Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۴(کتاب السیر)
87 - 150
تفسیر درمنثور میں ہے :
اخرج ابوداؤد فی تاریخہ وابن المنذر عن قتادۃ لاینہکم اللہ الایۃ نسختھا اقتلواالمشرکین حیث وجدتموھم ۳؂۔
ابوداؤد نے اپنی تاریخ اور ابن المنذر نے تفسیر میں قتادہ سے روایت کیاکریمہ لاینھٰکم اللہ کو ا س آیت نے منسوخ فرمایا کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔
 (۳؎ الدارلمنثور        زیر آیہ لاینھٰکم اللہ عن الذین الخ    منشورات مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران    ۶/ ۲۰۵)
اسی میں ہے:
ابن ابی حاتم وابوالشیخ عن مقاتل فی قولہ تعالٰی وقاتلواالمشرکین کافۃ قال نسخت ھذہ الاٰیۃ کل اٰیۃ فیہا رخصۃ ۴؎۔
ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے اپنی تفسیر وں میں مقاتل سے روایت کیا کہ اللہ عزوجل کے اس ارشاد نے کہ سب مشرکوں سے قتال کرو اس سے پہلے جتنی آیتوں میں کچھ رخصتیں تھیں سب منسوخ فرمادیں۔
 (۴؎الدرالمنثور        زیر آیہ وقاتلو االمشرکین کافۃ الخ        منشورات مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران    ۳/ ۲۳۶)
تفسیر ارشاد العقل السلیم میں زیرکریمہ
"یاایھاالنبی جاھد الکفار والمنٰفقین واغلظ علیہم"
ہے:
قال عطاء نسخت(عہ) ھذہ الاٰیۃ کل شیئ من العفووالصفح ۱؎۔
امام عطا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کافروں کے ساتھ معافی ودرگزر کی جتنی اجازتیں تھیں سب اس آیہ کریمہ نے منسوخ فرمادیں۔
عہ: یہاں سے اس جاہل مفتی کی جہالت ظاہر ہوگئی جس نے آیہ کریمہ لاینھٰکم کو کہا کہ واغلظ علیہم سے اس کو کسی نے منسوخ نہیں بتایا۔ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ
 (۱؎ ارشاد العقل السلیم    آیۃیاایھاالنبی جاھدالکفار        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۸۴)
تفسیر عنایہ القاضی میں زیر کریمہ لاینھٰکم اللہ ہے:
ھذہ الاٰیۃ منسوخۃ بقولہ تعالٰی
اقتلوا المشرکین الآیۃ ۲؎۔
یہ آیت اللہ عزوجل کے اس ارشاد سے منسوخ ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ تلوار کے گھاٹ اتارو۔
 (۲؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی آیۃ لاینھکم اللہ عن الذین     دارصادربیروت        ۸/ ۱۸۸)
تفسیر خطیب شربینی میں پھر فتوحات الالہٰیہ میں ہے:
کان ھذا الحکم وھو جواز موالاۃ الکفار الذین لم یقاتلوا فی اول الاسلام عنہ الموادعۃ وترک الامر بالقتال ثم نسخ بقولہ تعالٰی
فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم ۳؎۔
یہ حکم کہ ''جو کفار مسلمانوں سے نہ لڑیں ان کے ساتھ کچھ نیک سلوک کیا جائے'' ابتداء میں تھا کہ لڑائی موقوف تھی او رجہاد کاحکم نہ تھا، پھر یہ حکم اسی آیہ کریمہ سے منسوخ ہوگیا کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ گردن مارو۔
 (۲؎الفتوحات الاالہٰیہ (الشہیر بالجمل) آیۃ لاینھکم اللہ عن الذین    مصطفی البابی مصر        ۴/ ۳۲۸)
جلالین شریف میں ہے:
ھذا مقابل الامر بالجھاد ۴؎۔
یہ اجازت اس وقت تک تھی کہ جہاد کاحکم نہیں ہوا تھا۔
 (۴؎ تفسیرجلالین    آیۃ لاینھکم اللہ عن الذین   مطبع مجتبائی دہلی        نصف ثانی ص ۴۵۵ )
اسی کے خطبہ میں ہے:
ھذا تکملۃ تفسیر القراٰن الکریم الذی الفہ الامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من ذکر مایفہم بہ کلام اﷲ تعالٰی والاعتماد علی ارجح الاقول ۵؎ (ملخصا)
یہ امام جلال الدین محلی کی تفسیر کا تکملہ اسی انداز پرہے کہ اتنی بات بیان کی جائے جس سے کلام اللہ سمجھ میں آجائے اورجو قول سب سے راجح ہے اس پر اعتماد کیا جائے۔ (ملخصا)
 (۵؎تفسیر جلالین        خطبہ کتاب         مطبع مجتبائی دہلی       نصف اول ص ۲)
جمل میں ہے:
ای الاقتصار علی ارجح الاقوال ۱؎۔
یعنی صرف وہ قول بیان کریں گے جو سب سے راجح ہے۔
 (۱؎ الفتوحات الالہیہ     (الشہیر بالجمل)    خطبہ کتاب        مصطفی البابی مصر    ۱/ ۷)
زرقانی علی المواہب میں ہے:
الجلال قدالتزام الاقتصار علی الاصح ۲؎۔
امام جلال نے التزام فرمایا ہے کہ صرف وہ قول لکھیں گے جو سب سے زیادہ صحیح ہے
 (۲؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ    المقصد الثانی الفصل الاول        دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۱۷۱)
یہاں مسلمانوں کو جہاد کا حکم نہیں جو اس کی طرف بلاتے ہیں مسلمانوں کے بدخواہ ہیں، تنبیہ ضروری: یہ آیہ کریمہ کہ یہاں علماء وائمہ نے بیان ناسخ کے لئے تلاوت کی کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ اوراس مضمون کی اور آیات نیز وہ عبارات ہدایہ وغیرہا قریب آنے والیاں کہ جہاد میں پہل واجب ہے ان کا تعلق سلاطین اسلام و عساکر اسلام اصحاب خزائن واسلحہ واستطاعت سے ہے نہ کہ ان کے غیر سے،
قال اللہ تعالٰی:
لایکلف اﷲ نفسا الاوسعہا ۳؎۔
اللہ تعالٰی کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت بھر۔
 (۳؎ القرآن الکریم   ۲/ ۲۸۶)
وقال تعالٰی:
لایکلف اﷲ نفسا الا مااٰتٰھا ۴؎۔
اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اتنے کی جس قدر کی استطاعت اسے دی ہے۔
(۴؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۷)
وقال تعالٰی:
لاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ ۵؎۔
اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
(۵؎ القرآن الکریم                ۲/ ۱۹۵)
مجتبٰی وجامع الرموز وردالمحتار میں ہے:
یجب علی الامام ان یبعث سریۃ الی دارالحرب کل سنۃ مرۃ اومرتین وعلی الرعیۃ الا اذا اخذ الخراج فان لم یبعث کان کل الاثم علیہ وھذا اذا غلب علی ظنہ انہ یکافیہم والافلایباح قتالہم ۱؎۔
سلطان اعظم اسلام پر فرض ہے کہ ہر سال ایک یادو بار دارالحرب پر لشکر بھیجے اورر عیت پر اس کی مدد فرض ہے اگر ان سے خراج نہ لیا ہو تو سلطان اگر لشکر نہ بھیجے تو ساراگناہ اسی کے سر ہے، یہ سب اس صورت میں ہے کہ اسے غالب گمان ہو کہ طاقت میں کافروں سے کم نہ رہے گا ورنہ اسے ان سے لڑائی کی پہل ناجائز ہے۔
 (۱؎ جامع الرموز    کتاب الجہاد        مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۴/ ۵۵۵)
خصوصا ہندوستان میں جہاں اگر دس مسلمان ایک مشرک کو قتل کریں تو معاذاللہ دسوں کو پھانسی ہو ایسی جگہ مسلمانوں پر جہاد فرض بتانے ولا شریعت پر مفتری اور مسلمانوں کا بدخواہ ہے، ہمارا مقصود اس قدر تھا کہ کریمہ ممتحنہ اگر جملہ مشرکین غیر محاربین کو عام ہے تو ضرور منسوخ ہے وہ بحمدہ تعالٰی بروجہ احسن ثابت ہوگیا۔

خود قرآن عظیم سے اس آیت کی منسوخی کا ثبوت اگر ہر غیر محارب بالفعل کو عام مانی جائے۔
Flag Counter