تنبیہ سوم: مستامن کے بارے میں عبارات مختلف آئیں کثیرروایات مذکورہ میں مطلقا حربی سے نیک سلوک کی ممانعت ہے جس میں مستامن بھی داخل، اورنہایہ و تبیین وبحرالرائق وابوالسعود کی عبارات میں اس سے ممانعت کی صاف تصریح گزری لیکن بعض روایات سے اس کے لئے رخصت ثابت، فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
لاباس بان یصل الرجل المسلم المشرک قریبا کان اوبعیدا محاربا کان اوذمیا و اراد بالحارب المستامن واما اذا کان غیر المستامن فلاینبغی للمسلم ان یصلہ بشیئ کذا فی المحیط ۱؎۔
کوئی حرج نہیں کہ مسلمان مشرک سے کوئی مالی سلوک کرے خواہ رشتہ دار ہویا اجنبی، حربی ہو یا غیر مستامن ہو تو مسلمان کو سزا وار نہیں کہ اس کے ساتھ کوئی نیک سلوک کرے، ایسا ہی محیط میں ہے۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع عشر فی اہل الذمہ الخ مکتبہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۷)
امام ملک العلماء نے بدائع میں مستامن کے لئے وصیت کا جواز مبسوط سے نقل کیا پھر فرمایا، امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے عدم جواز مروی ہوا اوریہی روایت ہمارے ائمہ کے قول سے موافق تر ہے کہ وہ مستامن کے لئے صدقات حرام فراماتے ہیں، یونہی وصیت بھی، پھر فرمایا بعض نے کہا اس کے لئے جواز وعدم جواز صدقات میں ہمارے اصحاب سے دوروایتیں ہیں تو وصیت بھی انھیں دونوں روایتوں پر ہوگی، عبارت یہ ہے شرائط وصیت باعتبار موصی لہ میں فرمایا:
ومنہا ان لایکون حربیا غیر مستامن فان کان لاتصح الوصیۃ لہ من مسلم او ذمی وان کان مستامنا ذکر فی الاصل انہ یجوز لانہ فی عہد نافاشبہ الذمی، وروی عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ انہ لایجوز وھذہ الروایۃ بقول اصحابنا رحمہم اﷲ تعالٰی اشبہ فانہم قالوا لایجوز صرف الکفارۃ والنذر وصدقۃ الفطر و الاضحیۃ الی المستامن ویجوز صرفھا الی الذمی لانا ما نھینا عن براھل الذمۃ لقولہ تعالٰی لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین وقیل ان فی التبرع علیہ فی حال الحیاۃ بالصدقۃ و الھبۃ روایتین عن اصحابنا فالوصیۃ لہ علی تلک الروایتین ایضاً (ملخصا) ۱؎
ایک شرط جواز وصیت کی یہ ہے کہ حربی غیر مستامن نہ ہو ایسا ہو تو اس کے لئے وصیت باطل ہے مسلمان کرے خواہ ذمی، اور اگر حربی مستامن ہو تو امام محمد نے مبسوط میں ذکر فرمایا کہ جائز ہے اس لئے کہ وہ بھی ہمارے معاہدہ میں ہے تو ذمی ساہو ااور امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حربی مستامن کے لئے بھی وصیت جائزنہیں اور یہی روایت ہمارے ائمہ کے قول سے زیادہ موافق ہے اس لئے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حربی مستامن کو بھی نذر وکفارہ و صدقہ فطر وقربانی کاگوشت دینا جائز نہیں۔ اور ذمی کو جائز ہے اس لئے کہ ذمیوں کے ساتھ احسان کی ہمیں ممانعت نہ فرمائی گئی، اللہ تعالٰی فرماتاہے اللہ تمھیں ان سے منع نہیں فرماتا جو تم سے دین میں نہ لڑیں، اور کہا گیا کہ زندگی میں حربی مستامن کو کچھ ہبہ یا خیرات دینے میں ہمارے ائمہ سے دو روایتیں ہیں تو اس کے لئے وصیت بھی انہیں دو روایتوں پر رہے گی۔ (ملخصا)
(۱؎ بدائع الصنائع کتاب الوصایا فصل واماشرائط الرکن الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۳۴۱)
اس پر تمام کلام ونقض وابرام ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ جدالممتار میں مذکور جس سے اطالت کی یہاں حاجت نہیں سیرکبیر سے حربی کے لئے اشعار جوا زنقل کیا گیا مگر اس میں حربی فی دارہ کے لئے تصریح ہے محیط پھر قاضی زادہ نے اس کی عبارت یہ نقل کی:
لواوصی مسلم لحربی والحربی فی دارالحرب لاتجوز فان خرج الحربی الموصی لہ الی دارالاسلام بامان واراداخذ وصیتہ لم یکن لہ من ذٰلک شیئ وان اجازت الورثۃ لان الوصیۃ وقعت بصفۃ البطلان فلاتعمل اجازۃ الورثۃ فیھا ۲؎۔
اگر مسلمان نے کسی حربی کے لئے وصیت کی اور حربی دارالحرب میں تھا جائز نہیں پھر اگر جس حربی کے لئے وصیت تھی امان لے کر دارالاسلام میں آئے اوراپنی وصیت لینا چاہے اسے اس میں سے کچھ نہ ملے گا اگرچہ وارث اجازت بھی دے دیں کہ وصیت سرے سے باطل واقع ہوئی تو وارثوں کی اجازت اس میں کیا کام دے گی،
(۲؎ نتائج الافکار قاضی زادہ (شرح ہدایہ تکملہ فتح القدیر باب فی صفۃ الوصیۃ الخ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۵۵)
اقول ہاں فی داراہ کی قید اور سیاق کلام سے مستامن کے لئے جواز نکلتا ہے
"کما لا یخفی وبہ اندفع ایراد المحیط ثم نتائج الافکار علیہم"
(جیسا کہ مخفی نہیں ا س سے محیط پھر نتائج الافکار کا ان پر اعتراض ختم ہوگیا۔ ت) تویہ اسی توفیق کی طرف مشیر جو علامہ مولی خسرو نے درر میں کی اور تنویر نے اسے متن میں لیا کہ مستامن کے لئے صحیح اور غیر مستامن کے لئے ناجائز، درمیں اسے بحث درر ٹھہرایا حالانکہ منصوص ہے، وہی ہدایہ جس سے گزرا کہ حربی کے لئے وصیت باطل اسی میں ہے کہ مستامن کے لئے صحیح باب وصیۃ الذمی میں فرمایا:
اذا دخل الحربی دارنا بامان فاوصی لہ مسلم بوصیۃ جاز لانہ مادام فی دار الاسلام فھو فی المعاملات بمنزلہ الذمی ۱؎(ملخصا)
جب حربی امان لے کر دارالاسلام میں آئے اور اس وقت مسلمان اس کے لئے کچھ وصیت کرے تو جائز ہے اس لئے کہ وہ جب تک دارالاسلام میں ہے معاملات میں بمنزلہ ذمی ہے۔
(۱؎ الہدایۃ باب وصیۃ الذمی مطبع یوسفی لکھنو ۴/ ۶۸۶)
اقول او ریہی مفاد کریمتین ممتحنہ ہے کہ معاہدکے لئے رخصت اور غیر معاہد سے ممانعت اور مستامن بھی مثل ذمی معاہد ہے اگرچہ اس کا عہد موقت ہے
کما تقدم عن البدائع والھدایۃ
(جیسا کہ بدائع اور ہدایہ سے گزرا۔ ت) اور وصیت (عہ۱) وصدقہ میں فرق کی کچھ وجہ نہیں کہ دونوں بروصلہ ہیں خصوصا کریمہ لاینھٰکم ا ﷲ کا نزول ہی دربارہ مستامن ہو ا تو ایسی تخصیص کہ اصل سبب کی نفی کردے کیونکر روا ہو جس طرح شرح سیر کبیر کااطلاق کہ ہر گونہ حربی کے لئے جوازکا موہم ہے کیونکر مقبول ہوسکتاہے کہ کریمہ انما ینھٰکم اﷲ کا صاف منافی ہے اور (عہ۲) یہ کہنا کہ اس میں موالات سے ممانعت ہے نہ کہ صلہ سے ۔
عہ۱: تعریض بما فی ردالمحتار ۱۲ منہ غفرلہ
عہ۲: تعریض بما فی بعض التفاسیر ۱۲ منہ غفرلہ
اقول یہ محض بے معنی ہے موالات ہر کافر سے حرام ہے اگرچہ ذمی ہو اگرصلہ ہر حربی کے لئے بھی جائز ہو توفریقین میں فرق کیا رہا حالانکہ صریح نزول کریمتین اثبات فرق کے لئے ہے، تو قطعا (عہ۳)کریمہ ثانیہ میں صلہ ہی کو موالات فرمایا اوراسی سے منع کیا، لاجرم اس کی صحیح تاویل وہی ہے جو ابھی محیط وہندیہ سے گزری کہ حربی سے مستامن یعنی معاہد مراد ہے،
عہ۳: تفاسیر معالم وخازن وکبیر وتفسیر ابن عباس کے نصوص ابھی آتے ہیں۔
لاجرم اسی ہندیہ میں تاتار خانیہ سے ہے:
ذکر الامام رکن الاسلام علی السغدی اذا کان حربیا فی دار الحرب وکان الحال حال صلح ومسالمۃ فلا باس بان یصلہ ۲؎۔
امام رکن الاسلام علی سغدی نے فرمایا: جب حربی دارالحرب میں ہو اور وہ وقت صلح معاہدہ التوائے جنگ کا وقت ہو تو اس سے مالی سلوک میں حرج نہیں
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع عشر فی اہل الذمہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۷)
اس تحقیق سے بہت عبارات میں توفیق ہوگئی جن میں حربی کے لئے مطلقا ممانعت ہے جیسے ارشاد جامع صغیر وکتب کثیر ان میں حربی غیر معاہد مرادہے، لاجرم کافی پھر درر پھر نتائج الافکار نے کلام جامع صغیر یوں نقل کیا:
الوصیۃ للحربی وھو فی دارالحرب باطلۃ لانھا بروصلۃ وقدنھینا عن برمن یقاتلنا لقولہ تعالٰی انما ینھٰکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین ۱؎۔
حربی کہ دارالحرب میں ہو اس کے لئے وصیت باطل ہے اس لئے کہ وہ احسان ونیک سلوک ہے اور حربی کے ساتھ نیک سلوک سے ہمیں منع فرمایاگیا کہ اللہ عزوجل فرماتاہے اللہ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑے۔
(۱؎ الدررالحکام شرح غرر الاحکام کتاب الوصایا مطبعہ احمد کامل الکائنۃ دار سعادت مصر ۲/ ۴۲۹)
(نتائج الافکار تکملہ فی القدیر باب صفۃ الوصیۃ مایجوز من ذٰلک مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۵۵)