Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
134 - 150
نوع آخر خصوص نصوص ختمِ نبوت:
صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے : فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون۱؎
میں تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دیا گیا، مجھے جامع باتیں عطا ہوئیں اور مخالفوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے سے میری مدد کی گئی اور میرے لئے غنیمتیں حلال ہوئیں اور میرے لئے زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ قرار دی گئی اور میں تمام جہان سب ماسوی اﷲ کا رسول ہُوا اور مجھ سے انبیاء ختم کئے گئے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۱ ؎ صحیح مسلم کتاب المساجد باب مواضع الصلوٰۃ، قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۱/ ۱۹۹)
خاتم النبیین:
دارمی اپنی سنن میں بسند صحیح اوربخاری تاریخ اور طبرانی اوسط اور بیہقی سنن میں اور ابو نعیم حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : انا قائد المرسلین ولا فخر، وانا خاتم النبیین ولا فخر، وانا شافع ومشفع ولا فخر۲؎
میں تمام رسولوں کا پیش رو ہوں اور بطور فخرنہیں کہتا، میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور بطور فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلا شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور بروجہ فخر ارشاد نہیں کرتا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۲ ؎ سنن الدارمی، حدیث ۵۰،باب ما اعطی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من الفضل دارالمحاسن قاہرہ مصر،۱/ ۳۱)
احمد وحاکم وبیہقی وابن حبان عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انی مکتوب عنداﷲ فی ام الکتاب لخاتم النبیین وان اٰدم لمنجدل فی طینتہٖ۳؎
بیشک بالیقین میں اﷲ کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النبیین لکھا تھا اور ہنوز آدم اپنی مٹی میں پڑے تھے۔    ؎
آدم سروتن بآب وگل داشت

کو حکم بملکِ جان ودل داشت
 (حضرت آدم علیہ السلام اپنے خمیر میں ہی تھے جبکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بحکم خداوندی جان ودل سے سرفراز تھے۔ت)
 (۳ ؎ المستدرک کتاب التاریخ، ذکر اخبار سید المرسلین  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت، ۲ / ۶۰۰)

(کنزالعمال حدیث ۳۲۱۱۴، موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۱/ ۴۴۹)
لوح محفوظ پر شہادت ختمِ نبوت:

    مواہب لدنیہ ومطالع المسرات میں ہے:
اخرج مسلم فی صحیحہ من حدیث عبداﷲ بن عمر وبن العاص عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم انہ قال ان اﷲ عزوجل کتب مقادیر الخلق قبل ان یخلق السمٰوٰت والارض بخمسین الف سنۃ فکان عرشہ علی الماء، ومن جملۃ ماکتب فی الذکر وھوام الکتاب ان محمدا خاتم النبیین۔
یعنی صحیح مسلم شریف میں حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں اﷲعزوجل نے زمین وآسمان کی آفرینش سے پچاس ہزار برس پہلے خلق کی تقدیر لکھی اور اس کا عرش پانی پر تھامنجملہ ان تحریرات کے لوح محفوظ میں لکھا بیشک محمد خاتم النبیین ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
ثم قال بعد ھذا فی المواھب وعن العرباض بن ساریۃ۱؎،فذکر الحدیث المذکور اٰنفا و قال بعدہ فی المطالع وغیر ذٰلک من الاحادیث۲؎، اھ وقال الزرقانی بعد قولہ ان محمد ا خاتم النبیین فــان قیل الحدیث یفــید سبق العرش علی التقدیر وعلٰی کتابۃ محمد خاتم النبیین۳؎ الخ فافادوا جمیعا انہ بتمامہ حدیث واحد مخرج ھٰکذا فی صحیح مسلم والعبد الضعیف راجع الصحیح من کتاب القدر فلم یجد فیہ الا الٰی قولہ وکان عرشہ علی الماء وبٰھذا القدر عزاہ لہ فی المشکوٰۃ والجامع الصغیر والکبیر وغیرھا فاﷲ اعلم۔
  پھر اس کے بعد مواہب میں فرمایا اور عرباض بن ساریہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ابھی مذکور حدیث کو ذکر کیا اور اس کے بعد مطالع المسرات میں فرمایا اس کے علاوہ احادیث میں ہے۱ھ،اور علامہ زرقانی نے اپنے قول''تحقیق محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں'' کے بعد فرمایا اگر اعتراض ہو کہ حدیث سے عرش کی تخلیق، تقدیر اور محمد خاتم النبیین لکھنے سے قبل کا فائدہ دے رہی ہے الخ، تو ان سب نے افادہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سب ایک حدیث ہے جس کو صحیح مسلم میں تخریج کیا ہے جبکہ اس عبد ضعیف نے صحیح مسلم کی کتاب القدر کو دیکھا تو اس میں صرف ان کا قول یہ پایا ''وکان عرشہ علی الماء'' اس کا عرش پانی پر تھا'' اور اسی قدر کو مشکوٰۃ میں صحیح مسلم وجامع صغیرو کبیر و غیر ہما کی طرف منسوب کیا ہے تو اﷲ تعالٰی زیادہ علم والا ہے۔
 (۱ ؎ المواہب اللدنیۃ،باب سبق نبوتہ، المکتب الاسلامی،بیروت، ۱/ ۵۷)

(مطالع المسرات،مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص ۹۸)

(۲ ؎ مطالع المسرات،مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد، ص ۹۸)

(۳ ؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، المقصد الاول، دارالمعرفۃ،بیروت، ۱/ ۳۱)
عمارت نبوت کی آخری اینٹ:

    احمد و بخاری و مسلم وتر مذی حضرت جابر بن عبداﷲ اور احمد و شیخین حضرت ابوہریرہ اور احمد و مسلم حضرت ابو سعید خدری اور احمد و ترمذی حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بالفاظ متناسبہ و معانی متقاربہ راوی حضور خاتم المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثلی و مثل الانبیاء کمثل قصرا حسن بنیانہ ترک منہ موضع لبنۃ فطاف بہ النظار یتعجبون من حسن بنیانہ الاموضع تلک اللبنۃ فکنت انا سددت موضع اللبنۃ ختم بی البنیان وختم بی الرسل ۱؎ ،وفی لفظ للشیخین فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین۲؎
میری اور تمام انبیاء کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک محل نہایت عمدہ بنایا گیا اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہی، دیکھنے والے اس کے آس پاس پھرنے اور اس کی خوبی تعمیر سے تعجب کرتے مگر وہی ایک اینٹ کی جگہ کہ نگاہوں میں کھٹکتی، میں نے تشریف لا کر وہ جگہ بند کی، مجھ سے یہ عمارت پوری کی گئی، مجھ سے رسولوں کی انتہا ہوئی،میں عمارت نبوت کی وہ پچھلی اینٹ ہوں، میں تمام انبیاء کا خاتم ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۱ ؎ مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ متفق علیہ باب فضائل سید المرسلین  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  مطبع مجتبائی دہلی، ص ۵۱۱)

(۲ ؎ صحیح البخاری، باب خاتم النبیین، قدیمی کتب ،کراچی۔۱/ ۵۰۱)

(صحیح مسلم، باب ذکر کونہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین، قدیمی کتب خانہ، کراچی ۲/ ۲۴۸)
امام ترمذی حکیم عارف باﷲ محمد بن علی نوا درالاصول میں سیدنا ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اول الرسل اٰدم و اٰخرھم محمد۳؎
سب رسولوں میں پہلے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور سب میں پچھلے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۳ ؎ نوادرالاصول حکیم ترمذی)
سوسمار کی گواہی:

    طبرانی معجم اوسط و معجم صغیر اور ابن عدی کا مل اور حاکم کتاب المعجزات اور بیہقی وابو نعیم کتاب دلائل النبوۃ اور ابن عسا کر تاریخ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مجمع اصحاب میں تشریف فرماتھے کہ ایک بادیہ نشین قبیلہ بنی سلیم کا آیا سو سمار شکار کر کے لایا تھا وہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا اور بولا قسم ہے لات وعزّٰی کی وہ شخص آپ پر ایمان نہ لائے گا جب تک یہ سو سمار ایمان نہ لائے، حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جانور کو پکارا وہ فصیح زبان روشن بیان عربی میں بولا جسے سب حاضرین نے خوب سنا اور سمجھا:
لبّیک وسعدیک یا زین من وافی یوم القٰیمۃ۔
میں خدمت وبندگی میں حاضر ہوں اے تمام حاضرین مجمع محشر کی زینت۔
حضور نے فرمایا:من تعبد تیرا معبود کون ہے؟عرض کی:
الذی فی السماء عرشہ وفی الارض سلطانہ وفی البحر سبیلہ وفی الجنۃ رحمتہ وفی النارعذابہ۔
  وہ جس کا عرش آسمان میں اور سلطنت زمین میں اور راہ سمندر میں رحمت جنت میں اور عذاب نار میں۔ فرمایا:من انا بھلا میں کون ہوں؟عرض کی:
انت رسول رب العٰلمین وخاتم النبیین قد افلح من صدقک وقدخاب من کذبک۔
حضور پروردگارِ عالم کے رسول ہیں اور رسولوں کے خاتم، جس نے حضور کی تصدیق کی وہ مراد کو پہنچا اور جس نے نہ مانا نامراد رہا۔

اعرابی نے کہا اب آنکھوں دیکھے کے بعد کیا شبہہ ہے، خدا کی قسم میں جس وقت حاضر ہوا حضور سے زیادہ اس شخص کو دشمن کوئی نہ تھا اور اب حضور مجھے اپنے باپ اوراپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں اشھد ان لا الٰہ الا اﷲ وانّک رسول اﷲ ۱؎ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اﷲ کے رسول ہیں۔ت) یہ مختصر ہے اور حدیث میں اس سے زیادہ کلام اطیب واکثر۔

یہ حدیث امیر المؤمنین مولٰی علی وام المؤمنین عائشہ صدیقہ و حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی روایات سے بھی آئی۔
کما فی الجامع الکبیر والخصائص الکبرٰی ولم اقف علی الفاظھم فان اشتملت جمیعا علی لفظ خاتم النبیین کانت اربعۃ احادیث۔
  جیسا کہ جامع کبیر اور خصائص کبرٰی میں ہے میں نے ان کے الفاظ نہ پائے اگر ان سب کے الفاظ خاتم النبیین کے لفظ پر مشتمل ہوں تو یہ چار احادیث ہوئیں۔
 (۱ ؎ دلائل النبوۃ لابی نعیم، ذکر الظبی والضّب،عالم الکتب،بیروت، ۲/ ۱۳۴)
تذییل:

    ترمذی حدیث طویل حلیہ اقدس میں امیر المؤمنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی کہ انہوں نے فرمایا:
بین کتفیہ خاتم النبوۃ وھو خاتم النبیین۱؎
حضور کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے اور حضور خاتم النبیین ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۱ ؎ جامع ترمذی ابواب المناقب، باب ماجاء فی صفۃ النبی  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ، دہلی، ۲/ ۲۰۵)
Flag Counter