Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
99 - 150
کافروں سے اتحاد کرنے والے بحکم قرآن کافر ہیں:

دوم: ان سے اتحاد، حالانکہ قرآن عظیم بیس سے زیادہ آیات میں اسے مردود وملعون فرما چکا اور جابجا صاف ارشاد فرمادیا کہ ایسا کرنے والے انھیں میں سے ہیں،
ومن یتولہم منکم فانہ منہم ۲؎
ایسا کرنے والے مسلمان نہیں
لاتجد قوما یؤمنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاداﷲ ورسولہ ۳؎
ایسا کرنے والوں کو اللہ ورسول وقرآن پر ایمان نہیں
ولوکانوا یؤمنون باﷲ والنبی وماانزل الیہ مااتخذوھم اولیاء ۴؎۔
 (۲؎ القرآن الکریم         ۵/ ۵۱)(۳؎ القرآن الکریم        ۵۸/ ۲۲)

(۴؎ القرآن الکریم       ۵/ ۸۱)
کافروں کا حلیف بننا حرام ہے:

سوم: مشرکین کے حلیف بننا انھیں اپناحلیف بنانا، حالانکہ حلیف بنانا منسوخ ہوچکاہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتحدثوا فی الاسلام حلفا۵؂، رواہ الامام احمد فی المسند ومحمد بن عیسٰی فی الجامع عن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
اب اسلام میں کوئی حلف پیدا نہ کرو۔ یہ حدیث امام احمد نے مسند اور امام محمدبن عیسٰی نے جامع میں حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند حسن روایت کی۔
 (۵؎ جامع الترمذی     ابواب السیر باب ماجاء فی الحلف    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱/ ۱۹۲)

(مسند احمد بن حنبل    مسند عبداللہ بن عمرو بن عاص    دارالفکر بیروت        ۲/ ۲۰۷۔ ۲۱۳)
یہ منسوخات ہی کے عمل پر ہیں کل کو شراب بھی حلال کرلیں گے اور خدا جانے کہاں کہاں تک بڑھیں گے،
رب عزوجل فرماتاہے:
یایھاالذین امنوا لاتتخذوا الذین اتخذوا دینکم ھزوا ولعبا من الذین اوتوالکتٰب من قبلکم والکفار اولیاء واتقواﷲ ان کنتم مؤمنین ۱؎o
اے ایمان والو! وہ جو تمھارے دین کو ہنسی کھیل ٹھہراتے ہیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور باقی سب کافر ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ اور اللہ تعالٰی سے ڈرو اگر تم مسلمان ہو۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۵/ ۵۷)
تفسیر ابن جریر میں اس آیہ کریمہ کے تحت میں ہے:
یقول لاتتخذوھم ایھا المؤمنون انصارا اواخوانا اوحلفاء فانہم لایألونکم خبالا وان اظھروالکم مودۃ وصداقۃ ۲؎۔
رب عزوجل فرماتاہے اے مسلمانو! کافروں کو مدد گاریا بھائی اور حلیف نہ بناؤ وہ تمھاری ضرر رسانی میں کمی نہ کریں گے اگرچہ تم سے دوستی ویارانہ ظاہر کریں۔
 (۲؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر)    تحت آیۃ ۵/ ۵۷             المطبعۃ المیمنۃ مصر    ۶/ ۱۶۶)
فقہ وحدیث کے حاوی امام  اجل ابوجعفر طحاوی رحمہ اللہ تعالٰی نے مشکل الآثار میں یہ تحقیق فرماکر کہ مشرکوں سے استعانت حرام کتابی سے ہوسکتی ہے اس پر حدیث سوم کہ فائدہ ثانیہ میں آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ابن اُبی منافق کے چھ سوحلیف یہودیوں کو واپس کردیا اور انھیں مشرکین فرمایا اعتراضا واردکی کہ دیکھو حضو نے یہود کو بھی مشرکین سے گنا اور ان سے استعانت کو بھی مشرکین سے استعانت قرار دیا اس کے جواب میں فرمایا اس کی وجہ ان کا اس مشرک منافق سے حلف ہے کہ حلف کرنے والے جس سے حلف کرتے ہیں اس کی موافقت قبول کرتے ہیں تو مشرک کے حلیف ہوکر وہ کتابی نہ رہے مرتدہوگئے اور اسی طرح مشرک،
عبارت یہ ہے:
جوابنا ان وجہ قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لھؤلاء الیہود علی مابینہم وبین ابن ابی المنافق من الحلف والمحالفۃ ھی الموافقۃ من الحالفین للمحالفین فکانوا بذٰلک خارجین من اھل الکتاب مرتدین عما کانوا علیہ وصاروامشرکین کمشرکی العرب ۳؎ (ملخصا)
 (۳؎ مشکل الآثار للحطاوی        کتاب الجہاد باب بیان مشکل ماروی عن رسول اللہ الخ    دارصادر بیروت    ۳/ ۲۴۱)
امام ابوالولید باجی نے مختصر پھر علامہ یوسف دمشقی نے معتصر میں اسے مقرررکھا،
ان بنی قینقاع بمحالفتہم عبداﷲ صاروا کالمرتدین فخرجوا بہ عن حکم اھل الکتاب فصاروا کالمشرکین فکان لہم حکمہم فلذلک منعوا وسموا مشرکین ۱؎ (ملخصا)
بنی قینقاع کے یہودی ابن اُبی کے حلیف بن کر مرتدوں کے مثل ہوگئے تو کتابیوں کے حکم میں نہ رہے اور مشرکوں کی طرح ہوگئے تو ان کا وہی حکم ہوا جو مشرکوں کا، اسی واسطے حدیث نے انھیں منع فرمایااور ان کا نام مشرک رکھا۔ (ملخصا)
 (۱؎ المعتصر من المختصر    کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرک        دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن    ۱/ ۲۳۰)
سبحان اللہ! یہودی مشرک کے حلیف بن کر کتابی نہ رہے مرتد ومشرک ہوگئے حالانکہ "الکفر ملۃ واحدۃ" مگر کلمہ گو لیڈر مشرکین ہند کے حلیف پس روغلام بن کر نہ مرتد ہوئے نہ مشرک، ہٹے کٹے مسلمان ہی بنے رہے ع

مشرک ہے عہد باندھ کے مشرک ہوئے یہود

یہ مشرکوں کے عبد مسلمان ہی رہے

اقول حلف جب دو مساوی گروہوں میں ہو فریقین یکساں ہیں اور جب مغلوب وضعیف گروہ دوسرے کی پناہ لے کر اس کاحلیف بنے تو پوری موافقت کا بار اسی پرہے اس کی طرف سے صرف قبول پناہ وہی ہے، ابن ابی خبیث نے بڑی سطوت پیدا کرلی تھی یہاں تک کہ اس کے لئے تاج تیار کیا جاتا تھا قریب تھا کہ اسے بادشاہ بنایا جائے تو یہود بنی قینقاع کاحلف اس کی شوکت سے مستفید ہی ہونے کو تھا، ولہذا امام نے فرمایا:
ھی الموافقۃ من الحالفین للمحالفین ۲؎
(حلف کرنے والے جس سے حلف کرتے ہیں اس کی موافقت قبول کرتے ہیں۔ ت) نہ اختصار کی طرح
الموافقۃ بین المتحالفین ۳؎
 (حلف کرنے والوں کے درمیان موافقت۔ ت) 

پھر دربارہ ادیان حکم یہ ہے کہ نازل سے مجرد ارادہ موافقت نازل کردیتاہے اورضد کے لئے صرف ارادہ کافی نہیں، مسلمان اگر معاذاللہ ارادہ کفر کرے گا تو کافر ہوجائے گا۔ لیکن کافر محض ارادہ اسلام سے مسلمان نہ ہوگا جب تک اسلام قبول نہ کرے، یوں ہی کتابی صرف ارادہ موافقت مشرکین سے مشرک ہوسکے گا مشرک نرے ارادے سے کتابی نہ ہوجائے گا لہذا وہ یہودی مشرک ہوگئے، ابن ابی خبیث کتابی نہ ہوا، یونہی حلیفان مشرکین ہند پر امام کایہ حکم نافذہوگا۔ مشرکین ہند مسلمان ہوجائیں گے۔
 (۲؎ مشکل الآثار للطحاوی      باب بیان مشکل ماروی فی الاستعانۃ من الکفار    دارصادر بیروت        ۳/ ۲۴۱)

(۳؎ المعتصر من المختصر    کتاب الجہاد باب فی الاستعانۃ بالمشرک        دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن    ۱/ ۲۳۰)
Flag Counter