(۴) اس وقت حیات و وفاتِ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مسئلہ قدیم سے مختلف چلا آتا ہے مگر آخر زمانے میں ان کے تشریف لانے اور دجّال لعین کو قتل فرمانے میں کسی کو کلام نہیں، یہ بلا شبہ اہلسنّت کا اجماعی عقیدہ ہے تو وفات مسیح نے قادیانی کو کیا فائدہ دیا اور مغل بچہ، عیسٰی رسول اﷲ بے باپ سے پیدا ابن مریم کیونکر ہوسکا؟ قادیانی اس اختلاف کو پیش کرتے ہیں، کہیں اس کا بھی ثبوت رکھتے ہیں کہ اس پنجابی کے ابتداع فی الدین سے پہلے مسلمانوں کا یہ اعتقاد تھا کہ عیسٰی آپ تو نہ اتریں گے کوئی ان کا مثیل پیدا ہوگا، اسے نزول عیسٰی فرمایا گیا اور اس کو ابن مریم کہا گیا؟ اور جب یہ عام مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف ہے تو آیہ: یتبِعْ غَیر سَبِیل
(مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کرینگے اور کیا ہی بُری جگہ پلٹنے کی۔ت) کا حکم صاف ہے۔
(۵) مسیح سے مثیل مسیح مراد لینا تحریف نصوص ہے کہ عادتِ یہود ہے، بے دینی کی بڑی ڈھال یہی ہے کہ نصوص کے معنی بدل دیں
یحرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ۱
(۱القرآن الکریم ۵/ ۱۳)
(اﷲ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدل دیتے ہیں۔ت) ایسی تاویل گھڑنی نصوصِ شریعت سے استہزاء اور احکام وارشادات کو درہم برہم کر دینا ہے، جس جگہ جس شئی کا ذکر آیا، کہہ سکتے ہیں وہ شیئ خود مراد نہیں اس کا مثیل مقصود ہے، کیا یہ اس کی نظیر نہیں جو اباحیہ مُلا عِنہ کہا کرتے ہیں کہ نماز و روزہ فرض ہے نہ شراب و زنا حرام بلکہ وہ کچھ اچھے لوگوں کے نام ہیں جن سے محبت کا ہمیں حکم دیا گیا اور یہ کچھ بدوں کے جن سے عداوت کا ۔
(۶)بفرضِ باطل اینہم برعَلَم پھر اس سے قادیان کا مرتد، رسول اﷲ کا مثیل کیونکر بن بیٹھا؟ کیا اس کے کفر، اس کے کذب، اس کی وقاحتیں، اس کی فضیحتیں، اس کی خباثتیں، اس کی ناپاکیاں، اس کی بیباکیاں کہ عالم آشکار ہیں، چھپ سکیں گی؟ اور جہان میں کوئی عقل و دین والا ابلیس کو جبریل کا مثیل مان لے گا؟ اس کے خرو ارِہزار ہا کفریات سے مُشتے نمونہ، رسائل السوء والعقاب علی المسیح الکذاب وقہر الدیان علٰی مرتدٍ بقادیان و نور الفرقان و باب العقائد والکلام وغیرہا میں ملا حظہ ہوں کہ یہ نبیوں کی علانیہ تکذیب کرنے والا، یہ رسولوں کو فحش گالیاں دینے والا، یہ قرآن مجید کو طرح طرح رد کرنے والا، مسلمان بھی ہونا محال، نہ کہ رسول اﷲ کی مثال، قادیانیوں کی چالاکی کہ اپنے مسیلمہ کے نامسلم ہونے سے یوں گریز کرتے اور اس کے ان صریح ملعون کفروں کی بحث چھوڑ کر حیات و وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑتے ہیں۔
(۷) مسیح رسول اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشہور اوصافِ جلیلہ اور وہ کہ قرآن عظیم نے بیان کئے، یہ تھے کہ اﷲ عزّوجل نے ان کو بے باپ کے کنواری بتول کے پیٹ سے پیدا کیا نشانی سارے جہان کے لئے:
بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا، نہ میں بدکار ہوں، کہا یونہی ہے، تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لئے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ امر ٹھہر چکا ہے۔(ت)
انہوں نے پیدا ہوتے ہی کلام فرمایا:
تو اس کے نیچے والے نے اسے آواز دی کہ تو غم نہ کر، تیرے رب نے تیرے نیچے نہر بہادی ہے۔
علی قراء ۃ من تحتہا بالفتح فیہما وتفسیرہ بالمسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام (معناً)۲؎
اس قرأ ت پر جس میں مَنْ کی میم مفتوح اور تَحْتَہَا کی دوسری تاء مفتوح ہے اور اس کی تفسیر حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کی گئی ہے۔
(۲ ؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر طبری) القول فی تاویل قولہ تعالٰی فنادٰہا من تحتہا الخ مطبعہ میمنہ مصر ۱۶/ ۴۵)
انہوں نے گہوارے میں لوگوں کو ہدایت فرمائی۔
یکلم الناس فی المھد وکہلا۳
(۳القرآن الکریم ۳/ ۴۶)
لوگوں سے باتیں کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں۔(ت)
انہیں ماں کے پیٹ یا گود میں کتاب عطا ہوئی، نبوت دی گئی،
قال انی عبداﷲ اٰتٰنی الکتٰب وجعلنی نبیا۴
(۴القرآن الکریم ۱۹/ ۳۰)
بچہ نے فرمایا میں ہوں اﷲ کا بندہ، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی) کیا۔
وہ جہاں تشریف لے جائیں برکتیں ان کے قدم کے ساتھ رکھی گئیں۔ وجعلنی مبٰرکًا اینما کنت۵
اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں۔(ت) برخلاف کفرِطاغیہ قادیان کہ کہتا ہے جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کردیا۔
(۵القرآن الکریم ۱۹/ ۳۱)
انہیں اپنے غیبوں پر مسلّط کیا،
عٰلم الغیب فلا یظھر علٰی غیبہ احداo الاّ من ارتضٰی من رسولٍ ۶۔
(۶القرآن الکریم ۷۲/ ۲۶،۲۷)
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلّط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(ت)
جس کا ایک نمونہ یہ تھا کہ لوگ جو کچھ کھاتے اگرچہ سات کوٹھڑیوں میں چُھپ کر،اور جو کچھ گھروں میں ذخیرہ رکھتے اگرچہ سات تہ خانوں کے اندر، وہ سب ان پر آئینہ تھا۔
وانبئکم بما تا کلون وما تدخرون فی بیوتکم۱
اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔(ت)
(۱القرآن الکریم ۳/ ۴۹)
انہیں تورات مقدس کے بعض احکام کا ناسخ کیا،
ومصدقالما بین یدی من التورٰۃ ولاُحل لکم بعض الذی حُرِّم علیکم۲
اور تصدیق کرتا آیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی اور اس لئے کہ حلال کروں تمہارے لئے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں۔(ت)
(۲القرآن الکریم ۳/ ۵۰)
انہیں قدرت دی کہ مادر زاد اندھے اور لا علاج برص کو شفا دیتے،
وتبرئ الاکمہ والابرص باذنی۳
اور تو مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے شفا دیتا۔(ت)
(۳القرآن الکریم ۵/ ۱۱۰)
انہیں قدرت دی کہ مردے زندہ کرتے،
واذ تخرج الموتٰی باذنی۴ واُحی الموتٰی باذن اﷲ۵
اور جب تو مردوں کو میرے حکم سے زندہ نکالتا۔اور میں مردے جِلاتا ہوں اﷲ کے حکم سے۔(ت)
(۴القرآن الکریم ۵/ ۱۱۰) (۵القرآن الکریم ۳/ ۴۹)
ان پر اپنے وصفِ خالقیت کا پر تو ڈالا کہ مٹی سے پرند کی صورت خلق فرماتے اور اپنی پھونک سے اس میں جان ڈالتے کہ اُڑتا چلا جاتا،
اور جب تو مٹی سے پرند کی سی مورت میرے حکم سے بناتا پھراس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا۔(ت)
(۶القرآن الکریم ۵/ ۱۱۰)
ظاہر ہے کہ قادیانی میں ان میں سے کچھ نہ تھا پھر وہ کیونکر مثیل مسیح ہوگیا؟
اخیر کی چار یعنی مادر زاد اندھے اور ابرص کو شفاء دینا، مردے جِلانا، مٹی کی مورت میں پھونک سے جان ڈال دینا، یہ قادیانی کے دل میں بھی کھٹکے کہ اگر کوئی پوچھ بیٹھا کہ تو مثیل مسیح بنتا ہے ان میں سے کچھ کر دکھا اور وہ اپنا حال خوب جانتا تھا کہ سخت جھوٹا ملوم ہے اور الٰہی برکات سے پورا محروم، لہٰذا اس کی یوں پیش بندی کی کہ قرآن عظیم کو پسِ پشت پھینک کر رسول اﷲ کے روشن معجزوں کو پاؤں تلے مل کر صاف کہہ دیا کہ معجزے نہ تھے مسمریزم کے شعبدے تھے، میں ایسی باتیں مکروہ نہ جانتا تو کر دکھاتا، وہی ملاعنہ مشرکین کا طریقہ اپنے عجز پریوں پردہ ڈالنا کہ
لو نشاء لقلنا مثل ھذا۱
اگر ہم چاہتے تو ایسا کلام کہتے۔
(۱القرآن الکریم ۸/ ۳۱)
ہم چاہتے تو اس قرآن کا مثل تصنیف کر دیتے، ہم خود ہی ایسا نہیں کرتے، الا لعنۃ اﷲ علی الکٰفرین۔
قادیانی خَذَ لَہُ اﷲ کے ازالہ اوہام ص ۳،۴،۵ و نوٹ آخر میں ۱۵۱ تا آخر صفحہ ۱۶۲ ملا حظہ ہوں جہاں اس نے پیٹ بھر کر یہ کفر بکے ہیں یا ان کی تلخیص رسالہ قہر الدیان ص ۱۰ تا ۱۵ مطالعہ ہوں، یہاں دو چار صرف بطور نمونہ منقول:
ملعون ازالہ ص ۳: احیاءِ جسمانی کچھ چیز نہیں۔
ملعون ازالہ ص ۴: کیا تالاب کا قصّہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا۔
ملعون ازالہ ص ۱۵۱ :(عہ) شعبدہ بازی اور دراصل بے سود، عوام کو فریفتہ کرنے والے مسیح اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کرتے رہے، بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے جس میں کلوں کے ایجاد میں عقل تیز ہوجاتی ہے، بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز کرتی ہیں، بمبئی کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں، یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے اعجاز مسمریزمی بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں، سلبِ امراض مسمریزم کی شاخ ہے ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں جو اس سے سلبِ امراض کرتے ہیں، مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں، مسیح مسمریزم میں کمال رکھتے تھے،یہ قدر کے لائق نہیں، یہ عاجز اس کو مکروہ قابل نفرت نہ سمجھتا تو ان عجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا، اس عمل کا ایک نہایت بُرا خاصہ ہے جو اپنے تئیں اس میں ڈالے روحانی تاثیروں میں بہت ضعیف اورنکّما ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل (مسمریزم) سے اچھا کرتے، مگر ہدایت توحید اور دینی استقامتوں کے دلوں میں قائم کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے، ان پرندوں میں صرف جھوٹی حیات، جھوٹی جھلک نمودار ہوجاتی تھی، مسیح کے معجزات اس تالاب کی وجہ سے بے رونق بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہرِ عجائبات تھا، بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل تھا جیسے سامری کا گوسالہ۔
عہ: ازالہ اوہام، مطبع ریاض الہند ص ۱۲۱۔۱۱۳
مسلمانو! دیکھا، ان ملعون کلمات میں وہ کون سی گالی ہے جو رسول اﷲ کو نہ دی اور وہ کونسی تکذیب ہے جو آیاتِ قرآن کی نہ کی، اتنے ہی جملوں میں تینتیس(۳۳) کفر ہیں۔
بہرحال یہ تو ثابت ہوا کہ یہ مرتد مثیل مسیح نہیں،مسلمانوں کے نزدیک یوں کہ وہ نبی مرسل اولواالعزم صاحب معجزات وآیات بینات، اور یہ مردود و مطرود و مرتد وموردِ آفات، اور خود اس کے نزدیک یوں کہ معاذاﷲ وہ شعبدہ باز بھانمتی مسمریزمی تھے، روحانی تاثیروں میں ضعیف نکمّے اوریہ ڈال کا ٹوٹا مقدس مہذب برگزیدہ ہادی، الا لعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین خبردار! ظالموں پر خدا کی لعنت۔(ت)
ہاں ایک صورت ہے، اس نے اپنے زعمِ ملعون میں مسیح کے یہ اوصاف گنے، دافع البلاء ص ۴: مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسروں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحیٰی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ (یحیٰی) شراب نہ پیتا تھا، کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی، اسی وجہ سے خدا نے یحیٰی کا نام حصور رکھا مسیح نہ رکھا کہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔۱؎