Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
88 - 150
وانا اقول: وباللہ التوفیق
 (اور میں کہتاہوں اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ ت) اگروہ اکابر تابعین اس کے نسخ کی تصریح اور یہ امام جلیل اس کی ترجیح وتصحیح نہ فرماتے تو قرآن عظیم خود شاہد تھا کہ آیہ "لاینھٰکم" اگر جملہ مشرکین غیر محاربین بالفعل کو عام ہے تو قطعا منسوخ ہے، ممتحنہ کانزول سورہ براءت سے یقینا پہلے ہے تصریح ائمہ نہ ہوتی تو خود اس کی آیہ کریمہ بتارہی ہیں کہ نزول تک مکہ معظمہ قبض کفار میں تھا اور سورہ توبہ شریف کے ارشادات جگمگارہے ہیں کہ اس کا نزول بعد فتح بلدا لحرام وتسلط تام دین اسلام ہے وللہ الحمد، سورہ براءت میں ارشاد فرمایا:
یاایھا النبی جاھدالکفار والمنٰفقین و اغلظ علیہم ومأواھم جھنم وبئس المصیر ۲؎۔
اے نبی! کافروں اور منافقوں پر جہاد فرمائیے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی بری پھرنے کی جگہ ہے۔
(۲؎ القرآن الکریم                    ۹/ ۷۳)
پھر اسی سورۃ میں ارشاد فرمایا:
یایھاالذین اٰمنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدو افیکم غلظۃ ۱؎۔
اے ایمان والو! اپنے پا س کے کافروں سے لڑو اور تم پر فرض ہے کہ وہ تم میں درشتی پائیں
(۱؎ لقرآن الکریم  ۹/ ۱۲۳)
یہ حکم بھی جمیع کفار کو عام ہے حکمت یہی ہے کہ پہلے پاس والوں کو زیر کیا جائے جب وہاں اسلام کا تسلط ہوجائے تو اب جو اس سے نزدیک ہیں وہ پاس والے ہوئے وہ زیر ہوجائیں تو اب جو ان سے قریب ہیں یونہی یہ سلسلہ شرقا غربا منتہائے زمین تک پہنچے اور بحمداللہ ایساہی ہوا اور بعونہٖ تعالٰی ایساہی بروجہ اتم وکمال زمانہ امام موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ہونے والا ہے

سب کافروں سے قتال وغلظت کاحکم ہے اگر چہ محارب بالفعل نہ ہوں محارب بالفعل کی تخصیص منسوخ ہوگئی:
حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلہ ﷲ ۲؎۔
یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ساراد ین اللہ ہی کے لئے ہوجائے۔
(۲؎ القرآن الکریم         ۸/ ۳۹)
یہاں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ارشاد ہوا کہ کفارپر درشتی کرو۔ مومنین کوحکم ہوا کافروں پر سختی کرو۔ اس میں نہ کوئی تقسیم ہے نہ تردید، نہ تخصیص نہ تقلید، اور ہر عاقل جانتاہے کہ نیک سلوک اور سختی ودرشتی باہم متنافی ہیں، پہلے نیک سلوک کی اجازت تھی اب درشتی وسختی کا حکم ہوا تو وہ اجازت ضرور منسوخ ہوگئی، اجماع امت ہے کہ جہاد کفار محاربین بالفعل سے مخصوص نہیں مدافعانہ وجارحانہ قطعا دونوں طرح کا حکم ہے اجازت کا مدافعانہ میں حصر پہلے تھا پھر قطعا منسوخ ہوگیا، 

مبسوط شمس الائمہ سرخسی وکفایہ وعنایہ وتبیین وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
واللفظ للبابرتی قولہ تعالٰی فان قاتلوکم فاقتلوھم منسوخ وبیانہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان فی الابتداء مأمور ابالصفح والاعراض عن المشرکین بقولہ فاصفح الصفح الجمیل، واعرض عن المشرکین الاٰیۃ ثم امر بالدعاء الی الدین بالموعظۃ والمجادلۃ بالاحسن بقولہ تعالٰی ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ الاٰیۃ، ثم اذن بالقتال اذا کانت البدائۃ منہم بقولہ تعالٰی اذن للذین یقاتلون الاٰیۃ وبقولہ فان قاتلوکم فاقتلوھم ثم امر بالقتال ابتداء فی بعض الازمان بقولہ تعالی فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین الاٰیۃ ثم امربالبدائۃ بالقتال مطلقا فی الازمان کلھا وفی الاماکن باسرھا فقال تعالٰی وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ الاٰیۃ، وقاتلواالذین لایؤمنون باﷲ والیوم الاخر الاٰیۃ ۱؎۔
یہ ارشاد کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو ان کو قتل کرو منسوخ ہے، بیان اس کا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ابتداء میں یہ حکم تھا کہ مشرکوں سے درگزر او رروگردانی فرمائیں ارشاد تھا اچھی طرح درگزر کرو اور مشرکوں سے منہ پھیرلو۔ پھر حضور کوحکم ہوا کہ سمجھا نے اور خوبی کے ساتھ دلیل قائم فرمانے سے دین کی طرف بلاؤ کہ ارشاد تھا اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت کے ساتھ بلاؤ۔ پھراجازت فرمائی گئی کہ ان کی طرف سے قتال کی ابتدا ہو تو لڑو، ارشاد تھا کہ جن سے قتال کیا جائے انھیں پروانگی ہے، اور ارشاد تھا کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو۔ پھر بعض اوقات ابتدا قتال کاحکم ہوا ارشاد فرمایا جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو قتل کرو پھر مطلقا ابتداء بالقتال کا حکم ہوا سب زمانوں اور سب مکانوں میں ارشاد ہوا ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے، اور فرمایا ان سے لڑو جو اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں لاتے۔
 (۱؎ کفایۃ وعنایہ مع فتح القدیر        کتاب السیر        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۵/ ۱۹۳)
کنز میں ہے:
الجہاد فرض کفایۃ ابتداء ۲؎۔
جہاد کی پہل کرنا فرض کفایہ ہے۔
 (۲؎ کنز الدقائق کتاب السیر والجہاد    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۸۳)
بحرالرائق میں ہے:
مفید لافترضہ وان لم یبدونا للعمومات واما قولہ تعالی فان قاتلوکم فاقتلوھم فمنسوخ ۳؎۔
یہ عبارت فائدہ دیتی ہے کہ جہاد فرض ہے اگرچہ کافر پہل نہ کریں کہ آیتیں عام ہیں اور وہ جو فرمایا تھا کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو وہ منسوخ ہے
 (۳؎ بحرالرائق    کتاب السیر    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۵/ ۷۱)
ہدایہ میں ہے:
قتال الکفار واجب وان لم یبدوأ للعمومات ۴؎۔
کافروں سےلڑنا واجب ہے اگرچہ وہ پہل نہ کریں کہ احکام عام ہیں۔
 (۴؎ الہدایہ کتاب السیر المکتبۃ العربیہ کراچی ۲/ ۲۳۹)
فتح القدیر میں ہے
 صریح قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الصحیحین وغیرھما امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالاالہ الا اﷲ الحدیث یوجب ان نبدأھم بادنی تأمل ۱؎ اھ اقول وکذا قولہ تعالٰی قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ ﷲ۲؎ الآیۃ ثم فی العنایۃ رأیت کما تقدم (عہ) ۔
 صریح قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الصحیحین وغیرھما امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالاالہ الا اﷲ الحدیث یوجب ان نبدأھم بادنی تأمل ۱؎ اھ اقول وکذا قولہ تعالٰی
قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ ﷲ۲؎ الآیۃ
ثم فی العنایۃ رأیت کما تقدم (عہ) ۔
صحیحین وغیرہما میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا صاف ارشاد مجھے حکم ہوا کہ لوگوں سے قتال فرماؤ ں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں پوری حدیث ادنی غور سے واجب فرماتاہے کہ ہم ان سے قتال کی پہل کریں، فتح القدیر کی عبارت تمام ہوئی اور میں کہتاہوں یونہی رب العزت کاارشاد کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کے لئے ہوجائے، پھر میں نے عنایہ میں اسی دلیل کو دیکھا جیسا کہ گزرچکا۔
عہ: مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے: لاتخرج بنیتہم من ان تکون صالحۃ للمحاربۃ وان کانوا لایشتغلون بالمحاربۃ کالمشتغلین بالتجارۃ والحراثۃ منہم بخلاف النساء والصبیان ۵؎
کافر اگرچہ بالفعل نہ لڑیں ان کے بدن کی بناوٹ تو لڑنے کے قابل ہے جیسے ان کے سودا گر اور کسان بخلاف زنان و اطفال ۱۲ منہ غفرلہ
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب السیر        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۱۹۳)

(۲؎ القرآن الکریم            ۸/ ۳۹ )

(۵؎ المبسوط للسرخسی    باب آخرفی القیٰمۃ    دارالمعرفۃ بیروت    الجزء العاشرص۱۳۷)
Flag Counter