Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
127 - 150
بریت آدم اور ختم نبوت: فاقول وبحول اﷲ احول (ارشادات الٰہیہ)
طبرانی معجم کبیر میں اور حاکم بافادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں امیر المؤمنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں، جب آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لغزش واقع ہوئی عرض کی یا رب اسئلک بحق محمد ان غفرت لی (الٰہی! میں تجھے محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت فرما) ارشاد ہوا: اے آدم! تو نے محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم )کو کیونکر پہچانا حالانکہ میں نے ابھی اسے پیدا نہ کیا؟ عرض کی: الٰہی! جب تونے مجھے اپنی قدرت سے بنایا اور مجھ میں اپنی روح پھونکی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو عرش کے پایوں پر لکھا پایا لا الٰہ الاّ اﷲ محمّد رسول اﷲ تو میں نے جاناتو نے اسی کا نام اپنے نامِ پاک کے ساتھ ملایا ہوگا جو تجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے۔ فرمایا: صدقت یا اٰدم انہ لاحب الخلق الیّ واذ سألتنی بحقہ فقد غفرت لک ولو لا محمد ما خلقتک۱؎۔ زاد الطبرانی وھو اٰخر الانبیاء من ذرّیتک۲؎ 

اے آدم! تو نے سچ کہا بیشک وہ مجھے تمام جہان سے زیادہ پیارا ہے اور جب تونے مجھے اس کا واسطہ دے کر سوال کیا تو میں نے تیرے لئے مغفرت فرمائی، اگر محمد نہ ہوتا تو میں تجھے نہ بناتا ۔ طبرانی نے یہ اضافہ کیا: وہ تیری اولاد میں سب سے پچھلا نبی ہےصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
 (۱؎ المستدرک للحاکم کتاب التاریخ، استغفار آدم علیہ السلام بحق محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالفکر بیروت، ۲/ ۶۱۵)

(دلا ئل النبوۃ للبیہقی باب ما جاء فی تحدّث رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۵/ ۴۸۹)

(۲؎ المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث ۶۴۹۸، مکتبتہ المعارف ریاض، ۷/ ۲۵۹)
حضرت موسٰی علیہ السلام اور ختم نبوت:
ابو نعیم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان موسٰی لما نزلت علیہ التوراۃ وقرأھا وجد فیھا ذکر ھذہ الامۃ فقال یارب انی اجد فی الالواح امۃ ھم الاٰخرون السابقون فاجعلھا امتی قال تلک امّۃ احمد۱؎
(جب موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر توریت اتری اسے پڑھا تو اس میں اس امّت کا ذکر پایا عرض کی: اے رب میرے! میں ان لوحوں میں ایک امت پاتا ہوں کہ وہ زمانے میں سب سے پچھلی اور مرتبے میں سب سے اگلی، تو یہ میری امت کر، فرمایا: یہ امت احمد کی ہےصلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔)
 (۱؎ دلائل النبوۃ لا بی نعیم ذکر الفضیلۃ الرابعۃ، عالم الکتب بیروت ۱/ ۱۴)
حضرت آدم علیہ السلام اور سرکارِ دو عالم :

ابن عساکر حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لما خلق اﷲ اٰدم اخبرہ ببنیہ فجعل یرٰی فضائل بعضھم علٰی بعض فراٰی نوراً ساطعا فی اسفلھم، فقال یا رب من ھذا قال ھذا ابنک احمد و ھوالاول وھو الاٰخر وھو اول شافع واول مشفع ۲؎
جب اﷲ تعالٰی نے آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیدا کیا انہیں ان کے بیٹوں پر مطلع فرمایا، وہ ان میں ایک کی دوسر ے پر فضیلتیں دیکھا کئے تو ان سب کے آخر میں بلند و روشن نور دیکھا، عرض کی، الٰہی!یہ کون ہے ؟ فرمایا: یہ تیرا بیٹا احمد ہے یہی اوّل ہے اور یہی آخر ہے اور یہی سب سے پہلا شفیع اور یہی سب سے پہلا شفاعت مانا گیاصلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
 (۲؎ مختصر تاریخ دمشق لا بن عَساکر باب ماورد فی اصطفائہٖ علی العالمین الخ دارالفکر بیروت، ۲/ ۱۱۱)

(کنزالعمال حدیث ۳۲۰۵۲، موسسۃ الرسالۃ بیروت  ۱۱/ ۴۳۷)
خاتم النبیین۔

نیز بطریق ابی الزبیر حضرت جابر بن عبدا ﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی ، فرمایا:
بین کتفی اٰدم مکتوب، محمد رسول اﷲ خاتم النبیین۳؎، صلی اﷲ علیہ وسلم۔
آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دونوں شانوں کے وسط میں قلم قدرت سے لکھا ہوا ہے محمد رسول اﷲ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
(۳؎ مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر باب ذکر ما خص بہ و شرف بہ الخ عالم الکتب بیروت  ۲/ ۱۳۷)
محمداور دروازہ جنت:
ابن ابی شیبہ مصنف میں بطریق مصعب بن سعد حضرت کعب احبار رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:  انہ قال اول من یاخذ بحلقۃ باب الجنۃ فیفتح لہ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ و سلم ثم قرأ اٰیۃ من التوراۃ اضرابا قدما یا نحن الاخرون الاولون۱؎
یعنی انہوں نے کہا سب سے پہلے جو دروازہ جنت کی زنجیر پر ہاتھ رکھے گا پس اس کے لئے دروازہ کھولا جائے گا، وہ محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں، پھر توریت مقدس کی آیت پڑھی کہ سب سے پہلے مرتبے میں سابق زمانے میں لاحق، یعنی امتِ محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الفضائل، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی، ۱۱/ ۴۳۴)
خاتم الانبیاء کی بشارت:
ابن سعد عامر شعبی سے راوی، سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے صحیفوں میں ارشاد ہوا: انہ کائن من ولدک شعوب وشعوب حتی یاتی النبی الامیّ الذی یکون خاتم الانبیاء ۲؎
بیشک تیری اولاد میں قبائل در قبائل ہوں گے یہاں تک کہ نبی امّی خاتم الانبیاء جلوہ فرما ہوصلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
(۲ ؎ الطبقات الکبرٰی لا بن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم دارصادر بیروت، ۱/ ۱۶۳)
یعقوب علیہ السلام و خاتم الانبیاء :
محمد بن کعب قرظی سے راوی : اوحی اﷲ تعالٰی الٰی یعقوب انی ابعث من ذریتک ملوکا وانبیاء حتی ابعث النبی الحرمی الذی تبنی امتہ ھیکل بیت المقدس، وھو خاتم الانبیاء ،واسمہ احمد۳؎
اﷲ عزوجل نے یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وحی بھیجی میں تیری اولاد سے سلاطین وانبیاء بھیجتا رہا کروں گا یہاں تک کہ ارسال فرماؤں اس حرم محترم والے نبی کو جس کی امت بیت المقدس کی بلند تعمیر بنائے گی اور اس کا نام احمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہے۔
 (۳ ؎ الطبقات الکبرٰی لا بن سعد ذکر من تسمی فی الجاہلیہ بمحمد ؐ دارصادر بیروت، ۱/ ۱۶۳)
اشعیاء اور احمد مجتبٰی:
ابن ابی حاتم وہب بن منبہ سے راوی : قال اوحی اﷲ تعالٰی الٰی اشعیاء انی باعث نبیا امیا افتح بہ آذانا صما وقلوبا غلفا واعینا عمیا، مولدہ بمکۃ ومھاجرہ بطیبۃ وملکہ بالشام (وساق الحدیث فیہ) الکثیر الطیب من فضائلہ وشمائلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلّم الٰی ان قال ولا جعلن امتہ خیر امۃ اخرجت للناس (وذکر صفاتھم الٰی ان قال) اختم بکتابھم الکتب بشریعتھم الشرائع وبدینھم الادیان ۱؎ الحدیث الجلیل الجمیل۔
اﷲ عزوجل نے اشعیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر وحی بھیجی میں نبی اُمی کو بھیجنے والا ہوں، اس کے سبب بہرے کان اور غافل دل اور اندھی آنکھیں کھول دوں گا، اس کی پیدائش مکّے میں ہے اور ہجرت گاہ مدینہ اور اس کا تخت گاہ ملک شام، میں ضرور اس کی امت کو سب امتوں سے جو لوگوں کے لئے ظاہر کی گئیں بہتر و افضل کروں گا، میں ان کی کتاب پر کتابوں کو ختم فرماؤں گا اور ان کی شریعت پر شریعتوں اور ان کے دین پر سب دینوں کو تمام کروں گا۔
 (۱؎ الخصائص الکبرٰی ، بحوالہ ابن ابی حاتم وابو نعیم با ب ذکرہ فی التوراۃ والا نجیل الخ دارالکتب الحدیثیہ، ۱/ ۳۴،۳۳)

(الدرالمنثور، بحوالہ ابن ابی حاتم وابو نعیم آیۃ الذی یجدونہ مکتوبا فی التوراۃ الخ منشورات مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران، ۳/ ۱۳۴)
کتبِ سماوی میں اسمِ محمد:
ابن عساکر حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی : قال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یسمّی فی الکتب القدیمۃ احمد و محمد والماحی والمقفی ونبی الملاحم وحمطایا وفار قلیطا وما ذماذ۲؎
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اگلی کتابوں میں میرے یہ نام تھے، احمد، محمد، ماحی (کفر و شرک کو مٹانے والے)، مقفی (سب پیغمبروں سے پیچھے تشریف لانے والے) نبی الملاحم (جہادوں کے پیغمبر)،حمطایا (حرم الٰہی کے حمایتی)، فارقلیطا(حق کو باطل سے جدا کرنے والے)، ماذماذ (ستھرے، پاکیزہ) صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
 (۱؎ الخصائص الکبرٰی، بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس باب اختصاصہ صلی اﷲ علیہ وسلم الخ دارالکتب الحدیثیہ شارع الجمہوریہ، بعابدین ۱/ ۱۹۲)
خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم:
سلمان فارسی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی : ھبط جبریل فقال ان ربک یقول قد ختمت بک الانبیاء وما خلقت خلقا اکرم علی منک وقرنت اسمک مع اسمی فلا اذکرنی موضع حتی تذکر معی، ولقد خلقت الدنیا واھلھالا عرفھم کرامتک علی ومنزلتک عندی، ولو لاک ما خلقت السٰموٰت والارض وما بینہما لولاک ما خلقت الدنیا ھذا مختصر۱؎
جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے حاضر ہو کر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے عرض کی حضور کا رب فرماتا ہے بیشک میں نے تم پر انبیاء کو ختم کیا اور کوئی ایسا نہ بنایا جو تم سے زیادہ میرے نزدیک عزت والا ہو، تمہارا نام میں نے اپنے نام سے ملایا کہ کہیں میرا ذکر نہ ہو جب تک میرے ساتھ یاد نہ کئے جاؤ، بیشک میں نے دنیا واہل دنیا سب کو اس لئے بنایا کہ تمہاری عزت اور اپنی بارگاہ میں تمہارا مرتبہ ان پر ظاہر کروں، اور اگر تم نہ ہوتے تو میں آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے اصلاً نہ بناتا،صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
 (۱ ؎ مختصر تاریخ دمشق لا بن عساکر ذکر ما خصّ بہ وشرف بہ من بین الانبیاء دارالفکر بیروت، ۲/ ۳۷۔۱۳۶)
آخر النبیین:
خطیب بغدادی حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: لما اسری بی الی السماء قربنی حتی کان بینی وبینہ کقاب قوسین او ادنٰی، وقال لی یامحمد ھل غمک ان جعلتک اٰخر النبیین، قلت لا، قال فھل غم امتک ان جعلتہم اٰخر الامم قلت لا، قال اخبر امتک انی جعلتہم اٰخر الامم لافضح الامم عندہ ولا افضحھم عند الامم۲؎۔
شب اسرٰی مجھے میرے رب عزوجل نے نزدیک کیا یہاں تک کہ مجھ میں اور اس میں دو کمان بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا اور مجھ سے فرمایا: اے محمد!کیا تجھے اس کا غم ہوا کہ میں نے تجھے سب پیغمبروں کے پیچھے بھیجا، میں نے عرض کی نہ۔فرمایا: کیا تیری امت کو اس کا رنج ہوا کہ میں نے انہیں سب امتوں کے پیچھے رکھا، میں عرض کی نہ۔فرمایا: اپنی امت کو خبر دے دے کہ میں نے انہیں سب سے پیچھے اس لئے کیا کہ اور امتوں کو ان کے سامنے رسوا کروں اور انہیں اوروں کے سامنے رسوائی سے محفوظ رکھوں، والحمد ﷲ رب العالمین!
 (۲؎ تاریخ البغداد ترجمہ، ۲۵۵۷، ابوعبداللہ احمد بن محمد النزلی، دارلکتب العربی، بیروت،۵/ ۱۳۰)
رحمۃً للعٰلمین۔
ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ و بزار وابویعلٰی و بیہقی بطریق ابو العالیہ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل اسرا میں راوی : ثم لقی ارواح الانبیاء، فاثنوا علی ربھم فقال ابراھیم ثم موسٰی ثم داؤد ثم سلیمٰن ثم عیسٰی ثم ان محمد ا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اثنٰی علی ربہ فقال کلکم اثنی علی ربہ وانی مُثن علی ربی الحمد ﷲ الذی ارسلنی رحمۃ للعٰلمین وکافۃ للناس بشیرا ونذیرا و انزل علی الفرقان فیہ تبیان لکل شیئ وجعل امتی خیر امۃ اخرجت للناس وجعل امۃ وسطا وجعل امتی ھم الاولون وھم الاٰخرون ورفع لی ذکری وجعلنی فاتحاو خاتما فقال ابراھیم بھذا فضلکم محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثم انتھٰی الی السدرۃ فکلمہ تعالٰی عند ذٰلک فقال لہ قد اتخذتک خلیلا وھو مکتوب فی التوراۃ حبیب الرحمن ورفعت لک ذکرک فلا اذکر الا ان ذکرت معی وجعلت امتک ھم الاولون والاٰخرون وجعلتک اوّل النبیین خلقا واٰخرھم بعثا وجعلتک فاتحاو خاتما۱؎ ھذا مختصر ملتقطا۔
یعنی پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارواحِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ملے، پیغمبروں نے اپنے رب عزوجل کی حمد کی، ابراہیم پھر موسٰی پھر داؤد پھر سلیمان پھر عیسٰی علیہم الصلوٰۃ بترتیب حمد الٰہی بجا لائے اور اس کے ضمن میں اپنے فضائل و خصائص بیان فرمائے سب کے بعد محمد رسول اﷲصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے رب جل جلالہ کی ثنا کی اور فرمایا تم سب اپنے رب کی تعریف کرچکے اور اب میں اپنے رب کی حمد کرتا ہوں سب خوبیاں اﷲ کو جس نے مجھے سارے جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور تمام آدمیوں کی طرف بشارت دیتا اور ڈر سناتا مبعوث کیا اور مجھ پر قرآن اتارا جس میں ہر شیئ کا روشن بیان ہے اور میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت دی اور انہیں عدل و عدالت و اعتدال والی امت کیا اور انہیں کو اوّل اور انہیں کو آخر رکھا اور میرے واسطے میرا ذکر بلند فرمایا اور مجھے فاتحہ دیوان نبوت و خاتمہ دفتر رسالت بنایا،ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے فرمایا ان وجوہ سے محمدصلی اللہ تعالی علیہ وسلم تم سے ا فضل ہوئے پھر حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم سدرہ تک پہنچے، اس وقت رب عزجلالہ نے ان سے کلام کیا اور فرمایا میں نے تجھے اپنا خالص پیارا بنایا اور تیرا نام توریت میں حبیب الرحمن لکھا ہے، میں نے تیرے لئے تیرا ذکر اونچا کیا کہ میرا ذکر نہ ہو جب تک میرے ساتھ تیری یاد نہ آئے اور میں نے تیری امت کو یہ فضل دیا کہ وہی سب سے اگلے اور وہی سب سے پچھلے اور میں نے تجھے سب پیغمبروں سے پہلے پیدا کیا اور سب کے بعد بھیجا اور تجھے فاتح وخاتم کیا ؐ۔
 (۱ ؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیۃ سبحان الذی اسرٰی الخ ، المطبعۃ المیمنۃ مصر، ۱۵/ ۷ تا ۹)
Flag Counter