اگر تمھیں بھلائی پہنچے تو انھیں بری لگے اور تمھیں برائی پہنچے تو اس پر شاد ہوں۔
(۴؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۲۰)
تو وہ سب محاربین بالفعل ہیں خواہ ہاتھ سے یا زبان سے یادل سے، یہ قربانی گاؤ کا مسئلہ ایساہی ہے کون ساہندو ہے جس کے دل میں ا س کانام سن کر آگ نہیں لگتی کون سی ہندو زبان ہے جو گئورکھشا کی مالانہیں چلتی۔ کون سا شہر ہے جہاں اس کی سبھا یا اس کے ارکان یا اس میں چندہ دینے والے نہیں، کیا یہ مقدس بیگناہوں کے خون، یہ پاک مساجد کی شہادتیں، یہ قرآن عظیم کی اہانتیں انھیں ناپاک رکھشاؤں انھیں مجموعی سفاک سبھاؤں کے نتائج نہیں، نہ سہی ع
ہاتھ کنگن کوآرسی کیا ہے
اب جس شہر جس قصبہ جس گاؤں میں چاہو آزمادیکھو، اپنی مذہبی قربانی کے لئے گائے پچھاڑو۔ اس وقت یہی تمھاری بائیں پسلی کے نکلے، یہی تمھارے سگے بھائی، یہی تمھارے منہ بولے بزرگ یہی تمھارے آقا یہی تمھارے پیشوا تمھاری ہڈی پسلی توڑنے کو تیار ہوتے ہیں یانہیں۔ ان متفرقات کا جمع کرنا بھی جہنم میں ڈالئے وہ آج تمام ہندوؤں اور نہ صرف ہندوؤں تم سب ہندو پرستوں کا امام ظاہر وبادشاہ باطن ہے یعنی گاندھی صاف نہ کہہ چکا کہ مسلمان اگر قربانی گاؤ نہ چھوڑیں گے تو ہم تلوار کے زور سے چھڑادیں گے، اب بھی کوئی شک رہا کہ تما م مشرکین ہند دین میں ہم سے محارب ہیں پھر انھیں "لم یقاتلوکم فی الدین" میں داخل کرنا کیا نری بے حیائی ہے یا صریح بے ایمانی بھی، محاربہ مذہبی ہر قوم کا اس بات پر ہوتاہے جسے وہ اپنے دین کی رو سے زشت ومنکر جانے، اسی کے ازالہ کے لئے لڑائی ہوتی ہے، اور ازالہ منکرتین قسم ہے کہ موقع ہو تو ہاتھ سے ورنہ زبان سے ورنہ دل سے۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ ۱؎۔
تم میں جو کوئی کچھ خلاف شرع بات دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے رد کرے، پھر اگر نہ ہوسکے تو زبان سے، اور یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے۔
(۱؎ مسند احمد بن حنبل روایت ابوسعید الخدری دارالفکر بیروت ۳/ ۱۰)
(صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۱)
یہ تینوں صورتیں ازالہ وتغییر کی ہیں اور سب اہل محاربہ سے محاربہ ہی ہیں بالفعل ہتھیار اٹھانا شرط نہیں جس کا ثبوت اوپر گزرا، اور اگریہی ٹھہرے کہ اگرچہ لڑائی سرتاج قوم اور تمام افراد کی رضا سے ہو مگر "قاتلوکم فی الدین" میں صرف وہی داخل ہوں گے جنھوں نے میدان میں ہتھیار اٹھائے تو ذرا انگریزوں کے ساتھ اپنے بائیکاٹ کا مزاج پوچھ لیجئے، کیا ہر انگریز ترکوں کے ساتھ میدان جنگ میں گیا تھا ہر گز نہیں، لاکھوں یا شاید کروڑوں ہوں جنھوں نے اس میدان کی صورت تک نہ دیکھی خصوصا ہندوستان میں سول کے انگریز، تو یہ سب "لم یقاتلوکم فی الدین" ہوئے، اور تمھارایہ ترک تعاون کا عام مسئلہ تمھارے ہی منہ سخت جھوٹااور شریعت پر افتراء ٹھہراکہ مقاطعہ کرو تو انھیں معدود سے کرو جو میدان میں ترکوں سے لڑے، غرض ع
نے فروعت محکم آمدنے اصول
شرم بادت از خدا وازرسول
(نہ تیرے فروع قائم رہیں نہ اصول تو خدا ورسول سے شرم کھا۔ ت)
قرآن عظیم سے مزعومات لیڈران کارد:
تنبیہ جلیل: اقول کریمہ
وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ ۱؎
(اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں۔ ت) کہ ابھی ہم نے تلاوت کی قطعا اپنی ہر وجہ ہر پہلو پر لیڈران عنود پس روان ہنود پر رد شدید ہے،
(۱؎ القرآن الکریم ۹/ ۳۶)
ان کا مزعوم دو فقرے ہیں:
اول یہ کہ ہنود میں مقاتل فی الدین صرف وہی ہے جنھوں نے وہ مظالم کئے تو مقاتل نہیں مگر مقاتل بالفعل جس نے ہتھیار اٹھایا اور قتل کو آیا تاکہ عامہ ہنود کو "قاتلوکم فی الدین" سے بچالیں
دوم یہ کہ جو مقاتل بالفعل نہیں اس سے اظہار عداوت فرض نہیں تاکہ بزور زبان ان سے وداد واتحاد کی راہ نکالیں۔
اب آیہ کریمہ میں چار احتمال ہیں:
اول: دونوں "کافۃ" مسلمانوں سے حال ہوں یعنی سب مسلمانوں مشرکوں سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔
دوم: دونوں "کافۃ" مشرکین سے حال ہوں یعنی سب مشرکین سے لڑو جس طرح وہ سب تم سے لڑتے ہیں۔
سوم:پہلا "کافۃ" مشرکین سے حال ہو اور دوسرا منومنین سے یعنی تم بھی سب مشرکین سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔ یہ قول عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے منقول ہے۔
چہارم: اس کا عکس یعنی سب مسلمان مشرکوں سے لڑیں جس طرح وہ سب مشرک مسلمانوں سے لڑتے ہیں، کبیر میں اسی کوترجیح دی اورلباب میں اسی پر اقتصار کیا، اور امام نسفی نے چاروں احتمالوں کا اشعار کیا،
مفاتیح الغیب میں ہے:
فی قولہ تعالٰی کافۃ قولان، الاول ان یکون المراد قاتلوھم باجمعکم مجتمعین علی قتالہم، کما انھم یقاتلونکم علی ھذہ الصفۃ، یرید تعاونوا وتناصروا علی ذٰلک ولاتتخاذلوا ولاتتقاطعوا وکونوا عباداﷲ مجتمعین متوافقین فی مقاتلہ الا عداء، والثانی قال ابن عباس قاتلوھم بکلیتہم ولاتحابوا بعضہم بترک القتال کما انھم یستحلون قتال جمیعکم، والقول الاول اقرب حتی یصح قیاس احدالجانبین علی الاخر ۱؎۔
ارشاد الہٰی کافۃ میں دو قول ہیں، اول مراد یہ ہےکہ تم سب ان کے قتال پر اتفاق کرکے ان سے لڑو جس طرح وہ تم سے یونہی لڑتے ہیں، فرماتاہے قتال مشرکین میں سب آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور ایک دوسرے کو بے یار نہ چھوڑو نہ باہم علاقہ قطع کرو اور سب اللہ کے بندے ہوجاؤ، دشمنوں کے قتال پر یک دل ویک رائے ہو کر دوسرا قول ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا کہ سب مشرکوں سے لڑو اور ان میں کسی سے ترک قتال میں محابہ نہ کرو جس طرح وہ تم سب سے قتال روا رکھتے ہیں اور پہلاقول زیادہ قریب ہے تاکہ ایک فریق کادوسرے پر قیاس صحیح ہو۔
(۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) تحت آیہ قاتلوا المشرکین الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۶/ ۵۴)
خازن میں ہے:
یعنی قاتلوا المشرکین باجمعکم مجتمعین علی قتالہم کما انھم یقاتلونکم علی ھذہ الصفۃ ۲؎۔
یعنی سب مل کر قتال مشرکین پر متفق الرائے ہو کر ان سے لڑو جس طرح وہ تم سے یونہی لڑتے ہیں۔
(۲؎ لباب التاویل فی معانی التنزیل (تفسیر الخازن) تحت آیۃ قاتلوا المشرکین الخ مصطفی البابی مصر ۳/ ۹۰)
اس احتمال چہارم پر آیہ کریمہ کے دونوں جملے لیڈروں کے پہلے فقرے کا رد ہیں ظاہر ہے کہ سب مشرک میدان میں نہ آئے سب نے ہتھیار نہ اُٹھائے بلکہ کچھ ساعی تھے کچھ معاون کچھ راضی، اور آیت میں فرمایا کہ وہ سب تم سے لڑتے ہیں تو معلوم ہوا کہ جمیع اقسام مقاتل فی الدین ہیں یونہی قطعا تمام ہنود کہ منشا مظالم گئورکھشا ہے اور اس میں سب شریک، پھر مسلمانوں کو فرمایا تم سب لڑواگر قتال قتال بالید سے خاص ہو تو جہاد مطلقا فرض عین ہوجائے او ریہ بالاجماع باطل ہے نیز اس تقدیر پر یہ حکم صحابہ کرام سے آج تک کبھی بجانہ لایا گیا کون سے دن دنیا کے سب مسلمان ہتھیار لے کر میدان میں آئے تومعاذاللہ صحابہ کرام وجمیع امت کا اجماع ضلالت ومعصیت پرہو اور یہ اول سے بڑھ کر باطل وکفر بائل (سخت) ہے لاجرم قتال معاونت ورضا سب کو عام ہے اب بیشک اس کا حکم شامل جملہ حکم اسلام ہے، اسی طرح احتمال اول پر آیہ کریمہ کے دونوں جملے فقرہ اولٰی کے ردہیں، پہلے کا ابھی بیان ہوا اور دوسرا یوں کہ جب مشرکین سب مسلمانوں سے مقاتل ہیں تو سب مسلمان مشرکوں کے مقاتل کہ مفاعلہ جانبین سے ہے اور وہ نہیں مگر اسی طرح پر کہ فاعل ومعاون وراضی سب مقاتل ہوں بعینہٖ اسی تقریر سے احتمال دوم وسوم بھی جیسا کہ فہیم پر مخفی نہیں۔ بالجملہ ہر پہلو پرآۤیہ کریمہ کا ہر جملہ ان کے فقرہ اولٰی کا رد ہے اور احتمال دوم وسوم پرکریمہ کا پہلا جملہ لیڈروں کے فقرہ دوم کا بھی رد ہے کہ عام فرمایا گیا سب مشرکوں سے قتال کرو، اور قتل وقتال سے بڑھ کر اور اظہار عداوت کیا ہے تو ثابت ہوا کہ مشرک مقاتل بالید ہویا نہ ہر ایک سے اظہار عداوت فرض اور وداد واتحاد حرام،
قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا o ۱؎ بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ فاذاھو زاھق ولکم الویل مماتصفون ۲؎ o
کہو حق آیا باطل کادم ٹوٹا، بیشک باطل تو دم توڑنے ہی کو تھا بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں کہ وہ باطل کا بھیجا نکال دیتاہے جبھی وہ فنا ہوجاتاہے اور تمھارے لئے خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۸۱) (۲؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۱۸)
اصح قول اکثر ہے کہ کریمہ ممتحنہ صرف معاہدین کے بارے میں ہے:
تنبیہ دوم: اقول یہاں سے روشن ہوا کہ آیہ ممتحنہ میں قول اکثر ہی راجح واصح ہے "لم یقاتلوکم فی الدین" وہی ہوسکتے ہیں جو اہل عہد وذمہ ہیں کہ ان کے عہد نے صراحۃً انھیں مقاتلین سے جدا کرلیا، "والصریح یفوق الدلالۃ" تصریح دلالت پر مرجح ہے۔ باقی تمام حربی کفار مقاتل فی الدین ہیں اگرچہ ہتھیار نہ اُٹھائے ہوئے ہوں۔ قول آخر کے اصح ہونے کی وجہ یہی ہوئی کہ لفظ عام ہے اور جب ثابت ہوا کہ وہ اہل عہد وذمہ ہی پر صادق ہے توحربیوں کی تعمیم ناموجہ ہے یونہی نساء وصبیان سے تخصیص کی وجہ نہیں، اعتبار عموم لفظ کا ہے نہ خصوص سبب کا، ورنہ صرف صلہ مادروپدر یا غایت درجہ صلہ رحم کی اجازت نکلے نہ جملہ نساء وصبیان کو تعمیم مقبول کہ اگرچہ وہ حکم قتال سے مستثنٰی ہیں مگر حکم غلظت سے مستثنٰی نہیں،اہل عہد وذمی کی عورتیں بچے ان کے حکم میں رہیں گے اور غیر معاہد حربیوں کے زنان واطفال ان کے حکم میں، قال تعالٰی
من ذکر اوانثٰی بعضکم من بعض ۳؎
مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔
(۳؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۹۵)
یہاں کے کسی کافرفقیر کو بھیک دینا بھی جائز نہیں:
صحاح ستہ میں صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے زنان وصبیان کفارکے بارے میں فرمایا:
ھم منہم ۱؎
وہ انھیں میں سے ہیں، ولہذا ہمارے ائمہ کرام نے حربی کو صدقہ نافلہ دینے کی ممانعت سے ان کی عورتوں بچوں کسی کو مستثنٰی نہ فرمایا حکم عام دیا، جامع الصغیر امام محمد و بدایہ ودرر وعنایہ وکفایہ و جوہرہ ومستصفٰی پر نہایہ وغایۃ البیان و فتح القدیر وبحرالرائق وکافی وتبیین وتفسیر احمدی و فتح اللہ المعین وغنیہ ذوی الاحکام کتب معتمدہ کی عبارتیں اوپر گزریں،
معراج الداریہ میں ہے:
صلتہ لایکون براشرعا ولذالم یجز التطوع الیہ ۲؎۔
حربی سے نیک سلوک شرعا کوئی نیکی نہیں اس لئے اسے نفل خیرات دینا بھی حرام ہے۔
(۱؎ صحیح مسلم باب جواز قتل النساء والصبیان الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۴)
(۲؎ ردالمحتار بحوالہ معراج الدرایۃ باب المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۶۸)