Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
94 - 150
معنی اقساط کی تحقیق

تنبیہ چہارم: معنی اقساط میں مفسرین تین وجہ پر مختلف ہوئے:

اول کشاف ومدارک وبیضاوی وابوالسعود وجلالین میں اسے بمعنی عدل ہی لیا اولین میں اورواضح کردیا کہ
ولاتظلموھم ۱؎
امام ابوبکر ابن العربی نے اس پر ایراد کیا کہ عدل ومنع ظلم کا حکم معاہد سے خاص نہیں حربی محارب کو بھی قطعا عام ہے او روہ صرف رخصت نہیں بلکہ قطعا واجب۔
 (۱؎ مدارک التنزیل (التفسیر النسفی)    تحت وتقسطوا الیہم،     دارالکتاب العربی بیروت        ۴/ ۲۴۸)
قال تعالٰی:
ولایجرمنکم شناٰن قوم علی ان لاتعدلوا اعدلواھواقرب للتقوٰی ۲؎۔
کسی قوم کی عداوت تمھیں عدل نہ کرنے پر باعث نہ ہو عدل کرو وہ پرہیزگاری سے نزدیک ترہے

یہ تقریر ایرادہے اور اسے قرطبی خطیب شربینی پھر جمل نے مقرر رکھا۔
 (۲؎ القرآن الکریم   ۵/ ۸)
دوم عدل سے صرف وفائے عہد مراد ہے اسے کبیر میں مقاتل سے نقل کیا اوریہی تنویر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی:ـ
 (ان تقسطوا علیہم) تعدلوا بینہم بوفاء العہد (ان اﷲ یحب المقسطین) العادلین بوفاء العہد ۳؎۔
ان کے ساتھ اقساط کی اجازت فرماتاہے یعنی جو معاہدہ ان کے ساتھ ہوا اسے پورا کرو یہ عدل ہے بیشک اللہ تعالٰی اقساط والوں کودوست رکھتاہے جو وفائے عہد سے عدل کرتے ہیں۔
 (۳؎ تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس     زیر آیہ لاینہٰکم اللہ عن الذین الخ    مصطفی البابی مصر    ص۳۵۱)
اگرکہئے معاہد سے وفائے عہد بھی واجب ہے نہ صرف رخصت اقول وفا واجب ہے اتمام مدت واجب نہیں، مصلحت ہو تو نبذ جائز، قال تعالٰی :
فانبذالیہم علی سواء ۴؎
 (ان کی طرف یکساں حالت پر نبذ کردو (عہ)۔ اب ایراد بھی نہ رہا اور بروقسط دو جدا چیزیں ہوگئیں، اور "ان اﷲ یحب المقسطین" یہاں بھی بلا تکلف ہے اور اسے ماثور ہونے کا بھی شرف حاصل اگرچہ سند ضعیف ہے تو یہی اسلم واقوی ہے۔
عہ: جن کفار سے ایک مدت تک معاہدہ ہو او رمصلحت اسلام اس کا ترک چاہے، فرض ہے کہ ان کو اطلاع کردی جائے ہوشیار ہوجاؤ اب ہم تم سے معاہدہ رکھنا نہیں چاہتے اس کا نام نبذ ہئے اس میں فرض ہے کہ اگر اس وقت وہ امن کی جگہ نہ ہوں تو اتنی مہلت دی جائے کہ وہ اپنی امان کی جگہ پہنچ جائیں، اور اگر باطمینان معاہدہ وہ اپنے قلعے خراب کرچکے ہوں تو فرض ہے کہ اتنی مدت دی جائے جس میں وہ اپنے قلعے درست کرلیں یہاں سے یکساں حالت کے معنی کھل گئے یعنی یہ نہ ہو کہ اپنا سامان ٹھیک کرکے ان کی غفلت میں نبذ کردو اور انھیں درستی سامان کی مہلت نہ دو، یہ ہے اسلام کا انصاف والحمدللہ ۱۲ منہ غفرلہ۔
 (۴؎ القرآن الکریم             ۸/ ۵۸)
سوم عدل سے مراد صرف عدل بالبر ہے، ابن جریر ومعالم وخازن میں ہے:
تعدلوا فیہم بالاحسان والبر ۱؎
(ان سے انصاف کا برتاؤ کرو بھلائی اور نیکی کے ساتھ۔ ت) ابن العربی وقرطبی وشربینی ونیشاپوری وجمل نے اس کی یوں توجیہ کی اقساط قسط بمعنی حصہ سے یعنی اپنے مال سے کچھ دینا۔
 (۱؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر)    زیر آیہ لاینہٰکم اﷲ عن الذین الخ    المطبعۃ المیمنۃ مصر    ۲۸/ ۴۰)
وانااقول وباللہ التوفیق (میں کہتاہوں او رتوفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ ت) ممکن ہے کہ عدل سے عدل فی البر مراد ہونہ کہ بالبر اسماء بنت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہماکی ماں عہد معاہدہ میں آتی ہے یہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس سے صلہ کا مسئلہ پوچھتی ہیں اس پر یہ آیہ کریمہ اترتی ہے وہ اگر کچھ ہدیہ نہ لاتی یہ اپنی طرف سے صلہ کرتیں یا جتنا وہ لاتی اس سے زائد یہ دیتیں تو کل یا قدر زائد۔ ان کی طرف سے احسان ہوتا یہ بِر ہے، اتناہی دیتیں تو دینے میں عدل یعنی مساوات ہوتی، یہ اقساط ہے، آیہ کریمہ نے معاہد سے دونوں صورتوں کی اجازت فرمائی اب یہ آیت زیادت ومساوات دونوں کی اجازت اور ان میں تقدیم ذکر زیادت میں آیت تحیت کی نظیر ہوگی "اذا حییتم بتحیۃ فحیوابا حسن منہا اوردوھا" ۲؎ جب تمھیں سلام کیا جائے تو ا س سے زیادہ الفاظ جواب میں کہو یا اتنے ہی، واللہ تعالٰی اعلم بمرادہ، یہ ہے بتوفیق اللہ تعالٰی، تفسیر کریمہ ممتحنہ میں تمام کلام کہ ان اوراق کے غیر میں نہ ملے گا
والحمد ﷲ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا والہ وذویہ امین والحمدللہ رب العالمین۔
 (۲؎ القرآن الکریم                            ۴/ ۸۶)
بالجملہ عطر ارشادات ائمہ ونتیجہ تنقیحات مہمہ یہ ہوا کہ کریمہ ممتحنہ میں اگر قتال سے قتال بالفعل مراد ہو تو یقینا آیات کثیرہ سے منسوخ جس کے نسخ پر تصریحات جلیلہ مذکورہ کے علاوہ مبسوط و عنایہ وکفایہ وتبیین وبحرالرائق وردالمحتار کے نصوص کا اوراضافہ ہوایہ جواب اول تھا اور اگر مطلق قتال مقصود کہ ہر حربی غیر معاہدمیں موجود، تو ضرور آیت محکم اور مشرکین ہند کو اس میں داخل نہ کرنا شدید ظلم وستم یہ جواب دوم ہوا، اور یہی مذہب جمہور ومشرب منصور ومسلک ائمہ حنفیہ صدور ہے مسلم حنفی بننے والی ہندو پرستی نے نہ حنفیت قائم رکھی نہ حنیفیت، نہ مذہب ہی برقرار رکھا نہ شریعت، ذٰلک ھوا لخسران المبین o ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم، دو جواب توہوئے۔

لیڈروں کو تیسرا جواب:

ثالثا وائے غربت اسلام وانصاف، کیاکوئی ان سے اتنا کہنے والا نہیں کہ ہندوؤں کے بالفعل محاربین سے بھی تمھیں عداوت کا اقرار رہاتھی کے دانت ہیں، کھانے کے اور دکھانے کے اور، کیا تمھیں نہیں ہوکہ جب وہ محاربین قاتلین ظالمین کافرین گرفتار ہوئے ان پر ثبوت اشد جرائم کے انبار ہوئے تمھاری چھاتی دھڑکی، تمھاری مامتا کی پھڑکی، گھبرائے، تلملائے، سٹپٹائے، جیسے اکلوتے کی پھانسی سن کر ماں کو درد آئے، فورا گرماگرم دھواں دھار ریزولیوشن (عہ) پاس کیاہے کہ ہے ہے یہ ہمارے پیارے ہیں۔ یہ ہماری آنکھ کے تارے ہیں، انھوں نے مسلمانوں کو ذبح کیا، جلایا پھونکا، مسجدیں ڈھائیں، قرآن پھاڑے، یہ ہماری ان کی خانگی شکر رنجی تھی، ہمیں اس کی مطلق پرواہ نہیں، یہ ہمارے سگے ہیں کوئی سوتیا ڈاہ نہیں، ماں بیٹی کی لڑائی دودھ کی ملائی، برتن ایک دوسرے سے کھڑک ہی جاتاہے ان کے درد سے ہمیں غش پرغش آتاہے۔ ان کابال بیکا ہوا اور ہمارا کلیجہ پھٹا، للہ ان کو معافی دی جائے، فورا ان سے درگزر کی جائے، یہ ہے آیہ ممتحنہ پر تمھارا  عمل، یہ ہے "الذین قاتلو کم فی الدین" سے تمھاری جنگ وجدل۔ یہ ہے واحدقہار کو تمھارا پیٹھ دینا، یہ ہے کلام جبار سے تمھارا مچیٹا لینا ان تمھارے سگوں نے قرآن مجید پھاڑے، تم نے اس کے احکام پاؤں  تلے مَل ڈالے، انھوں نے مسجدیں ڈھائیں، تم نے رب المسجد کے ارشاددولتیوں سے کچل ڈالے، قرآن چھوڑ ا مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے منہ موڑا اور ان کے دشمنوں ان کے اعداء سے رشتہ جوڑا، یہ تمھیں اسلام کا بدلا ملا۔
اف لکم بئس للظلمین بدلا ۱؎ o
اف ہے تم پر ظالموں نے کیاہی برا عوض پایا۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۱۸/ ۵۰)
عہ: بعض مفتیان بے انصاف اسے دیکھیں جنھوں نے لکھا تھا ''اگر کوئی ہندو اس کے خلاف ہو تو اس صورت میں بھی یہی حکم ہے کہ محارب سے بروقسط ناجائز۔ ع

یہی اقرار یہی قول، یہی وعدہ تھا۔ الخ حشمت علی عفی عنہ
Flag Counter