Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
128 - 150
ارشاداتِ انبیاء و ملائکہ واقوال علماءِ کتبِ سابقہ

حدیث شفاعت:
امام احمد وابو داؤد طیالسی مطولاً اور ابن ماجہ مختصراً اور ابو یعلٰی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم حدیث طویل شفاعتِ کبرٰی میں فرماتے ہیں :
فیاتون عیسٰی فیقولون اشفع لنا الٰی ربک فلیقض بیننا فیقول انی لست ھناکم انی اتخذت الٰھًا من دون اﷲ، وانہ لا یھمنی الیوم الانفسی ولکن ان کل متاع فی وعاء مختوم علیہ أکان یقدر علی ما فی جوفہ حتی یفض الخاتم، فیقولون لا فیقول ان محمدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیاتونی فاقول انا لھا فاذا اراداﷲ ان یقضی بین خلقہ نادی مناد این احمد و امتہ فنحــن الاخــرون الاولون نحــن اٰخر الامــم واول من یحاسب، فتفرج لنا الامم عن طریقنا ۱؎ الحدیث ھذا مختصر۔
یعنی جب لوگ اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حضور سے مایوس ہو کر پھریں گے تو سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے، مسیح فرمائیں گے میں اس منصب کا نہیں مجھے لوگوں نے اﷲ کے سوا خدا بنایا تھا مجھے آج اپنی ہی فکر ہے مگر ہے یہ کہ جو چیز کسی سر بمہر برتن میں رکھی ہو کیا بے مہر اٹھائے اسے پاسکتے ہیں، لوگ کہیں گے نہ، فرمائیں گے تو محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور یہاں تشریف فرماہیں، لوگ میرے حضور حاضر ہو کر شفاعت چاہیں گے میں فرماؤں گا میں ہو ں شفاعت کے لئے، پھر جب اﷲ عزوجل اپنی مخلوق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایک منادی پکارے گا کہاں ہیں احمد اور ان کی امت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، تو ہمیں پچھلے ہیں اور ہمیں اگلی سب امتوں سے پیچھے آئے اور سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور سب امتیں عرصاتِ محشر میں ہمارے لئے راستہ دیں گی۔
 (۱ ؎ مسند ابویعلٰی حدیث ۲۳۲۴عبداﷲ ابن عباس، مؤسسۃ علوم القرآن بیروت،۳/ ۶)
انبیاء کا التجائے شفاعت:
احمد وبخاری و مسلم و ترمذی حدیث طویل شفاعت میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : فیاتون محمد افیقولون یا محمد انت رسول اﷲ وخاتم الانبیاء۱؎
اولین و آخرین حضور خاتم النبیین افضل المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حضور آکر عرض کرینگے حضور اﷲ تعالٰی کے رسول اور تمام انبیاء کے خاتم ہیں ہماری شفاعت فرمائیں۔
 (۱ ؎صحیح البخاری کتاب التفسیر، سورہ بنی اسرائیل، قدیمی کتب خانہ، کراچی ۲/ ۶۸۵)
حضرت آدم علیہ السلام اور اذان اوّل:
ابو نعیم حلیۃ الاولیا اور ابن عساکر دونوں بطریق عطاء حضر ت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : نزل اٰدم بالھند واستوحش فنزل جبریل فنادی بالاذان اﷲ اکبر اﷲ اکبر، اشہد ان لا الٰہ الااﷲ، اشھدان لا الٰہ الا اﷲ، اشھد ان محمد ارسول اﷲ، اشھد ان محمد ارسول اﷲ، قال اٰدم من محمد، قال اٰخر ولدک من الانبیاء ۲؎
جب آدم علیہ الصلوٰۃ و السلام بہشت سے ہند میں اترے تو گھبرائے، جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے اتر کر اذان دی، جب نام پاک آیا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پوچھا: محمد کون ہیں، کہا: آپ کی اولاد میں سب سے پچھلے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
 (۲ ؎ حلیۃ الاولیاء ترجمہ عمر و بن قیس الملائی، دارالکتاب العربی بیروت، ۵/ ۱۰۷)
انشراحِ صدر: 

ابونعیم دلائل میں یونس بن میسرہ بن حلبَس سے مرسلاً اور دارمی وابن عساکر بطریق یونس ھذا عن ابی ادریس الخولانی عبدالرحمٰن بن غنم اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے موصولاً راوی وھذا لفظ المرسل رسو ل اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: فرشتہ سونے کا طشت لے کر آیا اور میرا شکم مبارک چیر کر دل مقدس نکالا اور اسے دھو کر کچھ اس پر چھڑک دیا، پھر کہا:
انت محمد رسول اﷲ المقفی الحاشر۳؎ (الحدیث ھذا مختصر)
حضور محمد رسول اﷲ ہیں سب انبیاء کے بعد تشریف لانے والے تمام عالم کو حشر دینے والے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
(۳؎ الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم عن یونس باب ما جاء فی قلبہ الشریف دارالکتب الحدیثۃ، ۱/ ۱۶۲)
حدیث متصل میں یوں ہے: جبریل نے اتر کر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا شکم چاک کیا، پھر کہا:
قلب وکیع فیہ اذنان سمیعتان و عینان بصیر تان محمد رسول اﷲ المقفی الحاشر۱؎ (الحدیث)
مضبوط و محکم دل ہے اس میں دوکان ہیں شنوا اور دو آنکھیں ہیں بینا، محمد اﷲ کے رسول ہیں۔ انبیاء کے خاتم اور خلائق کو حشر دینے والے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ،
 (۱ ؎ الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین، ۱/ ۱۶۲)
بشارت میلا د الرسول:

ابونعیم بطریق شہر بن حوشب اور ابن عساکر بطریق مسیب بن رافع وغیرہ حضرت کعب احبار سے راوی، انہوں نے فرمایا، میرے باپ اعلم علمائے توراۃ تھے، اﷲ عزوجل نے جو کچھ موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اتارا ا س کا علم ان کے برابر کسی کو نہ تھا، وہ اپنے علم سے کوئی شے مجھ سے نہ چھپاتے، جب مرنے لگے مجھے بلا کر کہا: اے میرے بیٹے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے علم سے کوئی چیز تجھ سے نہ چھپائی مگر ہاں دو ورق رکھے ہیں ان میں ایک نبی کا بیان ہے جس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا میں نے اس اندیشے سے تجھے ان دو ورقوں کی خبر نہ دی کہ شاید کوئی جھوٹا مُدعی نکل کھڑا ہو، تو اس کی پیروی کرلے یہ طاق تیرے سامنے ہے میں نے اس میں وہ اوراق رکھ کر اوپر سے مٹی لگادی ہے ابھی ان سے تعرض نہ کرنا، نہ انہیں دیکھنا جب وہ نبی جلوہ فرما ہو اگر اﷲ تعالٰی تیرا بھلا چاہے گا تو تو آپ ہی اس کا پیرو ہوجائے گا، یہ کہہ کر وہ مرگئے ہم ان کے دفن سے فارغ ہوئے مجھے ان دونوں ورقوں کے دیکھنے کا شوق ہر چیز سے زیادہ تھا، میں نے طاق کھولا ورق نکالے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان میں لکھا ہے:
محمد رسو ل اﷲ خاتم النبیین لا نبی بعدہ مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ ۲؎(الحدیث)
محمد اﷲ کے رسول ہیں، سب انبیاء کے خاتم، ان کے بعد کوئی نبی نہیں، ان کی پیدائش مکے میں اور ہجرت مدینے کو صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
 (۲ ؎ الخصائص الکبرٰی باب ما جاء فی قلبہ الشریف صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالحدیثۃ شارع الجمہوریۃ بعابدین، ۱/ ۱۶۲)

(تہذیب تاریخ دمشق، باب تطہیر قلبہ من انعل الخ، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ۱/ ۳۷۹)

(الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابی نعیم باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل، دارالحدیثہ شارع الجمہوریہ بعابدین،۱/ ۳۶)
راہب کا استفسار:

بیہقی و طبرانی وابونعیم اور خرائطی کتاب الہواتف میں خلیفہ بن عبدہ سے راوی، میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے پوچھا جاہلیت میں کہ ابھی اسلام نہ آیا تھا تمہارے باپ نے تمہارا نام محمد کیو نکر رکھا، کہا میں نے اپنے باپ سے اس کا سبب پوچھا، جواب دیا کہ بنی تمیم سے ہم چار آدمی سفر کو گئے تھے، ایک میں اور سفیان بن مجاشع بن دارم اور عمر بن ربیعہ اور اسامہ بن مالک، جب ملک شام میں پہنچے ایک تالاب پر اترے جس کے کنارے پیڑ تھے، ایک راہب نے اپنے دیر سے ہمیں جھانکا اور کہا تم کون ہو؟ ہم نے کہا اولادِ مضر سے کچھ لوگ ہیں۔ کہا:
اما انہ سوف یبعث منکم و شیکا نبی فسارعوا الیہ و خذوا بحظکم منہ ترشدوا فانہ خاتم النبیین۔
سنتے ہو عنقریب بہت جلد تم میں سے ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے تم اس کی طرف دوڑنا اور اس کی خدمت واطاعت سے بہرہ یاب ہو ناکہ وہ سب میں پچھلا نبی ہے۔

ہم نے کہا اس کا نام پاک کیا ہوگا؟ کہا محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔ جب ہم اپنے گھروں کو واپس آئے سب کے ایک ایک لڑکا ہوا اس کا نام محمد رکھا ۱؎، انتہی، واﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔
 (۱ ؎ الخصائص الکبرٰی بحوالہ البیہقی والطبرانی والخرائطی باب اخبار الاحبار الخ دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ، بعابدین ۱/ ۵۸۔۵۷)
قبل از ولادت شہادت ایمان:

زید بن عمر و بن نفیل کہ احد العشرۃ المبشرۃ سیدنا سعید بن زید کے والد ماجد ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم و عنہ موحدان و مومنان عہد جاہلیت سے تھے طلوعِ آفتاب عالمتاب اسلام سے پہلے انتقال کیا مگر اسی زمانے میں توحید الہٰی و رسالت حضرت ختم پناہی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شہادت دیتے، ابن سعد وابونعیم حضرت عامر بن ربیعہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، میں زید رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ملا مکہ معظمہ سے کوہ حرا کو جاتے تھے، انہوں نے قریش کی مخالفت اور ان کے معبودانِ باطل سے جدائی کی تھی، اس پر آج ان سے اور قریش سے کچھ لڑائی رنجش ہوچکی تھی، مجھے دیکھ کر بولے اے عامر!میں اپنی قوم کا مخالف اور ملت ابراہیم کا پیرو ہوا اسی کو معبود مانتا ہوں جسے ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام پوجتے تھے، میں ایک نبی کا منتظر ہوں جو بنی اسماعیل اور اولاد عبدالمطلب سے ہوں گے ان کا نام پاک احمد ہے میرے خیال میں میں ان کا زمانہ  پاؤں گا میں ابھی ان پر ایمان لاتا اور ان کی تصدیق کرتا ان کی نبوت کی گواہی دیتا ہوں، تمہیں اگر اتنی عمر ملے کہ انہیں پاؤ تو میرا سلام انہیں پہنچانا، اے عامر! میں تم سے ان کی نعت و صفت بیان کئے دیتا ہوں کہ تم خوب پہچان لو، درمیانہ قد ہیں، سر کے بال کثرت وقلت میں معتدل، ان کی آنکھوں میں ہمیشہ سرخ ڈورے رہیں گے، ان کی شانوں کے بیچ میں مہر نبوت ہے، ان کا نام احمد، اور یہ شہر ان کا مولد ہے، یہیں ان کی رسالت ظاہر ہوگی، ان کی قوم انہیں مکے میں نہ رہنے دے گی کہ ان کا دین اسے ناگوار ہوگا، وہ ہجرت فرما کر مدینے جائیں گے، وہاں سے ان کا دین ظاہر و غالب ہوگا، دیکھو تم کسی دھوکے فریب میں آکر ان کی اطاعت سے محروم نہ رہنا۔
فانی بلغت البلاد کلھا اطلب دین ابراھیم، وکل من اسأل من الیہود والنصارٰی و المجوس یقول ھذا الدین وراء ک، وینعتونہ مثل ما نعتہ لک، ویقولون لم یبق نبی غیرہ۔
کہ میں دین ابراہیمی کی تلاش میں شہروں شہروں پھرا یہود ونصارٰی مجوس جس سے پوچھا سب نے یہی جواب دیا کہ یہ دین تمہارے پیچھے آتا ہے اور اس نبی کی وہی صفت بیان کی جو میں تم سے کہہ چکا اور سب کہتے تھے کہ ان کے سوا کوئی نبی باقی نہ رہا۔ عامر رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں جب حضور خاتم الانبیاء علیہ و علیہم الصلوٰۃ والسلام کی نبوت ظاہر ہوئی میں نے زید رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی یہ باتیں حضور سے عرض کیں، حضور نے ان کے حق میں دعائے رحمت فرمائی اور ارشاد کیا قد ر أیتہ فی الجنۃ یسحب ذیلہ ۱؎ میں نے اسے جنت میں دامن کشاں دیکھا۔
 (۱ ؎ الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن سعد وابی نعیم عن عامر بن ربیعہ، باب اخبارالاحبار الخ، دارالکتب الحدیثہ شارع الجمہوریۃ بعابدین ۱/ ۶۲۔۶۱)
انکار ختم نبوت کی وجوہات:
اﷲ اﷲ اس زمانے کے یہود ونصارٰی ومجوس نے تو بالاتفاق حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوجانے کی شہادتیں دیں اور آج کل کے کذاب بد لگام مدعیان اسلام یہ شاخسانے نکالیں مگر ہے یہ کہ اس وقت تک ان فرقوں کو نہ حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے بغض وحسد تھا، نہ اپنے کسی پیشوا ئےمردود کا سخن مطرود بنانا مراد و مقصد، نہ اپنے کسی سگے بھائی کی بات رکھنی نہ بعد ظہور نور خاتمیت اپنے باپ دادا کی نبوت گھڑنی، وہ کیوں جھوٹ بولتے جو کچھ علوم انبیاء واخبار احبار ورہبان وعلماء سے پہنچا تھا صاف کہتے تھے، بعد ظہور اسلام ان ملا عنہ کے دل میں حسد و عنا د کا پھوڑا پھوٹا اور ان مدعیان اسلام پر قہر ٹوٹا کہ کسی خبیث کا پیشوا خبیث معاذ اﷲ آیہ کریمہ وخاتم النبیین میں خدا کا جھوٹ ممکن لکھ گیا، اب یہ جب تک اپنی سینہ زوری سے کچھ خاتم الانبیاء گھڑ کر نہ دکھائیں اگر چہ زمین کے اسفل السافلین طبقے میں تو گروجی پیشوا کی خدمت ہی کیا ہوئی، ہونہار سپوتوں کی سعادت ہی کیا ہوئی، کسی قاسم کفرو ضلالت قسیم و مباین حق وہدایت کا کوئی بھائی لگتا ان نئے مرتدوں کے ہاتھ بک گیا۔ ساتھ خاتم النبیین کا فتوٰی لکھ گیا، اب یہ اگر تازی نبوتوں کا ٹھیکہ نہ لیں ختم نبوت کے معنی متواتر کو مہمل نہ کہیں تو اکلوتے بھیا کی حمایت ہی کیا ہوئی، اختراعی طبیعت کی جودت ہی کیا ہوئی، کسی مردک کو یہ دھن سمائی کہ سید بنے تو کیا بنے، کوئی گنے تو نبی کا نواسا ہی گنے، پائچے کا رشتہ کوئی بات نہیں، پیرجی پوتے نہ بن بیٹھے تو کچھ کرامات نہیں
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔
اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
 (القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
Flag Counter