Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
9 - 150
خود علامہ شامی علیہ الرحمۃ تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ میں مؤلفِ فتاوٰی علامہ حامد آفندی عمادی سے نقل کرتے ہیں انہوں نے شیخ الاسلام عبداﷲ آفندی کے مجموعہ میں علامۃ الورٰی نوح آفندی علیہ الرحمۃ کا فتوٰی دیکھا جس میں ان سے تکفیر روافض کے بارے میں سوال ہوا تھا علامہ ان کے کلمات کفریہ لکھرکر فرماتے ہیں:
ثبت التواتر قطعًا عند الخواص والعوام المسلمین ان ھذہ القبائح مجتمعۃ فی ھٰؤلاء الضالین المضلین فمن اتصف بواحد من ھذہ الامور فھو کافر
ثبت التواتر قطعًا عند الخواص والعوام المسلمین ان ھذہ القبائح مجتمعۃ فی ھٰؤلاء الضالین المضلین فمن اتصف بواحد من ھذہ الامور فھو کافر(الی ان قال) ولایجوز ترکھم علیہ باعطاء الجزیۃ ولابامان مؤید نص علیہ قاضی خاں فی فتاواہ ویجوز استرقاق نساء ھم لان استرقاق المرتدۃ بعد مالحقت بدار الحرب جائز الخ۱؎۲؎ملتقطا۔
خواص وعوام مسلمانوں میں یہ بات تواتر سے چلی آرہی ہے کہ مذکور قباحتیں ان گمراہ لوگوں میں جمع ہیں جبکہ ان قباحتوں میں سے کسی ایک سے متصف ہونے والاکافر ہے، (آگے یہاں تک فرمایا) کہ جزیہ کے بدلے یا امان دے کر ان لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی، اس پر قاضیخاں نے اپنے فتاوٰی میں تصریح کی ہے اور ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنانا جائز ہوگا کیونکہ مرتدہ عورت جب دارالحرب چلی جائے تو اس کے بعد اس کو لونڈی بنانا جائز ہے الخ اھ ملتقطا(ت)
 (۲؎ العقودالدریۃ تنقیح الفتاوی الحامدیۃ     باب الردۃ والتعزیر     قندھار افغانستان     ۱/ ۰۵۔۱۰۴)
فتاوٰی علامہ قاضی خاں میں شیخ امام ابوبکر محمد بن الفضل علیہ الرحمۃ سے دربارہ مبیض ومبیضہ کے اول زن و شوہر تھے پھر دونوں مسمان ہوئے عورت نے اور مسلمان سے نکاح کرلیا منقول:
ان کانا یظھران الکفراواحد ھما کانا بمنزلۃ المرتدین لم یصح نکاحھما ویصح نکاح المرأۃ مع الثانی۳؎انتہی باختصار۔
مردو عورت دونوں یا ان میں سے ایک جب کفر کا اظہار کرے تو ان کا حکم مرتدوں والا ہوگا، ان کا نکاح ختم ہوجائیگا اور وہ عورت دوسرے کے لئے حلال ہوگی،اھ،مختصرا۔(ت)
 (۳؎ فتاوٰی قاضی خاں     کتاب النکاح باب فی المحرمات     نولکشور لکھنؤ         ۱/ ۱۶۷)
امام علامہ قاضی عیاض شفا شریف میں امام اہلسنت قاضی ابوبکر باقلانی سے نقل فرماتے ہیں:
انھم علی رای من کفرھم بالتاویل لاتحل مناکحتھم ولااکل ذبائحھم ولاالصلوٰۃ علی میتھم ویختلف فی موار ثتھم علی الخلاف فی میراث المرتد۱؎۔
جن لوگوں نے ان کی تکفیر کی ہے ان کی رائے میں ان سے نکاح کرنا، ان کاذبیحہ کھانا، ان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے اور ان کی وراثت میں وہی اختلاف ہوگا جو مرتد کی وراثت میں ہے۔(ت)
 (۱؎ الشفاء للقاضی عیاض    فصل فی تحقیق القول فی کفار المتأولین   شرکۃ صحافیہ فی البلاد العثمانیہ   ۲/ ۲۶۴)
ان عبارات سے ظاہرہولیا کہ ان مبتدعین منکرین ضروریاتِ دین پر حکم مرتدین جاری ہونا ہی منقول و مقبول بلکہ مذاہب اربعہ کا مفتٰی بہ ہے۔ بالجملہ ان اعداء اﷲ پر حکمِ ارتداد ہی جاری کیا جائے گا، نہ ان سے سلطنت اسلام میں معاہدہ دائمہ جائز نہ ہمیشہ کو امان دینا جائز، نہ جزیہ لینا جائز نہ کسی وقت کسی حالت میں ان سے ربط رکھنا جائز، نہ پاس بیٹھنا جائز نہ بٹھانا جائز، نہ ان کے کسی کام میں شریک ہونا جائز نہ اپنے کام میں شریک کرنا جائز، نہ مناکحت کرنا جائز نہ ذبیحہ کھاناجائز ۔
قاتلھم اﷲ انّٰی یذھبون قال اﷲ تعالٰی
ومن یتولھم منکم فانہ منھم۲؎۔
ا ﷲ تعالٰی ان کو ہلاک کرے یہ کدھر جارہے ہیں، اﷲ تعالٰی نے فرمایا جو تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا وہ انہی میں سے ہے۔(ت)
 (۲؂القرآن الکریم   ۵ /۵۱ )
ھدٰنااﷲ تعالٰی الی الصراط المستقیم ودین ھذا النبی الکریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم وثبتنا بالقول الثابت فی الدنیا والاٰخرۃ انہ ولی ذٰلک واھل التقوٰی واھل المغفرۃ لاالٰہ الا ھو سبحٰنہ وتعالٰی عمّا یشرکونoواﷲ تعالٰی اعلم۔
اﷲ تعالٰی ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت کرے اور اس آخری نبی علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کے دین پر چلائے، اور دنیا وآخرت میں ایمان کامل پر چلائے اور دنیا وآخرت میں ایمان کامل پر ثابت قدم رکھے۔ اﷲ تعالٰی اس کا مالک ہے اے تقوٰی والو اورمغفرت والو!اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک وبلند ہے کسی شریک سے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
 (عبدہ المذنب احمد رضا کتبہ عفی عنہ بمحمد ن المصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)
مسئلہ۶:از بستی غفران باغ آہودربہہ نئی آجمری 

بخدمت حضرت مولانا صاحب     السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،

کیافرماتے ہیں علمائے دین موجودہ اسلامی حالت کا خیال کرتے ہوئے اور عام علماء کی تقریر متعلق ہجرت کرنے نہ کرنے کے سنتے ہوئے طبیعت پر تذبذب پیدا ہورہا ہے کہ مجھ کو کیا کرنا چاہئے ہجرت کروں یا نہیں؟اس کے متعلق حضور کا ذاتی خیال کیا ہے؟
الجواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، ہجرت دو قسم ہے: عامہ و خاصہ۔ عامہ یہ کہ تمام اہل وطن ترکِ وطن کرکے چلے جائیں۔ اور خاصہ یہ کہ خاص اشخاص، پہلے ہجرت دارالحرب سے ہر مسلمان پر فرض ہے، جس کا بیان آیہ کریمہ "
ان الذین توفّٰھم الملٰئکۃ ظالمی انفسھم" ۱؎الآیۃ
 (وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے الآیۃ۔ت)میں ہے، اس سے صرف عورتیں اور بچے اور عاجز مرد جو نکل نہیں سکتے مستثنٰی ہیں، جس کا ذکر اس کے متصل دوسری آیہ کریمہ" الاالمستضعفین "۲؎الآیۃ میں ہے، باقی سب پر فرض ہے جوباوصفِ قدرت دارالحرب میں سکونت رکھے اور ہجرت نہ کرے مستحقِ عذاب ہے،
 (۱؎ القرآن الکریم             ۴/۹۷) (۲؎القرآن الکریم            ۴/ ۹۸)
رہا دارالاسلام اس سے ہجرتِ عامہ حرام ہے کہ اس میں مساجد کی ویرانی وبے حرمتی، قبور مسلمین کی بربادی، عورتوں بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی اور ہجرت خاصہ میں تین صورتیں ہیں، اگر کوئی شخص کسی وجہ خاص سے کسی مقام خاص میں اپنے فرائض دینیہ بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائے، اور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں اٹھ جائے اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں
وعلٰی ہذا لقیاس۔ کما بینہ فی مدارک التنزیل واستشھد بحدیث
 (جیسا کہ مدارک التنزیل میں اس کی تفصیل ہے اور اس پر حدیث مبارکہ سے استشہاد کیا ہے۔ت) دوسرے وہ کہ یہاں اپنے فرائض مذہبی بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دارالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہے،
حدیث میں ہے:
کفٰی بالمرء اثماان یضیع من یقوت۱؎۔
کسی آدمی کے گنہگار ہونے کےلئے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کردے جس کا نفقہ اس کے ذمے تھا(ت)
 (۱؎ سنن ابوداؤد     کتاب الزکوٰۃ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۲۳۸

مسند احمد بن حنبل             دارالفکر بیروت    ۲/ ۱۶۰، ۱۹۴،۱۹۵

المعجم الکبیر        حدیث ۱۳۴۱۵    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۲/ ۳۸۲)
یا وہ عالم جس سے  بڑھ کر اس شہر میں عالم نہ ہو اسے بھی حرام ہے
وقد نص فی البزازیۃ والدرالمختار انہ لایجوزلہ السفر الطویل منھا فضلا عن المھاجرۃ۲؎
 (بزازیہ او درمختار میں تصریح ہے کہ ایسے آدمی کے لئے طویل سفر جائز نہیں چہ جائیکہ وہ وہاں سے ہجرت کرجائے۔ت) تیسرے وہ کہ نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجت، اسے اختیار ہے رہے یاچلاجائے جو اس کی مصلحت سے ہو، یہ تفصیل دارالاسلام میں ہے،
کما حققناہ فی فتاوٰنا
 (جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے۔ت) اب آپ اپنی حالت کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ آپ کو ہجرت جائز یا واجب یاحرام ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ درمختار         کتاب الجہاد        مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۳۳۹)
Flag Counter