Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
130 - 150
ارشادات حضور ختم الانبیاء علیہم افضل الصلوٰۃ والثناء
وفیھا انواع نوع فی اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم۔



اسماءُ النّبی  :
اجلّہ ائمہ بخاری و مسلم وترمذی ونسائی وامام مالک و امام احمد وابوداؤد طیالسی وابن سعد و طبرانی وحاکم وبیہقی وابو نعیم وغیر ہم حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ تعالی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان لی اسماء انا محمد و انا احمد وانا الماحی الذی یمحوا اﷲ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علٰی قدمی وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی ۲؎
بیشک میرے متعدد نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اﷲ تعالٰی میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۲ ؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  قدیمی کتب خانہ،کراچی ۲/ ۲۶۱)

(شعب الایمان للبیہقی، فصل فی اسماء رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم حدیث ۱۳۹۷، دارالکتب العلمیہ، بیروت ۲/ ۱۴۱)
سبعہ اخیرہ الاالطبرانی کی روایت میں والخاتم زائد ہے یعنی اور میں خاتم ہوں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔۳؎
 (۳؎ شعب الایمان للبیہقی فصل فی اسماء رسول صلی اللہ علیہ وسلم حدیث ۱۳۹۸، دارالکتب العلمیہ بیروت۲/ ۱۴۱) 

(الطبقات الکبرٰی ذکر اسماء رسول صلی اللہ علیہ وسلم دار صادر بیروت ۲/ ۱۰۴)
انا محمّد واحمد

امام احمد مسند اور مسلم صحیح اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبۃ ونبی الرحمۃ۱؎
میں محمد ہوں اور احمد اور سب انبیاء کے بعد آنے والا اور خلائق کو حشر دینے والا اور رحمت کا نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  قدیمی کتب خانہ، کراچی، ۲/ ۲۶۱)
نام مبارک نبی التوبۃ عجب جامع و کثیر المنافع نام پاک ہے، اس کی تیرہ توجیہیں فقیر غفرلہ المولی القدیر نے شرح صحیح مسلم للامام النووی و شرح الشفا للقاری والخفاجی و مرقاۃ واشعۃ اللمعات شروح مشکوٰۃ و تیسیر وسراج المنیر و حفنی شروح جامع صغیرو جمع الوسائل شرح شمائل ومطالع المسرات ومواہب وشرح زرقانی ومجمع البحار سے التقاط کیں اور چار بتوفیق اﷲ تعالٰی اپنی طرف سے بڑھائیں سب سترہ ہوئیں، بعضہا املح من بعض واحلی ( ان میں ہر ایک دوسری سے لذیذ اور میٹھی ہے۔ت)
خصائصِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم 

(۱) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ہدایت سے عالم نے توبہ و رجوع الی اﷲ کی دولتیں پائیں حضور کی آواز پر متفرق جماعتیں، مختلف امتیں اﷲ عزوجل کی طرف پلٹ آئیں ۲؎
ذکرہ فی مطالع المسرات وقاری فی شرح الشفاء والشیخ المحقق فی اشعۃ اللمعات وعلیہ اقتصر فی المواھب اللدنیۃ شرح الاسماء العلیۃ وقبلہ شارحھا الزرقانی عند سردھا۔
(اس کو مطالع المسرات میں اور ملا علی قاری نے شرح شفاء میں، شیخ محقق نے اشعۃ اللمعات میں ذکر کیا۔ اور اسی پر مواہب لدنیہ کے شرح اسماء مبارکہ میں اور اس سے قبل اپنے بیان میں شارح زرقانی نے انحصار کیا۔ت)
 (۲؎ مطالع المسرات ذکر اسماء النبی  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، ص ۱۰۱)

(شرح الشفالعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی اسمائہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  دارالفکر بیروت، ۲/ ۳۹۳)

(شرح الزرقانی علی المواہب المقصد الثانی، الفصل الاول حرف ن، دارالمعرفۃ،بیروت، ۳/ ۱۴۹)
 (۲) ان کی برکت سے خلائق کو توبہ نصیب ہوئی۳؂
،الشیخ فی اللمعات والاشعۃ، اقول ولیس بالاول فان الھدایۃ دعوۃ وارائۃ و بالبرکۃ توفیق الوصول
 (اقول یہ چیز اول یعنی ہدایت سے حاصل نہیں ہوتی کیونکہ ہدایت دعوت، راستہ دکھانے اور برکت سے وصول مقصود کی توفیق کا نام ہے)
 (۳ ؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر۱،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر، ۴/ ۴۸۲)
 (۳) ان کے ہاتھ پر جس قد ر بندوں نے توبہ کی اور انبیائے کرام کے ہاتھوں پر نہ ہوئی الشیخ فی اللمعات واشار الیہ فی الاشعۃ حیث قال بعد ذکر الاولین (شیخ نے لمعات میں اسے ذکر کیا اور اشعہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا جہاں انہوں نے پہلے دونوں کا ذکر کیا وہاں یہ ہے۔ت)
ایں صفت درجمیع انبیاء مشترک ست و در ذات شریف آں حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ازہمہ بیشتر و وافرو کامل ترست ۱؎
تمام انبیاء میں یہ صفت مشترک ہے اور آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ذات میں یہ سب سے زیادہ اور وافر اور کامل تر ہے۔
 (۱ ؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ باب اسماء النبی وصفاتہ الخ فصل نمبر۱،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر، ۴/ ۴۸۲)
صحیح حدیثوں سے ثابت کہ روز قیامت یہ امت سب امتوں سے شمار میں زیادہ ہوگی، نہ فقط ہر ایک امت جداگانہ بلکہ مجموع جمیع امم سے، اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں بحمدا ﷲ تعالٰی اسی(۸۰)ہماری اور چالیس(۴۰) میں باقی سب امتیں، والحمدﷲ رب العالمین۔

(۴) وہ توبہ کا حکم لے کر آئے۲؎ (الامام النووی فی شرح صحیح مسلم والقاری فی جمع الوسائل والزرقانی فی شرح المواھب (اسے امام نووی نے شرح مسلم، ملا علی قاری نے جمع الوسائل اور زرقانی نے شرح مواہب میں ذکر کیا۔ت)
 (۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتاب الفضائل باب فی اسمائہٖ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۔ ۲/ ۲۶۱)
 (۵) اﷲ عزوجل کے حضور سے قبول توبہ کی بشارت لائے۳؎شرح المواہب والمناوی فی التیسیر۔
 (۳؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر،تحت حدیث انا محمد واحمد الخ مکتبہ امام الشافعی ریاض، ۱/ ۳۷۶)
 (۶) اقول بلکہ وہ توبہ عام لائے ہر نبی صرف اپنی قوم کے لئے توبہ لاتا ہے وہ تمام جہان سے توبہ لینے آئے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۷) بلکہ توبہ کا حکم وہی لے کر آئے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء سب ان کے نائب ہیں تو روز اول سے آج تک اور آج سے قیامت تک جو توبہ خلق سے طلب کی گئی یا کی جائے گی، واقع ہوئی یا وقوع پائے گی۔سب کے نبی، ہمارے نبی توبہ ہیں ۴؎
صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، الفاسی فی مطالع المسرات فجزاہ اﷲ معانی المبرات وعوالی المسرات
(یہ علامہ فاسی نے مطالع المسرات میں ذکر کیا، اﷲ تعالٰی ان کو نیکیوں کا ذخیرہ اور بلند خوشیاں جزا میں عطا فرمائے۔ت)
 (۴؎ مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد، ص ۱۰۲۔۱۰۱)
 (۸) توبہ سے مراد اہل توبہ ہیں ۱؎،
ای علی وزان قولہ تعالٰی واسئل القریۃ
(اﷲ تعالٰی کے قول واسئل القریۃ کے انداز پر)(ت) یعنی توابین کے نبی،
مطالع المسرات مع زیادۃ منی
 ( مطالع المسرات اور جو کچھ زیادہ ہے وہ میری طر ف سے) اقول اب اوفق یہ ہے کہ توبہ سے مراد ایمان لیں ۲؎
کما سوغہ المناوی ثم العزیزی فی شروح الجامع الصغیر
 (جیسا کہ علامہ مناوی نے پھر عزیزی نے الجامع الصغیر کی شرحوں میں ذکر فرمایا)(ت) حاصل یہ کہ تمام اہل ایمان کے نبی۔
 (۱؎ مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد ص ۱۰۱و ۱۰۲)

(۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر، تحت حدیث انا محمد واحمد، مکتبہ امام الشافعی،ریاض، ۱/ ۳۷۶)
 (۹) ان کی امت توّابین ہیں، وصفِ توبہ میں سب امتوں سے ممتاز ہیں، قرآن ان کی صفت میں التــائـبون۳؎ فرماتا ہے،جمع الوسائل،جب گناہ کرتے ہیں تو بہ لاتے ہیں یہ امت کا فضل ہے اور امت کا ہر فضل اس کے نبی کی طرف راجع۴؎، مطالع، اقول وبہ فارق ماقبلہ فلیس فیہ حذف ولا یجوز (میں کہتا ہوں،اس سبب سے وہ پہلے سے جدا ہوا تو اس میں نہ حذف ہے اور نہ یہ جائز ہے۔ت)
 (۳؎جمع الوسائل فی شرح الشمائل باب ماجاء فی اسماء رسول اﷲ الخ ،دارالمعرفۃ،بیروت،۲/ ۱۸۳)

(۴؎ مطالع المسرات ذکر اسماء النبی  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ،سکھر، ص۱۰۱)
 (۱۰) ان کی امت کی توبہ سب امتوں سے زائد مقبول ہوئی۵؎ ،حفنی علی الجامع الصغیر، کہ ان کی توبہ میں مجرد ندامت وترک فی الحال وعزم امتناع پر کفایت کی گئی، نبی الرحمۃصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے بوجھ اتار لئے اگلی امتوں کے سخت وشدید باران پر نہ آنے دئیے،اگلوں کی توبہ سخت سخت شرائط سے مشروط کی جاتی تھی گؤسالہ پرستی سے بنی اسرائیل کی توبہ اپنی جانوں کے قتل سے رکھی گئی کما نطق بہ القراٰن العزیز(جیسا کہ قرآن نے اس کو بیان فرمایا)(ت) جب ستّر ہزار آپس میں کٹ چکے اس وقت توبہ قبول ہوئی،
 (۵؎ حاشیۃ الحفنی علی الجامع الصغیر علٰی ہامش السراج المنیر المطبعۃ الازہریۃ المصریۃ،مصر،۲/ ۶۳)
شرح الشفاء للقاری (عہ) والمرقاۃ ونسیم الریاض والفاسی ومجمع البحار۔برمز(ن) للامام النووی والذی رأیتہ فی منھاجہ ماقدمت فحسب۔ (ن کی رمز امام نووی کی طرف ہے)اور جو میں نے ان کی کتاب منہاج میں دیکھا وہ میں نے پہلے بیان کردیا ہے اور بس۔ت
عہ: اقتصر الحنفی فی تقریر ھذا الوجہ علی ذکر الاستغفار فقط فقال لانہ قبل من امتہ التوبۃ بمجرد الاستغفار زاد میرک بخلاف الامم السابقۃ واستدل بقولہ تعالٰی فاستغفروااﷲ واستغفرلھم الرسول۱؎ الآیۃ، وقد اقرہ العلامۃ القاری فی المرقاۃ وفی شرح الشفاء و شدد النکیر علیہ فی جمع الوسائل شرح الشمائل فقال ھذا قول لم یقل بہ احد من العلماء فہو خلاف الامۃ وقد قال وارکان التوبۃ علی ما قالہ العلماء ثلثۃ الندم والقلع والعزم علی ان لا یعود ولا احد جعل الاستغفار اللسانی شرطا للتوبۃ ۲؎ الخ اقول رحم اﷲ مولانا القاری این فی کلام الحنفی ومیرک ان التوبۃ لا تقبل الا بالاستغفار فضلا عن اشتراط الاستغفار باللسان، انما ذکر ان مجرد الاستغفار کاف فی توبۃ ھذہ الامۃ من دون الزام امور اخر شاقۃ جدا کقتل الانفس وغیرہ مما الزمت بہ الامم السابقۃ فلا تشم منہ رائحۃ اشتراط الاستغفار لمطلق التوبۃ وان امعنت النظر لم تجد فیہ خلا فالحدیث الارکان ایضا فان الاستغفار الصادق لا ینشؤا الاعن ندم صحیح والندم الصحیح یلزمہ الاقلاع وعزم الترک، ولذا صح عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قولہ الندم توبۃ علا ان المقصود الحصر بالنسبۃ الٰی ما کان علی الامم السابقۃ من الامرثم ھذا کلہ لا مساغ لہ فی تقریرا لوجہ بما قررنا کما تری فاعرف ۱۲ منہ۔
حنفی نے اپنی تقریر میں اس وجہ پر استغفار کے ذکر کا اقتصار کیا تو فرمایا آپ کی امت سے صرف استغفار پر توبہ قبول فرمائی، اس پر میرک نے ''بخلاف الامم السابقہ'' کا اضافہ کیا انہوں نے دلیل میں اﷲ تعالٰی کا قول''اﷲ تعالٰی سے استغفار کرو اور رسول ان کے لئے استغفار فرمائیں، الآیۃ'' ذکر کیا، علامہ قاری نے مرقات اور شرح شفاء میں اس کو ثابت رکھا جبکہ جمع الوسائل میں اس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ بات علماء میں سے کسی نے نہ کی تو یہ امت کے خلاف ہے اور فرمایا کہ توبہ کے ارکان علماء کے بیان کے مطابق تین ہیں، ندامت اور چھوڑنا، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم، اور کسی نے بھی زبانی استغفار کو توبہ کی شرط نہ کہا الخ، اقول ( میں کہتا ہوں) اﷲ تعالٰی ملا علی قاری پر رحم فرمائے حنفی اور میرک کے کلام میں استغفار کے بغیر توبہ کا قبول نہ ہونا کہاں ہے چہ جائیکہ زبانی استغفار کی شرط ہو، انہوں نے تو یوں کہا ہے کہ اس امت کی توبہ میں صرف استغفار کافی ہے دوسرے شاق امور لازم نہیں مثلاً جانوروں کو قتل کرنا وغیرہ، جو کچھ پہلی امتوں پر لازم کیا گیا اس سے مطلق توبہ کے لئے استغفار کی شرط کی بو تک محسوس نہیں ہوتی ، اگر آپ گہری نظر سے دیکھیں تو اس میں آپ کوئی خلاف نہ پائیں گے کہ سچی استغفار کا وجود سچی ندامت کے بغیر نہیں ہوسکتا کیونکہ صحیح ندامت کو گناہ کا ختم کرنا اور اس کے ترک کا عزم لازم ہے اسی معنی میں حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے صحیح منقول ہے کہ ندامت توبہ ہے اس کے علاوہ ان کا مقصد پہلی امتوں پر لازم امور کی نسبت سے حصر کرنا ہے، پھر اس وجہ کی تقریر میں اس تمام بیان کا کوئی دخل نہیں ہے جس کی ہم نے تقریر کی جیسا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں، غور کرو ۱۲ منہ۔(ت)
(۱ ؎ مرقات المفاتیح کتاب الفضائل باب اسماء النبی وصفاتہ الخ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ، ۱۰/ ۵۰)

(جمع الوسائل فی شرح الشمائل، باب ما جاء اسماء رسول  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  دارالمعرفۃ ،بیروت، ۲/ ۱۸۳)

(۲؎جمع الوسائل فی شرح الشمائل، باب ما جاء اسماء رسول  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  دارالمعرفۃ ،بیروت، ۲/ ۱۸۳)
(۱۱) وہ خود کثیر التوبہ ہیں، صحیح بخاری میں ہے: میں روز اللہ سبحانہ  سے سو بار استغفار کرتاہوں۔ ۱؎
شرح الشفا و المرقاۃ واللمعات والمجمع برمز
(ط) للطیبی والزرقانی ہر ایک کی توبہ اس کے لائق ہے حسنات الابرار سیاٰت المقربین (نیکوں کی خوبیاں مقربین کے گناہ ہیں۔ت)
 (۱؎ شرح الشفاء لعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض،فصل فی اسمائہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  دارالفکربیروت، ۲/ ۳۹۳)

(مرقات المفاتیح کتاب الفضائل باب اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم وصفاتہ مکتبہ حبیبہ کوئٹہ، ۱۰/ ۴۹،۵۰)
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہر آن ترقی مقامات قرب و مشاہدہ میں ہیں۔
وللاٰخرۃ خیر لک من الاولی۲؂
 ( آپ کے لئے ہر پہلی ساعت سے دوسری افضل ہے۔ت)
 (۲؂القرآن الکریم ۹۳/ ۴)
جب ایک مقام اجل واعلٰی پر ترقی فرماتے گزشتہ مقام کو بہ نسبت اس کے ایک نوع تقصیر تصوّر فرما کر اپنے رب کے حضور توبہ واستغفار لاتے تو وہ ہمیشہ ترقی اور ہمیشہ توبہ بے تقصیر میں ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مطالع مع بعض زیادات منی۱؎
 (۱؎ مطالع المسرات، ذکر اسماء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، مکتبہ نوریہ رضویہ،فیصل آباد، ص ۱۰۲)
Flag Counter