Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
125 - 150
شُبہ دوم:
لَعَنَ اﷲُ الْیھوْدَ وَالنَّصَارٰی۱؎
اﷲ تعالٰی یہود و نصاری پر لعنت فرمائے۔
 (۱؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور، قدیمی کتب خانہ کراچی، ۱/ ۱۷۷)
اقول:  وَالْمِرْزَائِیۃ لَعَنَھُمْ لَعْنًا کَبِیراً
(میں کہتا ہوں کہ مرزائیوں پر بھی بڑی لعنت ہو)
اوّلاً  :  اَنْبِیائِھِمْ ۲؂
میں اضافت استغراق کے لئے نہیں کہ موسٰی سے یحیٰی علیہما الصلوٰۃ والسلام تک ہر نبی کی قبر کو یہود و نصارٰی سب نے مسجد کرلیا ہو، یہ یقینا غلط ہے،
 (۲؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور، قدیمی کتب خانہ کراچی، ۱/ ۱۷۷)
جس طرح
وَقَتْلِھِمُ الْاَنْبِیاء بِغَیر حَقٍّ۳؂
(۳؂القرآن الکریم ۴/ ۱۵۵)
(انہوں نے انبیاء کو ناحق شہید کیا۔ت) میں اضافت ولام کوئی استغراق کا نہیں کہ نہ سب قاتل اور نہ سب انبیاء شہید کئے، قال اﷲ تعالٰی:
ففریقاکذبتم وفریقا تقتلون۴؂
 (۴؂القرآن الکریم ۲/ ۸۷)
 (انبیاء کے ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے ہو۔ت) اور جب استغراق نہیں تو بعض میں مسیح علیہ الصلوٰۃ والسّلام کا داخل کرلینا ادّعائے باطل و مردود ہے، یہود کے سب انبیاء نصارٰی کے بھی انبیاء تھے، یہود و نصارٰی کا ان میں بعض قبورِ کریمہ کو (مسجد بنا لینا) صدقِ حدیث کے لئے بس اور اس سے زیادہ مرتدین کی ہوس۔

فتح الباری شرح صحیح بخاری میں یہ اشکال ذکر کر کے کہ نصارٰی کے انبیاء کہاں ہیں، ان کے تو صرف ایک عیسٰی نبی تھے ان کی قبر نہیں، ایک جواب یہی دیا جو بتوفیقہ تعالٰی ہم نے ذکر کیا کہ:
اوالمراد بالا تخاذ اعم من ان یکون ابتداعًا او اتباعًا فالیہود ابتدعت والنصارٰی اتبعت، ولا ریب ان النصارٰی تعظم قبور کثیر من الانبیاء الذین تعظمھم الیہود۵؎
انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا نا عام ہے کہ ابتداً ہو یا کسی کی پیروی میں، یہودیوں نے ابتداء کی اور عیسائیوں نے پیروی کی، اور اس میں شک نہیں کہ نصارٰی بہت سے ان انبیاء کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں جن کی یہودی تعظیم کرتے ہیں۔
 (۵؎ فتح الباری شرح صحیح بخاری، کتاب الصلٰوۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۴۴۴)
ثانیا امام حافظ الشان (ابن حجر) نے دوسرا جواب یہ دیا کہ اس روایت میں اقتصار واقع ہوا، واقع یہ ہے کہ یہود اپنے انبیاء کی قبور کو مساجد کرتے اور نصارٰی اپنے صالحین کی قبروں کو، ولہٰذا صحیح بخاری حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں دربارہ قبور انبیاء تنہا یہود کا نام ہے:
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال قاتل اﷲ الیھود اتخذوا قبور انبیائھم مساجد ۱؎
فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ا ﷲ تعالٰی یہودیوں کو ہلاک فرمائے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا۔
 (۱؎صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ، قدیمی کتب خانہ کراچی۔۱/ ۶۲)
اور صحیح بخاری حدیث اُم سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا میں جہاں تنہا نصارٰی کا ذکر تھا صرف صالحین کا ذکر فرمایا، انبیاء کا نام نہ لیا کہ:
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اولٰئک قوم اذا مات فیھم العبد الصالح اوالرجل الصالح بنوا علٰی قبرہ مسجداً وصَوَّرُوْا فیہ تلک الصُّوَر ۲؎
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا نصارٰی وہ قوم ہے کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنالیتے اور اس میں تصویریں بناتے۔
 (۲؎صحیح البخاری کتاب الصلوٰۃ، قدیمی کتب خانہ ،کراچی۔۱/ ۶۲)
اور صحیح مسلم حدیث جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں یہود و نصارٰی دونوں کو عام تھا انبیاء و صالحین کو جمع فرمایا کہ:
سمعت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال الاوان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجدا۳؎
میں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا خبردار! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیتے تھے۔ ہمیشہ جمع طرق سے معنی حدیث کا ایضاح ہوتا ہے۔
 (۳؎صحیح مسلم کتاب المساجد، باب : النہی عن بناء المسجد علی القبور، قدیمی کتب خانہ، کراچی ۱/ ۲۰۱)
ثالثاً اقول چالاکی بھی سمجھئے! یہ فقط قبرِ عیسٰی ثابت کرنا نہیں بلکہ اس میں بہت اہم راز مضمر ہے، قادیانی مدعیِ نبوت تھا اور سخت جھوٹا کذاب جس کے سفید چمکتے ہوئے جھوٹ وہ محمدی والے نکاح، اور انبیاء کے چاند والے بیٹے قادیان و قادیانیہ کے محفوظ از طاعون رہنے کی پیشین گوئیاں وغیرہا ہیں، اور ہر عاقل جانتا ہے کہ نبوت اور جھوٹ کا اجتماع محال، اس سے قادیانی کا سارا گھر ہر عاقل کے نزدیک گھروندا ہوگیا اس لئے فکر ہوئی کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو معاذ اﷲ جھوٹا ثابت کریں کہ قادیانی کذاب کی نبوت بھی بن پڑے، اس کا علاج خود قادیانی نے اپنے ازالہ اوہام ص ۶۲۹ پر یہ کیا کہ ایک زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے، یہ اس مرتدکے اکٹھے چار سو کفر کہ ہر نبی کی تکذیب کفر ہے، بلکہ کروڑوں کفر ہیں کہ ایک نبی کی تکذیب تمام انبیاء اﷲ کی تکذیب ہے، قال اﷲ تعالٰی:
کذبت قوم نوح ن المرسلین۴؂
 (۴؂القرآن الکریم ۲۶/ ۱۰۵)
 (نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ت) تو اس نے چار سو ہر نبی کی تکذیب کی، اگر انبیاء ایک لاکھ (عہ۱) چوبیس ہزار ہیں۱؎ تو قادیانی کے چار کروڑ چھیانوے لاکھ کفر، اور اگر دو لاکھ(عہ۲) چوبیس ہزار۲؎ ہیں تو یہ اس کے آٹھ کروڑ چھیانوے لاکھ کفر ہیں، اور اب ان مرزائیوں نے خود یا اسی سے سیکھ کر اندارج کفر میں اور ترقی معکوس کر کے اسفل سافلین پہنچنا چاہا کہ معاذاﷲ معاذاﷲ سید المرسلین محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعلیہم اجمعین کا جھوٹ ثابت کریں، اس حدیث کے یہ معنے گھڑے کہ نصارٰی نے عیسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام کی قبر کو مسجد کر لیا، یہ صریح سپید جھوٹ ہے، نصارٰی ہر گز مسیح کی قبر ہی نہیں مانتے اسے مسجد کر لینا تو دوسرا درجہ ہے، تو مطلب یہ ہوا کہ دیکھو مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ( کے دشمنوں) نے (خاک بدہنِ ملعونان) کیسی صریح جھوٹی خبر دی پھر اگر ہمارا قادیانی نبی جھوٹ کے پھنکے اڑاتا تھا تو کیا ہوا قادیانی مرتدین کا اگر یہ مطلب نہیں تو جلد بتائیں کہ نصارٰی مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قبر کب مانتے ہیں، کہاں بتاتے ہیں، کس کس نصرانی نے اس قبر کو مسجد کر لیا جس کا مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ذکر کیا، اس مسجد کا روئے زمین پر کہیں پتا ہے؟ ان نصرانیوں کا دنیا کے پردے پر کہیں نشان ہے؟ اور جب یہ نہ بتا سکو اور ہرگز نہ بتا سکو گے تو اقرار کر و کہ تم نے محمد رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ذمّے معاذاﷲ دروغ گوئی کا الزام لگانے کو حدیث کے یہ معنی گھڑے اور:
ان الذین یؤذون اﷲ ورسولہ لعنھم اﷲ فی الدنیا والاٰخرۃ واعدّلھم عذابًا مھینا۱؂
 (۱؂القرآن الکریم ۳۳/ ۵۷)
 (بیشک جو ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲ کی لعنت دنیا اور آخرت میں اور اﷲ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ت) کی گہرائی میں پڑے الا لعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین، کیوں، حدیث سے موت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر استدلال کا مزا چکّھا؟
کذٰلک العذاب ولعذاب الاٰخرۃاکبر لو کانوا یعلمونo۲؂( واﷲ تعالٰی اعلم)
 (۲؂القرآن الکریم ۶۸/ ۳۳)
 (مار ایسی ہوتی ہے اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے۔ت)

( واﷲ تعالٰی اعلم)کتبہ العبد المذنب

احمد رضا البریلوی عفی عنہ

بمحمد ن المصطفٰی

صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم۔
عہ۱:کما رواہ احمد وابن حبان والحاکم والبیھقی وغیر ھم عن ابی ذرو ھٰؤلاء وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما ۱۲ منہ غفرلہ (م)
 (جیسا کہ احمدابن حبان، حاکم، بیہقی وغیر ہم نے ابو ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے نیز انہوں نے اور ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابن مردویہ نے ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔ت)
عہ۲:کما فی روایۃ علٰی ما فی شرح عقائد النسفی للتفتازانی قال خاتم الحفاظ لم اقف علیھا ۱۲ منہ غفرلہ (م) (جیسا کہ دوسری روایت میں ہے جس کو علامہ تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں ذکر فرمایا، خاتم الحفاظ نے فرمایا میں اس پر واقف نہیں ہوا ۱۲ منہ )
 (۱؎مسند احمد بن حنبل، حدیث ابو امامۃ الباہلی، دارالفکربیروت، ۵/ ۲۶۶)

(۲؎شرح عقائد النسفی داراشاعۃ العربیۃ قندھار، افغانستان، ص ۱۰۱)
Flag Counter