Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
97 - 150
لیڈران پر تیسرا رد:

لیڈران فرماتے ہیں ھم نے خدا کی محبت کو اس اتحاد میں بھی ملحوظ رکھا ہے

لیڈران کے نزدیک دشمنان خدا سے اتحاد میں خدا کی محبت ہے:

اللہ اکبر اللہ کے دشمنوں سے اتحاد اور اس میں محبت خدا کا ادعا واقعی ان کے نزدیک اللہ کی محبت اس سے بڑھ کر اورکیا ہوسکتی ہے کہ اللہ کے دشمنوں سے مل کر ایک ہوجائیں، امیر المومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
الاعداء ثلثۃ عدوک وعدو صدیقک وصدیق عدوک ۲؎۔
دشمن تین ہیں: ایک خودتیرا دشمن، دوسرا تیرے دوست کا دشمن، تیسرا تیرے دشمن کا دوست،
 (۲؎ نہج البلاغۃ مع شرح ابن ابی الحدید    الجزء التاسع عشر    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۳۸۴)
اللہ عزوجل فرماتاہے:
فان اﷲ عدوللکفرین ۳؎
بیشک اللہ کافروں کا دشمن ہے تم کہ اس کے دشمنوں سے متحد ہوئے کیونکر اللہ کے دشمن نہ ہوئے ع
تو د عدوی ثم تزعم اننی

صدیقک لیس النوک عنک بعارب
 (تومیرے دشمن سے محبت رکھتا ہے پھریہ جھک مارتاہے کہ میں تیرا دوست ہوں حماقت تجھ سے دور نہیں)
 (۳؎ القرآن الکریم                    ۲/ ۹۸)
لیڈران پر چوتھا رد:

چہارم کافروں مشرکوں سے معاہدہ شرعیہ صرف اس وقت رواہے جب معاذاللہ مسلمانوں کو اس کی احتیاج وضرورت ہو، 

امام ملک العلماء بدائع میں فرماتے ہیں:
الموادعۃ رکنہا فھو لفظ الموادعۃ او المسالمۃ اوالمصالحۃ والمعاھدۃ او ما یؤدی معنی ھذہ العبارات وشرطھا الضرورۃ فلاتجوز عند عدم الضرورۃ ۱؎ (ملخصا)
معاہدہ صلح کا رکن یہ الفاظ ہیں موادعت ، مسالمت ، مصالحت، معاہدہ اور جو لفظ ان معنی کو ادا کرے اور معاہدہ کی شرط ضرورت ہے بے ضرورت حرام ہے۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    کتاب السیر مطلب واماحکم الموادعۃ الخ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۷/ ۸ ۱۰)
لیکن لیڈران اپنا بھاری جرم خود قبول نہیں کرتے ہیں کہ ہم کو احتیاج نے اتحاد برداران ہند کی جانب مائل نہیں کیا تمھارا معاہدہ اگر بفرض غلط معاہدہ شرعیہ کی شکل میں ہوتا جب بھی بے ضرورت ان کی طرف مائل ہونا حرام تھا ہر حال اس نے تمھیں واحد قہار کا نافرمان اور صریح بدخواہ مسلمانان و دین مسلمانان کردیا۔

لیڈران پر پانچواں رد:

پنجم کفار سے معاہدہ شرعیہ ایک قسم امان ہے اور شرط امان یہ ہے کہ کفار کو امان دہندہ سے خوف قتل و قتال ہو اور یہ ان پر قاہر ہو اگر چہ اپنی جماعت کے لحاظ سے اگرچہ نسبۃً پلہ انھیں کا بھاری ہو جنگ دوسردار وحرب میں چرب کو بھی خوف ہوتاہے جس سے انھیں اپنے قتل کا خوف نہ ہو اس کا امان دینا باطل اورمعاہدہ کرنامردود،
بدائع ملک العلماء میں ہے:
اماحکم الموادعۃ فما ھوحکم الامان المعروف لانہا عقد امان ایضا ۲؎۔
معاہدہ کا حکم وہی ہے جو امان کا مشہور حکم ہے اس لئے کہ معاہدہ بھی ایک عقد امان ہے
 (۲؎ بدائع الصنائع    کتاب السیر مطلب واماحکم الموادعۃ الخ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ۷/ ۱۰۹)
ہدایہ میں ہے:
انہ من اھل القتال فیخافونہ اذھومن اھل المنعۃ فیتحقق الامان منہ لملاقاتہ محلہ ۳؎۔
اس لئے کہ وہ اماں دہندہ اہل قتال سے ہے تو کا فر اس سے ڈریں گے اس لئے کہ وہ حمایتی گروہ رکھتاہے تو اس کا اماں دینا ٹھیک ہوگا اپنے محل پر واقع ہوا۔
 (۳؎ الہدایہ         باب الموادعۃ من یجوز امانہ            المکتبۃ العربیہ کراچی    ۲/ ۵۴۴)
اسی میں ہے:
لایجوز امان اسیر ولاتاجرید خل علیہم لانہما لایخافونہا والامان یختص بمحل الخوف ۱؎ (ملخصا)
قیدی یا تاجر کہ دارالحرب میں تجارت کو گیا ہو ان کی امان صحیح نہیں ا س لئے کہ کافران سے نہ ڈریں گے اور امان وہیں ہوسکتی ہے جہاں خوف ہو۔ (ملخصا)
 (۱؎ الہدایۃ        باب الموادعۃ من یجوز امانہ        المکتبۃ العربیہ کراچی    ۲/ ۵۴۵)
اسی میں ہےـ:
ومن اسلم فی دارالحرب ولم یہاجر الینا لایصح امانہ لما بینا ۲؎۔
جو دارالحرب میں مسلمان ہوا اور دارالاسلام میں ہجرت کرکے نہ آئے اس کا امان دینا بھی صحیح نہیں اسی دلیل سے کہ ہم بیان کرچکے۔
(۲؎ الہدایۃ        باب الموادعۃ من یجوز امانہ        المکتبۃ العربیہ کراچی    ۲/ ۵۴۵)
فتح القدیرمیں ہے:
لما بینا من ان الامان یختص بمحل الخوف ولا خوف منہ حال کونہ مقیما فی دارہم لامنعۃ لہ ولاقوۃ دفاع ۳؎۔
ہماری بیان کی ہوئی دلیل یہ ہے کہ امان دینا اس کا صحیح ہے جس سے خوف ہو اوراس سے خوف نہیں کہ یہ انھیں کے ملک میں رہتاہے، اس کے پاس نہ اپنی حمایت کرنے والا کوئی گروہ ہے نہ مدافعت کفار کی قوت۔
 (۳؎ فتح القدیر     باب الموادعۃ من یجوز امانہ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۲۱۳)
عنایہ امام اکمل میں ہے:
شرط جواز الامان ھوالایمان وعلتہ ھوالخوف لان الخوف انما یحصل ممن لہ قوۃ وامتناع ۴؎۔
امان جائز ہونے کی شرط ایمان ہے اور اس کی علت خوف اس لئے کہ خوف اسی سے ہوتاہے جو زور رکھتاہو اور اپنے آپ کو بچا سکتاہو۔
 (۴؎ عنایۃ مع فتح القدیر     باب الموادعۃ من یجوز امانہ  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۲۱۳)
کلام امام نسفی میں ہے:
صح امانہ لانہ من اھل القتال ومنعۃ الاسلام فیخافونہ فینفذ منہ الامان الذی ھوازالۃ الخوف ۱؎۔
اس کی امان صحیح ہے اس لئے کہ وہ قتال کےلائق ہے اور اپنی حمایت کے لئے اسلامی گروہ رکھتاہے تو کافر اس سے ڈریں گے توامان کہ خوف زائل کرنے کانام ہے اس سے نفاذ پائے گی۔
  (۱؎ کافی شرح وافی للنسفی)
اسی میں ہے:
لایجوز امان اسیر وتاجرد خل علیہم ومسلم اسلم فی دارالحرب ولم یھاجر لان الا مان یکون علی خوف ولاخوف لھم0 منہ ۲؎۔
قیدی یا تاجر کہ دارالحرب میں داخل ہوا یاحربی کہ وہاں اسلام لایا اور دارالاسلام کی طرف ہجرت نہ کی ان کا امان دینا صحیح نہیں کہ امان ڈر میں ہوتی ہے اور کافران سے نہ ڈریں گے۔
 (۲؎ کافی شرح وافی للنسفی)
Flag Counter