اسحٰق بن راہویہ مسند اور ابوبکر ابن ابی شیبہ استاذ بخاری و مسلم مصنف میں مکحول سے راوی، امیر المؤمنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ایک یہودی پر کچھ آتا تھا لینے کے لئے تشریف لے گئے اور فرمایا:
لا والذی اصطفٰی محمدا علی البشر لا افارقک
قسم اس کی جس نے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو تمام آدمیوں سے برگزیدہ کیا میں تجھے نہ چھوڑوں گا۔
یہودی بولا: واﷲ! خدا نے انہیں تمام بشر سے افضل نہ کیا، امیر المؤمنین نے اسے تمانچہ مارا، وہ بارگاہ رسالت میں نالشی آیا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تم اس تمانچہ کے بدلے اسے راضی کردو (یعنی ذمی ہے) اورہاں اے یہودی! آدم صفی اﷲ،ابراہیم خلیل اﷲ،نوح نجی اﷲ،موسٰی کلیم اﷲ،عیسٰی روح اﷲ ہیں وانا حبیب اﷲ اور میں اﷲ کا پیارا ہوں، ہاں اے یہودی! اﷲ نے اپنے دو ناموں پر میری امت کے نام رکھے اﷲ سلام ہے اور میری امت کا نام مسلمین رکھا اور اﷲ مومن ہے اور میری امت کو مومنین کا لقب دیا، ہاں اے یہودی! تم زمانہ میں پہلے ہو ونحن الاٰخرون السابقون یوم القٰیمۃ اور ہم زمانے میں بعد اور روز قیامت میں سب سے پہلے ہیں، ہاں ہاں جنت حرام ہے انبیاء پر جب تک میں اس میں جلوہ افروز نہ ہوؤں اور حرام ہے امتوں پر جب تک میری امت نہ داخل ہو ۲؎ صلی اللہ تعالی علیک وعلیہم وسلم ۔
(۲ ؎ المصنف لابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، حدیث ۱۱۸۵۱، ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ، کراچی، ۱۱/ ۵۱۱)
دریائے رحمت:
بیہقی شعب الایمان میں ابو قلابہ سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انما بعثت فاتحاوخاتما۳؎
میں بھیجا گیا دریائے رحمت کھولتا اور نبوت ورسالت ختم کر تا ہوا۔
(۳؎بیہقی شعب الایمان، حدیث ۵۲۰۲،دارالکتب العلمیہ،بیروت،۴/ ۳۰۸)
آخرین بعثت:
ابن ابی حاتم و بغوی وثعلبی تفاسیر اور ابو اسحٰق جوزجانی تاریخ اور ابو نعیم دلائل میں بطریق عدیدہ عن قتادۃ عن الحسن عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مسنداً اور ابن سعد طبقات اور ابن لال مکارم الاخلاق میں قتادہ سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آیہ کریمہ واذ اخذنا من النبیین میثاقھم ومنک ومن نوح وابراھیم وموسٰی وعیسٰی بن مریم کی تفسیر میں فرمایا:
کنت اول النبیین فی الخلق واٰخرھم فی البعث۱؎
میں سب نبیوں سے پہلے پیدا ہوا اور سب کے بعد بھیجا گیا۔ قتادہ نے کہا: فبداء بی قبلھم۔اسی لئے رب العزت تبارک و تعالٰی نے آیہ کریمہ میں انبیائے سابقین سے پہلے حضور پر نور کا نام پاک لیا، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
(۱ ؎ تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیۃ واذ اخذنا من النبیین الخ حدیث ۱۷۵۹۴ مکتبہ نزار مصطفی الباز مکہ المکرمۃ ۹/ ۳۱۱۶)
(تفسیر نبوی المعروف معالم التنزیل علی ہامش الخازن،تحت آیۃ واذا خذنا من النبیین الخ مصطفی البابی الحلبی مصر ۵/ ۲۳۲)
تذییل:
ابو سہل قطان اپنے امالی میں سہل بن صالح ہمدانی سے راوی، میں نے حضرت سیدنا امام باقر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تو سب انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے حضور کو سب پر تقدم کیونکر ہوا، فرمایا:
ان اﷲ تعالٰی لما اخذ من بنی اٰدم من ظہور ھم ذریاتھم واشہد ھم علٰی انفسھم الست بربکم کان محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اول من قال بلٰی ولذٰلک صار یتقدم الانبیاء وھو اٰخر یبعث۲؎
جب اﷲ تعالٰی نے آدمیوں کی پیٹھوں سے ان کی اولادیں روز میثاق نکالیں اور انہیں خود ان پر گواہ بنانے کو فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں، تو سب سے پہلے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کلمہ بلٰی عرض کیا کہ ہاں کیوں نہیں، اس وجہ سے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو سب انبیاء پر تقدم ہوا حالانکہ حضور سب کے بعد مبعوث ہوئے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۲ ؎ الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی سہل باب خصوصیۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بکونہ اول النبیین فی الخلق،دارالکتب الحدیثہ بعابدین ۱ /۹)
حضرت فاروق کا طریق نداو خطاب بعد از وصال:
شفا شریف امام قاضی عیاض و احیا ء العلوم امام حجۃ الاسلام ومدخل امام ابن الحاج واقتباس الانوار علامہ ابو عبداﷲ محمد بن علی رشاطی وشرح البردہ ابو العباس قصار و مواہب لدنیہ امام قسطلانی وغیرہا کتب معتمدین میں ہے امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے بعد وفات حضور سید الکائنات علیہ افضل الصلوٰۃ والتحیات جو فضائل عالیہ حضور پرُ نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حضور کو ندا و خطاب کر کے عرض کئے ہیں انہیں میں گزارش کرتے ہیں:
بابی انت وامّی یا رسول اﷲ لقد بلغ من فضیلتک عند اﷲ ان بعثک اٰخر الانبیاء وذکرک فی اولھم، فقال اﷲ تعالٰی واذاخذنا من النبیین میثاقھم ومنک و من نوح۱؎ الاٰیۃ۔
یارسول اﷲ! میرے ماں باپ حضور پر قربان حضور کی فضیلت اﷲ عزوجل کی بارگاہ میں اس حد کو پہنچی کہ حضور کو تمام انبیاء کے بعد بھیجا اور ان سب سے پہلے ذکر فرمایا کہ فرماتا ہے اور یادکر جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور تجھ سے اے محبوب اور نوح وابراہیم و موسٰی وعیسٰی بن (مریم سے علیہم الصلوٰۃ والسلام۔)
(۱ ؎ المواہب اللدنیہ، باب وفاتہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتب الاسلامی،بیروت، ۴/ ۵۵۵)
حضرت جبرائیل سلام کہتے ہیں:
علامہ محمد بن احمد بن محمدبن محمد بن ابی بکر بن مرذوق تلمسانی شرح شفاء شریف میں سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جبریل نے حاضر ہو کر مجھے یوں سلام کیا: السلام علیک یا ظاھر،السلام علیک یا باطن۔ میں نے فرمایا: اے جبریل!یہ صفات تو اﷲ عزوجل کی ہیں کہ اسی کو لائق ہیں مجھ سی مخلوق کی کیونکر ہوسکتی ہیں، جبریل نے عرض کی، اﷲ تبارک و تعالٰی نے حضور کو ان صفات سے فضیلت دی اور تمام انبیاء و مرسلین پر ان سے خصوصیت بخشی اپنے نام وصف سے حضور کے نام و صف مشتق فرمائے۔
وسماک بالاوّل لانک اول الانبیاء خلقا وسماک بالاٰخر لانک اٰخر الانبیاء فی العصور خاتم الانبیاء الٰی اٰخر الامم۔
حضور کا اول نام رکھا کہ حضور سب انبیاء سے آفرینش میں مقدم ہیں اور حضور کا آخر نام رکھا کہ حضور سب پیغمبروں سے ز مانے میں مؤخر و خاتم الانبیاء و نبی امت آخرین ہیں۔ باطن نام رکھا کہ اس نے اپنے نام پاک کے ساتھ حضور کا نام نامی سنہرے نور سے ساقِ عرش پر آفرینش آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دو ہزار برس پہلے ابد تک لکھاپھر مجھے حضور پر درود بھیجنے کا حکم دیا میں نے حضور پر ہزار سال درود بھیجا اور ہزار سال بھیجا یہاں تک کہ اﷲ تعالٰی نے حضور کو مبعوث کیاخوشخبری دیتا اور ڈرسناتا اور اﷲ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور جگمگاتا سورج۔ حضور کو ظاھر نام عطا فرمایا کہ اس نے حضور کو تمام دینوں پر ظہور و غلبہ دیا اور حضور کی شریعت و فضیلت کو تمام اہلِ سماوات وارض پر ظاہر و آشکارا کیا تو کوئی ایسا نہ رہا جس نے حضور پر نور پر درود نہ بھیجا ہو،اﷲ حضور پر درود بھیجے۔
فربک محمود وانت محمد وربک الاول والاٰخر والظاھر والباطن وانت الاول والاٰخر والظاھر والباطن۔
پس حضور کا رب محمود ہے اور حضور محمد، حضور کا رب اول وآخر وظاہر وباطن ہے اور حضور اول و آخر وظاہر و باطن ہیں۔
سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
الحمدﷲ الذی فضلنی علٰی جمیع النبیین حتی فی اسمی وصفتی۔
ذکرہ القاری فی شرح الشفاء فقال قد روی التلمسانی عن ابن عباس ۱؎ الخ۔
سب خوبیاں اﷲ عزوجل کو جس نے مجھے تمام انبیاء پر فضیلت دی یہاں تک کہ میرے نام و صفت میں،علی قاری نے شرح شفاء میں اس کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تلمسانی نے ابن عباس سے روایت کیا الخ۔
(۱ ؎ شرح الشفاء لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسماء رسول اﷲ الخ دارالفکر بیروت، ۲/ ۴۲۵)
اقول ظاھرہ انہ اخرجہ بسندہ فان الاسناد ماخوذ فی مفھوم الروایۃ کما قالہ الزرقانی فی شرح المواھب ولعل الظاھر ان فیہ تجریدا والمراد اورد وذکر اﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول(میں کہتا ہوں) اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس کو انہوں نے اپنی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے کہ اسناد روایت کے مفہوم میں ماخوذ ہے جیسا کہ زرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا ہوسکتا ہے کہ ظاہر اس میں تجرید ہو(اسناد ماخوذ نہ ہو) اور صرف وارد کرنا اور ذکر کرنا مراد ہو۔(ت)