ابن عساکر بطریق سعد ابن طریف اصبغ بن نباتہ سے راوی، فرمایا : قلت لعلی یا امیر المؤمنین من خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم؟ قال ابوبکر،قلت ثم من؟ قال ثم عمر،قلت ثم من؟ قال ثم عثمان، قلت ثم من؟ قال انا رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعینی ھاتین والا فعمیتا، وباذنی ھاتین والافصمتا،یقول ماولد فی الاسلام مولود ازکٰی ولا اطھر ولا افضل من ابی بکر ثم عمر۳؎
میں نے مولٰی علی سے عرض کی یا امیر المؤمنین! رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل کون ہے؟ فرمایا: ابوبکر۔ میں نے کہا: پھر کون؟فرمایا:عمر،کہا پھر کون؟فرمایا:عثمان، کہا:پھر کون؟فرمایا:میں، میں نے ان آنکھو ں سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ورنہ یہ آنکھیں پھوٹ جائیں اور ان کانوں سے فرماتے سنا ورنہ بہرے ہوجائیں حضور فرماتے تھے اسلام میں کوئی شخص ایسا پیدا نہ ہوا جو ابوبکر پھر عمر سے زیادہ پاکیزہ زیادہ فضیلت والا ہو۔
(۳ ؎ جامع احادیث ابن عساکر حدیث ۸۰۲۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۹۴)
ابو طالب عشاری فضائل الصدیق میں راوی، امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
وھل انا الاّ حسنۃ من حسنات ابی بکر ۱؎
میں کون ہوں مگر ابو بکر کی نیکیوں سے ایک نیکی۔
(۱ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ ابی طالب العشاری، حدیث ۷۶۸۴،دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۰۸)
سیدنا صدیق کی سبقت کی چہار وجوہات:
خیثمہ طرابلسی وابن عسا کر ابو الزناد سے راوی، ایک شخص نے مولٰی علی سے عرض کی: یا امیر المؤمنین! کیا بات ہوئی کہ مہاجرین وانصار نے ابو بکر کو تقدیم دی حالانکہ آپ کے مناقب بیشتر اور اسلام وسوابق پیشتر، فرمایا: اگر مسلمان کے لئے خدا کی پناہ نہ ہوتی تو میں تجھے قتل کردیتا، افسوس تجھ پر، ابوبکر چار وجہ سے مجھ پر سبقت لے گئے، افشائے اسلام میں مجھ سے پہلے، ہجرت میں مجھ سے سابق، صحبت غار میں انہیں کا حصہ، نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے امامت کے لئے انہیں کو مقدم فرمایا
ویحک ان اﷲ ذم الناس کلھم ومدح ابابکر فقال الا تنصروہ فقد نصرہ اﷲ۲؎ ،
(الاٰیۃ) افسوس تجھ پر بیشک اﷲتعالٰی نے سب کی مذمت کی اور ابوبکر کی مدح فرمائی کہ ارشاد فرماتا ہے اگر تم اس نبی کی مدد نہ کرو تو ا ﷲ تعالٰی نے اس کی مدد فرمائی جب کافروں نے اسے مکے سے باہر کیا دوسرا ان دو کا جب وہ غارمیں تھے جب اپنے یار سے فرماتا تھا غم نہ کھا اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔
حضرت صدیق کا تقدم:
خطیب بغدادی وابن عساکر اور دیلمی مسند الفردوس اور عشاری فضائل الصدیق میں امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سألت اﷲ ثلٰثا ان یقدمک فابی علی الا تقدیم ابی بکر۳؎
اے علی! میں نے اﷲ عزوجل سے تین بار سوال کیا کہ تجھے تقدیم دے اﷲ تعالٰی نے نہ مانا مگر ابوبکر کو مقدم رکھنا۔
حضرت علی کی مدح افراط وتفریط کا شکار:
عبداﷲ بن احمد زوائد مسند میں، اور ابو یعلٰی ودورقی وحاکم وابن ابی عاصم وابن شاہین امیرالمؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ سے راوی کہ انہوں نے فرمایا:
دعانی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا علی ان فیک من عیسٰی مثلا ابغضتہ الیھود حتی بھتوا امہ واحبتہ النصارٰی حتی انزلوہ بالمنزلۃ التی لیس بھا وقال علی الاوانہ یھلک فیّ رجلان محب مطریئ یفرطنی بما لیس فّی و مبغض مفتر یحملہ شناٰنی علی ان یبھتنی الاوانی لست بنبی ولا یوحی الیّ، ولٰکنی اعمل بکتاب اﷲ وسنۃ نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ما استطعت فما امرتکم بہ من طاعۃ اﷲ فحق علیکم طاعتی فیما احببتم اوکرھتم وما امرتکم بمعصیۃانا وغیری فلاطاعۃ لا حد فی معصیۃ اﷲ انما الطاعۃ فی المعروف۱؎
مجھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بلا کر ارشاد فرمایا: اے علی! تجھ میں ایک کہاوت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرح ہے، یہود نے ان سے دشمنی کی یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان باندھا اور نصارٰی ان کے دوست بنے یہاں تک کہ جو مرتبہ ان کا نہ تھا وہا ں جا اتارا، مولا علی فرماتے ہیںسن لو میرے معاملے میں دو شخص ہلاک ہوں گے ایک دوست میری تعریف میں حد سے بڑھنے والا جو میرا وہ مرتبہ بتائے گا جو مجھ میں نہیں، اور ایک دشمن مفتری جسے میری عداوت اس پر باعث ہوگی کہ مجھ پر تہمت اٹھائے، سن لو میں نہ تو نبی ہوں نہ مجھ پر وحی آتی ہے تو جہاں تک ہوسکے اﷲ عزوجل کی کتاب اور اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتا ہوں تو میں جب تمہیں اطاعت الٰہی کا حکم دوں تو میری فرما نبرداری تم پر لازم ہے چاہے تمہیں پسند ہو خواہ ناگوار ، اور اگر معصیت کا حکم دوں میں یا کوئی، تو اﷲ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو مشروع بات میں ہے۔
(۱ ؎ المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابہ، دارالفکر بیروت، ۳/ ۱۲۳)
(مسند احمد بن حنبل مروی از علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ، دارالفکر بیروت، ۱/ ۱۶۰)
افضل الایمان:
ابن عساکر سالم بن ابی الجعد سے راوی، فرمایا:
قلت لمحمد بن الحنفیۃ ھل کان ابو بکر اول القوم اسلاما قال لا قلت فیما علا ابو بکر و سبق حتی لا یذکر احد غیر ابی بکر قال لانہ کان افضلھم اسلاما حین اسلم حتی لحق بربہ۱؎
میں نے امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ مولاعلی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے دریافت کیا کہ ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سب سے پہلے اسلام لائے تھے، فرمایانہ۔ میں نے کہا پھر کس وجہ سے ابوبکر سب پر بلند و سابق ہوئے کہ ان کے سوا کوئی دوسرے کا ذکر ہی نہیںکرتا، فرمایا: اس لئے کہ وہ جب سے مسلمان ہوئے اور جب تک اپنے رب عزوجل کے پاس گئے ان کا ایمان سب سے افضل رہا۔
(۱ ؎ الصواعق المحرقۃ بحوالہ ابن عساکر، الباب الثانی، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص ۵۳)
شیخین کی افضلیت:
امام دارقطنی جندب اسدی سے راوی:
ان محمد بن عبداﷲ بن الحسن اتاہ قوم من اھل الکوفۃ والجزیرۃ فسألوہ عن ابی بکر و عمر فالتفت الیّ فقال انظر الی اھل بلاد ک یسأ لونی عن ابی بکر و عمر لھما افضل عندی من علی ۲؎
یعنی امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ محض ابن امام حسن مثنٰی ابن امام حسن مجتبٰی ابن مولٰی علی مرتضی کرم اﷲ تعالٰی وجوھہم کے پاس اہل کوفہ و جزیرہ سے کچھ لوگو ں نے حاضر ہو کر ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے بارے میں سوال کیا امام نے میری طرف التفات کرکے فرمایا اپنے وطن والوں کو دیکھو مجھ سے ابو بکر و عمر کے با ب میں سوال کرتے ہیں بیشک وہ دونوں میرے نزدیک علی سے افضل ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔
رافضی اور خارجی نظریات:
حافظ عمر بن شبہ سیدنا امام زید شہید ابن امام زین العابدین ابن امام حسین شہید کربلا ابن مولا علی مرتضی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی انہوں نے رافضیوں سے فرمایا:
انطلقت الخوارج فبرئت ممن دون ابی بکر و عمر ولم یستطیعو ا ان یقولوا فیھما شیاا وانطلقتم انتم فطفرتم فوق ذٰلک فبرئتم منھا فمن بقی فواﷲ ما بقی احدا لا برئتم منہ۳؎
خارجیوں نے چل کر تو انہیں سے برأت کی جو ابوبکر و عمر سے نیچے ہیں یعنی عثمان و علی رضی اﷲ تعالٰی عنہم مگر ابوبکر و عمر کی شان میںکچھ نہ کہہ سکے، اور اے رافضیو! تم نے ان سے اوپر جست کی کہ خود ابو بکر و عمر سے برأت کر بیٹھے تو اب کون رہ گیا خدا کی قسم کوئی باقی نہ رہا جس سے تم نے تبرا نہ کیا۔
(۳ ؎ الصواعق المحرقۃ بحوالہ الحافظ عمر بن شعبہ، مکتبہ مجیدیہ، ملتان، ص ۵۳)
رافضی کی سزا:
دارقطنی فضیل بن مرزوق سے راوی فرمایا:
قلت لعمر بن علی بن الحسین بن علی رضی اﷲ تعالٰی عنھم افیکم امام تفترض طاعتہ تعرفون ذٰلک لہ من لم یعرف ذٰلک لہ فمات مات میتۃ جاھلیۃ فقال لا واﷲ ما ذٰلک فینامن قال ھذا فھو کاذب فقلت انھم یقولون ان ھذہ المنزلۃ کانت لعلی ثم للحسن ثم للحسین قال قاتلھم اﷲ ویلھم ما ھذا من الدین واﷲ ما ھٰؤلاء الا متأکلین بنا ھذا مختصر۱؎
میں نے امام زین العابدین کے صاحبزادے امام باقر کے بھائی امام عمر بن علی سے پوچھا آپ میں کوئی ایسا امام ہے جس کی طاعت فرض ہوآپ اس کا یہ حق پہنچانتے ہیں جو اسے بے پہچانے مرجائے جاہلیت کی موت مرے، فرمایا خدا کی قسم ہم میں کوئی ایسا نہیں جو ایسا کہے جھوٹا ہے، میں نے کہا رافضی تو کہتے ہیں یہ مرتبہ مولا علی کا تھا، پھر امام حسن پھر امام حسین کو ملا۔ فرمایا: اﷲ رافضیوں کو قتل کرے خرابی ہو ان کے لئے کیا دین ہے خدا کی قسم یہ لوگ نہیں مگر ہمارا نام لے کر دنیا کمانے والے والعیاذ باﷲ عزوجل۔
(۱ ؎ الصواعق المحرقۃ بحوالہ الدارقطنی عن فضیل بن مرزوق ،الباب الثالث، مکتبہ مجیدیہ،ملتان، ص۵۶)