالعزیزبن عمر بن جعونۃ بن نضلۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، اور ابن جریر تاریخ اور باوردی کتاب الصحابہ میں بطریق ابی معروف عبداﷲ بن معروف عن ابی عبدالرحمن الانصاری عن محمد بن حسین بن علی بن ابی طالب، اور ابن ابی الدنیا امام محمد باقر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
وھذا حدیث معاذ و فیہ صریح النص علی مرادنا ومازدنا من الطریق الاول ادرنا حولہ ھلالین۔
 یہ حدیث معاذکی ہے اور اس میں صریح نص ہے ہماری مراد پر، اور پہلے طریقہ سے ہم جو زیادتی کریں گے وہ ہلالین میں ہے۔
ذریب بن برثملا کی شہادت:



سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے نضلہ بن عمرو انصاری کو تین سو مہاجرین وانصار کے ساتھ تاراج حلوان عراق کے لئے بھیجا، یہ قیدی اور غنیمتیں لے آتے تھے، ایک پہاڑ کے دامن میں شام ہوئی، نضلہ نے اذان کہی، جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبر پہاڑ سے آواز آئی اور صور ت نہ دکھائی دی کہ کوئی کہتا ہے کبرت کبیرایا نضلۃ تم نے کبیر کی بڑائی کی اے نضلہ!، جب کہا اشھدان لا الٰہ الا اﷲ جواب آیا اخلصت یا نضلۃ اخلاصًا نضلہ! تم نے خالص توحید کی، جب کہا اشھدان محمد ا رسول اﷲآواز آئی نبی بعث لا نبی بعدہ ھو النذیر وھو الذی بشرنا بہ عیسٰی بن مریم وعلٰی راس امتہ تقوم الساعۃ یہ نبی ہیں کہ مبعوث ہوئے ان کے بعد کوئی نبی نہیں یہی ڈر سنانے والے یہی ہیں جن کی بشارت ہمیں عیسٰی بن مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام نے دی تھی انہیں کی امت کے سر پر قیامت قائم ہوگی۔ جب کہا حی علی الصلوٰۃ جواب آیا
فریضۃ فرضت(عہ۱) (طوبٰی لمن مشی الیہا وواظب علیھا)
نمازایک فرض ہے کہ بندوں پر رکھا گیا خوبی و شادمانی اس کے لئے جو اس کی طرف چلے اور اس کی پابندی رکھے، جب کہا حی علی الفلاح آواز آئی
افلح من اتاھا و واظب علیہا(افلح من اجاب محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم )(عہ۲)
مراد کو پہنچا جو نماز کے لئے آیا اور اس پر مداومت کی، مراد کو پہنچا جس نے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی اطاعت کی، جب کہا قد قامت الصلوٰۃ جواب آیا البقاء لا مۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی رؤسھا تقوم الساعۃ بقا ہے امت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے اور انہیں کے سروں پر قیامت ہوگی (جب کہا اﷲ اکبر اﷲ اکبرلا الٰہ الا اﷲ آواز آئی اخلصت الاخلاص کلہ یا نضلۃ فحرم اﷲ بھا جسدک علی النار اے نضلہ! تم نے پورا اخلاص کیا تو اﷲ تعالٰی نے اس کے سبب تمہارا بدن دوزخ پر حرام فرمادیا) نماز کے بعد نضلہ کھڑے ہوئے اور کہا اے اچھے پاکیزہ خوب کلام والے!ہم نے تمہاری بات سنی تم فرشتے ہو یا کوئی سیاح یا جن، ظاہر ہو کر ہم سے بات کرو کہ ہم اﷲ عزوجل اور اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم (اور امیر المؤمنین عمر) کے سفیر ہیں، اس کہنے پر پہاڑ سے ایک بوڑھے شخص نمودار ہوئے، سپید مُو،درازریش،سرایک چکی کے برابر، سپید اُون کی ایک چادر اوڑھے ایک باندھے، اور کہا السلام علیکم ورحمۃ اﷲ، حاضرین نے جواب دیا، اور نضلہ نے پوچھا اﷲ تم پر رحم کرے تم کون ہو؟ میں ذریب بن برثملا ہوں بندہ صالح عیسٰی بن مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام کا وصی ہوں انہوں نے میرے لئے دعا فرمائی تھی کہ میں ان کے نزول تک باقی رہوں(زادفی الطریق الثانی) (دوسرے طریقہ میں یہ زائد ہے۔ت) پھر ان سے پوچھا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہا ں ہیں؟کہا انتقال فرمایا۔ اس پر وہ بزرگ بشدت روئے، پھر کہا ان کے بعد کون ہوا؟ کہا ابوبکر۔ وہ کہاں ہیں؟ کہاانتقال ہوا۔ کہا پھر کون بیٹھا؟ کہا عمر۔ کہا امیر المؤمنین عمر سے میرا سلام کہو، اور کہا کہ ثبات وسدا دوآسانی پر عمل رکھئے کہ وقت قریب آلگا ہے، پھر علاماتِ قرب قیامت اور بہت کلماتِ وعظ وحکمت کہے اور غائب ہوگئے۔ جب امیر المؤمنین کو خبر پہنچی سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نام فرمان جاری فرمایا کہ خود اس پہاڑ کے نیچے جائیے (اور وہ ملیں تو انہیں میرا سلام کہئے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی کہ عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک وصی عراق کے اس پہاڑ میں منزل گزین ہے) سعد رضی اﷲ تعالٰی عنہ (چار ہزار مہاجرین وانصار کے ساتھ) اس پہاڑ کو گئے چالیس دن ٹھہرے پنجگانہ اذانیں کہیں مگر جواب نہ ملا۔ آخر واپس آئے ۱؎
(۱ ؎ دلائل النبوۃ ابو نعیم، عالم الکتب بیروت، الجزء الاول ص ۲۸۔۲۵)

(دلائل النبوۃ للبیہقی، باب ماجاء فی قصہّ وصیئ عیسٰی ابن مریم علیہما السلام، المکتبۃ الاثریہ ،لاہور، ۵/ ۴۲۵تا۴۲۷)
عہ۱: ھکذا فی السابع وفی الطریق الثانی عند البیھقی فی الصلٰوۃ قال کلمۃ مقبولۃ وفی الفلاح قال البقاء لامۃ احمد صلی اﷲ علیہ وسلم، وعکس ابن ابی الدنیا فذکر فی الصلوٰۃ البقاء لامۃ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و فی الفلاح کلمۃ مقبولۃ ۱۲ منہ۔

(م) ساتویں طریقہ میں یوں ہے اور دوسرے طریقہ میں بیہقی کے ہاں یوں ہے، حی علی الصلوٰۃ پر کہا، یہ مقبول کلمہ ہے، اور حی علی الفلاح پر کہا اس میں امت محمدیہ کے لئے بقاء ہے اور ابن ابی الدنیا نے اس کا عکس بیان کیا کہ پہلے میں امت محمدیہ کی بقاء اور دوسرے میں مقبول کلمہ کہا ۱۲ منہ 



عہ۲: زاد الخطیب وھو البقاء لا متہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ(م)

خطیب نے یوں زیادہ کہا، یہ امتِ محمدیہ کی بقا ہے، ؐ۱۲ منہ
Flag Counter