(۱۲) باب توبہ: انہیں کے امت کے آخر عہد میں باب توبہ بند ہوگا شرح الشفا للقاری ۲؎، اگلی نبوتوں میں اگر کوئی ایک نبی کے ہاتھ پر تائب نہ ہو تاکہ دوسرا نبی آئے اس کے ہاتھ پر توبہ لائے یہاں باب نبوت مسدود اور ختم ملّت پر توبہ مفقود، توجو ان کے دستِ اقدس پر توبہ نہ لائے اس کے لئے کہیں توبہ نہیں۳؎
افادہ الفاسی وبہ استقام کونہ من وجود التسمی بھٰذا الاسم العلی السمی ۔
(یہ فائدہ علامہ فاسی نے بیان کیا اور اس معنی کی بناء پر آپ کی ذات مبارکہ کا اس نام سے مسمّٰی ہونا درست ہے۔ت)
(۲؎ شرح الشفاء للعلی قاری علی ھامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ صلی اللہ علیہ وسلم، دارالفکر بیروت، ۲/ ۳۹۳)
(۳؎ مطالع المسرات ذکر اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد ۱۰۱)
(۱۳) فاتح باب توبہ: وہ فاتح باب توبہ ہیں سب میں پہلے سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توبہ کی وہ انہیں کے توسل سے تھی تو وہی اصل توبہ ہیں اور وہی وسیلہ توبہ، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم،مطالع ۴؎
(۱۴) کعب کا خون: وہ توبہ قبول کرنے والے ہیں ان کا دروازہ کرم توبہ و معذرت کرنے والوں کے لئے ہمیشہ مفتوح ہے جب سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کعب بن زہیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا خون ان کے زمانہ نصرانیت میں مباح فرمادیا ہے ان کے بھائی بجیربن زہیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے انہیں لکھا فطر الیہ فانہ لا یرد من جاء تائبا ان کے حضور اڑ کر آؤ جو ان کے سامنے تو بہ کرتا حاضر ہو یہ اسے کبھی رد نہیں فرماتے ۵؎مطالع المسرات، اسی بناء پر کعب رضی اﷲ تعالٰی عنہ جب حاضر ہوئے راہ میں قصیدہ نعتیہ بانت سعاد نظم کیا جس میں عرض رسا ہیں:
انبئت ان رسول اﷲ اوعدنی والعفو عند رسول اﷲ مامول
انی اتیت رسول اﷲ معتذرا والعذر عند رسول اﷲ مقبول ۶؎
مجھے خبر پہنچی کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے میرے لئے سزا کا حکم فرمایا ہے اور رسول کے ہاں معافی کی امید کی جاتی ہے اور رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حضور معذرت کرتا حاضر ہوا اور رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں عذر دولت قبول پاتا ہے۔
،احمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم بدی کا بدلہ بدی نہ دیں گے بلکہ بخش دیں گے اور مغفرت فرمائیں گے رواہ البخاری عن عبداﷲ بن عمرو والدارمی وابن سعد وعسا کر عن ابن عباس والاخیر عن عبداﷲ بن سلام، وابن ابی حاتم عن وھب بن منبہ وابونعیم عن کعب الاحبار رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔اس کو بخاری نے عبداﷲ بن عمرو اور دارمی، ابن سعد اور ابن عساکر نے ابن عباس سے اور آخری نے عبداﷲ بن سلام سے، ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ سے اور ابو نعیم نے کعب الاحبار رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے روایت کیا ۔ت۔
ولہٰذا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اسمائے طیبہ ہیں عفو غفور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب البیوع باب کراھیۃ الصخب فی السوق، قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۸۵)
(سنن دارمی باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، دارالمحاسن بیروت ۱/ ۱۵)
(۱۵) نبی توبہ: اقول وہ نبی توبہ ہیں، بندوں کو حکم ہے کہ ان کی بارگاہ میں حاضر ہو کر توبہ و استغفار کریں اﷲ تو ہر جگہ سنتا ہے، اس کا علم اس کا سمع اس کا شہود سب جگہ ایک سا ہے مگر حکم یہی فرمایا کہ میری طرف توبہ چاہو تو میرے محبوب کے حضور حاضر ہو۔ قال تعالٰی:
ولو انھم اذ ظلموا انفسہم جاؤک فاستغفروااﷲ واستغفرلھم الرسول لوجدوااﷲ توابًا رحیما۲
(۲القرآن الکریم ۴/ ۶۴)
اگر وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے پاس حاضر ہو کر خدا سے بخشش چاہیں اور رسول ان کی مغفرت مانگے تو ضرور خدا کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ حضور کے عالم حیات ظاہری میں حضور ظاہر تھا،اب حضور مزار پرُ انوار ہے اور جہاں یہ بھی میسر نہ ہو تو دل سے حضور پر نور کی طرف توجہ حضور سے توسل فریاد، استغاثہ،طلب شفاعت کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اب بھی ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں،
ملا علی قاری علیہ رحمۃ الباری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں:
روح النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام۳؎
نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہر مسلمان کے گھر میں جلوہ فرما ہیں۔
(۳؎ شرح شفاء للقاری علی ہامش نسیم الریاض، الباب الرابع من القسم الثانی، مطبعۃ الازہر یۃ المصریۃ،مصر ۳/ ۴۶۴)
(۱۶) وہ مفیض توبہ ہیں توبہ لیتے بھی یہی ہیں اور دیتے بھی یہی، یہ توبہ نہ دیں تو کوئی توبہ نہ کرسکے، توبہ ایک نعمتِ عظمٰی بلکہ اجل نعم ہے، اور نصوص متواترہ اولیائے کرام وعلمائے اعلام سے مبرہن ہوچکا کہ ہر نعمت قلیل یا کثیر، صغیر یا کبیر، جسمانی یا روحانی، دینی یا دنیوی ، ظاہری یا باطنی، روز اول سے اب تک، اب سے قیامت تک، قیامت سے آخرت،آخرت سے ابد تک، مومن یا کافر، مطیع یا فاجر، ملک یا انسان، جن یا حیوان بلکہ تمام ماسوا اﷲ میں جسے جو کچھ ملی یا ملتی ہے یا ملے گی اس کی کلی انہیں کے صبائے کرم سے کھلی اور کھلتی ہے اور کھلے گی، انہیں کے ہاتھوں پر بٹی اور بٹتی ہے یہ سرا لو جو دواصل الوجود وخلیفۃ اﷲ الاعظم وولی نعمت عالم ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یہ خود فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم :
میں ابوالقاسم ہوں اﷲ دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔(اسے حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور اس کی تصحیح کی اور تحقیق کرنے والوں نے اسے ثابت رکھا ہے۔ت)
ف: ہر نعمت ہر شخص کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ملی اور ملتی ہے اور ملے گی۔
(۱ ؎ المستدرک للحاکم،کتاب التاریخ ذکر اسماء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالفکربیروت، ۲/ ۶۰۴)
ان کا رب اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
وما ارسلنٰک الارحمۃ للعٰلمین۲
ہم نے نہ بھیجا تمہیں مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
(۲القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۷)
فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ نے اس جا نفزا وایمان افروز ودشمن گزا وشیطان سوز بحث کی تفصیل جلیل اور اس پر نصوص قاہرہ کثیرہ وافر کی تکثیر جمیل اپنے رسالہ مبارکہ سلطنت المصطفٰی فی ملکوت الورٰی میں ذکر کی والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
(۱۷) اقول وہ نبی توبہ ہیں کہ گناہوں سے ان کی طرف توبہ کی جاتی ہے توبہ میں انکا نام نامِ پاک نام جلالت حضرت عزت جلالہ کے ساتھ لیا جاتا ہے کہ میں اﷲ و رسول کی طرف توبہ کرتا ہوں جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف میں ہے امّ المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے عرض کی :
یا رسول اﷲ اتوب الی اﷲ والی رسولہ ما ذا اذنبت۳؎
یا رسول اﷲ! میں اﷲ اور اﷲ کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں مجھ سے کیا خطا ہوئی؟۔
معجم کبیر میں حضرت ثوبان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے ابوبکر صدیق وعمر فاروق وغیرہما چالیس اجلّہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہو کر ہاتھ پھیلا کر لرزتے کا نپتے حضور سے عرض کی:
فقیر نے یہ حدیثیں مع جلیل و نفیس بحثیں اپنے رسالہ مبارکہ الامن والعلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء میں ذکر کیں۔
اقول توبہ کے معنی ہیں نافرمانی سے باز آنا، جس کی معصیت کی ہے اس سے عہد اطاعت کی تجدید کر کے اسے راضی کرنا، اور نص قطعی قرآن سے ثابت کہ اﷲ عزوجل کا ہر گنہگار حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا گنہگار ہے۔ قال اﷲ تعالٰی:
من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ۲
(القرآن الکریم ۴/ ۸۰)
جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔
ویلز مہ عکس النقیض من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول وھو معنی قولنا من عصی اﷲ فقد عصی الرسول۔
اس کو عکس نقیض،من لم یطع اﷲ لم یطع الرسول، لازم ہے اور ہمارے قول''من عصی اﷲ فقد عصی الرسول'' کا یہی معنی ہے۔ (ت) اور قرآن عظیم حکم دیتا ہے کہ اﷲ و رسول کو راضی کرو۔ قال اﷲ تعالٰی:
واﷲ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوامؤمنین۳
(۳القرآن الکریم ۹/ ۶۲)
سب سے زیادہ راضی کرنے کے مستحق اﷲ ورسول ہیں اگر یہ لوگ ایمان رکھتے ہیں۔
نسأل اﷲ الایمان والامن والامان و رضا ہ ورضی رسولہ الکریم علیہ و علٰی اٰلہ الصلوٰۃ والتسلیم۔
ہم اﷲ تعالٰی سے ایمان، امن وامان، اس کی رضا، اس کے رسول کریم کی رضا چاہتے ہیں، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ الصلوٰۃ والتسلیم۔(ت) یہ نفیس فوائد کہ استطراداً زبان پر آگئے قابل حفظ ہیں کہ اس رسالے کے غیر میں نہ ملیں گے یوں تو
؎ ہر گُلے را رنگ و بوُئے دیگر ست
(ہر پھول کا رنگ و خوشبو علیحدہ ہے۔ت)
مگر میں امید کرتا ہوں کہ فقیر کی یہ تین توجہیں اخیر بحمد اﷲ تعالٰی چیزے دیگر ہیں وباﷲ التوفیق۔