Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
96 - 150
(۵؎ القرآن الکریم    ۵/ ۸۰ ،  ۸۱)
ترک موالات میں لیڈروں کی افراط وتفریط :

فرمائیے اللہ واحد قہار سچا کہ ہندوؤں سے وداد و اتحاد منانے والے ہر گز مسلمان نہیں انھیں اللہ ونبی وقرآن پر ایمان نہیں، یا معاذاللہ یہ سچے کہ ہم توٹکسالی مسلمان ہیں ہم تو قوم کے لیڈران وریفارمران ہیں، مسلمان تو یہی کہے گا کہ اللہ سچا "ومن اصدق من اﷲ حدیثا"، غرض ترک موالات میں افراط کی تو وہ کہ مجرد معاملت حرام قطعی اور تفریط کی تو یہ کہ ہندوؤں سے وداد واتحاد واجب بلکہ ان کی غلامی وانقیاد فرض بلکہ مدار ایمان۔
فسبحن مقلب القلوب والابصار۔
اول میں تحریم حلال کی، دوم میں تحلیل حرام بلکہ افتراض حرام اور ان دونوں کے حکم ظاہر وطشت ازبام۔

انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے بہتانی الزام کا رد:

للہ انصاف ! کیا یہاں اہل حق نے انگریزوں کے خوش کرنے کو معاذاللہ مسلمانوں کا تباہ کرنے والا مسئلہ نکالا یا ان کے اہل باطل نے مشرکین کے خوش کرنے کو صراحۃً کلام اللہ و احکام اللہ کو پاؤں کے نیچے مَل ڈالا، مسلمان کو خدالگتی کہنی چاہئے، ہندؤوں کی غلامی سے چھڑانے کو جو فتوی اہلسنت نے دئیے کلام الہٰی واحکام الہٰی بیان کئے یہ تو ان کے دھرم میں انگریزوں کو خوش کرنے کے ہوئے وہ جو پیر نیچر کے دور میں نصرانیت کی غلامی اُبچی تھی جسے اب آدھی صدی کے بعد لیڈر، رونے بیٹھے ہیں۔ کیا اس کا رد علمائے اہل سنت نے نہ کیا، وہ کس کو خوش کرنے کو تھا، کیا بکثرت رسائل ومسائل اس کے رد میں نہ لکھے گئے، حتی کہ اس کے بچے ندوے کے رد میں پچاس سے زائد رسائل شائع کئے جن میں جابجا اس نیم نصرانیت کابھی رد بلیغ ہے، یہ کس کے خوش کرنے کو تھا، کیا صمصام حسن میں نہ تھا ع
نیچریاں راست خدادرکمند     نیچر وقانون وراپائے بند

سرنتواند کہ زنیچر کشد    خط بخدائیش سنیچر کشد

کیست سنیچر سی وایس آئی ست    گول بکول آمدہ نیچر پست

چوں شدہ استارہ ہند آن دغل    نحس وبلندآۤمدہ ہمچوں زحل

عرش وفلک جن وملک حشرتن    ناروجنان جملہ غلط کردوظن

کیست نبی پردل پرجوش گو    وحی چہ باشد سخن جوش او

برزدہ برہم ہمہ از اصل وفرع    دین نو آورد و نوآورد شرع

ریش حرام ست ودم فرق فرض    حج سوئے انگلنڈ بودقطع ارض

گفت بیا قوم شنو قوم من        ہِیں سوئے اعزاز بدوقومِ من

ذلت تان دین مسلمانی ست    وائے برانکس کہ نہ نصرانی ست
 (ترجمہ: خدا نیچریوں کی قید میں ہے، نیچر (طبیعت) اورقانون اس کو پابند کرنیوالے ہیں، وہ نیچر سے سر نہیں پھر سکتا۔ سنیچر اس کو خدائی پر لکیر کھینچ دیتاہے، سنیچر کون؟ سی، ایس آئی ہے، ایک بیوقوف نیچر پرست (سرسید) کول میں آیا ہے، جب سے وہ کھوٹا شخص ستارہ ہند ہوا (اسے تمغہ ملاہے) زحل کی طرح منحوس اور بلند ہوگیا ہے، اس نے عرش آسمان، فرشتے، حشر جسمانی، جنت دوزخ سب کو غلط اور ظنی قرار دیا ہے، (اس کے نزدیک) نبی کون ہے؟ بہادر اور  شعلہ بیان خطیب ہے تمام اصول اور فروع کو اس نے درہم برہم کردیا ہے، دین نیا لایا ہے اور شریعت نئی لایا ہے، داڑھی حرام ہے اور (ٹیڑھی) مانگ کی دم فرض ہے، حج انگلینڈ کی طرف سفر کا نام ہے، اس نے کہا اے میری قوم! آ اور سن، اے میری قوم! عزت کی طرف دوڑ، دین اسلام تمھاری ذلت ہے، افسوس اس شخص پر جو نصرانی (عیسائی) نہیں ہے)

یہ کس کی خوشی کو تھا، کیا مشرقستان اقدس میں نہ تھا ع
ندویا کیں جلوہ دراسپیچ ولکچر می کنند    چوں بہ سنت می رسندآں کاردیگر می کنند

گہ روافض رابرسربرتاج لطف اللہ نہند    گہ پوادر رابہ تخت عالماں برمی کنند

بخت ورخت تخت دیں بیں جلوہ باصدرش براں    پاڈری وسکاٹ بامسٹری براڈرمی کنند

مفت مفتی یافت ایں عزت کہ اور اہمنشیں    بااماماں جج وجنٹ وکلکٹر می کنند

ساز وناز عالماں بیں نظم بزم دیں بدیں                  میز واسٹیج وٹکٹ ہال وکلب گھر می کنند

زیں سگا لشہا چہ نالشہا کہ خود ایں سرکشا    داور دادار را  برٹش گورنرمے کنند ۲؎
 (ترجمہ: ندوہ والے جو تقریر اور لیکچر میں جلوہ دکھاتے ہیں جب سنت تک پہنچے ہیں تو دوسرا کام کرتے ہیں، (یعنی سنت کی مخالفت)۔ یہ کبھی رافضیوں کے سرپر اللہ تعالٰی کے لطف وکرم کا تاج رکھتے ہیں کبھی پادریوں کو علماء کے سٹیج پر بٹھاتے ہیں۔ دین کے اسٹیج کی قسمت اور سازوسامان دیکھئے کہ سوداڑھی منڈوں کے ساتھ پادری وسکاٹ اور مسٹر کو (اپنا ) بھائی بناتے ہیں، مفتی کو مفت میں یہ عزت مل گئی کہ اسے اماموں، ججوں، جنٹوں، اور کلیکٹروں کا ہم نشین بنادیتے ہیں، علماء کے نازوانداز دیکھئے، مجلس دینی کا نظام دیکھئے، میز اسٹیج، ٹکٹ ہال اور کلب گھر بناتے ہیں، ان خوشامدوں پر کیا رونا کہ یہ سرکش لوگ برٹش گورنر کوحاکم اور منصف مقرر کرتے ہیں)

یہ کس کی خوشی کو تھا، مولوی عبدالباری صاحب خدام کعبہ کی بانگی کے لئے مسجد کا نپور کو عام سڑک اور ہمیشہ کے لئے جنب وحائض وکافر ومشرک کی پامال کرا آئے اور بکمال جرأت اسے مسئلہ شرعیہ ٹھہرایا اس کے رد میں ابانۃ المتواری لکھا جس میں ان سے کہا گیا ع
دانم نہ رسی بکعبہ اے پشت براہ    کیں رہ کہ تو میروی بانگلستانست
 (کعبہ کی طرف پشت کرکے چلنے والے! میں جانتاہوں توکعبہ نہیں پہنچ سکے گا کہ جس راہ پر تو چل رہاہے وہ انگلستان کا راستہ ہے۔ ت)

نیز ان کے شبہات واہیہ کے قلع قمع کو قامع الواہیات شائع ہوا، یہ کس کی خوشی کو تھا، بات یہ ہے ع
المرء یقیس علی نفسہ
ع آدمی اپنے ہی احوال پہ کرتاہے قیاس

لیڈروں اور ان کی پارٹی نے آج تک نصرانیت کی تقلید وغلامی، خوشنودی نصارٰی کو کی اب کہ ان سے بگڑی اس سے بدرجہا بڑھ کر خوشنودی ہنود کو ان کی غلامی لی، سمجھتے ہیں کہ معاذاللہ خادمان شرع بھی ایساہی کرتے ہوں گے حالانکہ اللہ ورسول جانتے ہیں کہ اظہار مسائل سے خادمان شرع کا مقصود کسی مخلوق کی خوشی نہیں ہوتا صرف اللہ عزوجل کی رضاا ور اس کے بندوں کو اس کے احکام پہنچانا اور وللہ الحمد سنئے ہم کہیں واحد قہار اور اس کے رسولوں اور آدمیوں سب کی ہزار درہزار لعنتیں جس نے انگریزوں کے خوش کرنے کو تباہی مسلمین کا مسئلہ نکالا ہو، نہیں نہیں، بلکہ اس پر بھی جس نے حق مسئلہ نہ رضائے خدا ورسول نہ تنبیہ وآگاہی مسلمین کے لئے بتایا بلکہ اس سے خوشنودی نصارٰی اس کا مقصد ومدعا ہو اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ لیجئے کہ اللہ واحد قہار اور اس کے رسولوں اورملائکہ اور آدمیوں سب کی ہزار درہزار لعنتیں ان پر جنھوں نے خوشنودی مشرکین کے لئے تباہی اسلام کے مسائل دل سے نکالے اللہ عزوجل کے کلام اور احکام تحریف وتغٖییر سے کایا پلٹ کر ڈالے شعار اسلام بند کئے شعار کفر پسند کئے، مشرکوں کو امام وہادی بنایا، ان سے وداد واتحاد منایا اور اس پر سب لیڈر مل کر کہیں آمین، ان کی یہ آمین ان شاء اللہ تعالٰی خالی نہ جائے گی اگرچہ دل میں بہت کی دعا نہ ہو "الافی ضلل"۔

مشرکین سے معاہدہ کا بیان اور لیڈروں کا رد بلیغ:

(۸) لیڈر کہ احکام اسلام کو یکسر بدلنے اور بیچارے  عوام کو جھوٹے من گھڑت احکام سناکر چھلنے پر تلے ہیں محض فریب دہی کے لئے اس طرف چلے ہیں کہ ہندوؤں سے اور ہم سے اب جبکہ عہد موافقت ہوگیا توہم کو اس کا پورا کرنالازمی ہے یہ شریعت پر محض افتراء ہے، اول کون سی شریعت میں ہے کہ مشرکوں سے عہد موافقت، کافروں سے معاہدہ شرعیہ ایک مدت تک بمصلحت شرعی التوائے قتال کا عہد ہے، نہ کہ موافقت کاجو اب نصوص قطعیہ حرام ہے۔

لیڈران پر دوسرا رد:

دوم صرف موافقت ہی نہیں بلکہ لیڈران فرماتے ہیں اگر شرعی (عہ) مصلحت ہو تو اتحاد پیدا کرنا بھی ممنوع نہیں۔
عہ: عبارت گزشتہ اور یہ سب عبارات کہ اس بحث میں آتی ہیں جن پر خط ہے خطبہ صدارت مولوی عبدالباری صاحب جلسہ انجمن علمائے صوبہ متحدہ ۱۲ رجب ۳۸ھ بمقام کانپور کی ہیں ۱۲ حشمت علی عفی عنہ
مشرکوں سے اتحاد:

اللہ اکبر مشرک اور اتحاد جب تک یہ مشرک یا وہ مسلم نہ ہوجائیں دو ضدوں کا اتحاد کیونکر ممکن، ظاہرہے کہ وہ مسلمان نہ ہوئے نہ یہ ان کو مسلمان مان کر ان سے متحد ہوئے تو ضرورصورت عکس ہے کہ انھیں نے شرک قبول کیا، لیڈر صاحبو! ممنوع ہے یانہیں تمھاری خانگی پنچایتی بات نہیں "ان الحکم الا ﷲ"۱؎ حکم نہیں مگر اللہ کے لئے، خود لیڈر ان فرماتے ہیں خدا کے سواکسی کو حاکم بنانا روا نہیں "لاحکم الا ﷲ"، اور اس میں یہاں تک بڑھے کہ اگر رسول کی اطاعت لازم ہے تو اس صورت میں جبکہ مخالفت احکام الہٰیہ نہ ہو ورنہ" انما الطاعۃ فی المعروف" مشہور ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۶/ ۵۷ و ۱۲/ ۴۰ و ۱۲/ ۶۷)
لیڈران کے نزدیک رسول اللہ بھی خلاف خدا حکم فرما سکتے ہیں:

اللہ اکبر واحد قہار تو یہ فرما ئے کہ
من یطع الرسول فقد اطاع اﷲ ۲؎
جس نے رسول کی اطاعت کی بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور لیڈران فرمائیں رسول کی اطاعت اسی وقت تک ہے جب تک وہ احکام الہٰی کی مخالفت نہ کرے۔
 (۲؎ القرآن الکریم                ۴/ ۸۰)
جب رسول خلاف خدا حکم دے تو اس کی اطاعت نہیں، خیر، جب آپ کے یہاں رسول کا یہ مرتبہ ہے تو کیا قو م پر آپ کی اطاعت ہرطرح لازم ہے اگرچہ خلاف خدا وقرآن حکم دیجئے، ابھی توآپ نے کہا کہ حکم نہیں مگر خدا کے لئے اب اگر خدائی دعوٰی تمھیں نہیں تودکھاؤ خدا نے کہاں فرمایا ہے کہ مشرکوں سے اتحاد پیدا کرنا بمصلحت ممنوع نہیں۔
ھاتوا برھانکم ان کنتم صٰدقین ۳؎ o
لاؤ اپنی برہان اگر تم سچے ہو۔
 (۳؎ القرآن الکریم               ۲/ ۱۱۱)
قرآن عظیم کے صفحات مشرکین سے اتحا د ووداد حرام کرنے سے گونج رہے ہیں لیڈرو!
ء انتم اعلم ام اﷲ ۴؎
مصلحت شرعی تم زیادہ جانو یا اللہ جو فرماتاہے۔
لاتتخذ وابطانۃ من دونکم لایالونکم خبالا ط ودوا ماعنتم ۵؎۔
کسی غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمھاری بدخواہی میں کمی نہ کریں گے ان کی دلی تمنا ہے تمھارا مشقت میں پڑنا۔
 (۴؎ القرآن الکریم                ۲/ ۱۴۰) (۵؎ القرآن الکریم              ۳/ ۱۱۸)
اللہ اکبر ایسا کھلا افتراء اور واحد قہار پر، اللہ عزوجل فرماتاہے:
ولاتقولوا لما تصف السنتکم ھذا حلال و ھذا حرام لتفتروا علی اﷲ الکذب، ان الذین یفترون علی اﷲ الکذب لایفلحون o متاع قلیل ولھم عذاب الیم۱؎ o
اپنی زبانوں کی جھوٹی بناوٹ سے نہ کہو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے تاکہ اللہ پر جھوٹ باندھو بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہ پائیں گے تھوڑے دنوں دنیا میں برت لیں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۱۶/ ۱۱۶، ۱۱۷)
Flag Counter