رسالہ
الجُراز الدّیانی علی المرتدّ القادیانی
۱۳۴۰ھ
(قادیانی مرتد پر خدائی خنجر)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۷۹۔۸۰: از پیلی بھیت مسؤلہ شاہ میر خاں قادری رضوی ۳ محرم الحرام ۱۳۴۰ھ
اعلٰی حضرت مدظلکم العالی، السلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہ، اس میں شک نہیں آپ کی خدمت میں بہت سے جواب طلب خطوط موجود ہوں گے لیکن عریضہ ہذا بحالت اشد ضرورت ارسالِ خدمت ہے امید کہ بواپسی جواب سے شرف بخشا جائے۔
(۱) آیت کریمہ:
والذین یدعون من دون اﷲ لایخلقون شیئا وھم یخلقونo اموات غیراحیاء ط وما یشعرون ایان یبعثونo۱
(اور اﷲ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں، مردے ہیں زندہ نہیں، اور انہیں خبر نہیں لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔ت)
(۱القرآن الکریم ۱۶/ ۲۰و۲۱)
یہ ظاہر کرتی ہے کہ ماسوا اﷲ تعالٰی کے جس کسی کو خدا کہا جاتاہے وہ خالق نہ ہونے اور مخلوق ہونے کے علاوہ مردہ ہے زندہ نہیں۔
بنا بریں عیسٰی علیہ السلام کو بھی جبکہ نصارٰی خدا کہتے ہیں تو کیوں نہ ان کو مردہ تسلیم کیا جائے اور کیوں ان کو آسمان پر زندہ مانا جائے؟
اﷲ تعالٰی یہود و نصارٰی پر لعنت فرمائے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔(ت)
(۱ ؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور، قدیمی کتب خانہ کراچی، ۱/ ۱۷۷)
اس سے ظاہر ہے کہ نبیِ یہود حضرت موسٰی ونبیِ نصارٰی حضرت عیسٰی علٰی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام کی قبریں پوجی جاتی تھیں۔
حسب ارشاد باری تعالٰی عزّا سمہ
(پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اﷲ و رسول کے حضور رجوع کرو۔ت)
(۲القرآن الکریم ۴/ ۵۹)
آیاتِ الہٰیہ، احادیث نبویہ ثبوتِ مماتِ عیسٰی علیہ السلام میں موجود ہوتے ہوئے کیونکر ان کو زندہ مان لیا جائے؟
میں ہوں حضور کا ادنٰی خادم
شاہ میر خاں قادری رضوی غفرلہ ربّہ ساکن پیلی بھیت
۳ محر م الحرام ۱۳۴۰ھ
الجواب
نَحْمَدُ ہ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیم ط
(۱) قبلِ جواب ایک امر ضروری کہ اس سوال و جواب سے ہزار درجہ اہم ہے، معلوم کرنا لازم، بے دینوں کی بڑی راہِ فرار یہ ہے کہ انکار کریں ضروریاتِ دین کا، اور بحث چاہیں کسی ہلکے مسئلے میں جس میں کچھ گنجائش دست وپا زدن ہو۔
قادیانی صدہا درجہ سے منکر ضروریاتِ دین تھا اور اس کے پس ماندے حیات و وفاتِ سیدنا عیسٰی رسول اﷲ علی نبیّنا الکریم وعلیہ صلوات اﷲ وتسلیمات اﷲ کی بحث چھیڑتے ہیں، جو ایک فرعی مسئلہ خود مسلمانوں میں ایک نوع کا اختلافی مسئلہ ہے جس کا اقرار یا انکار کفر تو درکنار ضلال بھی نہیں (فائدہ نمبر ۴ میں آئے گا کہ نزول حضرت عیسٰی علیہ السلام اہلسنّت کا اجماعی عقیدہ ہے) نہ ہرگز وفاتِ مسیح ان مرتدین کو مفید، فرض کر دم کہ رب عزوجل نے ان کو اس وقت وفات ہی دی، پھر اس سے انکا نزول کیونکر ممتنع ہوگیا؟ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی موت محض ایک آن کو تصدیق وعدہ الہٰیہ کے لئے ہوتی ہے، پھر وہ ویسے ہی حیاتِ حقیقی دنیاوی و جسمانی سے زندہ ہوتے ہیں جیسے اس سے پہلے تھے، زندہ کا دوبارہ تشریف لانا کیا دشوار؟ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
(پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے، پھر انہیں بلا، وہ تیرے پاس چلے آئیں گے دوڑتے ہوئے۔ت)
(۴القرآن الکریم ۲/ ۲۶۰)
ہاں مشرکین ملاعنہ منکرین بعث اسے محال جانتے ہیں اور دربارہ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام قادیانی بھی اس قادر مطلق عزّ جلالہ کو معاذ اﷲ صراحۃً عاجز مانتا اور دافع البلاء کے صفحہ ۳۴ پر یوں کفر بکتا ہے: خدا ایسے شخص کو پھر دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنے ہی نے دنیا کو تباہ کردیا ہے۵۔
(۵دافع البلاء مطبوعہ ربوہ ص ۳۴)
مشرک و قادیانی دونوں کے رد میں اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(تو کیا ہم پہلی بار بنا کر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شُبہ میں ہیں۔ت)
(۱القرآن الکریم ۵۰/ ۱۵)
جب صادق و مصدوق صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے نزول کی خبر دی اور وہ اپنی حقیقت پر ممکن و داخل زیر قدر ت و جائز، تو انکار نہ کرے گا مگر گمراہ۔
(۳) اگر وہ حکم افراد کو بھی عام مانا جائے تو موت بعدِ استیفائے اجل کے لئے ہے، اس سے پہلے اگر کسی وجہ خاص سے اماتت ہو تو مانع اعادت نہیں بلکہ استیفائے اجل کے لئے ضرور اور ہزاروں کے لئے ثابت ہے، قال اﷲ تعالٰی:
(اے محبوب ! کیا تم نے نہ دیکھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اﷲ نے ان سے فرمایا مرجاؤ، پھر انہیں زندہ فرمادیا۔ت)
قتادہ نے کہا:
(اﷲ تعالٰی نے ان کو سزا کے طور پر موت دی پھر زندہ کر دئیے گئے تاکہ اپنی مقررہ عمر کو پورا کریں، اگر ان کی مقررہ عمر پوری ہوجاتی تو دوبارہ نہ اٹھائے جاتے۔ت)
(۳؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر طبری) القول فی تاویل قولہ تعالٰی الم تر الی الذین الآیۃ المطبعۃ المیمنہ مصر ۲/ ۳۴۷)