Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
89 - 150
نیز اسی میں زیر حدیث
رأی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امرأۃ مقتولہ فقال ھاہ ماکانت ھذہ تقاتل
(نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک عورت دیکھی تو فرمایا ارے یہ تو لڑنے کے قابل نہ تھی) ہے:
الحدیث صحیح علی شرط الشیخین فقد علل صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالمقاتلۃ فثبت انہ معلول بالحرابۃ فلزم قتل ماکان مظنۃ لہ بخلاف مالیس ایاہ ۴؎۔
یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے تو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ قتل کی علت قتال ہے تو ثابت ہوا کہ قتل وہی کیا جائے جو لڑنے کے قابل شخص ہے تو جسے لڑنے کے قابل سمجھا جائے شریعت میں اس کا قتل لازم ہوا بخلاف ا س کے جو اس کے لائق ہی نہ ہو۔
 (۴؎ فتح القدیر        باب کیفیۃ القتال    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۲۰۳)
ہر ادنی خادم فقہ جانتاہے کہ حربی مقابل ذمی ہے نہ کہ خاص محارب بالفعل۔ ہدایہ وغیرہاکی عبارات ابھی گزریں توآیت قطعا تمام حربیوں کو شامل خواہ بالفعل مصدر قتال ہوئے ہوں یا نہیں البتہ معاہدین کا استثناء ضروریات دین سے ہے جس پر نصوص قاطعہ ناطق، اور وہ اذہان مسلمین میں ایسا مرتکز کہ اصلا محتاج ذکر نہیں، یونہی حکم جہادو قتال کے اعتبار سے اصحاب قول سوم کو بھی یہاں گنجائش اجماع واتفاق ہے کہ معاہدین وذراری محل جہاد ہی نہیں تو کلمہ جاھدوا قاتلواسے ان کی طرف ذہن نہیں جائے گا۔
فتح القدیر میں ہے:
وما الظن الا ان حرمۃ قتل النساء والصبیان اجماع ۱؎۔
گمان اس کے سوا کسی کی طرف نہیں جاتا کہ عورتوں اور بچوں کا قتل حرام ہونے پر اجماع ہے۔
 (۱؎ فتح القدیر        باب کیفیۃ القتال    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۲۰۲)
غرض معاہدو ذمی ونساء وصبیان کو نص قتال ابتداء ہی شامل نہ ہواکہ تخصیص کی حاجت ہو، 

بحرالرائق میں ہے:
نفس النص ابتداء لم یتعلق بہ لانہ مقید بمن بحیث یحارب کقولہ تعالٰی وقاتلوا المشرکین کافۃ الاٰیۃ فلم تدخل المرأۃ ۲؎۔
سرے سے خود نص ا سے متعلق نہ ہوا کہ وہ خاص ایسے کے بارے میں ہے جو لڑنے کے قابل ہو جیسے ارشاد الہٰی : سب مشرکوں سے لڑو تو یہ عورت کو شامل نہیں ہے۔
(۲؎ البحرالرائق کتا ب السیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۵/ ۷۰)
باقی تحقیق عنقریب آتی ہے ان شاء اللہ تعالٰی،بالجملہ آیہ کریمہ میں دو قول ہیں:

ایک قول اکثر اہل تاویل کہ سب کفار غیرمحاربین بالفعل مراد نہیں بلکہ خاص اہل عہد وپیمان یا اطفال و زنان یاغیر مہاجر مسلمان، اس تقدیر پر آیہ کریمہ مشرکین ہند کو جن سے اتحاد وداد منایا جارہا ہے کسی طرح شامل ہی نہیں ہوسکتی کہ وہ نہ اہل ذمہ ہیں نہ عورتیں، بچے نہ مسلمان۔

دوسراقول بعض کہ سب مشرکین غیر محاربین بالفعل مراد تھے ۔

لیڈروں کو پہلا جواب:

اس طور پر وہ اولا یقینا منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا ضلالت وگمراہی، کیا کوئی روا رکھے کہ شراب پئے اور کافروں کو بیٹیاں دے او راپنی سگی بہن سے نکاح کرے ع
کہ بعہد قدیم نابودست
 (کہ یہ بے حیائی تو زمانہ (قدیم) جہالت میں روا نہیں رکھی گئی۔ ت)

لیڈر بننے والوں کایہ ظلم عظیم ہے کہ ہندؤوں کو شامل کرنالیا قول ثانی سے، اور اس کا غیر منسوخ (عہ۱) ہونا لیا قول اول سے جمع بین المنافیین کرکے بیچارے جاہلوں کو دھوکا دیتے ہیںـ
عہ۱: یہاں سے اس فتوائے جاہلانہ کاحال کھل گیا جس میں عبارت مذکورہ جمل "قال اکثر اھل التاویل ھی محکمۃ"
۲؎ الخ اور عبارت روح البیان فی الفتح الرحمن
نسختھا فاقتلواالمشرکین والاکثر علی انہا غیر منسوخۃ ۳؎
سے استناد کرکے آیہ کریمہ کا قول اکثر میں غیر منسوخ ہونا بتاکر اسے ہندوؤں پر جمادیا اب یہ کون سمجھے کہ قول اکثر پر کسی طرح ہندو اس میں داخل نہیں اور قول دیگر پر بفرض غلط اگر داخل ہوسکتے ہیں تو یقینا منسوخ ہے حشمت علی عفی عنہ
 (۲؎ الفتوحات الالہیۃ الشہیر بالجمل    آیۃ لاینھٰکم اللہ الخ    مصطفی البابی مصر    ۴/ ۳۲۸)

(۳؎ روح البیان         آیۃ لاینھٰکم اللہ الخ  المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الریاض، الجزء الثامن والعشرون     ص۴۸۱)
لیڈروں کو دوسرا جواب:

ثانیا اگر بفرض باطل ان کی یہ شترگربگی مان بھی لی جائے تو عام(عہ۲) مشرکین ہند کو "لم یقاتلوکم فی الدین" کا مصداق مانناایمان کی آنکھ پر ٹھیکری رکھ لینا ہے، کیا وہ ہم سے دین پر نہ لڑیں، کیا قربانی گاؤ پر ان کے سخت ظالمانہ فساد پر انے پڑ گئے، کیا کٹارپورو آرہ اور کہاں کہاں کے ناپاک وہولناک مظالم جو ابھی تازے ہیں دلوں سے محو ہوگئے، بے گناہ مسلمان نہایت سختی سے ذبح کئے گئے، مٹی کا تیل ڈال کر جلائے گئے، ناپاکوں نے پاک مسجدیں ڈھائیں قرآن کریم کے پاک اوراق پھاڑے جلائے، اور ایسی ہی وہ باتیں جن کا نام لئے کلیجہ منہ کو آئے،
الالعنۃ اﷲ علی الظلمین oالالعنۃ اﷲ علی الظلمین o الالعنۃ اﷲ علی الظلمین ۱؎ o
سن لو اللہ کی لعنت ظالموں پر،
 (۱؎ القرآن الکریم            ۱۱/ ۱۸)
عہ۲:  اس تقریر کو خوب محفوظ رکھنا چاہئے کہ اس سے ان مفتیان اجہل کی جہالت وبیباکی بلکہ عیاری وچالاکی خوب روشن ہوتی ہے جنھوں نے کہاکہ ''ہندوستان کے عام ہندو اہل اسلام سے مقاتلہ فی الدین نہیں کرتے اور عامہ نصارٰی مقاتلہ فی الدین کے مرتکب ومعاون ہیںـ طرفہ تر یہ کہ جانب نصارٰی میں معاون کالفظ بڑھالیا کہ عامہ نصارٰی پر جما سکیں اور جانب ہنود میں اسے اڑا دیا کہ عام ہنود اس میں نہ آسکیں۔ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
اب کوئی درد رسیدہ مسلمان ان لیڈروں سے یہ کہہ سکتاہے یا نہیں کہ اے اسٹیجوں پر مسلمان بننے والو، ہمدردی اسلام کاتانا تننے والو! کچھ حیا کانام باقی ہے تو ہندوؤں کی گنگا میں ڈوب مرو، اسلام ومسلمین ومساجد وقرآن پر یہ ظلم توڑنے والے کیا یہی تمھارے بھائی، تمھارے چہیتے تمھارے پیارے۔

تمھارے سردار، تمھارے پیشوا، تمھارے مددگار، تمھارے غمگسار مشرکین ہند نہیں جن کے ہاتھ آج تم بکے جاتے ہو، جن کی غلامی کے گیت گاتے ہو، اُف اُف اُف تُف تُف تُف۔
ان اﷲ جامع المنٰفقین والکفرین فی جہنم جمیعا ۱؎۔
بیشک اللہ تعالٰی منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھاکرے گا۔
(۱؎ القرآن الکریم        ۴/ ۱۴۰)
او ربے ایمان اور پکا بے ایمان ہوگا وہ جو واحد قہار کو یکسر پیٹھ دے کر کہے یہ ملعون مظالم تو بعض بعض شہرکے بعض کفار نے کئے، اس سے سب تو "قاتلواکم فی الدین" نہیں ہوگئے، بد عقلو بدمنشو! کوئی قوم ساری کی ساری نہیں لڑتی۔    

تمام مشرکین ہند محارب بالفعل ہیں اور محارب بالفعل کے معنی کی تحقیق:

کفار زمانہ رسالت جن کی نسبت حکم ہوا :
واقتلوھم حیث ثقفتموھم ۲؎
انھیں جہاں پاؤ قتل کرو۔ اور حکم ہوا:
وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ ۳؎
سب مشرکوں سے لڑوجیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم         ۲/ ۱۹۱ و ۴/ ۹۱) (۳؎ القرآن الکریم     ۹ / ۳۶)
کیا ان کا ہر ہر فرد میدان جنگ میں آیا تھا، لڑائی دیکھی جاتی ہے اگر جو لڑے ان کی خاص کوئی ذاتی غرض ہے جس میں ساری قوم شریک نہیں تووہ لڑائی خاص انھیں کی طرف منسوب ہوگی جو ا س کے مرتکب ہوئے مثلا کسی گاؤ کے دھرے مینڈھے پر بعض لوگوں سے جنگ ہو تووہ انھیں کی ہے نہ تمام قوم کی، اوراگر لڑائی مذہبی ہے تو ان سب اہل مذہب کی ہے کہ باقی دامے درمے قلمے قدمے معین ہوں گے او رکچھ نہ ہو تو راضی ہوں گے اور اپنے مذہب کی فتح ہو تو خوش ہوں گے اور دوسرے کی ہو تو رنجیدہ ہوں گے۔
Flag Counter