طبرانی معجم اور ابو نعیم عوالی سعید بن منصور میں امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ سے درود شریف کا ایک صیغہ بلیغہ راوی جس میں فرماتے ہیں:
اجعل شرائف صلوٰتک ونوامی برکاتک و رأفۃ تحنّنک علٰی محمد عبدک ورسولک الخاتم لماسبق والفاتح لما اغلق۲؎
الٰہی! اپنی بزرگ درودیں اور بڑھتی برکتیں اور رحمت کی مہر نازل کرمحمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر کہ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، گزروں کے خاتم اور مشکلوں کے کھولنے والے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
نوع آخر (ف) نبوت گئی،نبوت منقطع ہوئی، جب سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نبوت ملی کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی۔
ف:نوع چہارم نبوت منقطع ہوئی اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
ولا نبی بعدی:
صحیح بخاری شریف میں مروی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی ولا نبی بعدی۳؎
انبیاء بنی اسرائیل کی سیاست فرماتے، جب ایک نبی تشریف لے جاتا دوسرا اس کے بعد آتا، میرے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ احمد و ترمذی وحاکم بسند صحیح بر شرط صحیح مسلم کما قالہ الحاکم واقرہ الناقدون(جیسے حاکم نے کہا ہے اور محققین نے اسے ثابت رکھا ہے)
(۳؎ صحیح بخاری کتاب الانبیاء، باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، قدیمی کتب خانہ، کراچی،۱/ ۴۹۱)
حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۱؎
بیشک رسالت و نبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد نہ کوئی رسول نہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۱ ؎ جامع الترمذی،ابواب الرؤیا، باب ذھبت النبوۃ الخ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی، ۲/ ۵۱)
صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لم یبق من النبوۃ الاّالمبشرات الرّؤیا الصالحۃ۲؎
نبوت سے کچھ باقی نہ رہا صرف بشارتیں باقی ہیں اچھی خوابیں۔ طبرانی معجم کبیر میں حضرت حذیفہ بن اسیدرضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسند صحیح راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذھبت النبوۃ فلا نبوۃ بعدی الا المبشرات الرؤیا الصالحۃ یراھا الرجل او ترٰی لہ۳؎
نبوت گئی اب میرے بعد نبوت نہیں مگر بشارتیں ہیں اچھا خواب کہ انسان آپ دیکھے یا اس کے لئے دیکھا جائے۔
احمد وابنائے ماجہ و خزیمہ وحبان حضر ت ام کرز رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے بسند حسن راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات۴؎
ترجمہ: نبوت گئی اور بشارتیں باقی ہیں۔
(۴ ؎ سنن ابن ماجہ، ابواب تعبیر الرؤیا، باب الرؤیا الصالحۃ، ایچ ایم سعید کمپنی،کراچی، ص ۲۸۶)
صحیح مسلم وسنن ابی داؤد وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے مرض مبارک میں جس میں وصال اقدس واقع ہوا پردہ اٹھایا سر انور پر پٹی بندھی تھی لوگ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے حضور نے ارشاد فرمایا:
یا ایھا الناس انہ لم یبق من مبشرات النبوۃ الاّ الرؤیا الصالحۃ یراھا المسلم او تری لہ ۵؎
اے لوگو!نبوت کی بشارتوں سے کچھ نہ رہا مگر اچھا خواب کہ مسلمان دیکھے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جائے۔
(۵ ؎ سنن ابن ماجہ، ابواب تعبیر الرؤیا، باب الرؤیا الصالحۃ، ایچ ایم سعید کمپنی،کراچی، ص ۸۷۔۲۸۶)
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر ہوتے:
احمد و ترمذی وحاکم بتصحیح ورؤیانی وطبرانی وابویعلٰی حضرت عقبہ بن عامر اور طبرانی و ابن عساکر اور خطیب کتاب رواۃ مالک میں حضرت عبداﷲ بن عمر اور طبرانی حضرت عصمہ بن مالک و حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب۱؎
اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
(۱ ؎ جامع الترمذی، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب، امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ، دہلی، ۲/ ۲۰۹)
تذ ییل:
صحیح بخاری شریف میں اسماعیل بن ابی خالد سے ہے:
قلت لعبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما أرأیت ابراھیم ابن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال مات صغیرا ولو قضی ان یکون بعد محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی عاش ابنہ ولکن لا نبی بعدہ ۲؎
میں نے حضرت عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے پوچھا آپ نے حضرت ابراہیم صاحبزادہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو دیکھا تھا، فرمایا ان کا بچپن میں انتقال ہوا اور اگر مقدر ہوتا کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو حضور کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے، مگر حضور کے بعد نبی نہیں۔
(۲ ؎ صحیح البخاری، کتاب الآداب، باب من سمی باسماء الانبیاء، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۲/ ۹۱۴)
امام احمد کی روایت انہیں سے یوں ہے میں نے حضرت ابن ابی اوفٰی کو فرماتے سنا:
لوکان بعد النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی مامات ابنہ ابراھیم ۳؎
اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوتاتوحضور کے صاحبزادے انتقال نہ فرماتے۔
(۳ ؎ مسند امام احمد بن حنبل، بقیہ حدیث حضرت عبداﷲ ابن اوفٰی، دارالفکر بیروت، ۴/ ۳۵۳)
ت
تذییل:
امام ابو عمر ابن عبدالبربطریق اسماعیل بن عبدالرحمن سدی حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی انہوں نے فرمایا:
کان ابراھیم قد ملأ المھد ولو عاش لکان نبیا لکن لم یکن لیبقی فان نبیکم اٰخر الانبیاء ۴؎
حضرت ابراہیم اتنے ہوگئے تھے کہ ان کا جسم مبارک گہوارے کو بھر دیتا اگر زندہ رہتے نبی ہوتے مگر زندہ نہ رہ سکتے تھے کہ تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آخر الانبیاء ہیں۔
(۴؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ،بحوالہ اسماعیل بن عبدالرحمن عن انس،المقصد الثانی،دارالمعرفۃ بیروت،۳/ ۱۶۔۲۱۵)