Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
138 - 150
تذییل:

    بعض احادیث علویہ مبطلہ دعوٰی غلویہ۔

مولا علی کی نگاہ میں مقام صدیق اکبر:

    صحیح بخاری شریف میں امام محمد بن حنفیہ صاحبزادہ امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے ہے:
قال قلت لابی ای الناس خیر بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ابوبکر قال قلت ثم من، قال ثم عمرثم خشیت ان اقول ثم من فیقول عثمان فقلت ثم انت یا ابت، فقال ما انا الاّرجل من المسلمین۲؎، رواہ ایضا ابن ابی عاصم و خشیش وابو نعیم فی الحلیۃ الاولیاء۔
میں نے اپنے والدماجد مولٰی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہے؟فرمایا: ابوبکر۔ میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا: پھر عمر۔پھر مجھے خوف ہوا کہ کہیں میں کہوں پھر کون تو فرمادیں عثمان، اس لئے میں نے سبقت کر کے کہا اے باپ میرے! پھر آپ؟فرمایا: میں تو نہیں مگر ایک مرد مسلمانوں میں سے (اسے ابن ابی عاصم اور خشیش اور ابو نعیم نے بھی حلیۃ الاولیاء میں بیان کیا ہے۔ت)
 (۲ ؎ صحیح بخاری، کتاب المناقب،فضائل ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ، قدیمی کتب خانہ کراچی،۱/ ۵۱۸)

(جامع الاحادیث بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، حدیث ۷۷۱۴ دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۷)

(کنزالعمال ، بحوالہ خ و د وابن ابی عاصم و خشیش وغیرہ، ۳۶۰۹۴ موسسۃ الرسالہ،بیروت،۱۳/ ۷)
طبرا نی معجم اوسط میں صلہ بن زفر سے راوی، جب امیر المؤمنین مولٰی علی کے سامنے لوگ ابوبکر صدیق کا ذکر کرتے ، امیر المؤمنین فرماتے:
السباق یذکرون السابق یذکرون والذی نفسی بیدہ ما استبقنا الٰی خیر قط الاسبقنا الیہ ابوبکر۱؎
ابوبکر کا بڑی سبقت والے ذکر کر رہے ہیں کمال پیشی لے جانے والے کا تذکرہ کرتے ہیں قسم اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب ہم نے کسی خیر میں پیشی چاہی ہے ابوبکر ہم سب پر سبقت لے گئے ہیں۔
 (۱ ؎ المعجم الاوسط، حدیث ۷۱۶۴،مکتبۃ المعارف الریاض، ۸/ ۸۲)

(جامع الاحادیث بحوالہ طس،حدیث ۷۶۸۸، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۰۹)
حضرت صدیق کے بارے میں حضرت علی کی رائے:

    ابو القاسم طلحی وابن ابی عاصم وابن شاہین واللالکائی سب اپنی اپنی کتاب السنہ میں اور عشاری فضائل صدیق اور اصبہانی کتاب الحجہ اور ابن عساکر تاریخ دمشق میں راوی، امیر المؤمنین کو خبر پہنچی کچھ لوگ انہیں ابو بکر و عمر (رضی اﷲ تعالٰی عنہما) سے افضل بتاتے ہیں منبر شریف پر تشریف لے گئے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا:
ایھا الناس بلغنی ان اقواما یفضلو نی علی ابی بکر و عمر ولو کنت تقدمت فیہ لعاقبت فیہ، فمن سمعتہ بعد ھذا الیوم یقول ھذا فھو مفتر، علیہ حد المفتری خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابو بکر ثم عمر(زاد غیر الطلحی) ثم احدثنا بعضھم احدا ثا یقضی اﷲ فیھا ما یشاء۲؎
اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں اگر میں پہلے متنبہ کرچکا ہوتا تو اب سزا دیتا، آج کے بعد جسے ایسا کہتا سنوں گا وہ مفتری ہے، اس پر مفتری کی حد آئے گی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر ابوبکر ہیں،پھر عمر، پھر ان کے بعد ہم سے کچھ نئے امور واقع ہوئے کہ خدا ان میں جو چاہے گا حکم فرمائے گا۔
 (۲ ؎ کنزالعمال بحوالہ ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۳۶۱۴۳،موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۳/ ۲۱)

(جامع الاحادیث ابن ابی عاصم و ابن شاہین واللالکائی والعشاری، حدیث ۷۷۳۵،دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲)
امام ابو عمران عبدالبراستیعاب میں حکم بن حجل سے اور امام ابو الحسن دارقطنی سنن میں روایت کرتے ہیں امیر المؤمنین مولا علی فرماتے ہیں:
لا اجد احدا فضلنی علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ حد المفتری۱؎
میں جسے پاؤں گا کہ ابو بکر و عمر پر مجھے تفضیل دیتا ہے اسے مفتری کی حد اسّی کوڑے لگاؤں گا۔
 (۱ ؎ جامع الاحادیث عن الحکم بن حجل عن علی، حدیث ۷۷۴۷، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)

(مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر، ترجمہ ۲۲، عبداﷲ ابن ابی قحافہ، دارالفکر بیروت، ۱۳/ ۱۱۰)
ابن عساکر بطریق الزہری عن عبداﷲ بن کثیر راوی، امیر المؤمنین فرماتے ہیں:
لا یفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاجلد تہ جلداوجیعا۲؎
جو مجھے ابو بکر و عمر سے افضل کہے گا اسے دردناک کوڑے لگاؤں گا۔
 (۲ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۷۷۲۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۱۹)

(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی، حدیث ۳۶۱۰۳، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، ۱۳/ ۹)
امام احمد مسند اور عدنی مائتین اور ابو عبید کتاب الغریب اور نعیم بن حماد فتن اور خثیمہ بن سلیمان طرابلسی فضائل الصحابہ اور حاکم مستدرک اور خطیب تلخیص المتشابہ میں راوی، امیر المؤمنین فرماتے ہیں:
سبق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصلی ابوبکر وثلث عمر ثم خطبتنا فتنۃ و یعفواﷲ عمن یشاء۳؎ ،
وللخطیب وغیرہ فھو ما شاء اﷲ زاد ھو فمن فضلنی علی ابی بکر وعمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما فعلیہ حد المفتری من الجلد و اسقاط الشہادۃ ۴؎
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سبقت لے گئے اور ان کے دوسرے ابوبکر اور تیسرے عمر ہوئے، پھر ہمیں فتنے نے مضطرب کیا اور خدا جسے چاہے معاف فرمائے گا یا فرمایا جو خدا نے چاہا وہ ہوا تو جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما پر فضیلت دے اس پر مفتری کی حد واجب ہے اسّی کوڑے لگائے جائیں اور گواہی کبھی نہ سنی جائے۔
 (۳ ؎ المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم، مناقب ابی بکر، دارالفکر بیروت، ۳/ ۶۸۔۶۷)

(۴؎ کنزالعمال بحوالہ خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۳۶۱۰۲، موسسۃ الرسالہ،بیروت، ۱۳/ ۹)

(جامع الاحادیث خط فی تلخیص المتشابہ، حدیث ۷۷۲۲، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)
ابو طالب عشاری بطریق الحسن بن کثیر عن ابیہ راوی، ایک شخص نے امیر المؤمنین علی مرتضٰی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: آپ خیر الناس ہیں۔ فرمایا تو نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ کہا نہ۔فرمایا:ابو بکر کو دیکھا؟کہا :نہ فرمایا :عمر کو دیکھا؟کہا:نہ، فرمایا:
اما انک لو قلت انک رأیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لقتلتک ولو قلت رأیت ابا بکر و عمر لجلد تک۱؎
سن لے اگر تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دیکھنے کے بعد خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا اقرار کرتا اور پھر مجھے خیرالناس کہتا تو میں تجھے قتل کرتا اور اگر تو ابو بکر و عمر کو دیکھے ہوتا اور مجھے افضل بتاتا تو تجھے حد لگاتا۔
 (۱ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ العشاری، حدیث ۷۷۴۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۵)

(کنزالعمال بحوالہ العشاری، حدیث ۳۶۱۵۳،موسسۃ الرسالہ بیروت، ۱۳/ ۲۶)
ابن عسا کر سیدنا عمار بن یا سر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲتعالٰی وجہہ نے فرمایا:
لایفضلنی احد علی ابی بکر و عمر الاوقد انکر حقی وحق اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۲؎
جو مجھے ابوبکر و عمر پر تفضیل دے گا وہ میر ے اور تمام اصحاب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حق کا منکر ہوگا۔
 (۲؎جامع الاحادیث بحوالہ ابن عساکر، حدیث ۷۷۳۳، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۔۲۲۱)
حضرات شیخین اوّلین جنتی ہیں:

ابو طالب عشاری اور اصبہانی کتاب الحجہ میں عبد خیر سے راوی، میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی سے عرض کی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جنت میں کون جائے گا؟فرمایا: ابوبکر و عمر۔ میں نے عرض کی: یا امیر المؤمنین ! کیا وہ دونوں آپ سے پہلے جنت میں جائیں گے؟فرمایا:
ای والذی فلق الحبۃ وبرأالنسمۃ انھما لیاکلان من ثمارھا و یرویان من مائھا ویتکئان علٰی فرشہا وانا موقوف بالحساب۳؎
ہاں قسم اس کی جس نے بیج کو چیر کر پیڑا گایا اور آدمی کو اپنی قدرت سے تصویر فرمایا بیشک وہ دونوں جنت کے پھل کھائیں گے، اس کے پانی سے سیراب ہوں گے، اس کی مسندوں پر آرام کریں گے اور میں ابھی حساب میں کھڑا ہوں گا۔
(۳ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ ابو طالب العشاری والا صفہانی الخ حدیث ۷۷۲۰، دارالفکر بیروت،۱۶/ ۲۱۹)
خیرا لنّاس بعد رسول اﷲ:

ابو ذر ہروی و دارقطنی وغیرہما حضرت ابو جحیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی میں نے امیر المؤمنین سے عرض کی:
یا خیرالناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال مھلا یا ابا جحیفۃ الا اخبرک بخیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابو بکر و عمر۱؎
یا خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرمایا ٹھہرواے ابو جحیفہ! کیا میں تمہیں نہ بتادوں کہ کون ہے؟فرمایا اے ابوجحیفہ! خیر الناس بعد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ابو بکر و عمر (رضی اﷲ تعالٰی عنہما) ہیں۔
 (۱ ؎ جامع الاحادیث بحوالہ الصابونی فی المائتین، حدیث ۷۷۳۴، دارالفکر بیروت، ۱۶/ ۲۲۲)

(کنزالعمال بحوالہ الصابونی فی المائتین، وطس وکر حدیث ۳۶۱۴۱،موسسۃ الرسالہ، بیروت، ۱۳/ ۲۱)
افضل الناس بعد رسول اﷲ:

ابو نعیم حلیہ اور ابن شاہین کتاب السنہ اور ابن عساکر تاریخ میں عمرو بن حریث سے راوی میں نے امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ کو منبر پر فرماتے سنا:
ان افضل الناس بعد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ابوبکر و عمر و عثمان وفی لفظ ثم عمر ثم عثمان۲؎
بیشک رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے افضل ابو بکر و عمر و عثمان ہیں، اور بالفاظ دیگر پھر عمر پھر عثمان۔
 (۲ ؎ کنز العمال، بحوالہ ابن عسا کر وحل ابن شاہین فی السنہ، حدیث ۸۰۰۶،دارالفکربیروت، ۱۶/ ۲۹۰)
Flag Counter