غیر قوموں کے ساتھ جواز معاملت کی مجمل تفصیل اس (عہ) فتوے میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ہر معاملت کے ساتھ وہ قید لگا دی ہے جس کے بعد نقصان دین کا احتمال نہیں، ان احکام شرعیہ کو بھی حالات دائرہ نے کچھ نہ بدلا ،نہ یہ شریعت بدلنے والی ہے۔
لایأتیہ الباطل من بین یدیہ ولامن خلفہ تنزیل من حکیم حمید ۱؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۴۱/ ۴۲)
باطل نہیں آسکتا نہ اس کےآگے نہ اس کے پیچھے سے، اتاراہواہے حکمت والے سراہے گئے کا.
عہ: خود محرر مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ کتاب الاثار میں فرماتے ہیں:
اخبرنا ابوحنیفہ عن عماد عن ابراہیم انہ قال فی التاجر یختلف الی ارض الحرب انہ لاباس بذٰلک مالم یحمل الیہم سلاحا، اوکراعا، وسلبا، قال محمد وبہ ناخذو ھوقول ابی حنیفۃ ۲؎
یعنی ہمیں امام اعظم نے امام حماد بن ابی سلیمن انھوں نے امام ابراہیم نخعی سے خبر دی کہ تجارت کے لئے دارالحرب میں تاجر کی آمد ورفت جائز ہے جب تک ان کی طرف ہتھیار یاگھوڑے یا قیدی نہ لے جائیں، امام محمد نے فرمایا اسی کو ہم لیتے ہیں اور یہی قول امام اعظم کا ہے، نیز مؤطا شریعت کی عبارت آتی ہے کہ مشرک مقاتل کوہدیہ بھیجنے میں حرج نہیں جب تک ہتھیار یا زرہ کا بھیجنا نہ ہو۔ اوریہی قول امام اعظم اور ہمارے عام فقہاء کاہے ۳؎ انتہی ۱۲ منہ
(۲؎ کتاب الآثار اما م محمد باب حمل التجارۃ الی ارض الحرب حدیث ۱۵۱ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۶۷)
(۳؎ مؤطاامام محمد باب مایکرہ من لیس الحریر والدیباج آفتاب عالم پریس لاہور ص۲۷۱)
احکام الہیہ میں لیڈروں کی طرح طرح کھینچ تان بلکہ کایا پلٹ: (۵) للہ انصاف، اس میں کون سی کھینچ تان ہے، جتنی بات کہی گئی صاف صریح احکام شرعیہ وجزئیات منصوصہ ہیں کھینچ تان کر احکام شرعیہ میں تٖغییر کا وقت خادم شرع کے لئے نہ اب ہے نہ کبھی تھا نہ کبھی ہو، ہاں خادمان گاندھی کےلئے نہ صرف کھینچ تان بلکہ کلام الہٰی واحکام الہٰی کو یکسر کایا پلٹ کرکے فرضیت موالات کفار نباہنے کا وقت ہے، مسجد میں کسی دبے ہوئے ذمی کے ذلت خواری کے ساتھ آنے کے جواز کا اختلافی مسئلہ نکالیں اور مشرک کو بروجہ استعلاء مسجد میں لے جاناا ور مسلمانوں کا واعظ وہادی بنانا، مسند سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جمانا اس پرڈھالیں دبے ہوئے ملتجی بے قابو مشرک سے کوئی بالائی خدمت یازرہ خود بکتر عاریۃً لینے کے جواز کا مسئلہ دکھائیں اور اس سے خود سر خود غرض، زبردست، خونخوار مشرکوں کے دامن پکڑنا، ان کے سایہ میں پناہ لینا، ان صریح بدخواہوں کی رائے پر اپنے آپ کو سپرد کردینا منائیں کفار معاہدین یا بعض کے نزدیک قتال سے بالذات عاجزین کے ساتھ کچھ مالی سلوک کی رخصت والی آیت سنائیں اور اسے خونخوار مشرکین سخت اعدائے اسلام ومسلمین کے ساتھ اتحاد ووداد بلکہ غلامی وانقیاد کی نہ صرف رخصت بلکہ اعظم فرضیت کی دلیل بنائیں، ان سب کا بیان بعونہ تعالٰی ابھی آتاہے آپ انصاف کرلیں گے کس نے کھینچ تان کی، حاشا نہ صرف کھینچ تان بلکہ کمال جسارت سے احکام الہٰیہ کایا پلٹ کرکے قرآن وحدیث کی عمر بت پرستی پر قربان کی۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱؎ o
اور اب جاننا چاہتے ہیں ظالم کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲)
تعلیم کےلئے امداد لینا اور لیڈروں کی دینی حالت کہ اسلام ان کونہ جب مدنظر نہ تھا نہ اب ہے: (۶) اور تعلیم دین کے لئے گورنمنٹ سے امدادقبول کرنا جو مخالف شرع سے مشروط نہ اس کی طرف منجر ہویہ تو نفع بے غائلہ ہے جس کی تحریم پر شرع مطہر سے اصلا کوئی دلیل نہیں۔ دین پر قائم رہو مگر دین میں زیادت نہ کرو۔ کیا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم نے سلاطین کفارکے ہدایا قبول نہ فرمائے، جو وجوہ شناعت آپ نے ان مدارس میں لکھیں کہ امور مخالف اسلام حتی کہ توہین حضور سید الانام علیہ ا فضل الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم داخل نصاب ہے بیشک جو اس قسم کے اسکول یا کالج ہوں ان میں نہ فقط اخذا مداد بلکہ تعلیم وتعلم سب حرام قطعی بلکہ مستلزم کفرہے، آپ فرماتے ہیں یہ میں اسلامیہ اسکولوں اور کالجوں کا ذکر کررہاہوں پھر غیر اسلامیہ کاکیا پوچھنا، مگر افسوس اورسخت افسوس یہ کہ آج آپ کو جتنے لیڈر دکھائی دیں گے وہ ان کے بازو اور ان کے ہم زبان عام طورپر انہیں اسکولوں کالجوں کے کاسہ لیس ملیں گے، انھیں سے بڑی بڑی ڈگریاں ایم اے، بی اے کی پائے ہوئے ہوں گے، کیا اس وقت تک ان میں یہ خباثتیں نہ تھیں، ضرور تھیں مگر ان صاحبون کو مقبول اور منظور تھیں، اور اب بھی جو آنکھ کھلی تو صرف ایک گوشہ انگریزوں کی طرف کی اور وہ بھی شریعت پر زیادت کے ساتھ کہ ان سے مجرد معاملت بھی حرام قطعی بلکہ کفر اور مشرکوں کی طرف کی پہلے سے بھی زیادہ پٹ ہوگئی کہ ان سے وداد واتحاد واجب بلکہ ان کی غلامی وانقیاد وفرض انھیں راضی کرلیا تو خدا کور اضی کرلیا تو ثابت ہوا کہ اسلام ان حضرات کو نہ جب مدنظر تھا ورنہ ایسی دین تعلیموں سے بھاگتے، نہ اب مدنظر ہے ورنہ مشرکوں کے اتحاد وانقیاد کے فنتے نہ جاگتے ع
نہ آغاز بہتر نہ انجام اچھا
لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
موالات کی بحث :(۷) ترک معاملت کو ترک موالات بنا کر قرآن عظیم کی آیتیں کہ ترک موالات میں ہیں سوجھیں ،مگر فتوائے مسٹرگاندھی سے ان سب میں استثنائے مشرکین کی پچر لگالی کہ آیتیں اگرچہ عام ہیں مگر ہندوؤں کے بارے میں نہیں ،ہندو تو ہادیان اسلام ہیں ،آیتیں صرف نصاری کے بارے میں ہیں اور نہ کل نصاری فقط انگریز ،اور انگریز بھی کل تک ان کے مورد نہ تھے حالت حاضرہ سے ہوئے ،ایسی ترمیم شریعت وتغییر احکام وتبدیل اسلام کا نام خیرخواہی اسلام رکھا ہے ،ترک موالات قرآن عظیم نے ایک دو ،دس بیس جگہ تاکید شدید پر اکتفاء نہ فرمائی بلکہ بکثرت جابجا کان کھول کھول کر تعلیم حق سنائی اور اس پر تنبیہ فرما دی کہ :
قدبینا لکم الاٰیٰت ان کنتم تعقلون ۱۔
ہم نے تمھارے لیے آیتیں صاف کھول دی ہیں اگر تمھیں عقل ہو ۔
(۳؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۱۸)
مگر توبہ، کہاں عقل اور کہاں کان ،یہ سب تو وداد ہنود پر قربان ،لاجرم ان سب سے ہندوؤں کا استثناء کرنے کے لیے بڑے بڑے آزاد لیڈروں نے قرآن عظیم میں تحریفیں کیں ،آیات میں پیوند جوڑے ،پیش خویش واحد قہار کو اصلاحیں دیں ان کی تفصیل گزارش ہو تو دفتر طویل نگارش ہو ۔
آیہ ممتحنہ کا روشن بیان: ایک آیہ کریمہ کے بیان پر اقتصارکروں کہ وہی ان سب چھوٹے بڑے لیڈروں کی نقل مجلس ہے یعنی کریمہ ممتحنہ "لاینھکم اللہ الایۃ "اس میں اکثر اہل تاویل جن میں سلطان المفسرین سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما بھی ہیں فرماتے ہیں :اس سے مراد بنو خزاعہ ہیں جن سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ایک مدت تک معاہدہ تھا۔ رب عزوجل نے فرمایاان کی مدت عہد تک ان سے بعض نیک سلوک کی تمھیں ممانعت نہیں ۔امام مجاہد تلمیذ اکبر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھم کہ ان کی تفسیر بھی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ہی سمجھی جاتی ہے ،فرماتے ہیں : اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جنھوں نے مکہ مکرمہ سے ابھی ہجرت نہ کی تھی ،رب عزوجل فرماتا ہے ان کے ساتھ نیک سلوک منع نہیں۔
بعض مفسرین نے کہا :مراد کافروں کی عورتیں اور بچے ہیں جن میں لڑنے کی قابلیت ہی نہیں ۔قول اکثر کی حجت حدیث بخاری ومسلم واحمد وغیرہ ہے کہ سیدتنا اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہماکے پاس ان کی والدہ قتیلہ بحالت کفر آئی اور کچھ ہدایا لائی، انھوں نے نہ اس کے ہدیے قبول کئے نہ آنے دیا کہ تم کافرہ ہو جب تک سرکار سے اذن نہ ملے تم میرے پاس نہیں آسکتیں ۔حضور میں عرض کی ،اس پر آیہ کریمہ اتری کہ ان سے ممانعت نہیں ،یہ واقعہ زمانہ صلح ومعاہدہ کاہے خصوصاً یہ توماں کا معاملہ تھا ماں باپ کے لیے مطلقاً ارشاد ہے
"وصاحبھما فی الدنیا معروفا ۱
" دنیوی معاملوں میں ان کے ساتھ اچھی طرح رہ۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳۱/ ۱۵)
ظاہرہے کہ قول امام مجاہد پرتو آیہ کریمہ کو کفار سے تعلق ہی نہیں خاص مسلمانوں کے بارے میں ہے اور نہ اب وہ کسی طرح قابل نسخ ،اور قول سوم یعنی ارادہ نساءوصبیان پربھی اگر منسوخ نہ ہو ان دوستان ہنود کو نافع نہیں کہ یہ جن سے وداد واتحاد منا رہے ہیں وہ عورتیں اور بچے نہیں ،قول اول پر بھی کہ آیت اہل عہد وذمہ کے لیے ہے، اور یہی قول اکثر جمہور ہے آیہ کریمہ میں نسخ ماننے کی کوئی حاجت نہیں ،لاجرم اکثر اہل تاویل اسے محکم مانتے ہیں ،
آیہ ممتحنہ میں حنفیہ کا مسلک :اوراسی پر ہمارے ائمہ حنفیہ نے اعتماد فرمایاکہ آیہ "لاینھکم اللہ "دربارہ اہل ذمہ اور آیہ "ینھکم اللہ " حربیوں کے بارےمیں ہے۔اسی بناپر ہدایہ ودرر وغیرھما کتب معتمدہ میں فرمایا :کافر ذمی کے لیے وصیت جائز ہے اور حربی کے لیے باطل وحرام ،آیہ "لاینھکم اللہ"نے ذمی کے ساتھ احسان جائز فرمایا اور آیہ "انما ینھکم اللہ "نے حربی کے ساتھ احسان حرام ۔