Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
92 - 150
جامع صغیرشریف کے متعدد نسخے حاضر، اس کی عبارت صرف اس قدر ہے:
الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ ۲؎۔
حربیوں کے لئے وصیت باطل ہے۔
 (۲؎ الجامع الصغیر  باب الوصیۃ بثلث المال   مطبع یوسفی لکھنو    ص۱۷۰)
اوریہی اس سے بدایہ متن ہدایہ میں منقول، نہ اس میں تعلیل ہے، نہ لفظ "ھو فی دارھم" ضرور، یہ بعض شروح جامع کی عبارت ہے جسے کافی نے حسب عادت علماء جامع کی طرف نسبت فرمایا تو شارح نے اطلاق جامع کو غیر مستامن پر حمل کیا اور جن میں مطلق جواز ہے جیسے عبارت شرح سیر کبیر جس کو محیط نے اسی(عہ) عادت کی بناء پر سیر کبیر کی طرف نسبت کیاان میں مستامن ومعاہد مقصود جس طرح خود محیط نے تصریح کی کہ:
اراد بالمحارب المستامن ۱؎
حربی سے مستامن مراد لیا،
عہ: فلا علیک مماوقع فی زکٰوۃ ۳؎ ش من عزوہ لمحمد فی السیر الکبیر فقد ابان الصواب فی الوصایا ناقلا عن العلامۃ جوی زادہ ان مراد ھم مایدل علی الجواز ماذکر فی شرح السیر الکبیر ۴؎ للامام السرخسی منہ غفرلہ۔
شامی کی کتاب الزکوٰۃ میں سیر کبیر کے حوالہ سے جو امام محمدرحمۃ اللہ تعالٰی کی طرف منسوب ہے وہ تجھے اشتباہ نہ دے اس لئے کہ شامی کے وصایا میں علامہ جوی زادہ سے درست وصحیح عبارت منقول ہے کہ جواز پر دلالت کرنے سے ان کی وہ دلیل مراد ہے جو امام سرخسی کی شرح سیر کبیر میں مذکورہے۔ منہ غفرلہ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار          مطبوعہ کوئٹہ   ۲/ ۷۳) (۴؎ردالمحتار   مطبوعہ کوئٹہ     ۵/ ۴۶۳) (۱؎ المحیط البرہانی)
اسی طرح عبارت موطائے امام محمد:
لاباس بالھدیۃ الی المشرک المحارب مالم یھدالیہ سلاح اودرع وھو قول ابی حنیفۃ والعامۃ من فقہائنا ۲؎۔
حربی مشرک کو ہدیہ دینے میں حرج نہیں جب تک ہتھیار یا زرہ کا بھیجنا نہ ہو اور یہی قول امام ابوحنیفہ اور ہمارے عام فقہاء کاہے۔
 (۲؎ مؤطا امام محمد    باب مایکرہ من لبس الحریر والدیباج    آفتاب عالم پریس لاہور    ص۳۷۱)
وصیت بھی ہدیہ ہی ہے کہ تملیک عین مجانا ہے، اورامام محمد جامع صغیر میں صاف فرماچکے کہ ان کے لئے وصیت باطل توہدیہ کیسے جائزہوسکتاہے مگر اسی فرق سے کہ معاہد کے لئے جائز اور غیر معاہد کے لئے ناجائز، جس طرح خود امام نے سیر کبیر میں اشعار فرمایااور کتاب الاصل میں ارشاد امام نے تو بالکل کشف حجاب فرمادیا کہ فرمایا حربی کے لئے باطل، پھر فرمایا: مستامن کے لئے جائز، 

ردالمحتار میں ہے:
نص محمد فی الاصل علی عدم جواز الوصیۃ للحربی صریحا ۳؎۔
امام محمد نے اصل میں روشن تصریح فرمائی کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں۔
 (۳؎ ردالمحتار        کتاب الوصایا        مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ     ۵/ ۴۶۳)
بدائع امام ملک العلماء سے گزرا:
وان کان مستامناذکر فی الاصل انہ یجوز ۴؎۔
امام محمد نے اصل میں فرمایا کہ کافر اگر مستامن ہو تو اس کے لئے وصیت جائز ہے۔
 (۴؎ بدائع الصنائع  کتاب الوصایا        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۷/ ۳۴۱)
خانیہ امام فقہیہ النفس میں ہے:
اوصی مسلم لحربی مستامن بثلث مالہ ذکر فی الاصل انہ تجوز وقیل ھذا قول محمد وعن ابی حنیفۃ فی روایۃ لاتجوز و ان لم یکن الحربی مستامنا لا تجوز فی قولہم ۵؎۔
کسی مسلمان نے حربی مستامن کے لئے اپنے تہائی مال کی وصیت کی، مبسوط میں فرمایا: یہ جائز ہے، بعض نے کہا: یہ قول امام محمد کا ہے، اور اما م اعظم سے ایک روایت میں ہے کہ جائز نہیں اور اگر حربی مستامن نہ ہو تو بالاتفاق ناجائز ہے۔
 (۵؎ فتاوٰی قاضی خان فعل فیمن تجوز وصیۃوفیمن لاتجوز وصیۃ الخ نولکشور لکھنؤ     ۲/ ۸۳۷)
رہا شرح سرخسی میں یہ استدلال کہ قحط مکہ معظمہ میں حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے پانسو اشرفیاں ابوسفیان وصفوان بن امیہ کو عطا فرمائیں کہ فقرائے مکہ پر تقسیم کریں، اقول واقعہ عین کے لئے عموم نہیں ہوتا۔ ممکن کہ وہ زمانہ صلح ومعاہدہ ہو معہذا ابوسفیان وصفوان رضی اللہ تعالٰی عنہما دونوں مؤلفۃ القلوب سے تھے، ممکن کہ اس مد سے عطا فرمائی ہوں پھر بھی وہ عبارات باقی رہیں جن میں مستامن کے لئے بھی عدم جواز کا صریح ارشاد ہے یونہی وہ کہ حربی غیرمعاہد کے لئے بھی جواز ان کا مفاد ہے،
ہندیہ میں محیط سے ہے:
لو ان عسکرا من المسلمین دخلوا دارالحرب فاھدی امیرھم الی ملک العدوھدیۃ فلاباس بہ ۱؎۔
اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر دارالحرب میں داخل ہو اور سپہ سالار دشمنوں کے بادشاہ کوکچھ ہدیہ بھیجے کچھ مضائقہ نہیں۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب السیر الفصل الثالث    مکتبہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/ ۲۳۶)
ائمہ لیڈروں پر سخت اشد عبارات:

ظاہر ہے کہ فَے وہی مال ہے کہ کافر سے بے لڑے قہرا لیا جائے اور لڑ کر لیں تو غنیمت، اور ایام معاہدہ کے ہدایا قہر نہیں،

 شرح سیر کبیر میں ہے:
لووادع الامام قوما من اھل الحرب سنۃ علی مال دفعوہ الیہ جاز لو خیرا للمسلمین ثم ھذا المال لیس بفیئ ولاغنیمۃ حتی لا یخمس،ولکنہ کالخراج یوضع فی بیت المال لان الغنیمۃ اسم لمال یصاف بایجاف الخیل والرکاب والفیئ اسم لما یرجع من اموالہم الی ایدینا بطریق القھر وھذا یرجع الینا بطریق المراضاۃ ۲؎۔
اگر سلطان اسلام نے حربیوں کے کسی گروہ سے سال بھر کے لئے صلح کرلی اور اس پر کچھ مال ان سے لے لیا تو اگر یہ مسلمانوں کے حق میں بہترہو تو جائزہے پھر یہ مال نہ فَے ہے نہ غنیمت، یہاں تک کہ اس سے خمس نہ لیا جائے گا، ہاں وہ خراج کی طرح ہے خزانہ مسلمین میں داخل کیا جائے گا، اس لئے کہ غنیمت اس مال کا نام ہے جو گھوڑے اونٹ دوڑاکر یعنی لڑکر ملے اور فے اس مال کانام ہے جو ہمیں ان سے بطور غلبہ ہاتھ آئے اور یہ تو ہم کو بطور رضامندی حاصل ہوا۔
(۲؎ شرح السیر الکبیر)
خیالات لیڈران کا قلمع قمع اس توفیق انیق ہی سے ہوگیا، یہ دونوں قسمیں ان پر اشد ہیں ان کے دونوں مزعوم کاسخت تر رد ہیں، قسم اول نے حربی معاہد کے ساتھ بھی ذرا سا سلوک مالی حرام فرمایا ان کے فقیر گداگر کو بھیک دینے تک منع بتایا اور لیڈروں نے غیر معاہد مشرکوں سے وداد و اتحاد منایا بلکہ ان کی غلامی وانقیاد کا کلنک لگایا۔

قسم دوم نے خود محارب ونامعاہد حربیوں کو ہدیہ دینا لینا جائزٹھہرایا، لیڈروں کے مطلقا ترک تعاون کی فرضیت کادربا جلایا۔ خیر انھیں اسی طرح ہر طرف کی ضرب وجرح ورد وطرح میں چھوڑئے، جانب توفیق باگ موڑئیے، 

سلوک مالی کی اقسام:

فاقول سلوک مالی تین طرح ہیں:

مرحمت، مکرمت، مکیدت

اول یہ کہ محض اسے نفع دینا خیر پہنچانا مقصود ہو یہ مستامن معاہد کے لئے بھی حرام ہے، امان و معاہد وکفِ ضرر کے لئے ہے نہ کہ اعداء اللہ کو بالقصد ایصال خیر کے واسطے۔

دوم یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت مثل مکافات احسان ولحاظ رحم کے لئے کچھ مالی سلوک، یہ معاہد سے جائز نامعاہد سے ممنوع۔

سوم یہ کہ مصلحت اسلام ومسلمین کےلئے محاربانہ چال ہو، یہ حربی محارب کے واسطے بھی جائز کہ حقیقت بروصلہ سے اسے علاقہ نہیں۔

موالات کی تقسیم اور اس کے احکام :

تحقیق مقام یہ ہے کہ موالات دو قسم ہیں:

اول حقیقیہ: جس کا ادنٰی رکون یعنی میلان قلب ہے، پھر وداد پھر اتحاد پھر اپنی خواہش سے بے خوف وطمع انقیاد پھر تبتل یہ بجمیع وجوہ ہر کافر سے مطلقا ہرحال میں حرام ہے۔
Flag Counter