یجوز ان یدفع غیر الزکوٰۃ الی ذمی وقال ابویوسف والشامی لایجوز کالزکوٰۃ ولنا قولہ تعالٰی لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم ۱؎۔
زکوٰۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیں اور امام ابویوسف وامام شافعی نے فرمایا اور صدقات بھی ذمی کونہیں دے سکتا جیسے زکوٰۃ ہماری دلیل اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ اللہ تمھیں بھلائی میں ان سے منع نہیں فرماتا جودین میں تم سے نہ لڑیں۔
(۱؎ کافی شرح وافی)
فتح القدیر میں ہے:
الفقراء فی الکتاب عام خص منہ الحربی بالاجماع مستندین الی قولہ تعالٰی انما ینھٰکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین ۲؎۔
قرآن عظیم میں فقراء کا لفظ عام ہے باجماع امت حربی اس سے خارج ہیں اجماع کی سند اللہ عزوجل کاارشاد ہے کہ اللہ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑیں۔
(۲؎ فتح القدیر باب من یجوز دفع الصدقہ الخ مکتبہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۰۷)
عنایہ ومعراج الدرایہ ومحیط برہانی وجودی زادہ وشرنبلالی بدائع وسیر کبیر امام محمد کی عبارتیں عنقریب آتی ہیں، یہ ہے مسلک ائمہ حنفیہ جسے حنفی بننے والے لیڈریوں مسخ ونسخ کی دیوار سے مارتے ہیں اور اس سے حربی مشرکوں کے ساتھ نرااحسان مالی نہیں بلکہ وداد اتحاد بگھارتے ہیں۔
آیت میں نسخ کے اقوال:
یحرفون من بعد ماعقلوہ وھم یعلمون ۳؎۔
دیدہ دانستہ بات سمجھ کر اس کی جگہ سے پھیرتے ہیں۔
(۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۷۵)
آیہ کریمہ میں ایک قول یہ ہے کہ مطلق کفار مراد ہیں جو مسلمانوں سے نہ لڑے ان کے نزدیک وہ ضرور آیات قتال وغلظت سے منسوخ ہے اجلہ ائمہ تابعین مثلا امام عطا بن ابی رباح استاذ امام اعظم ابوحنیفہ جن کی نسبت اما م اعظم فرماتے ہیں: "مارأیت افضل من عطا "میں نے عطا سے افضل کسی کو نہ دیکھا۔ وعبدالرحمن بن زید بن اسلم مولٰی امیر المومنین عمر فاروق اعظم وقتادہ وتلمیذ خاص حضرت انس خادم خاص حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ورضی اللہ تعالٰی عنہم نے اس کے منسوخ ہونے کی تصریح فرمائی،
تفسیر کبیر میں ہے:
اختلفوا فی المراد من ''الذین لم یقاتلوکم'' فالاکثر علی انہم اھل العہدالذین عاھدوا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی ترک القتال والمظاھرۃ فی العداوۃ، وھم خزاعۃ کانواعاھدوا الرسول علی ان لایقاتلوہ ولایخرجوہ، فامرالرسول علیہ الصلوٰۃ والسلام بالبر والوفاء الی مدۃ اجلہم، وھذ اقول ابن عباس ومقاتل ابن حیان ومقاتل ابن سلیمن ومحمد ابن سائب الکلبی، وقال مجاہد الذین اٰمنوا بمکۃ ولم یھاجروا وقیل ھم النساء والصبیان، وعن عبداﷲ بن الزبیر انھا نزلت فی اسماء بنت ابی بکر قدمت امھا قتیلۃ علیہا وھی مشرکۃ بھدایا فلم تقبلہا ولم تاذن لھا بالدخول فامرھا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان تدخلھا وتقبل منہا وتکرمھا وتحسن الیھا، وقیل الاٰیۃ فی المشرکین وقال قتادۃ نسختھا اٰیۃ القتال ۱؎۔
اس میں اختلاف ہوا کہ ''وہ جو تم سے دین میں نہ لڑیں'' ان سے کون لوگ مراد ہیں، اکثر اہل تاویل اس پر ہیں کہ ان سے اہل عہد مراد ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عہد کیا تھا کہ نہ حضور سے لڑیں گے نہ دشمن کی مدد کریں گے، اور وہ بنی خزاعہ ہیں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عہد کیا تھا کہ نہ لڑیں گے نہ مسلمانوں کو مکہ معظمہ سے نکالیں گے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کوحکم ہوا کہ ان کے ساتھ نیک سلوک فرمائیں اور ان کا عہد مدت موعود تک پورا کریں، حضرت عبداللہ بن عباس ومقاتل بن حیان ومقاتل بن سلیمن ومحمد بن سائب کلبی کا یہی قول ہے اور امام مجاہد نے فرمایا: وہ مسلمانان مکہ مراد ہیں جنھوں نے ابھی ہجرت نہ کی تھی۔ اور بعض نے کہا عورتیں اوربچے مراد ہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ حضرت اسماء بنت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہماکے بارے میں اتری ان کی ماں قتیلہ بحالت کفر ان کے پاس کچھ ہدیے لے کرآئیں انھوں نے نہ ہدیے کوقبول کئے نہ انھیں آنے کی اجازت دی تو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انھیں حکم فرمایا کہ اسے آنے دیں اوراس کے ہدیے قبول کریں اور اس کی خاطر اور اس کے ساتھ نیک سلوک کریں، اوربعض نے کہا آیت دربارہ مشرکین ہے، قتادہ نے کہا وہ آیت جہاد منسوخ ہوگئی۔
(۱؎ مفاتیح، الغیب (التفسیر البکیر) زیر آیۃ لاینہٰکم اللہ الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲۹/ ۴۔ ۳۰۳)
صحیح مسلم شریف میں اسماء بنت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے:
قدمت علی امی وھی مشرکۃ فی عہد قریش اذعاھدھم فاستفیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قلت قدمت علی امی وھی راغبۃ افاصل امی قال نعم صلی امک ۱؎۔
میری ماں کہ مشرکہ تھی اس زمانہ میں کہ کافروں سے معاہدہ تھا میرے پاس آئی میں نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے فتوٰی پوچھا کہ میری ماں طمع لے کر میری پاس آئی ہیں کیا میں اپنی ماں سے کچھ نیک سلوک کروں ؟ فرمایا: ہاں اپنی ماں سے نیک سلوک کر۔
(۱؎ صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۴)
جمل میں قرطبی سے ہے:
ھی مخصوصۃ بالذین اٰمنوا ولم یھاجروا وقیل یعنی بہ النساء الصبیان لانہم من لایقاتل فاذن اﷲ فی برھم حکاہ بعض المفسرین وقال اکثر اھل التاویل ھی محکمۃ واحتجوابان اسماء بنت ابی بکر سألت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھل تصل امھا حین قدمت علیہا مشرکۃ قال نعم، اخرجہ البخاری ومسلم ۲؎۔
یہ آیت خاص ہے ان کے بارے میں جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی، او ربعض نے کہا اس سے عورتیں اور بچے مراد ہیں اس لئے کہ وہ لڑنے کے قابل نہیں، توا للہ تعالی نے ان کے ساتھ مالی نیک سلوک کی اجازت دی، اسے بعض مفسرین نے نقل کیا۔ او راکثر اہل تاویل نے کہا آیت محکم ہے، اوراس سے سند لائے کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سوال کیا کیا اپنی ماں سے کچھ نیک سلوک کرے جب وہ ان کے پاس بحالت شرک آئی تھیں؟ فرمایا: ہاں، اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا۔
(۲؎ الفتوحات الالہیہ ( الشہیر بالجمل) زیر آیہ لاینہکم اللہ الخ مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۲۸)
تفسیر درمنثور میں ہے:
اخرج حمید وابن المنذر عن مجاہد فی قولہ لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم الاٰیۃ قال ان تستغفروا وتبروھم وتقسطوا الیہم ھم الذین اٰمنوا بمکۃ ولم یھاجروا اھ ۱؎۔
عبدبن حمید اور ابن المنذر نے امام مجاہد سے تفسیر کریمہ لاینھٰکم الخ میں روایت کیا، فرمایا معنی آیت یہ ہیں کہ اللہ تمھیں منع نہیں فرماتا کہ تم ان کی مغفرت کی دعاکرو اور ان سے نیک سلوک وانصاف کا برتاؤ برتو اس سے مراد کون لوگ ہیں وہ جو مکہ میں ایمان لائے تھے اور ہجرت نہ کی۔
(۱؎ الدرالمنثور (تفسیر) زیر آیہ لاینھٰکم اللہ عن الذین الخ منشورات مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۶/ ۲۰۵)
تفسیر جامع البیان میں بہ سند صحیح ہے:
حدثنی یونس قال اخبرنا ابن وھب قال قال ابن زید وسألتہ عن قول اﷲ عزوجل لاینھٰکم اﷲ الاٰیۃ فقال ھذا قد نسخ نسخہ القتال ۲؎۔
مجھ سے یونس نے حدیث بیان کی کہ مجھ کو ابن وھب نے خبردی کہا جب میں نے امام ابن زید سے کریمہ "لاینہکم اللہ "کے بارے میں پوچھا ،فرمایا یہ منسوخ ہے حکم جہاد نے اسے نسخ فرما دیا ۔
(۲؎ جامع البیان لابن جریر الطبری زیر آیہ لاینھٰکم اللہ عن الذین الخ مطبعۃ میمنہ مصر ۲۸/ ۴۱)