(ف) اس کی اصل متعدد احادیث مرفوعہ سے ہے، ماوردی حضرت انس اور ابن عساکر حضرات جابر بن عبداﷲ وعبداﷲ بن عباس وعبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لو عاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا۱؎
( اگر ابراہیم زندہ رہتا تو صدیق پیغمبر ہوتا)
(۱ ؎ کنزالعمال بحوالہ الماوردی عن انس وابن عساکر حدیث ۳۳۲۰۴ موسسۃ الرسالۃ،بیروت،۱۱/ ۴۶۹)
ف: حدیث ولو عاش ابراہیم لکان نبیا ۳؎ والبحث علیہ۔
حدیث''اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے'' کی تحقیق اور اس پر بحث سے متعلق یہ فائدہ ہے(ت)
(۳ ؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱/ ۲۹۵)
وبہ انجلی ما اشتبہ علی الامام النووی مع جلالۃ شانہ، وسعۃ عرفانہ، اما ما قال الامام ابوعمر بن عبدالبرلاادری ما ھذا فقد کان ابن نوح غیر نبی ولو لم یلد النبی الا نبیا کان کل احد نبیا لانہم من ولد نوح قال اﷲ تعالٰی وجعلنا ذریتہ ھم الباقینo۲؎ فاجابوا عنہ بان الشرطیۃ لا یلزمھا الوقوع اقول نعم لکنھا لا شک تفید الملازمۃ فان کانت مبینۃ علی ان ابن نبی لایکون الا نبیا لزم ما الزم ابو عمرولا مفر فالحق فی الجواب ما اقول من عدم صحۃ قیاس الانبیاء السابقین وبنیھم علٰی نبینا سید المرسلین وبنیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیھم وسلم فلواستحق ابنہ بعدہ النبوۃ لا یلزم منہ استحقاق ابناء الانبیاء جمیعا ھکذا رأیتنی کتبت علی ھامش نسختی التیسیر ثم رأیت العلامۃ علی القاری ذکر مثلہ فی الموضوعات الکبیر فللّٰہ الحمد
اس سے امام نووی کو درپیش ہونے والا اشتباہ ختم ہوگیا، باوجودیکہ ان کی شان اجل ہے اور ان کا عرفان وسیع ہے لیکن امام ابو عمر بن عبدالبر نے جو یہ فرمایا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہوسکا، حالانکہ نوح علیہ السلام کے بیٹے نبی نہ ہوئے، اور اگر یہ ہوتا کہ نبی سے نبی ہی پیدا ہو تو ہر ایک نبی ہوتا کیونکہ وہ بھی تو نوح علیہ السلام کی اولاد تھے، کیونکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ہم نے اس کی ذریت کو ہی باقی رکھا، اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ کسی شرطیہ قضیہ کو وقوع لازم نہیں ہے اقول (میں کہتا ہوں) ہاں درست ہے لیکن بے شک شرطیہ، ملازمہ کا فائدہ ضرور دیتا ہے اگر یہ قضیہ شرطیہ اس معنی پر مبنی ہو کہ نبی کا بیٹا ضرور نبی ہی ہوتا ہے تو ابو عمر کا الزام لازم آئے گا جس سے مفر نہیں ہے تو جواب میں حق وہ ہے جو میں کہہ رہا ہوں کہ انبیاء سابقین اور ان کے بیٹوں کا قیاس ہمارے نبی سید المرسلین اور ان کے صاحبزادوں پر درست نہیں، اﷲ تعالٰی ہمارے نبی اور سب انبیاء پر درود و سلام فرمائے پھر اگر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا بیٹا نبوت کا مستحق ٹھہرے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی تمام انبیا کے بیٹے بھی نبوت کے مستحق ہوں، میں نے اپنی تیسیر کے نسخے پر یونہی حاشیہ لکھا بعد ازاں میں نے علامہ ملا قاری کو موضوعات کبیر میں اسی طرح ذکر کرتے ہوئے پایا فللّٰہ الحمد۔
وقد اخرج الدیلمی عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نحن اھل بیت لا یقاس بنا احد۱؎، علی انی اقول لا نسلم ان الحدیث یحکم بالنبوۃ بل انبأعما تکامل فی جوھر ابراہیم من خصائل الانبیاء وخلال المرسلین بحیث لو لم ینسدَّ باب النبوۃ لنا لکان نبیا تفضلا من اﷲ لا استحقاقامنہ فان النبوۃ لا یستحقہا احد من قبل ذات لکن اﷲ تعالٰی یصطفی من عبادہ من تم و کمل صورۃ ومعنی ونسبا وحسبا وبلغ الغایۃ القصوی من کل خیر، اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ فاذن الحدیث علی وزان مامر لو کان بعدی نبی لکان عمر۲؎ ،واﷲ تعالی اعلم۔
دیلمی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے تخریج کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ہم اہلبیت پر کسی کو قیاس نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں میں کہتا ہوں کہ مذکورہ حدیث نبوت کا حکم بیان کررہی ہے، یہ بات ہمیں تسلیم نہیں، بلکہ حدیث مذکور حضرت کے صاحبزادے ابراہیم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے متعلق یہ خبر دے رہی ہے کہ ان میں انبیاء علیہم السلام جیسے خصائل واوصاف تھے کہ اگر ہمارے لئے نبوت ختم نہ ہوتی تو وہ اﷲ تعالٰی کہ فضل محض سے نبی ہوتے نہ کہ بطور استحقاق نبی بنتے، کیونکہ کوئی بھی اپنی ذات میں نبوت کا استحقاق نہیں رکھتا لیکن اﷲ تعالٰی نبوت کے لئے اپنے بندوں میں سے ایسے کو منتخب فرماتا ہے جو صورۃً، معنیً،نسبًا،حسبًا ہر اعتبار سے تام و کامل ہو اور ہر خیر میں انتہائی مرتبہ کو پہنچا ہو، اﷲ تعالٰی بہتر جانتا ہے کہ کہاں رسالت بنائے تو حدیث مذکور کی دلالت وہی ہے جو
''لو کان بعدی نبیا لکان عمر''
الحدیث کی دلالت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۱ ؎ الفردوس بمأ ثور الخطاب، حدیث ۶۸۳۸، دارالکتب العلمیۃ،بیروت، ۴/ ۲۸۳)
(۲ ؎ جامع الترمذی، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، امین کمپنی خانہ رشیدیہ، دہلی، ۲/ ۲۰۹)
نوع آخر(ف)بعد طلوع آفتاب عالمتاب خاتمیت صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلی آلہ الکرام جو کسی کے لئے ادعائے نبوت کرے دجّال کذّاب مستحقِ لعنت و عذاب ہے۔
ف:نوع پنجم حضور کے بعد جو کسی کو نبوت ملنی مانے دجال کذاب ہے۔
امام بخاری حضرت ابوہریرہ اور احمد و مسلم وابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، وھذا حدیث ثوبان ، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی۱؎،ولفظ البخاری دجالون کذابون قریبا من ثلثین۲؎
عنقریب اس امت میں قریب تیس کے دجال کذاب نکلیں گے ہر ایک ادعا کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم (اور بخاری کے الفاظ ہیں دجال کذاب تقریباً تیس ہوں گے۔ت)
(۱ ؎ سنن ابی داؤد، کتاب الفتن،ذکر الفتن ودلائلہا، آفتاب عالم پریس، لاہور، ۲/ ۲۲۸)
(۲ ؎ صحیح البخاری، کتاب الفتن، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۲/ ۱۰۵۴)
کذاب اور دجّال:
امام احمد و طبرانی و ضیاء حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فی امتی کــذابون و دجالون سبعـــۃ و عشرون منھم اربع نسوۃ وانی خاتم النبیین لا نبی بعدی۳؎
میری امتِ دعوت میں (کہ مومن و کافر سب کو شامل ہے) ستائیس کذاب دجال ہوں گے ان میں چار عورتیں ہیں حالانکہ میں خاتم الانبیاء ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۳ ؎ مسند امام احمد، حدیث حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، دارالفکر بیروت، ۵/ ۳۹۶)
جھوٹے مدعیان نبوت:
ابن عساکر علاء بن زیادرحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلٰثون دجّالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی۴؎ (الحدیث)
قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس دجال کذاب مدعی نبوت نکلیں گے۔
(۴ ؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر، ترجمہ الحارث بن سعید الکذاب، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۳/ ۴۴۵)
تذییل:
ابویعلٰی مسند میں بسند حسن حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلثون کذابًا منھم مسیلمۃ والعنسی والمختار۱؎
قیامت نہ آئے گی جب تک کہ تیس کذاب نکلیں ان میں سے مسیلمہ اور اسود عنسی ومختار ثقفی ہے، اخذ ہم اﷲ تعالٰی۔
(۱ ؎ مسند ابو یعلٰی، مروی از عبداﷲ بن زبیر، حدیث ۶۷۸۶، موسسۃ علوم القرآن،بیروت، ۶/ ۱۹۹)
الحمد ﷲ بفضلہٖ تعالٰی یہ تینوں خبیث کُتّے شیران اسلام کے ہاتھ سے مارے گئے، اسود مردود خود زمانہ اقدس اور مسیلمہ ملعون زمانہ خلافت حضرت سیدنا ابوبکرصدیق ومختار ثقفی ملعون زمانہ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما میں،وﷲ الحمد( عہ)
عہ: مسلیمہ خبیث کے قاتل وحشی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں سیدنا حمزہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو شہید کیا وہ فرمایا کرتے قتلت خیرالنّاس وشرّالنّاس۲؎ ، میں نے بہتر شخص کو شہید کیا پھر سب سے بدتر کو مارا۔
(۲ ؎ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب علی ہامش الاصابۃ باب الافراد فی الواو، دارصادر، بیروت، ۳/ ۶۴۵)