Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
132 - 150
توبہ قبول کرنے والے نبی:
امام احمد وابن سعدوابن ابی شیبہ اور امام بخاری تاریخ اور ترمذی شمائل میں حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، مدینہ طیبہ کے ایک راستے میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مجھے ملے ارشاد فرمایا:
انا محمد وانا احمد وانا نبی الرحمۃ ونبی التوبۃ وانا المقفی وانا الحاشر و نبی الملاحم ۱؎
میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں رحمت کا نبی ہوں، میں توبہ کا نبی ہوں، میں سب میں آخر نبی ہوں، میں حشر دینے والا ہوں، میں جہادوں کا نبی ہوں،صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
 (۱ ؎ شمائل الترمذی مع جامع الترمذی باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۵۹۷)

(مسند احمد بن حنبل، حدیث حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ، دارالفکربیروت، ۵/ ۴۰۵)
مالکِ لوائے حمد:

    طبرانی معجم کبیر اور سعید بن منصور سنن میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا محمد وانا احمد وانا الحاشر الذی احشر الناس علٰی قدمی، وانا ماحی الذی یمحوا اﷲ بی الکفر، فاذا کان یوم القٰیمۃ کان لواء الحمدمعی، وکنت امام المرسلین وصاحب شفاعتھم۲؎
میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو اپنے قدموں پر میں حشر دوں گا، میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالٰی میرے سبب سے کفر کو محو فرماتا ہے، قیامت کے دن لواء الحمد میرے ہاتھ میں ہوگا، میں سب پیغمبروں کا امام اور ان کی شفاعتوں کا مالک ہوں گا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ اسمائے طیبہ خاتم و عاقب ومقفی تو معنی ختم نبوت میں نص صریح ہیں، علماء فرماتے ہیں اسم پاک حاشر بھی اسی طرف ناظر۔
 (۲ ؎ المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث ۱۷۵۰، باب من اسمہ جابر بن عبداﷲ، المکتبۃ الفیصلیہ بیروت،۲/ ۱۸۴)
امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں:
قال العلماء معنا ھما (ای معنی روایتی قدمی بالتثنیۃ والافراد) یحشرون علٰی اثری وزمان نبوتی ورسالتی ولیس بعدی نبی۱؎
علماء نے فرمایا ان دونوں یعنی قدمی مفرد اور قدمی تثنیہ کا معنی یہ ہے کہ لوگوں کا حشر میرے پیچھے میری رسالت ونبوت کے زمانہ میں ہوگا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
 (۱ ؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم، باب فی اسمائہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۲/ ۲۶۱)
تیسیر میں ہے: ای علی اثر نوبتی ای زمنھا ای لیس بعدہ نبی۲؎
 ( یعنی میری نبوت کے زمانہ کے بعد یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ت)
 (۲ ؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ان لی اسماء، مکتبہ امام شافعی الریاض، ۱/ ۳۴۳)
جمع الوسائل میں ہے: قال الجزری ای یحشر الناس علٰی اثر زمان نبوتی لیس بعدی نبی۳؎
(جزری نے فرمایا یعنی لوگوں کا حشر میری نبوت کے زمانہ کے بعد ہوگا میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ت)
 (۳ ؎ جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالمعرفۃ بیروت، ۲/ ۱۸۲)
دس اسمائے مبارکہ
    ابن مردویہ تفسیر اور ابو نعیم دلائل میں اور ابن عدی وابن عساکر ودیلمی حضرت ابو الطفیل رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان لی عشرۃ اسماء عند ربی انا محمد واحمد والفاتح والخاتم وابو القاسم والحاشر والعاقب والماحی ویس وطٰہٰ ۴؎
میرے رب کے یہاں میرے دس نام ہیں، محمد و احمد وفاتح عالم ایجاد وخاتم نبوت وابو القاسم و حاشر و آخر الانبیاء وماحی کفر و یس و طٰہٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۴ ؎ الکامل فی ضعفاء ، ترجمہ سیف بن وہب، دارالفکر بیروت، ۳/ ۱۲۷۳)

(دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الثالث، عالم الکتب بیروت، ص۱۲)

(تہذیب تاریخ ابن عساکر، باب معرفۃ اسمائہٖ الخ داراحیاء التراث العربی،بیروت، ۱/ ۲۷۵)
ابن عدی کامل میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی ان لی عند ربیّ عشرۃ اسماء میرے رب کے پاس میرے لیئے دس نام ہیں، ازانجملہ محمد واحمد وماحی وحاشر وعاقب یعنی خاتم الانبیاء ورسول الرحمۃ ورسول التوبہ ورسول الملاحم ذکر کر کے فرمایا:
وانا المقفی قفیت النبیین عامۃ وانا قثم۱؎
(میں مقفی ہوں کہ تمام پیغمبروں کے بعد آیا اور میں کامل جامع ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔)
 (۱ ؎ الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ وہب بن وھب بن خیر بن عبداﷲ بن زہیر، دارالفکر بیروت، ۷/ ۲۵۲۷)
تنبیہ:

یہ حدیث ابن عدی نے مولٰی علی وام المؤمنین صدیقہ واسامہ بن زید و عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی روایت کی،
کما فی مطالع المسرات فان کان کلھا عاقب او مقف ونحوھما کانت خمسۃ احادیث۔
 (جیسا کہ مطالع المسرات میں ہے تو اگر تمام میں عاقب یا مقف وغیر ہما ہوں تو پانچ احادیث ہوئیں۔ت)
الحاشر والعاقب:
حاکم مستدرک میں بافادہ تصحیح حضرت عوف بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کنیسہ یہود میں تشریف لے گئے، میں ہمرکاب تھا،فرمایا، اے گروہ یہود! مجھے بارہ آدمی دکھاؤ جو گواہی دینے والے ہوں کہ لا الہٰ الا اﷲ محمد رسول اﷲ، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ، اﷲ عزوجل سب یہود سے اپنا غضب (یعنی جس میں وہ زمانہ موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے گرفتار ہیں کہ
وباؤا بغضب من اﷲ فباؤا بغضب علی غضب۲؂
 (۲؂القرآن الکریم ۲/ ۶۱و۹۰)
 (اور خدا کے غضب میں لوٹے تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے۔ت) اٹھا لے گا، یہود سن کر چپ رہے کسی نے جواب نہ دیا۔ حضور نے فرمایا:
ابیتم فواﷲ لانا الحاشروانا العاقب وانا النبی المصطفٰی اٰمنتم اوکذبتم ۳؂
تم نے نہ مانا خدا کی قسم بیشک میں حاشر ہوں اور میں خاتم الانبیاء ہوں اور میں نبی مصطفی ہوں خواہ تم مانو یا نہ مانو۔
 (۳ ؎ المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، مطبع دارالفکر بیروت، ۳/ ۴۱۵)
رسول جہاد:
ابن سعد مجاہد مکی سے مرسلاً راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا محمد واحمد انا رسول الرحمۃ انا الملحمۃ انا المقفی والحاشر۴؎
میں محمد واحمد ہوں، میں رسول رحمت ہوں، میں رسول جہاد ہوں، میں خاتم الانبیا ہوں، میں لوگوں کو حشر دینے والا ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۴ ؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر اسماء الرسول  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  دارصادر،بیروت،۱/ ۱۰۵)
نوع اٰخر: ھو الاوّل والاٰخر والظاھر والباطن۱؂
وہی ہیں اوّل وہی ہیں آخر وہی ہیں باطن وہی ہیں ظاھر

انہیں سے عالم کی ابتدا ہے وہی رسولوں کی انتہا ہیں

صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نحن الاٰخرون السابقون یوم القٰیمۃ۲؎
ہم زمانے میں سب سے پچھلے اور قیامت میں سب سے اگلے ہیں۔
(۱؂القرآن الکریم ۵۷/ ۳)

(۲ ؎ صحیح البخاری، کتاب الجمعہ،باب فرض الجمعہ، قدیمی کتب خانہ،کراچی، ۱/ ۱۲۰)

(صحیح مسلم ،کتاب الجمعہ،باب فضیلۃ یوم الجمعۃ، قدیمی کتب خانہ، کراچی،۱/ ۲۸۲)
مسلم وابن ماجہ ابوہریرہ وحذیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
نحن الاٰخرون من اھل الدنیا والاولون یوم القٰیمۃ المقضی لھم قبل الخلائق ۳؎۔
ہم دنیا میں سب کے بعد اور آخرت میں سب پر سابق ہیں، تمام جہان سے پہلے ہمارے لئے حکم ہوگا۔
 (۳؎صحیح مسلم ،کتاب الجمعہ،باب فضیلۃ یوم الجمعۃ ، قدیمی کتب خانہ، کراچی،۱/ ۲۸۲)
دارمی ابن مکتوم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ ادرک بی الاجل المرجوواختار نی اختیار افنحن الاٰخرون ونحن السابقون یوم القٰیمۃ۴؎۔
بیشک اﷲ نے مجھے مدّت اخیر وزمانہ انتظار پر پہنچایا اور مجھے چن کر پسند فرمایا تو ہمیں سب سے پچھلے اور ہمیں روز قیامت سب سے اگلے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۴؎کنز العمال بحوالہ الدارمی، حدیث ۳۲۰۸۰، موسسۃ الرسالۃ،بیروت، ۱۱/ ۴۴۲)
اس حدیث میں نسخ مختلف ہیں بعض میں یوں ہے:
ان اﷲ ادرک بی الاجل المرحوم،و اختصر لی اختصارا۱؎۔
مجھے اﷲ عزوجل نے محض رحمت کے وقت پہنچایا اور میرے لئے کمال اختصار فرمایا۔ اس اختصار کی شرح و تفسیر پانچ وجہ منیر پر فقیر نے ۱۳۰۵ھ میں اپنے رسالہ تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین میں بیان کی۔
 (۱ ؎ سنن الدارمی باب ۸، ما اعطی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم من الفضل، دارالمحاسن، للطباعۃ مصر، ۱/ ۳۲)
Flag Counter