Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
95 - 150
آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ تمھیں آیہ ممتحنہ پڑھنے کا کیا منہ ہے تمھارا پڑھنا یقینا مصداق
"رب تالی القرآن و القرآن یلعنہ" ۲؎
(بہتیرے وہ ہیں کہ وہ تو قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن  انھیں لعنت فررہاہے) ہے کیا اسی آیت کاتتمہ نہیں:
ومن یتولہم منکم فاولئک ھم الظلمون ۳؎۔
تم میں جو ان سے دوستی رکھے تو وہی پکے ظالم ہیں
 (۲؎ المدخل لابن الہحاج    الکلام علی جمع القرآن    دارالکتب العربی بیروت        ۱/ ۸۵ و ۲/ ۳۰۴) 

(۳؎ القرآن الکریم                        ۹/ ۲۳)
جو ان سے موالات کرے وہی ظالم ہے تم نے خاص محاربین بالفعل مقاتلین فی الدین سے موالات کی تو تم بحکم قرآن ظالمین ہوئے یانہیں، اوریہی قرآن فرماتاہے:
الالعنۃ اﷲ علٰی الظلمین ۴؎o
سن لو ظالموں پر اللہ کی لعنت۔
 (۴؎ القرآن الکریم                        ۱۱/ ۱۸)
توبحکم قرآن ایسے لوگ لعین ہوئے یا نہیں اب دو فتوے اب کرو آیہ ممتحنہ کا دعوٰی:
واﷲ لایھدی القوم الظلمین ۵؎ o ومن الناس من یقول امنا باﷲ والیوم الاخر وماھم بمؤمنین o یخدعون اﷲ والذین اٰمنوا وما یخدعون الا انفسہم وما یشعرون o فی قلوبہم مرض فزاد ھم اﷲ مرضا ولہم عذاب الیم بماکانوا یکسبون ۶؎o
اور اللہ تعالٰی ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا کچھ لوگ کہتے ہیں ہم اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اورانھیں ایمان نہیں، اللہ تعالٰی اور مسلمانوں سے فریب کرتے ہیں اور حقیقت میں وہ اپنی ہی جانوں کو فریب میں ڈالتے ہیں اور انھیں خبر نہیں، ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کےلئے دردناک عذاب ہے ان کے جھوٹ کا بدلا۔
 (۵؎القرآن الکریم                       ۹/ ۱۰۹) (۶؎القرآن الکریم                     ۲/ ۸ تا ۱۰)
لیڈروں کو چوتھا جواب:

رابعا ان صاحبوں سے یہ بھی پوچھ دیکھئے کہ سب جانے دو کریمہ لاینھٰکم ہر مشرک غیر محارب کو عام ہوکر محکم ہی سہی اور مشرکین ہند میں کوئی بھی محارب بالفعل نہ سہی، اب دیکھو تمھارے ہاتھ میں قرآن سے کیا ہے، خالی ہوا۔
وافئد تہم ھواء ۱؎ o
اور ان کے دل اڑے ہوئے ہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۱۴/ ۴۳)
کریمہ لاینہٰکم نے کچھ نیک برتاؤ مالی مواسات ہی کی تو رخصت دی یا یہ فرمایا کہ انھیں اپنا انصار بناؤ، ان کے گہرے یارغار ہوجاؤ، ان کے طاغوت کو اپنے دین کاامام ٹھہراؤ، ان کی جے پکارو، ان کی حمد کے نعرے مارو، انھیں مساجد مسلمین میں بادب وتعظیم پہنچاکر مسند مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر لے کاجا کرمسلمانوں سے اونچا اٹھاکر واعظ وہادی مسلمان بناؤ ان کا مردار  جیفہ اٹھاؤ، کندھے پر ٹکٹکی زبان پر جے یوں مرگھٹ میں پہنچاؤ، مساجد کو ان کا ماتم گاہ بناؤ ان کے لئے دعائے مغفرت ونماز جنازہ کے اعلان کرو، ان کی موت پر بازار بند کرو سوگ مناؤ، ان سے اپنے ماتھے پر قشقے لگواؤ، ان کی خوشی کو شعار اسلام بند کراؤ، گائے کا گوشت کھانا گناہ ٹھہراؤ، کھانے والوں کو کمینہ بتاؤ، اسے مثل سَور کے گناؤ، خدا کی قسم کی جگہ رام دہائی گاؤ، واحد قہار کے اسماء میں الحاد رچاؤ، اسے معاذاللہ رام (عہ) یعنی ہر چیز میں رما ہوا ہر شے میں حلول کئے ہوا ٹھہراؤ۔
عہ: یہاں سے صریح گمراہی ظاہر ہوئی ان جاہل مفتیوں کی جنھوں نے کہا کہ ''اس میں کیا حرج ہے رام خدا ہی کو تو کہتے ہیں'' اور جب تنبیہ کی گئی کہ رام لچھن وسیتارام میں کون سے لکھا کہ ''بظاہر رام ہنود کے یہاں خدا کوکہتے ہیں اور خدا کی دہائی دینا جائز ہے'' اتحاد منانے کا اثر ہے کہ وہ جو شدید گالی رب العزت کو دینے میں مقبول وشیر مادر ہے، خدا کو تو رام بنالیاکیا اپنے آپ کو بھی مولوی کی جگہ پنڈت اور عبدمضاف باحداسماء الہٰیہ کے بدلے رامداس  اور اپنی مسجد کو شوالہ اور اپنے مدرسہ کو پاٹ شالا کہنا روا رکھیں گے، کیا ان لفظوں کی جگہ مولوی عبد۔۔۔۔صاحب نے اپنے مدرسہ کی مسجد میں وعظ فرمایا یوں کہنے کی اجازت دیں گے کہ پنڈت رام داس جی نے اپنے پاٹ شالا کے شوالے میں کتھا بکھائی یاکم از کم اتنا کہ اپنے لئے مولوی صاحب السلام علیکم کے بدلے پنڈت جی نمتکار کہنا روارکھیں گے، اوریہی نہیں اپنے جنازوں کے ساتھ کلمہ طیبہ کی جگہ رام رام ست پکاریں گے کہ آخر ہنود کے نزدیک رام خدا ہی توہے اور خدا ضرور حق ہے، نہ اجازت دیں گے تو کیوں اللہ کو رام کہنا جائز، اور تمھارے لئے ویسے ہی ترجمے کرنا حرام معلوم ہوا، اللہ عزوجل کی عظمت سے اپنی عظمت دل میں زائد اور بہت زائد ہے، یہ ترجمہ کا سلسلہ تو بہت اونچا چلتاہے مگر بے ادبوں کی اسی قدر سزا ہے ۱۲ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
قرآن مجید کورامائن کے ساتھ ایک ڈولے میں لے جاؤ دونوں کی پوجا کراؤ، ان کے سرغنہ کو کہو خدا نے ان کو تمھارے پاس مذکر بناکر بھیجاہے، یوں معنی نبوت جماؤ، اللہ عزوجل(عہ) نے سید الانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے تویہی فرمایا
انما انت مذکر ۱؎
تم تونہیں مگر مذکر۔ اور خدا نے مذکر بنا کر بھیجاہے اس نے معنی رسالت کا پورا نقشہ کھینچ دیا، ہاں لفظ بچایا اسے یوں دکھایا نبوت ختم نہ ہوتی تو گاندھی جی نبی ہوتے اور امام و پیشوا وبجائے مہدی موعود توصاف کہہ دیا بلکہ اس کی حمد میں یہاں تک کہ اونچے اڑے کہ ''خاموشی از ثنائے تو حد ثنائے تست'' صاف کہہ دیا کہ ''آج اگر تم نے ہندو بھائیوں کو خوش کرلیا تو اپنے خدا کوراضی کرلیا، صاف کہہ دیا کہ ''ہم ایسا مذہب بنانے کی فکر میں ہیں جو ہندو مسلم کا امتیاز اٹھادے گا، صاف کہہ دیا کہ ''ایسا مذہب چاہتے ہیں جو سنگم وپریاگ کو مقدس علامت ٹھہرائے گا'' صاف کہہ دیاکہ ''ہم نے قرآن مجید وحدیث کی تمام عمر بت پرستی پر نثار کردی'' کیا کریمہ لاینھٰکم میں ان ملعونات وکفریات کی اجازت دی تھی۔
ویلکم لاتفتروا علی اﷲ کذبا فسیحتکم بعذاب ۲؎ o ومن اظلم ممن افتری علی اﷲ کذبا، اولئک یعرضون علی ربہم ویقول الاشہاد ھٰؤلاء الذین کذبوا علی ربہم الالعنۃ اﷲ علی الظلمین o الذین یصدون عن سبیل اﷲ ویبغونھا عوجاط وھم بالاخرۃ ھم کٰفرون ۱؎o
تمھاری خرابی ہو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمھیں عذاب میں بھون دے اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یہ ہیں وہ لوگ کہ اپنے رب کے حضور پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے یہ ہیں وہ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا تھا سن لو ظالموں پر اللہ کی لعنت وہ جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکر ہیں ۔
عہ:  یہاں سے صاف ظاہر ہوئی ان جاہل مفتیوں کی جنھوں نے لکھا''مذکر یاد دلانے کے معنی میں بولا جاتاہے پس اگر کسی کو مذکر یعنی کوئی بات یاد دلانے کہا جائے تو جائز ہے'' مسلمانو! للہ انصاف کہاں تو کوئی بات یاد دلانے والا اور کہاں یہ کہ ''خدا نے ان کو مذکر بناکرتمھارے پاس بھیجا ہے گاندھی کو پیشوا نہیں بلکہ قدرت نے تم کو سبق پڑھانے والا مدبر بنا کر بھیجا، یہ گلفشانی جدید لیڈر بننے والے جناب عبدالماجد بدایونی کی ہے جو جلسہ جمیعت علمائے ہند دہلی میں ہوئی اور اخبار فتح دہلی ۲۴ نومبر میں چھپی انھیں کی حمایت میں مفتی مذکور کا وہ فتوٰی ہے مگر معلوم نہیں ان مفتی صاحب فقیہ کی کتاب علم یا ان کے طورپر پنڈت رام داس جی شاستری کی ودیا پشتک میں مولوی عبدالماجد کو پانڈے شری داس کہنے کا بھی جواز ہے یا ان کے کھیلنے کے لئے صرف بارگاہ قہار بے نیاز ہے ۱۲ حمشت علی لکھنوی عفی عنہ۔
 (۱؎ القرآن الکریم         ۸۸/ ۲۱) (۲؎ القرآن الکریم      ۲۰/ ۶۱) (۱؎القرآن الکریم        ۱۱/ ۱۸ و ۱۹)
دیکھی تم نے آئینہ ممتحنہ میں اپنی صورت:
وذلک جزؤا الظلمین ۲؎ o کذلک العذاب ولعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون ۳؎ o
یہ سزا ہے ظالموں کی، عذاب ایساہوتاہے اور بیشک آخرت کا عذاب بہت بڑا ہے کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔ْ
 (۲؎ القرآن الکریم                ۵/ ۲۹)(۳؎ القرآن الکریم              ۶۸/ ۳۳)
لیڈروں سے ضروری سوال:

سوال ضروری لیڈران اور پارٹی کو اب تو کھلا کہ انھوں نے یقینا دشمنان خدا اور رسول سے وداد واتحاد منایا اور ان کاکوئی عذر بارد انھیں کام نہ آیا اب قرآن کریم سے اپنا حکم بتائیں، اوپر آیہ کریمہ تلاوت ہوئی:
لاتجد قوما یؤمنون باﷲ والیوم الاخر یوادون من حاد اﷲ ورسولہ ۴؎۔
تم نہ پاؤ گے جو اللہ اور قیامت پرایمان رکھتے ہیں کہ مخالفان خدا ورسول سے وداد کریں۔
(۴؎ القرآن الکریم   ۵۸/ ۲۲)
دوسری آیات میں فرمایا:
تری کثیرا منہم یتولون الذین کفروا لبئس ماقدمت لہم انفسہم ان سخط اﷲ علیہم وفی العذاب ھم خٰلدون o ولوکانوا یؤمنون باﷲ والنبی وماانزل الیہ مااتخذوھم اولیاء ولکن کثیرا منہم فسقون ۵؎ o
تم ان میں بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں بیشک کیا ہی بری چیز ہے جو خود انھوں نے اپنے لئے تیا رکی، یہ کہ ان پر اللہ کا غضب اترا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے اور اگر انھیں اللہ ونبی وقرآن پر ایمان ہوتا تو کافروں کودوست نہ بناتے مگر ہے کہ ان میں بہت سے فاسق ہیں۔
Flag Counter