Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
98 - 150
تبیین امام زیلعی میں ہے:
لودخل مسلم فی عسکر اھل الحرب فی دارالاسلام وامنہم لایصح امانہ الا اذا امنہم من یقاومہم بخلاف مااذا امن عشرین اونحوھم فی دارالاسلام حیث لایجوز امانہ لان الواحد وان کان مقہور اباعتبار نفسہ حیث لایقاومہم لکنہ قاھر ممتنع بقوۃ المسلمین فکان قاھرا لہم حکما ۳؎۔ (ملخصا)
حربیوں کا لشکر دارالاسلام میں آیا ہوا ہے اور کوئی مسلمان ان کے لشکر میں جاکر امان دے آئے یہ امان صحیح نہیں ہاں جب اتنے مسلمان انھیں امان دیں جو اس لشکر کی مقاومت کرسکتے ہوں بخلاف اس کے مثلا بیس پچیس حربی دارالاسلام میں آئے اور ایک مسلمان نے ان میں جاکر انھیں امان دے دی، یہ امان صحیح ہوگئی کہ ایک اگرچہ بیس سے مغلوب ہے ان کی مقاومت نہیں کرسکتا مگر وہ مسلمانوں کے زور سے ان پرغالب ہے تو حکما غلبہ اسی کا ہوگا۔ (ملخصاً)
 (۳؎ تبیین الحقائق    کتاب السیر        المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر    ۳/ ۲۴۷)
اسی میں ہے:
الامان ازالۃ الخوف ومن لم یباشر القتال لایخافونہ فکیف یصح امانہ ۱؎۔
امان خوف زائل کرنے کانام ہے اور وہ جو قتال نہ کرے کافر اس نہ ڈریں گے تو اس کی امان کیسے صحیح ہو۔
 (۱؎ تبیین الحقائق    کتاب السیر      قبیل با ب الغنائم    المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر    ۳/ ۲۴۸)
ایمان سے کہنا کیا تم ہنود پر قاہر تھے کیا ان کے قتل پر قادر تھے کیا ان کو تم سے خوف قتل تھا جسے تمھاری امان نے زائل کیا، اور جب یہ کچھ نہ تھا اور بیشک نہ تھا تمھارا معاہدہ اگر بفرض باطل، معاہدہ شرعیہ کی شکل میں ہوتا جب بھی قطعا باطل ومردودتھا، اور مردود کو پورا کرنا لازمی بتانا اس سے بڑھ کر مردود



لیڈران پر چھٹا رد:

ششم کفار سے معاہدہ شرعیہ میں شرط اعظم یہ ہے کہ جتنی مدت تک ہواس میں تہیہ قتال رکھیں اور اس کی آمادگی ودرستی سامان سے غفلت نہ کریں کہ التواء ومعاہدہ سے اصل مقصودیہی ہے ورنہ تارک فرض اہم ہوں گے اور مستحق نارجہنم، والعیاذباللہ تعالٰی،
بدائع امام ملک العلماء میں ہے:
المعاھدۃ شرطھا الضرورۃ وھی ضرورۃ استعداد القتال لان الموادعۃ ترک القتال المفروض فلایجوز الا فی حال یقع وسیلۃ الی القتال ۲؎۔
معاہدہ جائز ہونے کی شرط ضرورت ہے اور وہ ضرورت یہ ہے کہ اس مدت میں سامان قتال درست کریں اس لئے کہ جہاد فرض ہے اور معاہدہ اس فرض کا ترک ہے تو اس حال میں حلال ہوسکتاہے کہ یہ جہاد کے لئے وسیلہ پڑے۔

ایمان سے کہناکیا تم ہندوؤں سے آمادگی قتال میں ہو اور اسی لئے ایک مدت تک ان سے معاہدہ کیا ہے کہ اس فرصت میں ان کے قتل کا سامان مہیا کرلو کیوں مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہو، بلکہ عالم الغیب و القلب کے ساتھ فریب کی راہ لیتے ہو۔
 (۲؎ بدائع الصنائع  کتاب السیر  مطلب وامانوع الثانی وھوالامان الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۷/ ۱۰۸)
ومایخدعون الا انفسہم وما یشعرون ۳؎۔
اور فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انھیں شعورنہیں۔
 (۳؎ القرآن الکریم          ۲/ ۹)
طرح طرح ثابت ہوا کہ تمھارا یہ معاہدہ اگر بفرض غلط معاہدہ شرعیہ کی شکل میں بھی ہوتا جب بھی حرام ومردود وخلاف شرع ہوا، اب کیوں نہ یاد کریں لیڈارن اپنا ہی قول کہ ''خدا کے یہاں معاہدہ کاحیلہ بھی کارگر ہوتاہے'' یا دیکھئے کیا جواب ملتاہے کوئی اگر معاہدہ کا دعوٰی بھی کرے تو خلاف شرع معاہدہ کیونکر مسلم ہوگا کیونکہ صلح حدیبیہ منسوخ ہوچکی ہے اور
الاما احل بہ حراما اوحرم بہ حلالا ۱؎
(مگر وہ معاہدہ جوحرام کو حلال اور حلال کوحرام بنائے۔ ت) کا استثناء حکم مستقل ہے''
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    ابواب الاحکام باب الصلح        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۷۱)
لیڈران پر ساتواں رد:

ہفتم لیڈران کی بڑی کوشش اس میں ہے کہ مشرکین ہند کے شدید مظالم چھپائیں اور ان کو جیسے بنے "لم یقاتلوکم فی الدین" میں داخل ٹھہرائیں تاکہ انھیں زیرحکم "لاینھٰکم اﷲ" لائیں یہ صاف کہہ رہاہے کہ معاہدہ کا عذر محض جھوٹا ہے معاہدہ تو حسب ضرورت شرعیہ مقاتلین سے خاص وقت قتال بھی جائز ہے پھر اگر معاہدہ ہوتا تو اس کھینچ تان کی کیا ضرورت پڑتی معلوم ہوا کہ جھوٹ کہتے ہیں اور قصداً بکتے ہیں اور دل میں خوب سمجھ رہے ہیں کہ نرا جھوٹ بکتے ہیں
واﷲ علیم بالظلمین ۲؎
(اور اللہ خوب جانتاہے ظالموں کو۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم    ۲/ ۹۵)
مشرکوں سے معاہدہ لیڈران کے اصل اغراض:

(۹) لیڈران حاشا تمھارا معاہدہ ہنود سے نہ التوائے قتال کے لئے ہوا نہ اس کا کچھ ذکر تھا نہ تم ان پر قاہر تھے نہ انھیں تم سے اپنے قتل کا خوف تھا بلکہ دونوں تیسرے کے ہاتھ میں مقہور ہو، نہ ہر گز اس مدت معاہدہ میں تم قتل ہنود کا سامان کررہے ہو نہ ہر گز تمھاری نیت نہ ہرگز تم ایسا کرسکتے ہو غرض معاہدہ شرعیہ سے ایساہی دور ہو جیسے مشرکین توحید سے یاتم شرع مجید سے بلکہ ناپاک معاہدہ چارباتوں کے لئے ہوا:

مشرکوں کا برادر بننا حرام ہے:

یکم: مشرکین سے عقد مواخات بھائی چارہ کہ برادارن وطن ہندوبھائی، اللہ عزوجل فرمائے
انما المؤمنون اخوۃ ۳؎
مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔ تم کہو "نحن والمشرکون اخوۃ" ہم اور مشرکین آپس میں بھائی ہیں،
 (۳؎القرآن الکریم        ۴۹/ ۱۰)
جیسے اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:
الم ترالی الذین نافقوا یقولون لاخوانہم کفروا ۱؎۔
کیا تم نے نہ دیکھا کہ منافقوں کو کہ اپنے بھائی کافروں سے کہتے ہیں۔
وہاں "من اھل الکتاب" تھا یہاں اس سے بڑھ کر "من الشرکین" ہوا۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۵۹/ ۱۱)
Flag Counter