Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
124 - 150
ضمیمہ انجام آتھم ص ۷   :    آپ (یعنی عیسٰی) کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے (یعنی عیسٰی بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے) ورنہ کوئی پرہیزگار ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے، زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے، اپنے بال اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔

ص۶:حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا۔

ص۷: آپ کے ہاتھ میں سوا مکروفریب کے کچھ نہ تھا، آپ کا خاندان بھی نہایت ناپاک ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔ یہ پچاس کفر ہوئے۔

نیز اسی رسالہ ملعونہ میں ص ۴ سے ۸ تک بحیلہ باطلہ مناظرہ خود ہی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے، اﷲ عزوجل کے سچے رسو ل مسیح عیسٰی بن مریم کو نادان، شریر، مکار، بدعقل، زنا نے خیال والا، فحش گو، بدزبان، کٹیل، جھوٹا،چور، علمی عملی قوت میں بہت کچاّ، خلل دماغ والا، گندی گالیاں دینے والا، بدقسمت، نرافریبی، پیروِشیطان وغیرہ وغیرہ خطاب اس قادیانی دجّال نے دئیے اور اس کے تین کفر اوپر گزرے کہ اﷲ مسیح کو دوبارہ نہیں لا سکتا، مسیح فتنہ تھا، مسیح کے فتنے نے تباہ کردیا۔ یہ سب ستر کفر ہوئے اور ہزاروں ستر کی گنتی کیا، غرض تیس سے اوپر اوصاف اس دجّال مرتد نے اپنے مزعوم مسیح میں بتائے، اگر قادیانی خود اپنے لئے ان میں سے دس وصف بھی قبول کرلے کہ یہ شخص یعنی یہی قادیانی بدچلن، بدمعاش، فریبی، مکّار، زنانے خیال والا، کٹیل بھی جھوٹا، چور، گندی گالیوں والا، ابلیس کا چیلہ، کنجریوں کی اولاد، کسبیوں کا جنا ہے، زنا کے خون سے بنا ہے، تو ہم بھی اس کی مان لیں گے کہ یہ ضرور مثیل مسیح ہے مگر کون سے مسیح کا؟ اسی مسیح قبیح کا جو اس کا موہوم و مزعوم ہے، الالعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین۔
    مسلمانو! یہ سات فائدے محفوظ رکھئے، کیسا آفتاب سے زیادہ روشن ہوا کہ قادیانیوں کا مسئلہ وفات وحیاتِ مسیح چھیڑنا کیسا ابلیسی مکر، کیسی عبث بحث، کیسی تضییع وقت، کیسا قادیانی کے صریح کفروں کی بحث سے جان چھڑانا اور فضول زق زق میں وقت گنوانا ہے!

اس کے بعد ہمیں حق تھا کہ ان ناپاک وبے اصل و پا،در ہوا شبہوں کی طرف التفات بھی نہ کرتے جو انہوں نے حیاتِ رسول علیہ الصلوٰۃ و السلام پر پیش کئے، ایسی مہمل عیاریوں کیادیوں کا بہتر جواب یہی تھا کہ ہشت۔ پہلے قادیانی کے کفر اٹھاؤ یا اسے کافر مان کر توبہ کرو، اسلام لاؤ، اس کے بعد یہ فرعی مسئلہ بھی پوچھ لینا مگر ہم ان مرتدین سے قطع نظر کر کے اپنے دوست سائل سُنّی المذہب سے جوابِ شبہات گزارش کرتے ہیں، وَبِاﷲِ التَّوْفِیق۔
پہلا شُبہ:
کریمہ والذین یدعون من دُون اﷲ ا لاٰیۃ۔
اقول اولاً  : یہ شبہ مرتدانِ حال نے کافرانِ ماضی سے ترکہ میں پایا ہے، جب آیہ کریمہ:
انکم وما تعبدون من دون اﷲ حصب جھنم انتم لھا واردون۱؂
نازل ہوئی کہ بیشک تم اور جوکچھ تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو سب دوزخ کے ایندھن ہو تمہیں اس میں جانا ہے۔ مشرکین نے کہا کہ ملائکہ اور عیسٰی اور عزیر بھی تو اﷲ کے سوا پوجے جاتے ہیں، اس پر رب عزوجل نے ان جھگڑالو کا فروں کو قرآن کریم کی مراد بتائی کہ آیت بتوں کے حق میں ہے۔
(۱؂القرآن الکریم ۲۱ / ۹۸)
اِنّ الذین سبقت لھم منّا الحسنٰی ط اولٰئک عنہا مُبعدونo لا یسمعون حسیسھا۱؂۔
 (۱؂القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۱ و ۱۰۲)
ترجمہ : بیشک وہ جن کے لئے ہمارا بھلائی کا وعدہ ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں وہ اس کی بھنک تک نہ سنیں گے۔ قرآن کریم نے خود اپنا محاورہ بتایا جب بھی مرتدوں نے وہی راگ گایا۔ ابوداؤد کتاب الناسخ والمنسوخ میں اور فریابی عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم طبرانی و ابن مردویہ اور حاکم مع تصحیح مستدرک میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
لمّا نزلت انکم وما تعبدون من دون اﷲ حصب جہنم انتم لہا واردون فقال المشرکون الملٰئکۃُ وعیسٰی وعزیر یعبَدون من دون اﷲ فنزلت ان الذین سبقت لھم منا الحسنٰی اولئک عنہا مُبعدون۲؎ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ
 (الاٰیۃ) تو مشرکین نے کہا ملائکہ، حضرت عیسٰی اور حضرت عزیر کو بھی اﷲ تعالٰی کے سوا پوجا جاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی ان الذین سبقت (الاٰیۃ) بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں۔
 (۲ ؎ المستدرک کتاب التفسیر تفسیر سُورہ انبیاء دارالفکربیروت ۲/ ۳۸۵)
ثانیاً یدعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ یقینا مشرکین ہیں اور قرآنِ عظیم نے اہل کتاب کو مشرکین سے جدا کیا، ان کے احکام ان سے جدا رکھے، ان کی عورتوں سے نکاح صحیح ہے مشرکہ سے باطل، اِن کا ذبیحہ حلال ہوجائے گا، اُن کا مردار، قال اﷲ تعالٰی:
لم یکن الذین کفروا من اھل الکتٰب والمشرکین منفکّین حتٰی تاتیھم البینۃ۳؂
 (۳؂القرآن الکریم ۹۸/ ۱)
 (کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس دلیل نہ آئے۔ت)
وقال اﷲ تعالٰی:
ان الذین کفروا من اھل الکتٰب والمشرکین فی نارجھنّم خٰلدین فیھا اولٰئک ھم شرّالبریۃ۴؂
 (۴؂القرآن الکریم ۹۸/ ۶)
بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں، ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق سے بدتر ہیں(ت)۔
وقال اﷲ تعالٰی: ما یودّ الذین کفروا من اھل الکتٰب ولا المشرکین ان ینزل علیکم من خیر من ربکم۱؂
 (۱؂القرآن الکریم ۲/ ۱۰۵)
 (وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک، وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے۔ت)
وقال اﷲ تعالٰی: لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین اٰمنوا الیہود والذین اشرکوا ولتجدن اقربھم مودّۃ للذین اٰمنو الذین قالوا انا نصارٰی۲؂
 (۲؂القرآن الکریم ۵/ ۸۲)
ضرور تم مسلمانوں کا سب سے بڑھ کر دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے اور ضرور تم مسلمانوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان کو پاؤ گے جنہوں نے کہا کہ بیشک ہم نصارٰی ہیں ت۔
وقال اﷲ تعالٰی:
الیوم احل لکم الطیبٰت وطعام الذین اوتواالکتٰب حل لکم وطعامکم حل لھم والمحصنٰت من المؤمنٰت والمحصنٰت من الذین اوتوا الکتٰب من قبلکم۳؂
 (۳؂القرآن الکریم ۵/۵)
(آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے اور پارسا عورتیں مسلمان اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی۔ت)
ولا تنکحوا المشرکٰت حتی یؤمن۴؂
 (۴؂القرآن الکریم ۲/ ۲۲۱)
 (اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں۔ت)

جب قرآن عظیم "ید عُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ" میں نصارٰی کو داخل نہیں فرماتا اس "اَلَّذِین" میں مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کیونکر داخل ہوسکیں گے؟
ثالثاً سورت مکیہ ہے اور سوائے عاصم، قُراءِ سبعہ کی قرأت "تَدْعُوْنَ "بہ تائے خطاب،تو بُت پرست ہی مراد ہیں اور" اَلَّذِین یدعُونَ اَصْنَامٌ" (جنہیں وہ پوجتے ہیں وہ بُت ہیں۔ت)

رابعاً خود آیہ کریمہ طرح طرح دلیل ناطق کہ حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء عموماً اور حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والتسلیم خصوصاً مراد نہیں، جہاں فرمایا
اَمْوَات غَیر اَحْیاءٍ۱؂
 (۱؂القرآن الکریم ۱۶/ ۲۱)
 (مردے ہیں زندہ نہیں۔ت) اموات سے متبادریہ ہوتا ہے کہ پہلے زندہ تھے پھر موت لاحق ہوئی لہٰذا ارشاد ہوا "غَیر اَحْیاءٍ" یہ وہ مردے ہیں کہ نہ اب تک زندہ ہیں نہ کبھی تھے نرِے جماد ہیں، یہ بتوں ہی پر صادق ہے، 

تفسیر ارشاد العقل السلیم میں ہے: حیث کان بعض الاموات ممّا یعتریہ الحیاۃ سابقا اولاحقا کاجساد الحیوان والنطف التی ینشئھا اﷲ تعالٰی حیوانا احترز عن ذٰلک فقیل غیر احیاءٍ ای لا یعتریھا الحٰیوۃ اصلا فھی اموات علی الاطلاق ۲؎ بعض اموات وہ تھے جنہیں زندگی حاصل تھی جیسے مردہ حیوان کا جسم، اور بعض وہ ہیں جنہیں زندگی ملنے والی ہے مثلاً نطفہ جسے اﷲ تعالٰی مستقبل میں حیوان بنائے گا اس لئے ایسے اموات سے احتراز کیا اور فرمایا غیر احیاء یعنی یہ وہ اموات ہیں جنہیں زندگانی (ماضی یا مستقبل میں) بالکل حاصل نہیں لہٰذا یہ علی الاطلاق اموات ہیں۔
 (۲ ؎ ارشاد العقل السلیم (تفسیر ابی السعود) آیۃ ۱۶/ ۲۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۱۰۶)
خامساً رب عزوجل فرماتا ہے:
ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اﷲ امواتا ط بل احیاء عند ربھم یرزقونo فرحین بما اٰتٰھم اﷲ من فضلہ۳؂
(۳؂القرآن الکریم ۳/ ۱۶۱)
خبردار! شہیدوں کو ہرگز مردہ نہ جا نیو بلکہ وہ اپنے رب کے یہاں زندہ ہیں، روزی پاتے ہیں، اﷲ نے جو اپنے فضل سے دیا اس پر خوش ہیں۔
اور فرماتا ہے:
ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات ط بل احیاء ولکن لا تشعرون۴؂۔
 (۴؂القرآن الکریم ۲/ ۱۵۶)
جو اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیںمردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں تمہیں خبر نہیں۔

محال ہے کہ شہید کو تو مردہ کہنا حرام، مردہ سمجھنا حرام اور انبیاء معاذ اﷲ مردے کہے سمجھے جائیں، یقینا قطعاً ایماناً وہ "اَحْیاء غَیر اَمْوَاتٍ" (زندہ ہیں مردے نہیں۔ت) ہیں نہ کہ عیاذًا باﷲ "اموات غَیر اَحْیاءٍ" (مردے ہیں زندہ نہیں۔ت) جس وعدہ الٰہیہ کی تصدیق کے لئے ان کو عروضِ موت ایک آن کے لئے لازم ہے قطعاً شہداء کو بھی لازم ہے۔
کلّ نفس ذائقۃ الموت۵؂
 (۵؂ القرآن الکریم ۲۱/ ۳۵)
 (ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ت)

پھر جب یہ" اَحْیاء غَیر اَمْوَاتٍ" ہیں وہ یقینا ان سے لاکھوں درجے زائد "اَحْیا ء غَیر امواتٍ" ہیں نہ کہ "اَمْوات غَیر اَحْیاءٍ"۔

سادساً آیہ کریمہ میں "وَھُمْ قَدْ خُلِقُوْا" بصیغہ ماضی نہیں بلکہ
وَھُمْ یخلَقُوْنَ۱؂
(۱؂القرآن الکریم ۱۶/ ۲۰)
بصیغہ مضارع ہے کہ دلیل تجدّد واستمرار ہو یعنی بنائے گھڑے جاتے ہیں اور نئے نئے بنائے گھڑے جائیں گے، یہ یقینا بُت ہیں۔
سابعاً آیہ کریمہ میں ان سے کسی چیز کی خلق کا سلبِ کُلّی فرمایا کہ
لاَیخلُقُوْنَ شَیئاً۲؂
 (وہ کوئی چیز نہیں بناتے۔ت)
 (۲؂القرآن الکریم ۱۶/ ۲۰)
اور قرآن عظیم نے عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے بعض اشیاء کی خلق ثابت فرمائی،
واِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّین کَھَیئَۃِ الطَّیر۳؂۔
(۳؂القرآن الکریم ۵/ ۱۱۰)
(اور جب تو مٹی سے پرند کی مورت بناتا) اور ایجاب جزئیِ نقیض سلبِ کُلیّ ہے تو عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر صادق نہیں، نامناسب سے قطع نظر ہو تو اَمْوَات قضیہ مطلقہ عامہ ہے یا دائمہ  بر تقدیر ثانی یقینا انس وجن وملک سے کوئی مراد نہیں ہوسکتا کہ ان کیلئے حیات بالفعل ثابت ہے نہ کہ ازل سے ابد تک دائم موت، برتقدیر اوّل قضیہ کا اتنا مفاد کہ کسی نہ کسی زمانے میں ان کو موت عارض ہو، یہ ضرور عیسٰی وملائکہ علیہم الصلوٰۃ والسلام سب کے لئے ثابت، بیشک ایک وقت وہ آئے گا کہ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام وفات پائیں گے اور روز قیامت ملائکہ کو بھی موت ہے، اس سے یہ کب ثابت ہوا کہ موت ہوچکی، ورنہ "ید عُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ" میں ملائکہ بھی داخل ہیں، لازم کہ وہ بھی مر چکے ہوں، اور یہ باطل ہے۔
تفسیر انوارالتنزیل میں ہے: (اَمْوَات) حالاً اوماٰلاً غیر احیاءٍ بالذَّاتِ لیتناول کُلَّ معبودٍ۴؎ (مردے حال میں یا آئندہ غیر زندے بالذات تاکہ ہر معبود کو شامل ہو۔ت)
 (۴؎ انوارالتنزیل (تفسیر بیضاوی) آیۃ ۱۶/ ۲۱ مصطفٰی البابی مصر،۱/ ۲۷۰)
تفسیر عنایۃ القاضی میں ہے:
فالمراد مالا حٰیوۃ لہ سواء کان لہ حٰیوۃ ثم مات کعزیر او سیموت کعیسٰی والملٰئکۃ علیھم السلام اولیس من شانہ الحٰیوۃ کالا صنام۵؎
یعنی  ان اموات سے عام مراد ہے خواہ اس میں حیات کی قابلیت ہی نہ ہو جیسے بت، یا حیات تھی اور موت عارض ہوئی جیسے عزیر، یا آئندہ عارض ہونے والی ہے جیسے عیسٰی وملائکہ علیہم الصلوٰۃ والسلام۔
 (۵؎ عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی آیۃ ۱۶/ ۲۱، دار صادر بیروت، ۵/ ۳۲۲)
منکرین دیکھیں کہ ان کا شبہ ہر پہلو پر مردود ہے، وﷲ الحمد۔
Flag Counter