Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۵(کتاب السیر)
120 - 150
عددِ اوّل
اﷲ کے محبوبوں، اﷲ کے رسولوں حتٰی کے خود اﷲ عزوجل پر قادیانی کی لچھے دار گالیاں

مسلمانو! اﷲ تعالٰی تمہارا مالک و مولٰی تمہیں کفر و کافرین کے شر سے بچائے، قادیانی نے سب سے زیادہ اپنی گالیوں کا تختہ مشق رسول اﷲ وکلمۃ اﷲ و روح اﷲ سیدنا عیسٰی بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسّلام کو بنایا ہے اور واقعی اسے اس کی ضرورت بھی تھی، وہ مثیل عیسٰی بلکہ نزول عیسٰی یا دوسرے لفظوں میں عیسٰی کا اتار بنا ہے، عیسٰی کے تمام اوصاف اپنے میں بتاتا ہے اور حقیقت دیکھئے تو مسیح صادق کی جمیع اوصاف حمیدہ سے اپنے آپ کو خالی اور اپنے تمام شنائع ذمیمہ سے اس پاک مبارک رسول کو منزّہ پاتا ہے لہٰذا ضرور ہوا کہ ان کے معجزات، ان کے کمالات سے یک لخت انکار اور اپنی تمام شنیع خصلتوں، ذمیم حالتوں کی ان پر بوچھاڑ کرے جب تو اتار بننا ٹھیک اترے۔ میں یہاں اس کی گالیاں جمع کروں تو دفتر ہو لہٰذا اس کی خروار سے مُشتِ نمونہ پیش نظر ہو۔
فصلِ اوّل
رسول اﷲ عیسٰی بن مریم اور انکی ماں علیہما الصلوٰۃ والسلام پر قادیانی کی گالیاں

تازیانہ ۱تا۳     (۱):   اعجاز احمدی ص۱۳ پر صاف لکھ دیا کہ:''یہود عیسٰی کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی جواب میں حیران ہیں، بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسٰی نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیاہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی بلکہ ابطالِ نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں۔ یہاں عیسٰی کے ساتھ قرآن عظیم پر بھی جڑ دی کہ وہ ایسی باطل بات بتا رہا ہے جس کے ابطال پر متعدد دلائل قائم ہیں''۔

ت ۴ و ۵ ۔      (۲) :   ایضاً ص ۲۴: ''کبھی(عہ) آپ کو شیطانی الہام بھی ہوتے تھے۔''

عہ: یہ خود ان کا اپنا عقیدہ ہے بظاہر انجیل کے سر تھوپا ہے، خود اسے اپنے یہاں حدیث سے ثابت مانتاہے۔اس کا بیان ان شاء اﷲ آگے آتا ہے۔

ت ۶۔   (۳) :     ایضاً ص ۲۴: ''ان کی اکثر پیشگوئیاں غلطی سے پر ہیں۔'' یہ بھی صراحۃً نبوت عیسٰی سے انکار ہے کیونکہ قادیانی خود اپنی ساختہ کشتی ص ۵ پر کہتا ہے:'' ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشین گوئیاں ٹل جائیں۔''

ت۷: نیز پیشگوئی لیکھرام آخر دافع الوساوس ص ۷ پر کہتا ہے: ''کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔''

ت ۸:     ضمیمہ انجام آتھم ص۲۷ پر کہا:'' کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔''

ت ۹ :       اور کشتی ساختہ میں اپنی نسبت یوں لکھتا ہے ص۶:''اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو اسے نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی۔'' تو مطلب یہ ہوا کہ اس کے لئے تو بھاری عزت ہے اور سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے وہ خواری و ذلّت ہے جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں۔ الا لعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین۔

ت ۱۰ تا ۱۲    (۴):    دافع البلاء ٹائیٹل پیج ص ۳: ''ہم مسیح کو بیشک راستباز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا ،واﷲ اعلم، مگر وہ حقیقی منجی نہ تھا''۔ 

رسول اﷲ اور وہ بھی ان پانچ مرسلین اولوالعزم سے کہ تمام رسولوں سے افضل ہیں یعنی ابراہیم و نوح وموسٰی و عیسٰی و محمدصلی اللہ علیہ وعلیہم وسلم اس کی صرف اتنی قدر ہے کہ ایک راستباز آدمی تھا جو ان کی خاک پاکے ادنٰی غلاموں کا بھی پورا وصف نہیں تو بات کیا، وہی کہ عیسٰی کی نبوّت باطل ہے فقط ایک نیک شخص تھا وہ بھی نہ ایسا کہ دوسرے کو نجات ملنے کا واقعی سبب ہوسکے بلکہ حقیقی نجات دہندہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  تھے، اور اب قادیانی ہے کہ اسی کے متصل کہتا ہے کہ ''حقیقی منجی وہ ہے جو حجاز میں پیدا ہوا تھا اور اب آیا مگر بروز کے طور پر خاکسار غلام احمد از قادیان''۔

ت۱۳۔   (۵) :    پھر یہاں تک تو عیسٰی کا ایک راستباز آدمی اور اپنے بہت اہل زمانہ سے اچھا ہونا یقینی تھا کہ بیشک اور البتہ کے ساتھ کہا، نوٹ میں چل کر وہ یقین بھی زائل ہوگیا، اسی صفحہ پر کہا''یہ ہمارا بیان محض نیک ظنی کے طور پر ہے ورنہ ممکن ہے کہ عیسٰی کے وقت میں بعض راستباز اپنی راستبازی میں عیسٰی سے بھی اعلٰی ہوں۔''اے سبحٰن اﷲ!
ایماں یقین شعار باید    حسنِ ظن تو چکار آید
 (پختہ ایمان انسان کا شعار ہونا چاہیے صرف اچھا گمان تیرے کیا کام آئے گا۔ت)
ت۱۴۔    (۶) :    پھر ساتھ لگے خدا کی شریعت بھی ناقص وہ تمام ہوگئی، اسی کے ص۴ پر کہا''عیسٰی کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے''۔

ت۱۵تا۱۷۔    (۷) :   عیسٰی کی راستبازی پر شراب خوری اور انواع انواع بد اطواری کے داغ بھی لگ گئے،ایضا ص ۴۔مسیح کی راستبازی اپنے زمانے میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحیٰی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ (یعنی یحیٰی) شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہ سنا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھایا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے قرآن میں یحیٰی کا نام حصُور رکھا گیا مگر مسیح کا نہ رکھا کیونکہ ایسے قصّے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔

ت۱۸تا۲۰۔     (۸) :   اسی ملعون قصے کو اپنے رسالہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ میں یوں لکھا: ''آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدّی مناسبت درمیان ہے (یعنی عیسٰی بھی ایسوں ہی کی اولاد تھے) ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ و ہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔''
ت۲۱تا۳۶   :   اسی رسالہ ص ۴ سے ص ۸ تک مناظرہ کی آڑلے کر خوب ہی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں۔ اﷲ عزوجل کے سچے مسیح عیسٰی بن مریم کو نادان(۹) اسرائیلی، شریر(۱۰)،مکار(۱۱)،بدعقل(۱۲) ،زنا نے خیال والا(۱۳) فحش گو(۱۴)، بدزبان(۱۵)،کٹیل(۱۶)،جھوٹا(۱۷)،چور(۱۸)،علمی (۱۹)عملی (۲۰)قوت میں بہت کچا،خلل دماغ والا(۲۱)،گندی گالیاں دینے والا(۲۲)، بدقسمت(۲۳)، نرافریبی(۲۴)، پیروِ شیطان(۲۵) وغیرہ وغیرہ خطاب اس قادیانی دجّال نے دئیے۔

ت ۳۷   (۲۶)  : صاف لکھ دیاص ۶ ''حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہ ہوا۔''

ت۳۸   (۲۷) :  ''اس زمانے میں ایک تالاب سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے، آپ سے کوئی معجزہ ہوا بھی ہو تو آپ کا نہیں اس تالاب کا ہے، آپ کے ہاتھ میں سوا مکرو فریب کے کچھ نہ تھا۔''

ت۳۹و۴۰۔    (۲۸):    انتہاء یہ کہ ص ۷ پر لکھا: آپ کا خاندان بھی نہایت پاک و مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ہوا۔ انّا ﷲ وانّا الیہ راجعون۔ خدائے قہار کا حلم کہ رسول اﷲ کو بحیلہ(عہ) وبے حیلہ یہ ناپاک گالیاں دی جاتی ہیں اور آسمان نہیں پھٹتا۔ ان شدید ملعون گالیوں کے آگے ان لچھے دار شرافتوں کا کیا ذکر جو نیچہ بند صاحب نے علماء اہلسنّت کو دیں ان کا پیر تو نانی دادی تک کی دے چکا۔
الا لعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین۔
عہ: خبیث حیلہ مناظرہ کا ہے اس کا رد عنقریب آتاہے ۔
ت ۴۱تا۴۴۔   (۲۹):    وہ پاک کنواری مریم صدیقہ کا بیٹا کلمۃ اﷲ جسے اﷲ نے بے باپ کے پیدا کیا نشان سارے جہان کے لئے۔ قادیانی نے اس کے لئے دادیاں بھی گنا دیں، اور ایک جگہ اس کا دادا بھی لکھا ہے اور اس کے حقیقی بھائی سگی بہنیں بھی لکھی ہیں، ظاہر ہے کہ دادا،دادی،حقیقی بہنیں،سگے بھائی اسی کے ہوسکتے ہیں جس کے لئے باپ ہو، جس کے نطفے سے وہ بنا ہو، پھر بے باپ کے پیدا ہونا کہاں رہا؟ یہ قرآن عظیم کی تکذیب اور طیبہ طاہرہ مریم کو سخت گالی ہے۔



ت۴۵ :    کشتی ساختہ ص ۱۶ پر لکھا: ''مسیح تو مسیح ہیں اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ مسیح کی دونوں ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں''، اور خود ہی اس کے نوٹ میں لکھا ''یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، یہ سب یسوع مسیح کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھے۔''



ت۴۶ :    دیکھو کیسے کھلے لفظوں میں یوسف بڑھئی کو سیدنا عیسٰی کلمۃ اﷲ کا باپ بنا دیا اور اس صریح کفر میں صرف ایک پادری کے لکھ جانے پر اعتماد کیا۔ ہاں ہاں یقین جانو آسمانی قہر سے واحد قہار سے سخت لعنت پائے گا اور جو ایک پادری کی بے معنی ز ٹل سے قرآن کو رد کرتا ہے۔



ت۴۷۔    (۳۰)  : نیز اسی دافع البلاء کے ص ۱۵ پر لکھا''خدا ایسے شخص(یعنی عیسٰی) کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کردیا۔'' یہ ان گالیوں کے لحاظ سے عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک ہلکی سی گالی ہے کہ اس کے فتنے نے دنیا تباہ کردی مگر اس میں دو شدید گالیاں اور ہیں کہ ان شاء اﷲ تعالٰی فصل سوم میں مذکور ہوں گی۔



ت۴۸   (۳۱)   : اربعین نمبر ۲ ص ۱۳ پر لکھا''کامل مہدی نہ موسٰی تھا نہ عیسٰی۔ ان مرسلین اولوالعزم کا کامل ہادی ہونا بالائے طاق، پورے مہدی بھی نہ ہوئے، اور کامل کون ہیں، جناب قادیانی۔'' دیکھو اسی کا ص۱۲ و ۱۳۔



ت۴۹ و۵۰  (۳۲)  مواہب الرحمن پر صاف لکھ دیا کہ عیسٰی یہودی تھا
لو قدر اﷲ رجوع عیسی الذی ھو من الیھود لرجع العزۃ الٰی تلک الیوم
(اگر اﷲ تعالٰی نے یہودی عیسٰی کا دوبارہ آنا مقدر کیا تو عزت اس دن لوٹ آئے گی۔) ت۱۵ ظاہر ہے کہ یہودی مذہب کا نام ہے نہ کہ نسب کا، کیا مرزا کہ پارسیوں کی اولاد ہے مجوسی ہے۔

قادیانی نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکفیر کردی۔

ت۵۲ (۳۳) :حدیہ کہ عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکفیر کردی۔ مسلمانو! وہ اتنا احمق نہیں کہ صاف حرفوں میں لکھ دے عیسٰی کافر تھا بلکہ اس کے مقدمات متفرق کر کے لکھے، یہ تودشنام سوم میں سن چکے کہ عیسٰی کی سخت رسوائیاں ہوئیں، اور کشتی ساختہ ص ۱۸ پر کہتا ہے'' جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے، کون خدا پر ایمان لایا صرف وہی جو ایسے ہیں''دیکھو کیسا صاف بتادیا کہ جسے خدا پر ایمان ہے ممکن نہیں کہ اسے خدا رسوا کرے لیکن عیسٰی کو رسوا کیا تو ضرور اسے خدا پر ایمان نہ تھا اور کیا کافر کہنے کے سر پر سینگ ہوتے ہیں۔ الا لعنۃ اﷲ علی الکفرین۔

قصد تھا کہ فصل اوّل یہیں ختم کی جائے کہ اتنے میں قادیانی کی ''ازالۃ الاوہام'' ملی، اس کی برہنہ گوئیاں بہت بے لاگ اور قابلِ تماشا ہیں۔
Flag Counter