Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
93 - 150
میل طبعی کا حکم:
قال اللہ تعالٰی:  ولاترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار ۱؎۔
ظالموں کی طرف میل (عہ) نہ کرو کہ تمھیں آگ چھوئے۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۱۱/ ۱۱۳)
عہ: جب مجرد میلان قلب کو حرام وموجب عذاب نار فرمایا تو وداد اواتحاد وانقیاد وتبتل کس قدر سخت کبیرہ موجب عذاب اشد ہوں گے لیڈروداد واتحاد وانقیاد سب خود قبول کررہے ہیں، والعیاذ باللہ تعالٰی ۱۲

مگر میل طبعی جیسے ماں باپ اولادیازن حسینہ کی طرف کہ جس طرح بے اختیار ہو زیرحکم نہیں پھر بھی اس تصورسے کہ یہ اللہ ورسول کے دشمن ہیں ان سے دوستی حرام ہے، بقدرقدرت اس کا دبانا یہاں تک کہ بن پڑے تو فنا کردینا لازم ہے کہ شے مستمر میں بقاء کے لئے حکم ابتداہے کہ اعراض ہرآۤن متجدد ہیں آنا بے اختیار تھا اور جانا یعنی ازالہ قدرت میں ہے تو رکھنا اختیار موالات ہوا اور یہ حرام قطعی ہے ولہذا جس غیر اختیاری کے مبادی اس نے باختیار پیدا کئے اس میں معذورنہ ہوگا جیسے شراب کہ اس سے زوال عقل اس کا اختیاری نہیں مگر جبکہ اختیار سے پی تو زوال عقل اور اس پر جو کچھ مرتب ہو سب اسی کے اختیار سے ہوا، 

قال تعالٰی:
یایھاالذین اٰمنوا لاتتخذوا اٰبائکم واخوانکم اولیاء ان استحبواالکفر علی الایمان ومن یتولہم منکم فاولئک ھم الظلمون ۱؎۔
اے ایمان والو! اپنے باپ بھائیوں کودوست نہ بناؤ اگر وہ ایمان پر کفر پسندکریں اور تم میں جو ان سے دوستی رکھے گا وہی پکا ظالم ہوگا۔
 (۱؎ القرآن الکریم                ۹/ ۲۳)
تفسیر کبیرونیشاپوری وخازن وجمل وغیرہما میں ہے:
انہ تعالٰی امرالمومنین بالتبری عن المشرکین وبالغ فی ایجابہ، قالوا کیف تمکن ھذہ المقاطعۃ التامۃ بین الرجل وبین ابیہ وامہ واخیہ، فذکر اﷲ تعالٰی ان الانقطاع من الاٰباء والاولاد والاخوان واجب بسبب الکفر ۲؎۔
جب اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کومشرکوں سے بیزاری کاحکم دیا اور بتاکید شدید واجب فرمایا تو بعض مسلمانوں نے کہا آدمی کا اس کے باپ اور ماں اور بھائی سے یہ پورا انقطاع کیونکر ممکن ہے، اس پر رب عزوجل نے فرمایا کہ باپ اور اولاد اور بھائیوں سے ان کے کفر کے سبب پورا انقطاع ہی لازم ہے۔
 (۲؎مفاتیح الغیب (تفسیر الکبیر)    آیہ قل ان کان آباء کم الخ کے تحت    المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر        ۱۶/ ۱۸)
موالات صوریہ کے احکام:

دوم صوریہ: کہ دل اس کی طرف اصلا مائل نہ ہو مگر برتاؤ وہ کرے جو بظاہر محبت ومیلان کا پتا دیتاہو، یہ بحالت ضرورت وبمجبوری صرف بقدر ضرورت ومجبوری مطلقا جائز ہے۔ 

قال تعالٰی:
الا ان تتقوا منہم تقٰۃ ۳؎۔
مگر یہ کہ تمھیں ان سے پورا واقعی خوف ہو۔
 (۳؎ القرآن الکریم                                ۳/ ۲۸)
بقدر ضرورت یہ کہ مثلا صرف عدم اظہار عداوت میں کام نکلتا ہو تواسی قدرپر اکتفا کرے اور اظہا ر محبت کی

ضرورت ہو تو حتی الامکان پہلودار بات کہے صریح کی اجازت نہیں اور بے اس کے نجات نہ ملے اورقلب ایمان پر مطئمن ہو تو اس کی بھی رخصت اور اب بھی ترک عزیمت، 

ابناء جریر و منذر وابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی:
نھی اﷲ المومنین ان یلاطفوا الکفار و یتخذوھم ولیجۃ من دون المؤمنین الاان یکون الکفار علیہم ظاھرین اولیاء فیظھرون لہم اللطف ویخالفونہم فی الدین وذٰلک قولہ تعالٰی الا ان تتقوا منہم تقٰۃ ۱؎۔
اللہ تعالی نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ کافروں سے نرمی کریں اور مسلمانوں کے سوا ان میں سے کسی کو راز دار بنائیں مگریہ کہ کافران پر غالب ووالیان ملک ہوں تو اس وقت ان سے نرمی کا اظہار کریں اور دین میں مخالفت رکھیں اوریہ ہے مولٰی تعالٰی کا ارشاد مگریہ کہ تم کو ان سے واقعی پوراخوف ہو۔
 (۱؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر)  القول فی تاویل قولہ لایتخذ المومنون الکفرین الخ  المطبعۃ المیمنہ مصر ۳/ ۱۴۰)
مدارک میں ہےـ
ای الا ان یکون للکافر علیک سلطان فتخافہ علی نفسک ومالک فحینئذ یجوز لک اظہار الموالاۃ وابطان المعاداۃ ۲؎۔
یعنی مگر یہ کہ کا فر کی تجھ پر سلطنت ہو تو تجھے ا س سے اپنے جان ومال کا خوف ہو ا س وقت تجھے جائز ہے کہ اس سے دوستی ظاہر کرے اور دشمنی چھپائے۔
 (۲؎ مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)    آیہ ۳/ ۲۸                دارالکتاب العربی بیروت    ۱/ ۱۵۳)
کبیر میں ہے:
وذٰلک بان لایظھر العداوۃ باللسان، بل یجوز ایضا ان یظھر الکلام الموھم للمحبۃ والموالاۃ، ولکن بشرط ان یضمر خلافہ وان یعرض فی کل مایقول ۳؎۔
یہ یوں ہے کہ زبان سے دشمنی ظاہر نہ کرے بلکہ یہ بھی جائزہے کہ ایسا کلام کہے جو محبت ودوستی کا وہم دلائے مگر شرط یہ ہے کہ دل میں اس کے خلاف ہو اور جو کچھ کہے پہلو دار بات کہے۔
 (۳؎ مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر)    آیہ ۳/ ۲۸                المطبعۃ البہیۃ مصر    ۸/ ۱۴)
صوریہ کی اعلٰی قسم مداہنت ہے اس کی رخصت صرف بحالت مجبوری واکراہ ہی ہے اورادنٰی قسم مدارات یہ مصلحتابھی جائز، 

قال اللہ تعالٰی:
وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اﷲ ثم ابلغہ مأمنہ ۱؎۔
اگر کوئی مشرک تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو تاکہ کلام الہٰی سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچادو۔

ظاہر ہے کہ اس وقت غلظت وخشونت منافی مقصو د ہوگی۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۹/ ۶)
مدارات کا بیان:
مدارات صرف اس ترک غلظت کانام ہے اظہار الفت ورغبت پھر کسی قسم اعلٰی میں جائے گا اور اسی کاحکم پائے گا، مدارات ومداہنت کے بیچ میں موالات صوریہ کی دو قسمیں اور ہیں: برواقساط اور معاشرت، یہ نوصورتیں موالات کی ہوئیں اور دس کی مکمل مجرد معاملت ہے، نہ کہ میلان پر مبنی نہ اس سے منبی،یہ سوائے مرتدہرکافر سے جائز ہے جب تک کسی محظور شرعی کی طرف منجر نہ ہو معاشرت کے نیچے افعال کثیرہ ہیں، سلام وکلام، مصافحہ، مجالست، مساکنت، مواکلت وتقریبوں میں شرکت، عیادت، تعزیت، اعانت، استعانت، مشورت وغیرہا ان سب کے صورو شقوق کی تفصیل اور ہر صورت پر بیان حکم و دلیل ایک مستقل رسالہ چاہے گا، یہاں بروصلہ سے بحث ہے جس کی ہم نے تین قسمیں بیان کیں، قسم اول کہ بے اپنی کسی غرض صحیح کے بالقصد ایصال نفع وخیر منظور ہو یہ بے رغبت ومیلان قلب متصور نہیں، تو موالات حقیقیہ ہے اور مطلقا قطعا حرام قطعی، باقی دو قسمیں کہ اپنی غرض ذاتی یا مصلحت دینی مقصود ہو توموالات صوریہ کی ایک ہلکی قسمیں ہیں اگرچہ مجرد ترک غلظت پر ان میں شے زائد ہے، ان دو میں فرق یہ ہے کہ قسم دوم بھی اگرچہ حقیقت موالات سے برکراں ہے ا ورصورۃً بھی کوئی قوی دلیل نہیں مگر معنی کچھ اس کی نفی وضد بھی نہیں، اور سوم حقیقۃً معادات وقصد اضرار ہے، لہذا حربی محارب سے بھی جائز ہوئی کہ اب وہ ظاہری صورت خدعہ اور چال رہ گئی والحرب خدعۃ ۲؎ (لڑائی فریب ہے۔ ت)
 (۲؎ صحیح البخاری        باب الحرب خدعۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۴۲۵)
کفار کوپیٹھ دے کر بھاگنا کیسا اشد حرام وکبیرہ ہے لیکن اگر مثلا اس لئے ہو کہ وہ تعاقب کرتے چلے آئیں گے اور آگے اسلامی کمین ہے جب  اس سے گزریں ان کے پیچھے سے کمین کا لشکر نکلے اور آگے سے یہ لوٹ پڑیں اور کافر گِھر جائیں تو ایسا فرار بہت پسندیدہ ہے کہ یہ صورۃً فرار معنیً کرّار ہیں، قال تعالٰی:ـ
ومن یولہم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال اومتحیزا الی فئۃ فقد باء بغضب من اﷲ ومأوٰہ جہنم وبئس المصیر ۱؎ o
جہاد کے دن جوکوئی کافروں کو پیٹھ دکھائے گا سو ا اس کے جو لڑائی کے لئے کنارہ کرنے یا اپنے جتھے میں جگہ

لینے کو جائے وہ بیشک اللہ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیاہی بری پھرنے کی جگہ ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم            ۸/ ۱۶)
حربی غیر معاہد سے موالات کی حالی صورت بھی حرام ہے:

اور دوم ان سے جائز نہیں کہ حقیقت معادات سے خالی اور صورت موالات حالی یہ صرف معاہدین کے لئے ہے "تنزیلا للناس منازلہم" ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھنے کے لئے۔ اور غیر معاہد کے لئے یہ بھی موالات ممنوعہ ہی ہے اوپر گزرا کہ مولٰی عزوجل نے ان سے صوریہ کو بھی مثل حقیقیہ منع فرمایا اور اس کا نام بھی مودت ہی رکھا کہ
"تلقون الیھم بالمودۃ تسرون الیہم بالمودۃ ۲؎
(تم انھیں خبریں پہنچاتے ہو  دوستی سے تم انھیں محبت کا خفیہ پیغام پہنچاتے ہو۔ ت) یہ ہے حقیقت انیق
متکفل توفیق وتطبیق والحمد ﷲ علی حسن التوفیق۔
 (۲؎ القرآن الکریم            ۶۰/ ۱)
آیات ممتحنہ میں برومعاملات سے کیا مراد:
اس تحقیق سے روشن ہوا کہ کریمہ لاینھٰکم میں بر سے صرف اوسط مراد ہے کہ اعلٰی معاہد سے بھی حرام اور ادنٰی غیر معاہد سے بھی جائز، اور آیت فرق کے لئے اتری ہے نیز ظاہرہوا کہ کریمہ "انما ینھٰکم" میں "تولوھم" سے یہی بروصلہ مراد ہے تاکہ مقابلہ فرق ظاہر ہولاجرم تفسیر معالم وتفسیر کبیر میں ہے:
ثم ذکر الذین ینھاھم عن صلتہم فقال انما ینھٰکم اﷲ الآیۃ ۳؎۔
پھر اللہ تعالی نے ان لوگوں کا بیان فرمایا جن سے نیک سلوک کی ممانعت ہے کہ فرمایا اللہ تمھیں ان سے منع کرتاہے جو تم سے دین میں لڑیں۔
 (۳؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)    زیرآیۃ انما ینہکم اﷲ عن الذین الخ    المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر  ۲۹/ ۳۰۴)
تنویر المقیاس میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے:
 (انما ینھٰکم اﷲ عن الذین) عن صلۃ الذین (ان تولوھم) ان تصلوھم ۴؎ (ملخصا)
اللہ تمھیں ان سے منع فرماتاہے یعنی ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے سے کہ ان سے موالات یعنی نیک سلوک کرو۔
 (۴؎ تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس   القرآن الکریم    انما ینہکم اﷲ عن الذین الخ   مصطفی البابی مصر  ص۳۵۱)
Flag Counter