Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
129 - 150
مقوقس شاہ مصر کی تصدیق ولادت
امام واقدی وابو نعیم حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل ملاقات مقوقس بادشاہ مصر میں راوی، جب ہم نے اس نصرانی بادشاہ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مدح وتصدیق سنی اس کے پاس سے وہ کلام سن کر اٹھے جس نے ہمیں محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے ذلیل و خاضع کردیا ہم نے کہا سلاطین عجم ان کی تصدیق کرتے اور ان سے ڈرتے ہیں حالانکہ ان سے کچھ رشتہ علاقہ نہیں اور ہم تو ان کے رشتہ دار ان کے ہمسائے ہیں وہ ہمارے گھر ہمیں دین کی طرف بلانے آئے اور ہم ابھی ان کے پیرو نہ ہوئے، پھر میں اسکندریہ میں ٹھہرا کوئی گرجا کوئی پادری قبطی خواہ رومی نہ چھوڑا جہاں جا کر محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صفت جو وہ اپنی کتاب میں پاتے ہیں نہ پوچھی ہو، ان میں ایک پادری قبطی سب سے بڑا مجتہد تھا اس سے پوچھا:
ھل بقی احد من الانبیاء"
آیا پیغمبروں میں سے کوئی باقی رہا؟وہ بولا:
نعم وھو اٰخر الانبیاء لیس بینہ وبین عیسٰی نبی قد امر عیسٰی باتباعہ وھو النبی الامی العربی اسمہ احمد۔
ہاں ایک نبی باقی ہیں وہ سب انبیاء سے پچھلے ہیں ان کے اور عیسٰی کے بیچ میں کوئی نبی نہیں، عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان کی پیروی کا حکم ہوا ہے وہ نبی امّی عربی ہیں ان کا نام پاک احمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔

پھر اس نے حلیہ شریفہ و دیگر فضائل لطیفہ ذکر کئے، مغیرہ نے فرمایا: اور بیان کر۔ اس نے اور بتائے،ازانجملہ کہا:
یخص بمالم یخصّ بہ الانبیاء قبلہ کان النبی یبعث الی قومہ وبعث الی الناس کافۃ۔
انہیں وہ خصائص عطا ہوں گے جو کسی نبی کو نہ ملے ہر نبی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا وہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے۔

مغیرہ فرماتے ہیں میں نے یہ سب باتیں خوب یاد رکھیں اور وہاں سے واپس آکر اسلام لایا ۱ ؎
 (۱ ؎ دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الخامس عالم الکتب بیروت، ص ۲۱ و ۲۲)
میلاد النبی پر خاص تارے کا طلوع

ابو نعیم حضرت حسّان بن ثابت انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، میں سات برس کا تھا ایک دن پچھلی رات کو وہ سخت آواز آئی کہ ایسی جلد پہنچتی آواز میں نے کبھی نہ سنی تھی کیا دیکھتا ہوں کہ مدینے کے ایک بلند ٹیلے پر ایک یہودی ہاتھ میں آگ کا شعلہ لئے چیخ رہا ہے لوگ اس کی آواز پر جمع ہوئے وہ بولا:
ھذا کو کب احمد قد طلع ھذا الکوکب لا یطلع الا بالنبوۃ ولم یبق من الانبیاء الاّ احمد۱؎
یہ احمد کے ستارے نے طلوع کیا، یہ ستارہ کسی نبی ہی کی پیدائش پر طلوع کرتا ہے اور اب انبیاء میں سوائے احمد کے کوئی باقی نہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۱ ؎ دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت، ص ۱۷)

(الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاخیار الخ دارالکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین،۱/ ۶۴)
یہودی علماء کے ہاں ذکرِ ولادت

امام واقدی وابو نعیم حضرت حویصربن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
قـــال کنا و یھودفــینا کانوا یذکــرون نبیا یبعث بمکۃ اسمہ احمد ولم یبق من الانبیاء غیرہ وھو فی کتبنا ۲؎
الحدیث یعنی میرے بچپن میں یہود ہم میں ایک نبی کا ذکر کرتے جو مکے میں مبعوث ہوں گے ان کا نام پاک احمد ہے اب ان کے سوا کوئی نبی باقی نہیں وہ ہماری کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔
 (۲؎ الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین،۱/ ۶۴)

(دلائل النبوۃ لابی نعیم، الفصل الخامس ، عالم الکتب بیروت، ص ۱۷)
احبار کی زبان پر نعتِ نبی
ابونعیم سعد بن ثابت سے راوی : قال کان احبار یہود بنی قریظۃ والنضیر یذکرون صفۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، فلما طلع الکوکب الاحمر اخبروا انہ نبی وانہ لا نبی بعدہ اسمہ احمد ومھاجرہ الٰی یثرب فلما قدم النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم المدینۃ و نزلھا انکروا وحسدوا و بغوا ۳؎
یہود بنی قریظہ وبنی نضیر کے علماء حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صفت بیان کرتے جب سرخ ستارہ چمکا تو انہوں نے خبر دی کہ وہ نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ان کا نام پاک احمد ہے، ان کی ہجرت گاہ مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لا کر رونق افروز ہوئے یہود براہِ حسد و بغاوت منکر ہوگئے۔
 (۳؎ الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین، ۱ /۶۷)
فلما جاء ھم ماعرفوا کفروا بہ فلعنۃ اﷲ علی الکفٰرین۱؂
توجب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر۔(ت)
(۱؂القرآن الکریم ۲ / ۸۹)
اہل یثرب کو بشارت میلاد النبی

زیاد بن لبید سے راوی، میں مدینہ طیبہ میں ایک ٹیلے پر تھا ناگاہ ایک آواز سنی کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے:
یا اھل یثرب قد ذھبت واﷲ نبوۃ بنی اسرائیل، ھذا نجم قد طلع بمولداحمد وھو نبی اٰخرالانبیاء و مھاجرہ الٰی یثرب۲؎
اے اہل مدینہ! خدا کی قسم بنی اسرائیل کی نبوت گئی، ولادتِ احمد کا تارا چمکا، وہ سب سے پچھلے نبی ہیں، مدینے کی طرف ہجرت فرمائیں گےصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۲؎ الخصائص الکبرٰی باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین، ۱/ ۶۸)
یوشع کی زبان پر نعتِ رسول

حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی میں نے مالک بن سنان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو کہتے سنا کہ میں ایک روز بنی عبدالاشہل میں بات چیت کرنے گیا، یوشع یہودی بولا اب وقت آلگا ہے ایک نبی کے ظہور کا جس کا نام احمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم حرم سے تشریف لائیں گے ان کا حلیہ ووصف یہ ہوگا، میں اس کی باتوں سے تعجب کرتا اپنی قوم میں آیا وہاں بھی ایک شخص کو ایسا ہی بیان کرتے پایا، میں بنی قریظہ میں گیا وہاں بھی ایک مجمع میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ذکر پاک ہورہا تھا ان میں سے زبیر بن باطا نے کہا:
قد طلع الکوکب الاحمر الذی لم یطلع الا لخروج نبی وظہورہ ولم یبق احد الا احمد وھذہ مھاجرہ۳؎
بیشک سرخ ستارہ طلوع ہو کر آیا یہ تارا کسی نبی ہی کی ولادت و ظہور پر چمکتا ہے اور اب میں کوئی نبی نہیں پاتا سوا احمد کے، اور یہ شہر ان کی ہجرت گاہ ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۳؎ الخصائص الکبرٰی باب اخبار الاحبار بحوالہ ابی نعیم داراکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین، ۱/ ۶۶۔۶۵)

(دلائل النبوۃ، الفصل الخامس، عالم الکتب بیروت، ص۸)
تذییل

ابن سعد و حاکم و بیہقی وابونعیم حضرت ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی مکہ معظمہ میں ایک یہودی بغرض تجارت رہتا جس رات حضور پُر نورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم پیدا ہوئے قریش کی مجلس میں گیا اور پوچھا کیا آج تم میں کوئی لڑکا پیدا ہوا انہوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم، کہا:
احفظوا ما اقول لکم، ولد ھذہ اللیلۃ نبی ھذہٖ الامۃ الاخیرۃ بین کتفیہ علامۃ۲؎ الحدیث
جو تم سے کہہ رہا ہوں اسے حفظ کر رکھو آج کی رات اس پچھلی امت کا نبی پیدا ہوا اس کے شانوں کے درمیان علامت ہے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۱ ؎ الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن سعد و الحاکم والبیہقی وابی نعیم، باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ الخ، دارالکتب الحدیثہ، بعابدین ۱/ ۱۲۳)
Flag Counter