Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
121 - 150
معجزات مسیح کی تحقیر وانکار۔
ت۵۳تا۵۷  (۳۴) :    یہ جو مثیل مسیح بنا اور اس پر لوگوں نے مسیح کے معجزے مثلاً مردے جِلانا اس سے طلب کئے تو صاف جواب دیتا ہے ص ۳ ''احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں، احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے''۔ دیکھو وہ ظاہر باہر قاہر معجزہ جسے قرآن عظیم نے جا بجا کمال تعظیم کے ساتھ بیان فرمایا اور آیۃ اﷲ ٹھہرایا، قادیانی کیسے کھلے لفظوں میں اس کی تحقیر کرتا ہے کہ وہ کچھ نہیں، پھر اس کے متصل کہتا ہے ص۴،۔ ''ما سوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء یا غلط فہمی سے گھڑے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا بلکہ مسیح کے معجزات پر جس قدر اعتراض ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق پر ایسے شبہات ہوں، کیا تالاب کاقصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا''۔

دیکھو''کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا'' کہہ کر ان کے تمام معجزات سے کیسا صاف انکار کیا اور تالاب کے قصّے سے اور بھی پانی پھیر دیا اور آخر میں لکھا ص ۴ و ۵ ''زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں ہر گز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کررہے ہیں۔''

غرض اپنی مسیحیت قائم رکھنے کو نہایت کھلے طور پر تمام معجزاتِ مسیح وتصریحاتِ قرآن عظیم سے صاف منکر ہے اور پھر مہدی و رسول و نبی ہونے کا ادّعا، مسلمان تو مکذّبِ قرآن کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے، قطعاً کافر مرتد زندیق بے دین ہے نہ کہ نبی ورسول بن کر اور کفر پر کفر چڑھے الا لعنۃ اﷲ علی الکفرٰین (خبردار! کا فروں پر اﷲ کی لعنت ہے۔ت) اور اس کذاب کا کہنا کہ مسیح علیہ الصلوٰۃ و السلام خود اپنے معجزے سے منکر تھے، رسول اﷲ پر محض افتراء اور قرآنِ عظیم کی صاف تکذیب ہے، قرآنِ عظیم تو مسیح صادق سے یہ نقل فرماتا ہے کہ:
انی قد جئتکم باٰیۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیرفانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اﷲ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتٰی باذن اﷲ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذٰلک لاٰیۃ لکم ان کنتم مؤمنین  ۱؂
(۱؂  القرآن الکریم ۳/ ۴۹)
 بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب سے یہ معجزے لے کر آیا ہوں کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی صورت بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ خدا کے حکم سے پرند ہوجاتی ہے اور میں بحکم خدا مادر زاد اندھے اور بدن بگڑے کو اچھا کرتا اور مردے زندہ کرتا ہوں، اور تمہیں خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے اور جو گھروں میں اٹھا رکھتے ہو، بیشک اس میں تمہارے لئے بڑا معجزہ ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
پھر مکرّر فرمایا:
وجئتکم بایۃ من ربکم فاتقوا اﷲ واطیعون۱؂
میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بڑے معجزات لے کر آیا تو اﷲ سے ڈرو اور میرا حکم مانو اور یہ قرآن کا جھٹلانے والا ہے کہ انہیں اپنے معجزات سے انکار تھا۔

کیوں مسلمانو! قرآن سچا یا قادیانی؟ضرور قرآن سچا ہے اور قادیانی کذّاب جھوٹا، کیوں مسلمانو! جو قرآن کی تکذیب کرے وہ مسلمان ہے یا کافر؟ضرور کافر ہے، ضرور کافر بخدا۔
(۱؂ القرآن الکریم ۳/ ۵۰)
ت۵۸و۵۹  (۳۵)  : اسی بکر فکر قادیانی کے ازالہ شیطانی میں آخر ص ۱۶۱ سے آخر ۱۶۲ تک تو نوٹ میں پیٹ بھر کر رسول اﷲ و کلمۃ اﷲ کو وہ گالیاں دیں اور آیات اﷲ و کلام اﷲ سے وہ مسخریاں کیں جن کی حد ونہایت نہیں، صاف لکھ دیا کہ جیسے عجائب انہوں نے دکھائے عام لوگ کرلیتے تھے، اب بھی لوگ ویسی باتیں کردکھاتے ہیں۔

ت۶۰   (۳۶) :  بلکہ آجکل کے کرشمے ان سے زیادہ بے لاگ ہیں۔

ت ۶۱ و ۶۲   (۳۷)   : وہ معجزے نہ تھے، کل کا دَور تھا عیسٰی نے اپنے باپ بڑھئی کے ساتھ بڑھئی کا کام کیا تھا، اس سے یہ کلیں بنانی آگئی تھیں۔

ت  ۶۳    (۳۸)  :    عیسٰی کے سب کرشمے مسمریزم سے تھے۔

(۳۹) :   وہ جھوٹی جھلک تھی۔

(۴۰) :   سب کھیل تھا، لہو ولعب تھا۔

ت۶۴ (۴۱) :  سامری جادوگرکے گئوسالے کے مانند تھا۔

ت ۶۵   (۴۲) :    بہت مکروہ و قابلِ نفرت کام تھے۔

ت۶۶ (۴۳) :    اہل کمال کوایسی باتوں سے پرہیز رہا ہے۔

ت۶۷ (۴۴) :  عیسٰی روحانی علاج میں بہت ضعیف اورنکمّا تھا۔

ت۶۸:   وہ ناپاک عبارات بروجہ التقاط یہ ہیں ص ۱۵۱: انبیاء کے معجزات دو قسم ہیں، ایک محض سماوی جس میں انسان کی تدبیر و عقل کو کچھ دخل نہیں جیسے شق القمر، دوسرے عقلی جو خارقِ عادت عقل کے ذریعہ سے ہوتے ہیں جو الہام سے ملتی ہے جیسے سلیمان کا معجزہ صرح ممرد من قواریر (القرآن الکریم ۲۷/ ۴۴) ( شیشے جڑا صحن ہے۔ت)

     بظاہر مسیح کا معجزہ سلیمان کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دونوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے جو شعبدہ بازی اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے، وہ لوگ جو سانپ بنا کر دکھلادیتے اور کئی قسم کے جانور تیار کر کے زندہ جانوروں کی طرح چلادیتے، مسیح کے وقت میں عام طور پر ملکوں میں تھے سو کچھ تعجب نہیں کہ خدائے تعالٰی نے مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا پھونک مارنے پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ یا پیروں سے چلتا ہو کیونکہ مسیح اپنے باپ (عہ۱) یوسف کے ساتھ بائیس (۲۲) برس تک نجاری کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایسا ہے جس میں کلوں کے ایجاد میں عقل تیز ہوجاتی ہے پس کچھ تعجب نہیں کہ مسیح نے اپنے دادا(عہ۲) سلیمان کی طرح یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو، ایسا معجزہ عقل سے بعید بھی نہیں، حال کے زمانہ میں اکثر صنّاع ایسی چڑیا ں بنالیتے ہیں کہ بولتی بھی ہیں، ہلتی بھی ہیں۔ دم بھی ہلاتی ہیں، اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں، بمبئی اور کلکتے میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں (عہ۳) ماسوا اس کے یہ قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ مسمریزم میں ایسے ایسے عجائبات ہیں،سو یقینی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اس فن میں مشق والا مٹی کا پرند بنا کر پرواز کرتا دکھادے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ کچھ اندازہ کیا گیا کہ اس فن کی کہاں تک انتہا ہے(عہ۴) سلبِ امراض عمل الترب (مسمریزم) کی شاخ ہے، ہر زمانے میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس عمل سے سلب امراض کرتے ہیں اور مفلوج مبروص ان کی توجہ سے اچھے ہوتے ہیں، بعض نقشبندی وغیرہ نے بھی ان کی طرف بہت توجہ کی تھی، محی الدین ابن عربی کو بھی اس میں خاص مشق تھی، کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں، اور یقینی طور پر ثابت ہے کہ مسیح بحکم الہٰی اس عمل (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو ان عجوبہ نمائیوں میں ابن مریم سے کم نہ رہتا، اس عمل کا ایک نہایت برا خاصہ یہ ہے کہ جو اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے وہ روحانی تاثیروں میں جو روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں، بہت ضعیف اور نکما ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ گو مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت و توحید اور دینی استقامتوں کے دلو ں میں قائم کرنے میں ان کا نمبر ایسا کم رہا کہ قریب قریب ناکام رہے، جب یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں صرف جھوٹی حیات جھوٹی جھلک نمودار ہوجاتی تھی تو ہم اس کو تسلیم کرچکے ہیں، ممکن ہے کہ عمل الترب (مسمریزم) کے ذریعہ سے پھونک میں وہی قوت ہوجائے جو اس دخان میں ہوتی ہے جس سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہ تھے بلکہ وہ ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ خدا تعالٰی نے صاف فرمادیا ہے کہ وہ ایک فطری طاقت تھی جو ہر فردِ بشر میں ہے، مسیح کی کچھ خصوصیت نہیں، چنانچہ اس کا تجربہ اس زمانے میں ہورہا ہے، مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق و بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے پہلے مظہرِ عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے لیکن بعض بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے، اس وقت تو کوئی تالاب بھی نہ تھا، یہ بھی ممکن (عہ) ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر تھی، بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل تھا جیسے سامر ی کا گوسالہ۔
عہ۱: اس کا باپ، دیکھئے مسیح و مریم دونوں کو سخت گالی ہے۔

عہ۲:  اس کا دادا، دیکھئے وہی مسیح و مریم کو گالی ہے۔

عہ ۳:  یہاں تک تو مسیح کا معجزہ کل دبانے سے تھا، اب دوسرا پہلو بدلتا ہے کہ مسمریزم تھا۔

عہ۴ :  یہاں تک مسیح علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پرند بنانے پر استہزاء تھے اب اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرنے پر مسخرگی کرتا ہے۔

عہ:یہ تیسرا پہلو ہے کہ حضرت مسیح اس مٹی کے پرند میں تالاب کی مٹی ڈال دیتے جس میں روح القدس کا اثر تھا، اس کے زور سے حرکت کرتا جیسے سامری نے اسپِ روح القدس کے پاؤں تلے کی خاک بچھڑے میں ڈال دی بولنے لگا۔
مسلمانو! دیکھا کہ اس دشمن اسلام نے اﷲ عزوجل کے سچے رسول کو کیسی مغلظ گالیاں دیں، کون سی ناگفتنی اس ناشد نی نے ان کے حق میں اٹھا رکھی، ان کے معجزوں کو کیسا صاف صاف کھیل اور لہو ولعب و شعبدہ و سحر ٹھہرایا، ابرائے اکمہ وابرص کو مسمریزم پر ڈھالا اور معجزہ پرند میں تین احتمال پیدا کئے، بڑھئی کی کل یا مسمریزم یا کراماتی تالاب کا اثر،اور اسے صاف سامری کا بچھڑا بتادیا بلکہ اس سے بدتر کہ سامری نے جو اسپِ جبریل کی خاکِ سُم اٹھائی وہ اسی کو نظر آئی دوسرے نے اطلاع نہ پائی،
قال اﷲ تعالٰی:
قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتھا وکذٰلک سوّلت لی نفسی۔۱؂
سامری نے کہا میں نے وہ دیکھا جو انہیں نظر نہ آیا تو میں نے اسپِ رسول کی خاکِ قدم سے ایک مٹھی لے کر گوسالے میں ڈال دی کہ وہ بولنے لگا نفسِ امّارہ کی تعلیم سے مجھے یونہی بھلا معلوم ہوا۔
 (۱؂ القرآن الکریم ۲۰/ ۹۶)
مگر مسیح کاکرتب ایک دست مال تھا جس سے دنیا جہان کوخبر تھی، مسیح پیدا بھی نہ ہوئے تھے جب تالاب کی کرامات شہرہ آفاق تھیں، تو اﷲکا رسول یقینا اس کافر جادوگر سے بہت کم رہا، اور مزہ یہ ہے کہ مسیح کے وقت میں بھی ایسے شعبد ے تماشے بہت ہوتے تھے پھرمعجزہ کدھر سے ہوا، اﷲ اﷲ رسولوں کو گالیاں، معجزات کے انکار،قرآن کی تکذیبیں اور پھر اسلام باقی ہے
ع    چوں وضوئے محکم بی بی تمیزہ
 (جیسے تمیزہ بی بی کا وضوئے محکم ہو۔ت)

اس سے تعجب نہیں کہ ہر مرتد جو اتنے بڑے دعوے کر کے اٹھے اسے ایسے کفروں سے چارہ نہیں، اندھے تو وہ ہیں جو یہ کچھ دیکھتے ہیں پھر اتنے بڑے مکذبِ قرآن و دشمنِ انبیاء وعدوّ الرحمن کو امامِ وقت مسیح و مہدی مان رہے ہیں۔
ع گر مسیح ایں ست لعنت برمسیح
 (اگر یہی مسیحیت ہے ایسی مسیحیت پر لعنت۔ت)

اور ان سے بڑھ کر اندھا وہ ہے جو شد بد پڑھ لکھ کر اس کے ان صریح کفروں کو دیکھ بھال کر کہے میں جناب (عہ) مرزا صاحب کو کافر نہیں کہتا خطا پر جانتا ہوں، ہاں شاید ایسوں کے نزدیک کافر وہ ہوگا جو انبیاء اﷲ کی تعظیم کرے ، کلام اﷲ کی تصدیق وتکریم کرے ولا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم۔
کذٰلک یطبع اﷲ علی کل قلب متکبر جبار۔
اﷲ یوں ہی مہر کردیتا ہے متکبر سرکش کے سارے دل پر۔۱؂
 (۱؂ القرآن الکریم ۴۰/ ۳۵)
عہ: ایسوں کو شایداتنی بھی خبر نہیں کہ جو مخالفِ ضروریات دین کو کافر نہ جانے خود کافر ہے۔

من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۲؂۔

جس نے اس کے کفر اور عذاب میں شک کیا وہ خود کافر ہے۔
 (۲ ؎ درمختار باب المرتد ، مطبع مجتبائی دہلی، ۱/ ۳۵۶)
جب تکذیب قرآن و سب وشتم انبیاء کرام بھی کفر نہ ٹھہرے تو خدا جانے آریہ وہنود ونصارٰی نے اس سے بڑھ کر کیا جرم کیا ہے کہ وہ کفار ٹھہرائے جائیں، یا شاید ایسوں کے دھرم میں تمام دنیا مسلمان ہے کافر کوئی تھا نہ ہے نہ ہو، یہ بھی معجزاتِ مسیح کی طر ح قرآن کے بے اصل کہ فلانا مسلم فلاناکافر،
 ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
تنبیہ:
ان عباراتِ ازالہ سے بحمداﷲ تعالٰی اس جھوٹے عذر معمولی کاازالہ بھی ہوگیا جو عبارات ضمیمہ انجام آتھم کی نسبت بعض مرزائی پیش کرتے ہیں کہ یہ تو عیسائیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ و السلام کو گالیاں دی ہیں۔
اوّلاً : ان عبارات کے علاوہ جو گالیاں اس کے اور رسائل مثل اعجاز احمدی ودافع البلاء وکشتی نوح و اربعین ومواہب الرحمن وغیرہ میں اہلی وگہلی پھر رہی ہیں، وہ کس عیسائی کے مقابلہ میں ہیں، مثل مشہور ہے، دلہن کا منہ کالا، مشاطہ کب تک ہاتھ دئے رہے گی۔

ثانیا کس شریعت نے اجازت دی ہے کہ کسی بد مذہب کے مقابل اﷲ کے رسولوں کو گالیاں دی جائیں؟
ثالثاً : مرزا کو ادّعا ہے کہ اگرچہ اس پر وحی آتی ہے مگر کوئی نیا حکم جو شریعتِ محمدیہ سے باہر ہو، نہیں آسکتا، ہم تو قرآن عظیم میں یہ حکم پاتے ہیں کہ:
لا تسبوا الذین یدعون من دون اﷲ فیسبوا اﷲ عدوا بغیر علم۔۱؂
کافروں کے جھوٹے معبودوں کو گالی نہ دو کہ وہ اس کے جواب میں بے جانے بوجھے دشمنی کی راہ سے اﷲ عزوجل کی جناب میں گستاخی کریں گے۔
(۱؂ القرآن الکریم ۶/ ۱۰۸)
مرزا اپنی وہ وحی بتائے جس نے قرآن کے اس حکم کو منسوخ کردیا۔

رابعاً مرزا کو ادّعا ہے کہ وہ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدم بقدم چل رہا ہے، التبلیغ ص ۴۸۳ پر لکھتا ہے:
من اٰیات صدقی انہ تعالٰی وفقنی باتباع رسولہ واقتداء نبیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فما رأیت اثرا من اٰثار النبی الاقفوتہ۔
(میری سچائی کی نشانی یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے مجھے اپنے رسول کی اتباع اور نبی کی اقتداء پر توفیق دی میں نے نبی کا جو بھی نشان دیکھا اس پر قدم رکھا۔ت)

بتائے تو کہ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کس دن عیسائیوں کے مقابل معاذ اﷲ عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام او ر ان کی والدہ ماجدہ کو گالیاں دی ہیں۔
خامساً مرزا کے ازالہ نے مرزائیوں کی اس بکر فکر کا کامل ازالہ کردیا، ازالہ کی یہ عبارتیں تو کسی عیسائی کے مقابل نہیں، ان میں وہ کون سی گالی ہے جو ضمیمہ انجام آتھم سے کم ہے حتی کہ چو ر اور ولد الزنا کا بھی اثبات ہے وہاں چوری کسی مال کی نہ بتائی تھی بلکہ علم کی، ضمیمہ انجام ص۶،نہایت شرم کی یہ بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔

ازالہ میں اس سے بدتر چوری معجزہ کی چوری مانی کہ تالاب کی مٹی لاکر بے پر کی اڑاتے اور اپنا معجزہ ٹھہراتے، رہی ولادتِ زنا وہ اس نے اس بائیبل محرف کے بھروسے پر لکھی، برائے نام کہہ سکتا تھاکہ عیسائیوں پر الزاماً پیش کی اگرچہ مرزا کی عملی کارروائی صراحۃً اس کی مکذّب تھی کہ وہ اپنے رسائل میں بکثرت مسلمانوں کے مقابل اسی بائیبل محرف کو نزول الیاس و غیر ہ کے مسئلہ میں پیش کرتا ہے مگر ازالہ میں تو صاف تصریح کردی کہ قرآن عظیم اسی بائیبل محرف کی طرف رجوع کرنے اور اس سے علم سیکھنے کا حکم دیتا ہے، ازالہ ص ۳۰۸ ''آیت ہے
فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون
یعنی تمہیں علم نہ ہو تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو، ان کی کتابوں پر نظر ڈالو، اصل حقیقت منکشف ہو،ہم نے موافق حکم اس آیت کے یہود و نصارٰی کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ مسیح کے فیصلے کا ہمارے ساتھ اتفاق ہے دیکھو کتاب سلاطین و کتاب ملاکی نبی اور انجیل''۔تو ثابت ہوا کہ یہ توریت و انجیل بلکہ تمام بائیبل موجودہ اس کے نزدیک سب بحکم قرآن مستند ہیں توجو کچھ اس سے لکھا ہر گز الزاماً نہ تھابلکہ اس کے طور پر قرآن سے ثابت، اور خود اس کا عقیدہ تھا، اور اﷲ تعالٰی دجّالوں کا پردہ یونہی کھولتا ہے والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
Flag Counter