لایجوز ان یوصی المسلم للکافر والکافر للمسلم فالاول لقولہ تعالی لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین الایۃ ،والثانی لانھم بعقد الذمۃ ساوواالمسلمین فی المعاملات ولھذا جاز التبرع من الجانبین فی حالۃ الحیاۃ فکذا بعد الممات وفی الجامع الصغیر الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ لقولہ تعالی انما ینھکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین الایۃ ۔۲
جائز ہے کہ مسلمان (ذمی ) کافر کے لیے وصیت کرے اور کافر مسلمان کے لیے ،اول تواس دلیل سے کہ اللہ تعالی تمھیں ان سے منع کرتا جو تم سے دین میں لڑیں آخر آیت تک ،اور دوم اس لیے کہ وہ ذمی ہونے کے سبب معاملات میں مسلمانوں کے برابر ہوگئے اسی لیےزندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ مالی نیک سلوک کرسکتا ہے تو یوں ہی بعد موت بھی ،اور جامع صغیر میں ہے حربیوں کے لیے وصیت باطل ہے اس لیے کہ اللہ تعالی فرماتاہے اللہ توتمھیں ان سے منع فرماتا ہے جوتم سے دین میں لڑیں آخر آیت تک ،
(۲؎ الھدایہ کتاب الوصایا مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/۶۵۳)
کافر(عہ) سے خاص ذمی مراد ہے بدلیل قولہ انھم بعقد الذمۃ ولہذا امام اکمل نے عنایہ میں اس کی شرح یوں فرمائی:
وصیۃ المسلم للکافر الذمی وعکسہا جائزۃ ۱؎۔
مسلمان کا کافر ذمی کے لئے وصیت کرنا اور اس کا عکس جائز ہے.
عہ: یہاں سے بعض مفتیان اجہل کی جہالت شدیدہ ظاہر ہوئی جنھوں نے عبارت ہدایہ کو مشرکین ہند پر جمایا طرفہ یہ کہ اپنی ہی نقل کردہ عبارت نہ سوجھی لانہم بعقد الذمۃ سوجھی، کیوں نہیں قصد عوام کو دھوکے دینے کی ٹھہرائی ۱۲۔ حشمت علی لکھنوی عفی عنہ۔
(۱؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۴۵۵)
امام اتقانی نے غایۃ البیان میں فرمایا:
اراد بالکافر الذمی لان الحربی لاتجوز لہ الوصیۃ علی مانبین۔۲؎
عبارات ہدایہ میں کافر سے ذمی مراد ہے اس لئے کہ حربی کے لئے وصیت جائز نہیں جیساکہ ہم عنقریب بیان کریں گے۔
ایساہی جوہرہ نیرہ میں ومستصفی میں ہے کفایہ میں فرمایا:
ارادبہ الذمی بدلیل التعلیل وروایۃ الجامع الصغیر ان الوصیۃ لاھل الحرب باطلۃ ۳؎۔
صاحب ہدایہ نے کافر سے ذمی مراد لیا ایک تو ان کی دلیل ا س پر گواہ ہے کہ فرمایا وہ ذمی ہونے کے سبب معاملات میں مسلمانوں کے برابرہوگئے دوسرے جامع صغیر کی روایت کہ حربیوں کےلئے وصیت باطل ہے۔
(۳؎ الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۶۵۵)
اسی کو وافی وکنز وتنویر وغیرہا متون میں یوں تعبیر فرمایا:
یجوز ان یوصی المسلم للذمی و بالعکس ۴؎۔
جائز ہے کہ مسلمان ذمی کے لئے وصیت کرے اور اس کا عکس بھی ۱۲
والحاصل ان الایۃ الاولی ان کانت فی الذمی والثانیۃ فی الحربی کما ھوا لظاھر وعلیہ الاکثرون کان دالاعلی جواز الاحسان الی الذمی دون الحربی، ولھذ اتمسک صاحب الھدایۃ فی باب الوصیۃ ان الوصیۃ للذمی جائزۃ دون الحربی لانہ نوع احسان و لھذا المعنی قال فی باب الزکوٰۃ ان الصدقۃ النافلۃ یجوز اعطاء ھاللذمی دون الحربی ۱؎۔
حاصل یہ ہے کہ پہلی آیت جس میں نیک سلوک کی رخصت ہے اگر دربارہ ذمی ہو اور دوسری جس میں مقاتلین سے ممانعت ہے دربارہ حربی جیساکہ یہی ظاہر ہے اور یہی مذہب اکثر ائمہ ہے تو آیتیں دلیل ہوں گی کہ ذمی کے ساتھ نیک سلوک جائز ہے۔ اورحربی کے ساتھ حرام، ولہذا صاحب ہدایہ نے باب الوصیۃ میں انھیں آیتوں کی سند سے فرمایا کہ وہ ایک طرح کا احسان ہے اور اسی کے سبب باب الزکوٰۃ میں فرمایا کہ نفلی صدقہ ذمی کودینا حلال اورحربی کو دینا حرام ۱۲
نہایہ امام سغناقی وغایۃ البیان امام اتقانی وبحرالرائق وغنیہ علامہ شرنبلالی میں ہے:
واللفظ للبحر صح دفع غیر الزکوٰۃ الی الذمی لقولہ تعالٰی لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین الاٰیۃ وقید بالذمی لان جمیع الصدقات فرضا کانت اوواجبۃ اوتطوعا لاتجوز للحربی اتفاقا کما فی غایۃ البیان لقولہ تعالٰی ینھٰکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین واطلقہ فشمل المستامن وقد صرح بہ فی النہایۃ ۲؎۔
زکوٰۃ کے سوا اور صدقات ذمی کو دے سکتے ہیں، اللہ عزوجل فرماتاہے: تمھیں اللہ ان سے منع نہیں فرماتا جو دین میں تم سے نہ لڑیں، ذمی کی قید اس لئے لگائی کہ حربی کےلئے جملہ صدقات حرام ہیں، فرض ہوں یا واجب یا نفل۔ جیسا کہ غایۃ البیان میں ہے۔ اس لئے کہ اللہ عزوجل فرماتاہے: اللہ تمھیں ان سے منع فرماتاہے جو دین میں تم سے لڑیں، حربی کو مطلق رکھا تومستامن کو بھی شامل ہوا جو سلطان اسلام سے پناہ لے کر دارالاسلام میں آیا اسے بھی کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں۔ اور نہایہ میں اس کی صاف تصریح ہے۔
تبیین الحقائق اما م زیلعی پھرفتح اللہ المعین سید ازہری میں ہے:
لایجوز دفع الزکوٰۃ الی ذمی وقال زفر یجوز لقولہ تعالی لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین صرف الصدقات کلھا الیہم بخلاف الحربی المستامن حیث لایجوز دفع الصدقۃ الیہ لقولہ تعالٰی انما ینھٰکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین واجمعوا علی ان فقراء اھل الحرب خرجوا من عموم الفقراء ۱؎ (ملخصا)
ذمی کو زکوٰۃ دینا تو جائز نہیں۔ اور امام زفر نے فرمایا تمام قسم کے صدقات دے سکتے ہیں کہ اللہ تعالٰی فرماتاہے اللہ تمہیں ان سے نہیں روکتا جودین میں تم سے نہ لڑیں بخلاف حربی اگرچہ مستامن ہو کہ اسے کسی قسم کا صدقہ دینا حلال نہیں کہ اللہ تعالٰی فرماتاہے اللہ تمھیں ان سے روکتا ہے جو تم سے دین میں لڑیں، اور ائمہ امت کا اجماع ہے کہ قرآن عظیم میں جو صدقات فقراء کے لئے بتائے حربی فقیر ان سے خارج ہیں۔
(۱؎ تبیین الحقائق باب المصرف المبطعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۳۰۰)
جوہرہ نیرہ میں ہے:
انما جازت الوصیۃ للذمی ولم تجز للحربی لقولہ تعالٰی لاینھٰکم اﷲ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم، ثم قال انما ینھٰکم اﷲ عن الذین قاتلوکم فی الدین ۲؎۔ الایۃ
خاص ذمی کےلئے وصیت جائز اور حربی کے لئے حرام اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی فرماتاہے اللہ تعالٰی تمھیں ان سے نیک سلوک کو منع نہیں فرماتا جو تم سے دین میں نہ لڑیں، اورتمھیں گھروں سے نہ نکالا پھر فرمایا اللہ تمھیں ان سے منع کرتاہے جو تم سے دین میں لڑیں۔
(۲؎ الجوہرۃ النیرۃ کتاب الوصایا مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۹۱)